حکومت بہار نکسل ازم پر روک لگا رہی ہے یا اسے بڑھا وا دے رہی ہے؟

ششی شیکھر؍ راجیش ایس کمار
ترقی اور نکسل ازم کے درمیان کیا تعلق ہو سکتا ہے؟ سرکاری جواب تو یہی ہوتا ہے کہ ماؤنواز ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں، لیکن ’’چوتھی دنیا‘‘ کی تحقیقات سے ایک تعجب خیز سچائی کا انکشاف ہوتاہے۔ یوں تو ملک کی تقریباً 12 ریاستیں اورتقریباً 200 اضلاع ماؤنوازوں کی گرفت میں ہیں۔ بہار کے بھی زیادہ تر اضلاع ماؤنوازوں کی زد میں ہیں۔ اس کے باوجودجس طرح سے گزشتہ 6-7 سالوں میں نتیش کمار کے وزیراعلیٰ رہتے ہوئے بہار میں نکسلی تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے، اس سے ماؤنوازوں سے متعلق   سرکاری بیانات کی معتبریت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں، مثلاً اگر ماؤنواز ترقی کے دشمن ہیں تو پچھلے 7 سالوں میں بہار میں مبینہ طور پر ’گڈ گورننس‘ کیسے ممکن ہوا؟ مرکزی حکومت کی وزارت داخلہ سے موصول کچھ دستاویزات کے مطابق، گزشتہ 10 سالوں میں ملک کی باقی ریاستوں کے ساتھ ساتھ بہار میں بھی نکسلی وارداتوں، سیکورٹی فورسز کے ساتھ مڈبھیڑ اور اس دوران مرنے والوں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ ہوا۔ باعث تشویش بات تو یہ ہے کہ 2005 سے 2010 کے دوران جہاں باقی ریاستوں میں نکسلی وارداتوں میں کمی آئی، وہیں بہار میں ایسی وارداتیں بڑھتی چلی گئیں۔
بہار میں جب نتیش کمار نے باگ ڈور سنبھالی تھی تب اس وقت صوبے کے 38 اضلاع میں سے محض 18 اضلاع ہی نکسل ازم سے متاثر تھے اور 2006 میں ریاست کے صرف 14 اضلاع ہی ایس آر ای(سیکورٹی ریلیٹڈ ایکسپنڈیچر) اسکیم کے تحت آئے۔ جب کہ 2009 میں اس میں ایک ضلع کا اضافہ ہو گیا اور مونگیر سمیت کل اضلاع کی تعداد 15 ہوگئی۔ پٹنہ منڈل کے بکسر کو چھوڑ کر باقی 5 اضلاع پٹنہ، نالندہ، روہتاس، بھبھوا کیمور اور بھوجپور، مگدھ منڈل کے تمام پانچ اضلاع گیا، جہان آباد، ارول، نوادہ اور اورنگ آباد، ترہت منڈل کے 3 اضلاع مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن و سیتامڑھی اور مونگیر منڈل کے مونگیر و جموئی ماؤنوازوں سے متاثرہ علاقے قرار دیے گئے ہیں۔ مبینہ طور پر’گڈ گورننس‘ حکومت میں ریاست کے 38 اضلاع میں سے 31 اضلاع ماؤنوازوں کی زد میں آچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دن ہو یا رات، جہاں نیم فوجی دستے، اسپیشل ٹاسک فورس اور سیپ کے جوان ان متاثرہ علاقوں میں گشت کرتے رہتے ہیں اس سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ دیگر ریاستوں کے مقابلے میں نکسلی تشدد سے متعلق واقعات بہار میں زیادہ رونما ہوئے ہیں اور اب بھی مسلسل بڑھتے جارہے ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق بہار میں 2005 میں 186، 2006 میں 107، 2007 میں 135، 2008 میں 164، 2009 میں 232 اور2010 میں 163 بار ماؤنوازوں سے مڈبھیڑ ہوئی۔ مجموعی طور پر گزشتہ 11 سالوں میں 2252 مڈبھیڑیں ہوئیں، جن میں 918 عام شہریوں اور سیکورٹی فورسز کے 176 جوانوں کو اپنی جان گنوانی پڑی۔
بہار حکومت کے بابو اپنے پنج سالہ رپورٹ کارڈ میں بتاتے ہیں کہ اسپیڈ ٹرائل کے تحت 2006 میں 6839 ، 2007 میں 9853 ، 2008 میں 12,007 ، 2009 میں 13,146 اور 2010 میں(مارچ تک) 3622 کو ملا کر کل 49,612 لوگوں کو سزا ہوئی، جن میں 7953 کو عمرقید کی سزا ملی۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ کی تحقیقات سے پتہ چلا کہ بہار کے 55 اضلاع میں سے 25 میں 5242 قیدیوں کو عمرقید کی سزا ملی ہوئی ہے۔ ان میں سے 2808 جیل میں ہیں اور بقیہ 2434 ضمانت پر ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں 1693 قیدی بہار کے اہم نکسلوادی ہیں اور صرف پٹنہ منڈل کے ہیں۔ یعنی عمر قید کی سزا پانے والے 53 فیصد قیدی جیل میں ہیں اور 47 فیصد اب بھی ’گڈگورننس‘ حکومت میں جیل سے باہر ہیں۔ نکسلواد کو لے کر بہار پولس کتنی مستعد ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ حال ہی میں مونگیر ضلع میں ایس پی کے کرائم ریڈر محمد سلیم کو ماؤنوازوں تک خفیہ اطلاعات پہنچانے اور ان کی مدد کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، وہیں دوسری جانب بارودی سرنگ دھماکہ کے ذریعہ مونگیر کے ایس پی سریندر بابو سمیت 6 پولس ملازمین کے قتل میں شامل دو ماؤنواز ثبوت کے نہ ہونے کی وجہ سے عدالت سے بری ہوگئے۔
29 نومبر 2010 کو ہرن مار دیارا تھانہ بریارپور مونگیر میں ایک دیہی باشندہ سمیت 12ماؤنوازوں کا قتل جدید ہتھیاروں سے لیس ایک جرائم پیشہ گروہ کے ذریعہ کر دیا گیا۔پولس ہیڈکوارٹر سے اس معاملے میں مونگیر کے اس وقت کے ایس پی ایم سنیل نائک پر بے گناہ دیہی باشندوں کی گرفتاری کے لیے دباؤ بنایا گیا، لیکن انہوں نے اس دباؤ کو نامنظور کر دیا اور لمبی چھٹی پر چلے گئے۔ واضح ہو کہ15دنوں تک چلی مہم میں نہ لاشیں ملیں اور نہ ہتھیار۔ 30 جنوری 2011 کو جائے واردات کے قریب ہی 9 انسانی ڈھانچے برآمد ہوئے، جن میں ایک ڈھانچہ بچے کا ہے۔ باقی لوگوں کی پہچان نکسلوادیوں کے طور پر ہوئی، کیوں کہ وہ ماؤنواز وردی میں تھے۔ ظاہر ہے عوامی فلاح و بہبود اسکیموں، اندرا آواس الاٹمنٹ اور منریگا میں بے ضابطگی، بے روزگاری، انصاف ملنے میں غیرضروری تاخیر اور پولس کی من مانی کے سبب ریاست میں ماؤنواز کو فروغ مل رہا ہے۔ مرکزی وزارت داخلہ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق 2006 میں مرکزی حکومت نے 9 ریاستوں کے 76 اضلاع کو ماؤنواز متاثرہ اعلان کرتے ہوئے وہاں ایس آر ای کے تحت خصوصی عوامی فلاح و بہبود اسکیمیں چلائی تھیں۔ ان میں آندھرا پردیش کے 16، جھارکھنڈ کے 16 ، بہار کے 14، اڑیسہ کے 9 ، چھتیس گڑھ کے 8، مہاراشٹر کے 4، اترپردیش، مغربی بنگال اور مدھیہ پردیش کے 3-3 اضلاع شامل تھے۔ جب کہ ان اسکیموں کے چلائے جانے کے بعد یعنی 2009 میں ماؤنواز متاثرہ اضلاع کی تعداد 76 سے بڑھ کر 83 ہو گئی۔ جنوری 2000 سے دسمبر 2005 تک 8489 نکسلی وارداتوں میں 3339 لوگوں کی موت ہوئی، جن میں 2668 شہری اور 664 سیکورٹی فورسز کے جوان تھے۔ جب کہ 10 سال 7 ماہ میں یعنی جنوری 2000 سے جولائی 2010 تک 16,464 نکسلی وارداتوں میں 6865 لوگوں کی موت ہوئی، جن میں 5044 شہری اور 184 سیکورٹی اہلکار شامل تھے۔ اعداد و شمار پر غور کریں تو 2000 سے 2004 کے درمیان  ہر چار شہریوں کی موت کے مقابلے ایک سیکورٹی جوان شہید ہوا، جب کہ 2005 سے 2009 کے درمیان ہر پانچ شہریوں کی موت کے مقابلے سیکورٹی فورس کے 2جوان شہید ہوئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *