بچھڑا کچھ اس ادا سے۔۔۔۔

وسیم راشد
یہ ہمارا ملک ہندوستان ہے جہاں ہمارے آئین نے ہمیں ہر طرح کی آزادی دی ہے۔ جب ہم سنتے ہیں We the People of India تو ہم وطن عزیز کی محبت میں سر شار ہو کر خود کو ہر طرح سے محفوظ اور آزاد محسوس کرنے لگتے ہیں۔ لکھنے پڑھنے کی آزادی ، مذہبی آزادی، بولنے کی آزادی یہ ہمارے وہ بنیادی حقوق ہیں جن پر ہمیں ناز ہے مگر جس طرح ایم ایف حسین کو جلاوطنی کی موت دیار غیر میں نصیب ہوئی اس سے لمحہ بھر کے لیے یہ احساس ہوا کہ کہیں یہ سب صرف آئین کے صفحات تک ہی تو محدود نہیں ہے۔ ایم ایف حسین دنیا ئے آرٹ و پینٹنگ کا شہنشاہ جس نے تقریباً 60سال تک دنیائے آرٹ کو ایسے ایسے نادر نمونے دیے کہ دنیا نے اس کو بے تاج بادشاہ تسلیم کر لیا۔دیار غیر میں اپنے وطن عزیز آنے کی خواہش میں سینہ میں ہزاروں طوفان چھپائے ، سینہ کے درد کی شکایت سے دنیا کو خیرباد کہہ گیا ۔ اس کا قصور کیا تھا ، اس کا قصور یہ تھا کہ اس نے اپنے فن میں ڈوب کر کچھ ایسی تصویریں بنا ڈالیں جس سے ایک طبقہ کے لوگ ان کی جان کے دشمن ہو گئے اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ پینٹنگ حسین نے 1970میں بنائی تھی، اس پر ہنگامہ 31سال بعد ہوا اور ان کو جان سے مار ڈالنے کی دھمکیاں بھی ملنے لگیں اور اس طرح کبھی قطر کبھی دبئی، کبھی ادھر کبھی ادھر اور پھر آخری منزل لندن ۔ وہ جب تک زندہ رہا اپنے فن کے ذریعہ دنیا بھر کے نادر نمونے اپنی تصویروں میں پیش کرتا رہا اور مرتے مرتے ہم سب کو یہ سبق دے گیا کہ زندہ دلی کیا ہوتی ہے۔ وہ جب ملک کے اندر رہا تب بھی اس نے اپنے قول و عمل سے کبھی یہ احساس نہیں ہونے دیا کہ اس کا دل کسی اور ملک کے لیے دھڑکتا ہے، اور جب اس نے دیارِ غیر میں جاکر پناہ لی تب بھی اس نے اپنی حب الوطنی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی۔ وہ ہمیشہ ہندوستان کے لیے آہیں بھرتا تھا، ہندوستان واپس آنے کی آس لیے آخرکار وہ اس جہانی فانی کو ہی الوداع کہہ گیا۔ ایم ایف حسین نے اپنے اس لاجواب فن پر کبھی گھمنڈ نہیں کیا اور نہ ہی اپنے فن کو زبردستی دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کی۔ اگر ایک سچے عاشق کی نظر سے دیکھا جائے تو اسے کائنات کے ہر ذرے میں محبوب کا ہی عکس نظر آتا ہے۔ ایسا ہی کچھ حال مقبول فدا حسین کا تھا، جنہیں دنیا کی ہر چیز میں خوبصورتی دکھائی دیتی تھی۔ اپنے فن کا اظہار کرنے کے لیے وہ برش اور کینوس کے محتاج نہیں تھے بلکہ وہ خود کہا کرتے تھے کہ پتھر یا کوئلے سے بھی تصویر بنائی جاسکتی ہے۔ انھوں نے اپنے فن سے مصوری کو جاودانی بخش دی۔ ان کی سب سے بڑی خوبی تھی کہ وہ کسی بھی واقعہ پر مصوری کے ذریعہ اپنے رد عمل کا فوری اظہار کر دیتے تھے، اس کی پروا کیے بغیر کہ دیکھنے والے پر اس کا کیا اثر پڑے گا۔ خواجہ الطاف حسین حالی نے ’مقدمہ شعر و شاعری‘ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ عظیم شاعر وہی بن سکتا ہے جسے اس بات سے کوئی فرق نہ پڑتا ہو کہ شعر سننے والے پر اس کا کیا اثر ہوگا، اگر اس نے لوگوں کی پسند و ناپسند کا خیال کرنا شروع کردیا تو کبھی اچھا شاعر نہیں بن سکتا، شاعری تو صرف اپنے جذبات و خیالات کو الفاظ میں پرونے کا نام ہے۔ مقبول فدا حسین نے یہ کرکے دکھا دیا۔ حسین نے کبھی اپنی زبان سے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ سب سے بڑے مصور ہیں، جیسا کہ اردو کے مشہور افسانہ نگار راجندر سنگھ بیدی نے اپنے بارے میں ایک جگہ لکھا ہے کہ ’ٹنوں من مٹی کے نیچے لیٹا ہوا بیدی اب بھی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ سب سے بڑا خالق وہ ہے یا خدا!‘۔ مقبول فدا حسین کو لوگوں کو اپنی طرف مائل کرنے کے لیے کوشش نہیں کرنی پڑی کیوں کہ بقول اقبال ’دل سے جو بات نکلتی ہے، اثر رکھتی ہے‘۔ حسین صاحب کی پینٹنگ میں ان کاپورا احساس موجزن ہوا کرتا تھا، اسی لیے لوگ ان کی پینٹنگ کی طرف کھنچے چلے آتے تھے۔ دماغ میں کسی قسم کا غرور نہ پیدا ہو جائے، شاید اسی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایم ایف حسین نے کبھی اپنے پیر میں جوتے چپل نہیں پہنے۔ جہاں بھی جاتے ننگے پیر جاتے۔ یہی تھا ان کابڑپن، جس کی لوگ اب بھی داد دیتے ہیں۔
لیکن اپنی مصوری کے سفر میں نہ چاہتے ہوئے بھی وہ تنازعہ کا شکار ہوگئے، ان کے برش نے کچھ لوگوں کو ان کے خلاف کھڑا کر دیا، کسی کے مذہبی جذبے کو ٹھیس لگی اور پھر ایک طبقہ دیوانہ وار ان کے پیچھے پڑ گیا، ان کے ذریعہ بنائی گئی تصویروں کو نذر آتش کیا جانے لگا، انھیں جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنے لگیں۔ حالانکہ اسی مذہب کے ماننے والوں میں سے ایک طبقہ ہمیشہ ان کا دفاع بھی کرتا رہا اور یہ دلیل دیتا رہا کہ حسین صاحب نے اس قسم کی پینٹنگ بناکر کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے بلکہ ایسا تو صدیوں سے ہوتا آیا ہے، اس کی زندہ مثالیں آج بھی ہمیں مختلف مذہبی مقامات پر دیکھنے کو مل جاتی ہیں، پھر اگر کسی پینٹر نے اسے اپنے طریقے سے کاغذ پر اتار دیا تو اس نے غلط کیا کیا۔ لیکن دیوانے مانے نہیں، پتھر پھینکتے رہے، آگ لگاتے رہے، حالانکہ ان کی تمام کوششیں بیکار ثابت ہوئیں، ان کی توڑ پھوڑ حسین صاحب کو خوفزدہ نہیں کر سکی، وہ اور بھی طاقت و توانائی کے ساتھ نمودار ہوئے اور مردہ تصویروں کو بولنے پر مجبور کرتے رہے۔ ان کی اس ہمت کو دیکھ کر ان کے دشمن بھی یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ آخر یہ انسان کس مٹی کا بنا ہے۔ انھیں گردے کا کینسر تھا، لیکن انھوں نے اپنی رفتار و گفتار سے اس مرض کو کبھی اپنے اوپر حاوی نہیں ہونے دیا۔ اسپتال کے بستر پر پڑے ہوئے بھی وہ اپنے دوست سے یہ تقاضہ کرتے رہے کہ ’بھئی چائنیز ریسٹورنٹ‘ میں کب لے کر جا رہے ہو۔ اسے کہتے ہیں کہ زندہ دلی۔ انھوں نے خدا کی دی ہوئی انمول نعمت ’زندگی‘ کو پوری طرح جیا، اس کے ہر گوشہ سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ ان کی خواہش تھی کہ اگر میں مروں تو میرے ہاتھ میں برش ہو اور میں کوئی تصویر بنا رہا ہوں، ٹھیک اسی طرح جیسے کہ کسی فوجی کی موت سرحد پر دشمنوں سے لڑتے لڑتے ہوجائے۔ یہ تھا جذبہ، جس نے ان کی تصویروں کو بولنے پر مجبور کردیا۔
آج ان کی موت پر صدر جمہوریہ ہند بھی افسردہ ہیں، محترم وزیر اعظم بھی اور وہ سبھی بڑے بڑے لوگ، بڑے سیاسی رہنما جنھوں نے ان کی جلاوطنی کے درد کو جیتے جی محسوس نہیں کیا۔ آج مرنے کے بعد نائب صدر حامد انصاری صاحب کہتے ہیں کہ ان کی موت سے نہ صرف قوم بلکہ آرٹسٹ برادری کا زبردست نقصان ہوا ہے۔وہ ہندوستان کے لیے اپنی محبت کی وجہ سے یاد رکھے جائیں گے۔ جی ہاں ہندوستان کی محبت تو ان کی رگ و پے میں سرائیت کیے ہوئے تھی، پر ہندوستان ان کو وہ محبت کیوں نہ دے سکا جس کے وہ مستحق تھے۔صرف اس لیے کہ ہندی دیوی دیوتائوں کی تصویریں بنانے والا ایک مسلمان تھا۔کھجوراہو، اجنتا ایلورا میں جو ہندو دیوی دیوتائوں کی تصویریں بنی ہوئی ہیں ، وہ تو ہوئیں آرٹ کا نمونہ، ان کو دیکھنے کے لیے آپ پوری دنیا سے ٹورزم کا پیسہ سمیٹتے ہیں،  وہ آرٹ کا نادر نمونہ کہلاتی ہیں مگر حسین کے ذریعہ بنائی گئیں تصویریں آرٹ کے نام پر کلنک ہو گئیں یہ کیسا دوہرا معیار ہے۔ہمارے ملک میں پہلے جب یہ سنا اورکہا جاتا تھا کہ ہندوستان مردہ پرستوں کا ملک ہے۔یہاں مرنے کے بعد ہی تعظیم و تکریم ، انعامات و اعزازات سے نوازا جاتا ہے تو اتنی شدت سے کبھی اس بات کو نہ سوچا، نہ محسوس کیا مگر جب آج انہیں بھارت رتن دینے کی بات کہی جا رہی ہے تو یہ احساس دو چند ہو گیا ہے۔ ایم ایف حسین نے متعدد بار معافی مانگی، وہ مقدمات سے تنگ آ چکے تھے ۔حالانکہ سپریم کورٹ نے ایم ایف حسین کی درخواست پر اور راج کوٹ بھوپال ، پندھار پور یعنی سبھی جگہ کے مقدمات کو دہلی منتقل کرنے کا آرڈر دیا تھا مگر پھر بھی مرتے مرتے فدا حسین ان مقدمات سے پیچھا نہ چھڑا سکے اور نہ ہی اپنی آخری خواہش کے مطابق ممبئی کا فالودہ کھاسکے۔جی ہاں، جب مرنے سے دو تین دن قبل شوبھا ڈے نے ان سے لندن کے اسپتال میں ملاقات کی تو انھوں نے اسپتال کا کھانا کھانے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں یہ کھانا نہیں کھا سکتا ۔ میں ممبئی کا فالودہ کھانا چاہتا ہوں۔ آج حسین کی موت پر ہم سب ہندوستانی نہ جانے کیوں اندر ہی اندر احساس جرم سے ہمکنار ہیں کہ ہم اپنے ملک کے بیش قیمت کوہِ نور کو واپس نہ لا سکے اور ایک کوہِ نور برطانیہ کی ملکہ کے تاج میں جڑ گیا۔ دوسرا وہیں کی مٹی میں دب کر خاک ہو گیا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *