بابا رام دیو چوک گئے

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار
سیاست بھی عجیب و غریب کھیل ہے، اسی لیے اسے ’گیم آف امپوسیبل‘ کہا گیا ہے۔ یہ ایسا کھیل ہے، جس میں بڑے بڑے کھلاڑی کو مات کھانے میں دیر نہیں لگتی، چھوٹے کھلاڑی بازی مار لے جاتے ہیں اور کبھی کبھی سب سے تجربہ کار کھلاڑی بھی کسی نو آموز کی طرح کھیل جاتا ہے۔ یہ کس نے سوچا تھا کہ بابا رام دیو کی مہم کا یہ انجام ہوگا۔ یہ کس نے سوچا تھا کہ منموہن سنگھ جیسے امن پسند لوگ رات کے ایک بجے سو رہی عورتوں اور بچوں پر لاٹھیاں برسا نے اور غیر مشتعل تحریک پر آنسو گیس کے گولے داغنے کا فرمان جاری کر دیں گے۔ بابا کی تحریک کا ایسا حشر کیوں ہوا اور سرکار نے اس تحریک کو طاقت سے کچلنے کا فیصلہ کیوں لیا؟ غلطیاں دونوں طرف سے ہوئیں۔ سرکار نے تو غلط کیا ہی، لیکن بابا رام دیو سے بھی چوک ہو گئی۔ بابا رام دیو جس حالت میں ہیں، اس کے لیے وہ خود ذمہ دار ہیں۔
رام دیو کی بھوک ہڑتال بہت صحیح مدعوں پر تھی اور لوگ بھی پورے اعتماد کے ساتھ آئے تھے، لیکن پولس کی طرف سے جو کارروائی ہوئی، وہ قابل مذمت ہے۔ لیکن دونوں طرف سے کچھ زیادہ ہوشیاری برتنے کی وجہ سے عدم اعتمادی کا ماحول بنا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ بابا رام دیو نے سرکار کے ساتھ سمجھوتہ کیا اور اس سمجھوتہ کو لوگوں سے پوشیدہ رکھا۔ دوسری جانب سرکار چاہتی تھی کہ رام دیو آر ایس ایس کی سیاست نہ کرکے اس کی بنائی ہوئی گائڈ لائن پر تحریک چلائیں۔ بابا رام دیو کی تحریک سے کانگریس پارٹی کو فائدہ ہو۔ جب مرکزی حکومت کے ایک وزیر نے بابا رام دیو سے یہ کہا کہ آپ ایک پرامن پیغام سرکار کو دیجئے، تاکہ آپ میں اور سرکار میں گفت و شنید ہوسکے۔ رام دیو اس کے لیے مان گئے۔ انھوں نے یہ بیان دیا کہ وزیر اعظم اور چیف جسٹس کو لوک پال بل کے دائرے میں نہیں لانا چاہیے۔ اسی بیان سے سرکار کو یہ بھروسہ ہوا کہ اب رام دیو کانگریس کے فائدہ کے لیے اپنی بات کہیں گے۔ اسی پرامن ماحول میں کلیجیرس ہوٹل میں دونوں کے درمیان دستاویز کی ادلا بدلی ہوئی، لیکن بابا کے جو صلاح کار تھے، وہی آر ایس ایس کے بھی صلاح کار ہیں۔ ان کی حکمت عملی تھی کہ جیسے ہی سرکار بابا کی ساری باتیں مانے، ویسے ہی رام دیو یہ اعلان کریں گے کہ ان مطالبات سے جڑے ہوئے سوالوں پر اب آرڈی ننس لایا جائے۔ اس بات کی جانکاری بابا کے ہی کسی آدمی نے اُس وزیر کو دے دی، جو کلیدی ثالث تھا۔ وہ وزیر فوراً وزیر اعظم کے پاس گیا اور آناً فاناً میں یہ فیصلہ لے لیا گیا کہ بابا رام دیو کے ساتھ اب بات چیت نہیں کرنی ہے۔ نہ صرف بات چیت نہیں کرنی ہے، بلکہ رام دیو کی سچائی بھی لوگوں کے سامنے لانی ہے۔ اس کی ذمہ داری کپل سبل کو سونپی گئی۔ اس وقت یہ فیصلہ نہیں لیا گیا تھا کہ رام لیلا میدان سے لوگوں کو بھگایا جائے گا۔ سبودھ کانت سہائے نے یہ اعلان کیا کہ سرکار نے بابا کی مانگیں مان لی ہیں اور وہ خط بھیج رہے ہیں۔ لیکن آئی بی (انٹیلی جنس بیورو) نے یہ اطلاع دی کہ چنئی میں بیٹھے آر ایس ایس کے ایک رہنما نے رام دیو کو یہ صلاح دی ہے کہ وہ خط ملنے کے بعد یہ اعلان کردیں کہ جب تک آرڈی ننس نہیں آئے گا، تب تک وہ اپنی بھوک ہڑتال ختم نہیں کریں گے۔ آر ایس ایس کے اس لیڈر کا گذشتہ 8 مہینوں سے فون ٹیپ ہو رہا ہے، جس سے یہ بات معلوم ہوئی۔ پھر وزیر اعظم کی سطح پر یہ فیصلہ لیا گیا کہ رام لیلا میدان کو رات میں خالی کرا لیا جائے۔
جب کوئی غیر سیاسی آدمی سیاست کرنے لگتا ہے تو غلطیاں ہونے کا امکان بڑھ جاتا ہے۔ بابا رام دیو ویسے تو یوگا گرو ہیں، سیاسی آدمی نہیں ہیں۔ ان کی سب سے بڑی بھول یہی ہے کہ انھوں نے سیاست شروع کردی۔ بابا رام دیو سے کئی غلطیاں ہوگئیں۔ بابا رام دیو کو سیاسی پارٹیوں کے ساتھ ڈیل کرنا نہیں آیا۔ کس سیاسی جماعت کے کتنا قریب جانا ہے، کس سے دور جانا ہے، بابا اس کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکے۔ بابا نے تحریک شروع کرنے کے کچھ دنوں پہلے سے ایسے اشارے دیے، جن سے یہ لگ رہا تھا کہ وہ تحریک بھی چلانا چاہتے ہیں اور کانگریس اور بی جے پی دونوں کو خوش بھی رکھنا چاہتے ہیں۔ وہ سنگھ کے صلاح کاروں کی بات بھی سن رہے تھے اور کانگریس کے لیڈروں کے ساتھ بات بھی کر رہے تھے۔ بابا سیاسی دوست اور دشمن میں فرق نہیں کر پائے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس بات کا اندازہ نہیں لگا سکے کہ سادھوی رتمبھرا کو اسٹیج پر بٹھانا اور ان سے تقریر کروانا انھیں کتنا مہنگا پڑ سکتا ہے۔ بابا رام دیو کو بھنک بھی نہیں تھی کہ کانگریس پارٹی اس مدعے کو اٹھا کر ان کی پوری تحریک کی ہوانکال دے گی۔ بابا کانگریس پارٹی کے میڈیا مینجمنٹ کی طاقت کو نہیں پہچان سکے۔ یہ بابا کی سیاسی ناپختگی کو ظاہر کرتی ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے ساتھ قربت دکھانا بابا رام دیو کے لیے مہنگا ثابت ہوا۔ میڈیا بابا کے خلاف ہوگیا۔ ویسے سنگھ کے کارکن بتاتے ہیں کہ سنگھ کا بابا رام دیو پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ وہ اپنی مرضی سے سب کچھ کرتے ہیں۔ بابا رام دیو ان کی ایک بات بھی نہیں سنتے ہیں۔
لوگوں کو لگتا ہے کہ رام دیو دل کے صاف ہیں، جو دل میں آتا ہے وہ بول دیتے ہیں، لیکن اصلیت یہ ہے کہ رام دیو شکی ہیں۔ وہ کسی پر یقین نہیں کرتے ہیں۔ وہ صرف اپنی عقل و فہم سے کام لیتے ہیں۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ جب پچھلی بار رام لیلا میدان میں بابا رام دیو نے ریلی کی، تب اس ریلی میں انّا ہزارے، رام جیٹھ ملانی، سبرامنیم سوامی، گووندا چاریہ، کرن بیدی، اروند کیجری وال اور وشو بندھو گپتا وغیرہ کئی قدآور موجود تھے۔ رام لیلا میدان میں اس بار ان میں سے کوئی نظر نہیں آیا۔ یہ لوگ کہاں غائب ہوگئے۔ بابا اور ان کے درمیان ایسی کیا بات ہوئی، جس کی وجہ سے ان لوگوں نے بابا کے ساتھ آنے سے انکار کر دیا۔ بابا اپنی مہم اور ریلیوں میں لوگوں کو بلاتے تو ہیں، لیکن ان سے کوئی رائے نہیں لیتے۔ اگر کوئی رائے دیتا بھی ہے تو اسے وہ نہیں مانتے ہیں۔ تحریک کی پلاننگ بابا نے اپنی عقل و فہم سے کی۔ ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ رام لیلا میدان میں سادھوی رتمبھرا کے بغل میں بیٹھے تھے شیعہ رہنما اور اسلامی اسکالر کلب روشید رضوی۔ انھیں پتہ ہی نہیں تھا کہ سادھوی رتمبھرا بھی آنے والی ہیں۔ انھیں یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اور کون کون لوگ آنے والے ہیں، جب کہ وہ گذشتہ ایک سال کے دوران بابا رام دیو کے ’بھارت سوابھمان آندولن‘ کی تشہیر کے لیے ملک کے کئی شہروں میں گئے۔ انھوں نے بابا رام دیو کی مہم کو پھیلایا، لیکن جب رام لیلا میدان میں بھوک ہڑتال کی پلاننگ کی گئی، تب ان سے بھی کوئی صلاح مشورہ نہیں کیا گیا۔ انھیں یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ سرکار کے ساتھ بیک ڈور بات چیت ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بابا رام دیو کسی سے رائے لینے میں یقین نہیں رکھتے ہیں او رنہ کسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ اسی کمی کی وجہ سے بابا کانگریس پارٹی کے جال میں پھنس گئے۔
بابا کی مہم کو سب سے بڑا جھٹکا اس وقت لگا جب کپل سبل نے اُس خط کو عام کردیا جس میں بابا رام دیو نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ دو تین دنوں میں بھوک ہڑتال ختم کردیں گے۔ کسی بھی تحریک سے پہلے اور تحریک کے دوران سرکار اور تحریک چلانے والوں کے درمیان بات چیت ہونا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ایسا ہر تحریک میں ہوتا ہے، ہونا بھی چاہیے۔ اگر بات چیت ہی بند ہو جائے گی تو پھر مفاہمت کیسے ہوگی، لیکن اس بات چیت کو عام کرنا صحیح نہیں مانا جاسکتا ہے۔ کپل سبل نے بال کرشن کے خط کو دکھاکر غلطی کی۔ لیکن بابا رام دیو کی غلطی یہ ہے کہ انھیں خود سرکار سے اس طرح بات چیت نہیں کرنی چاہیے۔ بابا نے اگر کسی دوسرے آدمی یا گروپ کو سرکار سے بات چیت کرنے کی ذمہ داری دی ہوتی تو آج حالت کچھ اور ہی ہوتی۔ ویسے کانگریس پارٹی اب بال کرشن کو نیپالی شہری بتا کر بابا سے حساب چکا رہی ہے۔ چوتھی دنیا کئی ماہ قبل ہی اس خبر کو شائع کر چکا ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، لیکن کپل سبل کو یہ تو بتانا ہی پڑے گا کہ کیا حکومت ہند ایک نیپالی شہری سے سمجھوتہ کر رہی تھی؟ میڈیا کے سامنے جو خط انھوں نے دکھایا، کیا وہ کسی نیپالی شہری کا تھا؟
بابا نے ایک اور غلطی رام لیلا میدان میں کی۔ جس طرح وہ پولس کے ڈر سے بھاگے اور عورتوں کا لباس پہن کر پولس کو چکمہ دینے کی کوشش کی، اس سے بابا رام دیو کے بارے میں لوگوں میں شک پیدا ہوگیا ہے۔ بابا کو پولس کے سامنے ڈٹ کر تقریر کرنی تھی اور آرام سے خود کو گرفتار کرا لینا تھا۔ گاندھی جی کے ستیاہ گرہ کو یاد کریں تو اس میں یہی ہوتا تھا۔ گاندھی جی قانون توڑتے تھے، پولس آتی تھی، انھیں گرفتار کرتی تھی۔ گاندھی جی کہتے تھے، پورا ملک ہی جب جیل ہے تو جیل کے اندر کیا اور باہر کیا! جیل بھرو تحریک شروع ہو جاتی تھی، لیکن بابا رام دیو نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ الٹا جان بچانے کے لیے وہ ایک گھنٹہ سے زیادہ چھپے رہے۔ یہ اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ بابا صحیح معنوں میں غیر سیاسی آدمی ہیں۔ سیاسی آدمی تو اس موقع کی فراق میں رہتا ہے کہ لوگ اس پر ہورہی پولس کی کارروائی کو دیکھیں اور اسے گرفتار کیا جائے۔
بابا رام دیو سے چوک ہوئی، لیکن کانگریس کی بھی غلطیوں کی فہرست لمبی ہے۔ اب کانگریس پارٹی بابا رام دیو کو ٹھگ بتا رہی ہے۔ اگر بابا رام دیو ٹھگ ہیں تو کچھ سوالوں کا جواب کانگریس پارٹی کو دینا چاہیے۔ اگر بابا رام دیو ٹھگ ہیں تو کانگریس کے لیڈر اور وزیر اُن کے شیور میں کیا کرنے جاتے تھے، بابا رام دیو اگر ٹھگ ہیں تو کانگریس حکومت والی ریاستوں میں انھیں شیور لگانے کی اجازت کیوں ملتی ہے، اگر بابا ٹھگ ہیں تو دہلی ایئرپورٹ پر ان سے ملنے کے لیے مرکزی وزیر کیوں گئے تھے، اگر بابا ٹھگ ہیں تو ان کے ساتھ کپل سبل ہوٹل کے کمرے میں کیوں ڈیل کر رہے تھے، اگر بابا ٹھگ ہیں تو سرکار نے انھیں گرفتار کیوں نہیں کیا اور ہوائی جہاز سے انھیں ہریدوار کیوں چھوڑا گیا، اگر بابا ٹھگ ہیں تو پتن جلی فوڈ پارک کے لیے کانگریس کی سرکار نے پیسے کیوں دیے اور بابا رام دیو اگر ٹھگ ہیں تو راہل گاندھی اُن سے کیوں ملتے ہیں؟ اصلیت تو یہ ہے کہ اس تحریک سے پہلے تک بابا رام دیو کے کانگریس کے کئی لیڈروں کے ساتھ اچھے رشتے رہے ہیں۔ جب بابا رام دیو نے نئی پارٹی بنانے کا اعلان کیا تو کانگریس کے کچھ لیڈروں نے بابا کی حوصلہ افزائی بھی کی۔ کانگریس پارٹی کا پلان یہ تھا کہ اگر بابا انتخاب میں امیدوار کھڑے کرتے ہیں تو وہ بھارتیہ جنتا پارٹیکے ووٹ کاٹیں گے، لیکن جب سے بابا نے پارٹی بنانے سے منع کیا اور وہ سنگھ پریوار کے ساتھ کھڑے نظر آنے لگے، تب سے کانگریس اور رام دیو میں جنگ شروع ہوگئی۔
سرکار نے تو حد ہی کردی۔ رام لیلا میدان میں بدعنوانی اور کالے دھن کے خلاف تحریک چل رہی تھی۔ پولس ڈنڈا چلا رہی تھی۔ اسی دوران منموہن سنگھ سرکار کے وزیر کی کرتوت اجاگر ہو رہی تھی۔ اے راجا سے پہلے یو پی اے سرکار کے وزیر مواصلات دیا ندھی مارن کے کارنامے سامنے آئے۔ گذشتہ ایک سال سے لگاتار ایک کے بعد ایک گھوٹالے کا پردہ فاش ہو رہا ہے۔ بدعنوانی کو لے کر لوگوں کی ناراضگی عروج پر ہے، لیکن مرکزی حکومت بدعنوانی کے خلاف کوئی سخت قدم اٹھانے کی بجائے بابا رام دیو کو ڈرانے میں لگ گئی ہے۔ انکم ٹیکس ڈپارٹمنٹ اور ای ڈی کو بابا رام دیو کے پیچھے لگا دیا گیا ہے۔ بابا کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے، بابا نے بیرونی ممالک میں سرمایہ کاری میں کتنا پیسہ لگایا ہے، بابا نے کہاں کہاں قانون توڑا، بابا کا پیسہ اور کہاں کہاں لگا ہے جیسے کئی سوال ہیں، جنھیں سرکاری ایجنسیاں کھنگال رہی ہیں۔ ملک کے قانون کی حالت یہ ہے کہ بابا رام دیو کیا، کوئی بھی شخص، جس کے پاس اتنی ساری دولت ہے، وہ قانون کی نظر میں کہیں نہ کہیں گنہگار بن ہی جاتا ہے۔ سرکار قانون کی نظر سے صحیح ہو سکتی ہے، لیکن یہ پہل بدعنوانی کو ختم کرنے کی پہل نہیں ہو سکتی ہے۔ سرکار اگر بابا رام دیو کے کھاتوں کی جانچ کر رہی ہے تو اس کے ساتھ ہی ملک کے بڑے بڑے صنعت کاروں کی غیر قانونی دولت کے بارے میں بھی جانچ ہونی چاہیے۔ ایسا کیوں ہے کہ ٹو جی اسپیکٹرم معاملہ میں چھوٹی چھوٹی مچھلیاں جیل کے اندر ہیں، جب کہ جن کمپنیوں کو سب سے زیادہ فائدہ ہوا، اس کے مالک ٹاٹا اور امبانی کو کلین چٹ دے دی گئی۔ اس سوال کا جواب بھی سرکار کو دینا چاہیے۔ رات کے اندھیرے میں ہوئی پولس کی کارروائی کی جتنی بھی مذمت کی جائے، وہ کم ہے۔ سرکار کے ایک فیصلہ نے اسے گنہگار بنا دیا۔
جمہوریت میں کسی بھی تحریک یا سیاسی سرگرمی کے لیے عوام کی حمایت ضروری ہوتی ہے۔ بابا رام دیو کے پاس عوام کی کافی حمایت ہے۔ جس طرح مجمع کو اکٹھا کرنے کی صلاحیت ان میں ہے، وہ ملک کے کسی دوسرے لیڈر میں نہیں ہے۔ بابا رام دیو کی تحریک کا سب سے زیادہ فائدہ انّا ہزارے کو ملا ہے۔ انّا کے پاس ایجنڈا تو ہے، لیکن حمایت کی کمی ہے۔ تین مہینے پہلے جب بابا رام دیو نے رام لیلا میدان میں ریلی کی تھی تو انّا اسٹیج پر بابا رام دیو کے پیچھے بیٹھے تھے۔ ریلی میں امڈی بھیڑ دیکھ کر انھوں نے پاس میں بیٹھے وشو بندھو گپتا سے کہا، میں بھی اب دہلی میں تحریک چلانا چاہتا ہوں۔ وشو بندھو گپتا نے پوچھا کہ لوگوں کو کہاں سے لائیں گے؟ تو انّا نے رام لیلا میدان میں موجود مجمع کو دکھا کر کہا کہ جب سب لوگ ساتھ ہیں تو لوگ خود ہی آ جائیں گے۔ انّا پہلے بھی بدعنوانی کے خلاف احتجاج کرتے رہے ہیں، لیکن ان کی تحریک نے کبھی ملک گیر تحریک کی شکل نہیں اختیار کی۔ وہ مہاراشٹر تک ہی محدود تھے۔ تحریک سے پہلے تک انّا کا نام دہلی کے لوگوں کے لیے نیا تھا۔ دہلی میں کوئی اب سفید ٹوپی پہنے نظر نہیں آتا ہے، اسی لیے دہلی کے الیٹ طبقہ کے لیے انّا کی ایک انوکھی شخصیت تھی۔ انّا کی تحریک میں غریب نہیں ہیں، اقلیتی فرقہ کے لوگ نہیں ہیں، دلت نہیں ہیں، مزدور اور کسان نہیں ہیں، لیکن میڈیا، موبائل فون، ایس ایم ایس اور انٹرنیٹ کے صحیح استعمال نے انّا کے لیے الادین کے چراغ کا کام کیا۔ انّا کی تحریک کا دائرہ شہری ہے۔ ٹکنالوجی کے استعمال سے دہلی کا اعلیٰ اور اعلیٰ-اوسط طبقہ متحرک ہوگیا۔
بابا رام دیو کی تحریک کے اچانک ختم ہوجانے سے انّا کے ساتھیوں کو لگا کہ یہ ایک اچھا موقع ہے، جب بدعنوانی کے خلاف بنے اتفاق رائے کو انّا کی طرف موڑا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ گذشتہ دو سالوں سے بدعنوانی کے خلاف لوگوں کو بیدار کرنے کا کام بابا رام دیو نے کیا۔ لوگوں میں ناراضگی ہے۔ لوگ بدعنوانی کے خلاف ملک میں تحریک کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ بابا رام دیو کی کوششوں سے تیار عوامی حمایت کا فائدہ اٹھانے کے لیے ایک خاص حکمت عملی کے تحت انّا ہزارے نے رام لیلا میدان میں پولس کے ذریعہ کیے گئے ظلم کے خلاف 8 جون کو جنتر منتر پر بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا، لیکن آخری وقت میں جگہ بدل کر راج گھاٹ کر دیا۔ انّا ہزارے کو لوگ گاندھی وادی بتا رہے ہیں، لیکن ایک بات یہ سمجھ میں نہیں آئی کہ انھوں نے جنتر منتر کی جگہ راج گھاٹ کو کیوں منتخب کیا۔ گاندھی کی تحریکوں کی پہلی خاصیت ہی انّا بھول گئے۔ گاندھی کی تحریک تو قانون کو توڑنے کے لیے ہوتی تھی۔ اگر انّا گاندھی وادی تحریک چلانا چاہتے ہیں تو گاندھی کے اس بنیادی فارمولہ کو انھیں یاد رکھنا ہوگا۔ اگر جنتر منتر پر سرکار نے بھوک ہڑتال کرنے سے روک دیا تھا تو انّا اور ان کے حامیوں کو ہاتھ جوڑ کر گرفتاریاں دینی تھیں۔ جنتر منتر کی جگہ راج گھاٹ پر بھوک ہڑتال کرنا تحریک کے مستقبل پر سوال کھڑا کرتا ہے۔ واضح ہے کہ انّا کی تحریک بھی سرکار کے دباؤ کا شکار ہو رہی ہے۔ انّا نے 16 جون سے جنتر منتر پر غیر معینہ بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔ کیا یہ غیر معینہ بھوک ہڑتال جنتر منتر پر ہوگی، کیا لوک پال بنانے والی کمیٹی کی میٹنگوں کا لائیو ٹیلی کاسٹ ہوگا، کیا لوک پال کو وزیر اعظم، سپریم کورٹ کے ججوں، سینئر اہل کاروں اور ممبران پارلیمنٹ کی بدعنوانی کے خلاف کارروائی کا اختیار ہوگا اور کیا سرکار پھر سے تحریک چلانے والوں کے ساتھ ڈیل کرے گی وغیرہ جیسے کئی سوال ہیں، جن کا جواب انّا کی غیر معینہ بھوک ہڑتال کے دوران ملے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *