لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
لندن میں اب پانچ علاقوں میں آر ایس ایس کی شاخائیں لگائی جاتی ہیں جن میں بچوں کو صرف ورزش کرنا ڈرل کرنا اور وندے ماترم گانا سکھایا جاتا ہے۔ لیکن اندر ہی اندر زہر پھیلانے کی سازشیں جاری ہیں چنانچہ گزشتہ چار جون کو رام دیو کی حمایت میں ستیہ گرہ کرنے کی بھی بات کہی گئی تھی جو ہر ہندوستانی نے مسترد کردی ورنہ سرکاری اقدامات سے پرے دوسرے لوگ دخل اندازی کرسکتے تھے۔ رام دیو دہلی والوں کو اُلّو بنانے میں کسی حد تک کامیاب ہو جائیں۔ قیامت کی گرمی میں ٹھنڈے کولر لگے قیمتی پنڈال اور مُفت کھانے کے لالچ میں کئی لاکھ آجائیں گے، اب یہ مسائل لندن سے ٹل چکے ہیں۔
ایک طرف دنیا عالمی طور سے بچوں کا دن مناتی ہے، دوسری جانب لندن جیسے مہذب شہر میں جہاں دنیا بھر کے لوگ علم حاصل کرنے اور ڈسپلن سیکھنے آتے ہیں وہاں ذوالفقار حسین نامی پچاس سالہ پاکستانی بچوں کے ساتھ زیادتی کا مجرم قرار پایا ہے۔ عدالت نے اس کو برطانیہ سے ملک بدر کردیا ہے۔ ملزم بچوں تک کو منشیات پلاتا تھا۔
لندن سے سو میل دور خوبصورت شہر اسٹوک آن ٹرینٹ میں ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور ایک حادثے میں مرگیا۔ بدنصیب کار ڈرائیور طلعت مسعود کی شادی سات ہفتے قبل ہی ہوئی تھی۔ وہ بیوی کے ساتھ کل 9؍ دن گزارنے کے بعد لوٹا تھا۔
لندن میں امریکی تنظیم سی آئی اے کے سابق اعلیٰ عہدیدار مائیکل پچر نے کہا ہے کہ امریکہ 30 سال سے اپنے عوام سے جھوٹ بول رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ جبکہ ڈیوڈ کیمرون اور بارک اوباما کو وار آن ٹیرر کے معنی بھی نہیں معلوم اور القاعدہ و طالبان جیسے گروپ امریکی و برطانوی سامراجیت کے خلاف حقیقی جنگ لڑ رہے ہیں۔ مائیکل نے کہا کہ عراق و افغانستان میں موجودگی تک یوروپ و امریکہ پر حملے جاری رہیں گے۔ اب فلسطین کے مسئلہ کو بھی حل کرنا ہوگا۔ اپنی صدارت بچانے کے لیے کوئی امریکی یا برطانوی رہبر مظلوم فلسطینیوں کے خلاف بولنے کی ہمت نہیں کرتا۔ اب مسلمان اپنے آپ کو بم سے اُڑا رہے ہیں اور ڈائنگ اسٹریٹ و وہائٹ ہاؤس میں آشتی کے جام نوش کیے جارہے ہیں۔
ایک سروے رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ میں 35 سے چالیس سالہ خواتین میں اسقاط حمل میں زیادہ اضافہ ہوا ہے۔
ایک سرکاری بیان میں وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ برطانیہ میں ایک لاکھ 71 ہزار پہلے سے لی گئی اسائلم پر اب اُن کو مستقل قیام کی اجازت دے دی جائے گی۔ اُن کو حکومت نے عام معافی دے دی ہے۔ جبکہ 38 ہزار افراد کی اسائلم کی درخواستوں کو مسترد کردیا گیا ہے۔ ان عام معافی پانے والوں میں پاکستانی، ہندوستانی و دیگر ایشیائی ممالک اور افریقی و عرب ممالک کے لوگ ہیں۔ دوسری جانب امیگریشن کے وزیر ڈامیان گرین نے اعلان کیا ہے کہ مورٹن ہال سوئنڈربی لنکن شائر کے علاقے میں غیر قانونی افراد جو برطانیہ میں داخل ہوئے ہیں یا ویزا ختم ہونے کے باوجود نہیں گئے ہیں، اُن کو یہاں رکھا جائے گا۔ اس میں 34 ہزار افراد کی جگہ ہے ۔ یہ ایک طرح کی جیل ہے۔ اس کو حراستی مرکز کہا جاتا ہے۔
خبر ہے کہ حکومت ہند طالبان میں اپنا اثر بڑھانے کے لیے علمائے دیوبند کی خدمات حاصل کر رہی ہے۔ ہندوستانی ماہرین کو خطرہ ہے کہ چین پاکستان کو ہندوستان سے جنگ کروانے میں کامیاب ہوسکتا ہے جبکہ صرف پاکستانی کارگل میں 17 ہزار چینی فوجی موجود ہیں۔ بہانہ یہ ہے کہ قراقرم ہائی وے اور ریلوے لائن بنائی جارہی ہے جو چین تک جائے گی تاکہ فوجی و انسانی رسد جلد از جلد پاکستان پہنچ سکے جبکہ 14 ہزار چینی فوجی ماہرین آزاد کشمیر میں موجود ہیں جو گوریلا وار کی ٹریننگ دے رہے ہیں۔ اسی طرح گوادر بندر گاہ پر بھی ہزاروں چینی موجود ہیں۔ اس لیے امریکہ ڈرون حملوں میں استعمال ہونے والے بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے پاکستان کو نہیں دے رہا ہے کیونکہ خدشہ ہے کہ پاکستان فوراً یہ ٹکنالوجی چین کو دے دے گا۔
امریکہ جو افغانستان میں بُرا پھنسا ہے اب امریکی التماس پر سعودی عرب اور ترکی نے طالبان سے صلح کی گفتگو کر نے سے انکار کردیا ہے۔ اب صرف ہندوستان ہی ہے جو دیوبندیوں کی مدد سے مذاکرات کرواسکتا ہے۔ جبکہ افغانستان کے اندر جرمنی، فرانس، اسپین اور برطانیہ نے اپنی انٹیلی جنس استعمال کرنے سے انکار کردیا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ آسٹریا کے فوجی طالبان کوڈالر اور اسلحہ دے رہے ہیں کہ وہ اُن کو نہ ماریں۔ ان حالات میں امریکی افواج کا مکمل انخلا ضروری ہوچکا ہے جو امریکی کانگریس و صدر اوباما کو منظور نہیں ہے۔

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *