لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
اسامہ کی موت پر پورے مغرب میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ عراق میں سقوط کے فوراً بعد صدام کو ایک جونیئر افسر نے اپنے گھر میں نہایت خفیہ طور پر رکھا ہوا تھا، جہاں سے پکڑ کر امریکہ نے اس کی داڑھی بڑھوائی پھر ایک اپنے بنائے ہوئے غار میں اس کو اتار اگیا۔ پھر دانتوں کا معائنہ ہوا، یعنی اپنے اسیر کو ذلیل و خوار کیا گیا، لیکن اسامہ نے جیسے ہی اپنے گھر کی چھت پر ہیلی کاپٹروں کی آواز سنی تو اپنی یمنی بیوی امل السادہ کو بیدار کر کے کہا کہ اب میرا وقت آخر آگیا تم فوراً دوسری منزل پر چلی جاؤ اور امل کے جاتے ہی اسامہ نے ڈائنامائٹ کا وہ آہنی خود پہن کر اپنے کو اڑا لیا۔ اب اسامہ کے بدن کے ٹکڑے در و دیوار اور چھت پر چپک گئے اور امل فوراً دوبارہ داخل ہوئی تو اس کے پیچھے سیل کمانڈو بھی آئے اور امل کے پاؤں پر گولی ماری، اب تقریباً ایک کلو گوشت و ہڈیوں کے ٹکڑے چن لیے گئے، گویا یہ اسامہ بن لادن کی لاش ہے، اگر اس کو دفن کرتے تو اس کے لوگ قبر کھود لیتے کہ درحقیقت یہ اسامہ ہے کہ نہیں، پھر سیل کمانڈو کا راز کھل جاتا، اس لیے یہ بہانہ بنایا گیا کہ کوئی ملک اس کو لینے سے انکار کر رہا تھا تو دریا برد کردیا گیا۔ جب کہ سعودی عرب، افغانستان اور پاکستان نے صاف انکار کیا کہ ہم سے پوچھا بھی نہیں گیا محض جھوٹ بولا گیا ہے۔ یوروپین کا کہنا ہے کہ عنقریب القاعدہ پھر سے منظم ہوجائے گی اور امریکی مفادات کو زک پہنچائے گی۔ کسی فرد سے متعلق دنیا کی سب سے بڑی طویل عرصہ پر مبنی اور مہنگی تلاش گزشتہ دو مئی کو ختم ہوئی، اس بات کا اعلان خود صدر امریکہ نے کیا۔
لندن میں قیدیوں کی حالت خراب ہے۔ جب سزا کاٹ کر باہر آتے ہیں تو سماج ان کو بری نظروں سے دیکھتا ہے۔ موزیک ریلیف کے ڈائریکٹر جونا ناتھ فری مین نے مزید کہا کہ جیلوں میں سزائیں مکمل کرنے والوں کی بحالی کے منصوبے بنائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنمنٹ کو چاہیے کہ جیلوں میں سزا پوری کر کے آنے والوں کو معاشرے میں از سر نو بحال کیا جائے۔ ورنہ پھر سے کرائم شروع ہوسکتے ہیں۔
لندن میں یوروپی یونین کے ممالک کا ایک جلسہ ہوا، جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے ایٹمی ری ایکٹروں کے حفاظتی معائنہ کے بارے میں مذاکرات کسی نتیجہ پر پہنچے بغیر ختم ہوگئے۔ یوروپی کمیشن نے مذاکرات کے دوران کہا کہ دہشت گردوں کے حملوں سے اگر کسی قسم کا ایٹمی مواد ان کو مل گیا تو ڈرٹی بم فوراً بنالیا جائے گا۔ یوروپی یونین نیوکیئر سیفٹی ریگولیٹرگروپ آئندہ ہفتے پراگ میں اس مسئلے پر بحث و مباحثہ کرے گا۔
نیٹو کے سکریٹری جنرل اینڈرس فوگ راسموسین نے کہا ہے کہ میزائل شکن دفاعی نظام پر روس سے تعاون کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ امریکی حمایت اور قیادت سے ہم اس خواب کو حقیقت میں بدل سکتے ہیں کہ پورا یوروپ ہر طرح کی میزائلوں، راکٹوں اور ہوائی حملوں سے محفوظ ہوجائے گا۔ قذافی سے خطرہ لگاتار بنا ہوا ہے کہ کبھی بھی اٹلی پر وہ حملہ کرسکتا ہے، لیکن یہ خیال نہیں آتا کہ وہ کیوں قذافی پر متحارب ہیں، وہ کیوں کسی ملک میں اپنی پسند کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ جاپان میں فوکوشیما ایٹمی پلانٹ سے پانی کا اخراج اور مسلسل زلزلے آنے سے جاپانی کاریں اب صادراتی عمل سے محروم ہوچکی ہیں، اب برطانیہ بھر میں جاپانی کاروں کی قیمت میں اضافہ ہونے لگا ہے، جاپان میں تولیدی کاموں میں بھی بھاری کمی آچکی ہے۔

Latest posts by حیدر طباطبائی (see all)

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *