تمیزداروں کی بدتمیزی

راجیش ایس کمار
کرکٹ کو ملک کے عوام مذہب مانتے ہیں تو تھیوری میں اسے جینٹل مین گیم کا درجہ دیا گیا ہے۔ کچھ لوگ اسے جاگیرداروں کا کھیل بتاتے ہیں، جس میں دو جاگیردار کھیلتے ہیں اور باقی کھلاڑی مزدور ی کرتے ہیں، لیکن اب کرکٹ کو لے کر ایک نئی اصطلاح تخلیق کی جا رہی ہے۔ اب اسے پیسہ، گلیمر اور تنازعات کا پٹارا مانا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے اس نئی اصطلاح میں کرکٹرس بھی خود کو سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ابھی حال ہی میں کرس گیل کے فحش سلوک نے اتنا تو ثابت کر ہی دیا کہ اسٹارڈم کا نشہ ان کرکٹروں کے سر پر اس قدر سوار ہے کہ وہ اسے سنبھال نہیں پا رہے ہیں۔ گیل نے ایک صحافی اور کیمرہ مین سے نہ صرف بدسلوکی کی، بلکہ اس بات کا بھی احساس کرایا کہ وہ کتنے بڑے اسٹار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شین وارن کا راجستھان کرکٹ ایسو سی ایشن کے سکریٹری سنجے دکشت کے ساتھ جو بھی تنازعہ رہا، اسے ان کے مداحوں کو کافی مایوسی ہوئی۔گزشتہ کچھ سالوں سے اس طرح کے معاملات میں خاصا اضافہ ہوا ہے۔
ایک وقت کا عظیم گیند باز رہا یہ کھلاڑی کیوں ایسی غلطی کر بیٹھتا ہے، جس سے اس کی تمام حصولیابیوں پر پانی پھرتا نظر آتا ہے۔ڈرگ ٹیسٹ میں ناکام ہونے کے بعد 2003کے عالمی کپ سے ٹھیک پہلے پابندی جھیل چکے شین وارن تنازعات کا پٹارا ساتھ لے کر چلتے ہیں۔ کبھی ان پر خواتین کو فحش SMSبھیجنے کے الزامات عائد ہوتے ہیں تو کبھی وہ شادی سے پہلے رہے افیئرس کو لے کر سرخیاں بٹورتے ہیں۔ سٹے بازوں کے ساتھ مبینہ رشتوں کے سبب بھی وارن کو کافی نکتہ چینی برداشت کرنی پڑی ہے۔ میدان پر گالی گلوج تو وہ کئی بار کر چکے ہیں۔ پتہ نہیں، کرکٹ کے جینٹل مین اتنے بدتمیز کیوں ہوتے جا رہے ہیں۔ بات آسٹریلیا کی ہو تو سائمنڈس کا ذکر ضروری ہے۔ اس وقت آسٹریلیائی بلے بازی کی ضرورت بن چکے سائمنڈس آئی پی ایل میں بھی شاید اپنے کریئر کا آخری دور دیکھ رہے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ انھوں نے آسٹریلیائی کرکٹ سے اس وقت ناطہ توڑا یا یوں کہیں کہ آسٹریلیائی کرکٹ سے وہ اس وقت کنارے کر دیے گئے ، جب ان میں کافی بین الاقوامی کرکٹ بچی تھی، لیکن  میدان اور میدان کے باہر اپنے عجیب وغریب رویہ کے سبب ایک اچھا کرکٹر بر وقت آسٹریلیائی ٹیم سے نکل گیا۔ ان کی ہر بھجن کے ساتھ ہوئی نسل پرست نکتہ چینی والا قصہ تو سبھی کو یاد ہوگا۔ سائمنڈس پر ہندوستانی ناظرین کے ذریعہ نسل کش نکتہ چینی اور سری سنت کے سلوک کا بہت تذکرہ رہا ہے۔ میدان کے باہر بھلے ہی وہ دیگر ممالک کے کھلاڑیوں سے دوستانہ سلوک کرتے ہیں، لیکن میدان پر ان کے رویہ کا چرچا تمام ممالک کے کھلاڑی کرتے ہیں۔کئی بار تو انہیں، سوربھ اور دراوڑ جیسے کھلاڑیوں کے ساتھ بدتمیزی کرتے دیکھا گیا ہے۔ ان کے علاقائی محافظوں کے ذریعہ بلے بازوں کا دھیان گمراہ کیا جاتا ہے، تاکہ وہ اپنا ہدف کھو بیٹھیں اور اس میں وہ کامیاب بھی رہتے ہیں۔ سری لنکا کے متھیا مرلی دھرن نے ٹیسٹ کرکٹ کو الوداع کہہ دیا ہے۔ مرلی دھرن اور ان کے چاہنے والوں کے لیے اس سے بڑی خوشی اور کیا ہو سکتی ہے کہ مرلی دھرن نے اپنے آخری ٹیسٹ میں800واں وکٹ لیا اور سری لنکا کا یہ ٹیسٹ میچ جیت بھی گیا، لیکن ان کے بالنگ ایکشن کو لے کر کافی تنازعہ رہا اور کئی بار اپمائروں نے مرلی کی گیند بازی پر ناراضگی بھی ظاہر کی۔ بار بار مرلی دھرن اس سے ابرتے رہے اور اپنی کامیابی سے مبصرین کو خاموش کراتے رہے۔
اب تھوڑا ملکی کھلاڑیوں کی بات بھی کر لیتے ہیں۔ اگر تنازعہ اور ہندوستانی کرکٹ کی بات ہو تو ذہن میں سب سے پہلا نام سری سنت اور ہربھجن کا آتا ہے۔ ہر بھجن نے سری سنت کو تھپڑ مار کر پابندی تو جھیلی ہی،انتباہ بھی جھیلا اور پھر خود کو بہتر کیا۔سری سنت کا حملہ آورانہ سلوک ایک حد تک تو ٹھیک ہے،لیکن کبھی کبھی حد پار کرنے سے نقصان سری سنت کا ہی ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گاہے بگاہے میدان پر سری سنت کے بدتمیزی بھرے سلوک کا تذکرہ ہوتا رہتا ہے۔کبھی دھونی انہیں سمجھاتے نظر آتے ہیں تو کبھی کوئی اور سینئر کھلاڑی۔ عالمی کپ سے پاکستانی ٹیم کے باہر ہونے کے دوسرے ہی دن کوچ باب وولمر کی موت سے اتنا تو ظاہر ہو گیا تھا کہ ٹیم میں کافی کچھ پک رہا ہے۔2007کے اس عالمی کپ کی شروعات سے پہلے ہی ہندوستانی برصغیر کی دو اہم ٹیموں ہندوستان اور پاکستان کے کرکٹ کھلاڑیوں کے سلیکشن اور ان کی فٹنیس کو لے کر طرح طرح کے تنازعات نے ماحول بگاڑ رکھا تھا۔ پاکستان میں شعیب اختر جیسا کھلاڑی ڈوپ ٹیسٹ میں ناکام اور ٹیم سے باہر رہا، وہیں شعیب ملک بھی اس معاملہ میں پیچھے نہیں رہے۔یہی وجہ ہے کہ آج پاکستانی ٹیم کی جو حالت ہوئی ہے، اس سے سبھی واقف ہیں۔ باب وولمر کی موت شاید یہ بھی دکھاتی ہے کہ اس برصغیر میں کھیل کے نام پر جو سیاست ہو رہی ہے، وہ کتنی گندی ہے اور اگر اس میں کچھ کھلاڑی شامل ہیں تو وہ کس حد تک بیڈ مین ہیں۔
پاکستانی کرکٹ کے لحاظ سے0 20-2ورلڈ کپ فائنل اور اب ورلڈ کپ 2011کا سیمی فائنل، دونوں بڑے میچ فلاپ شو ثابت ہوئے۔ ان دونوں مقابلوں میں ٹیم ہندوستان کے خلاف شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ دونوں ہی میچوں کی کھلنائک ٹیم کے متوسط بلے باز مصباح الحق بنے۔ حق نے 20-20ورلڈ کپ کے فائنل میں گھٹیا شاٹ جما کر ٹیم کی ہار پر مہر لگا دی تھی تو اب وہ ہلکی بلے بازی کر کے پاکستانی عوام کی نظر میں ہیرو بن گئے ہیں۔حالانکہ یہ معاملہ تھوڑا الگ تھا، لیکن عوام کی نظر میں تو ٹیم ولین بن ہی گئی تھی۔صرف کرکٹ ہی نہیں، دیگر کھیلوں میں بھی کھلاڑیوں کی کرتوتیں سننے میں آتی رہتی ہیں۔ عام طور پر فیلڈ پر اپنے رویہ کے سبب تنازعات میں رہنے والے آسٹریلیائی کرکٹروں کے بعد وہاں کے کھلاڑیوں کا بھی اصلی چہرہ سامنے آیا ہے۔ پہلے ایک آسٹریلیائی پہلوان کے ذریعہ ہندوستانی پہلوان انل کمار سے پٹخنی کھانے کے بعد نازیبہ اشارہ کرنے پر تمغہ چھین لیا گیا تواب ایک سائیکلسٹ آپس میں بھڑ گئے ۔حد تو تب ہو گئی جب اس سائیکلسٹ نے اپنے کیے پر معافی مانگنے کی بجائے افسران کو دو انگلیوں سے سیلیوٹ کر کے ان کا بھی مذاق اڑایا۔ نتیجتاً افسران نے اسے ریس سے ڈسکوالیفائی کر دیا۔ کچھ سال پہلے شین وارن کوشراب پی کر لڑائی جھگڑا کرنے کے سبب آسٹریلین انسٹی ٹیوٹ آف اسپورٹ اسکالر شپ سے محروم کر دیا گیا تھا۔
اب بات ہاکی کی۔ ہندوستانی خواتین ہاکی تو ہمیشہ سے کئی تنازعات سے دور چار رہی ہے، لیکن سب سے بڑا مسئلہ جنسی استحصال والا رہا، جس نے کوچ کے ساتھ ساتھ پورے نظام پر سوال کھڑا کر دیا۔ غور طلب ہے کہ خواتین ہاکی ٹیم کے ویڈیو گرافر کی قابل اعتراض تصویروں کے بعد انہیں برخاست کر دیا گیا ، لیکن بڑا ایشو کوچ ایم کے کوشک سے جڑا تھا، جن پر خواتین کھلاڑیوں کے جنسی استحصال کا الزام ہے۔ جب الزام عائد ہوا ، تب کوشک نے پہلے تو اسے سازش کہا اور پھر جب معاملہ نے طول پکڑ لیا تو استعفیٰ کی پیش کش کردی۔ اس تنازعہ نے کھلاڑیوں اور کوچ کے رویہ کو لے کر کئی سوال کھڑے کر دیے۔اس تنازعہ نے ایک طویل بحث کو جنم دیا۔ کچھ لوگ اسے نظریہ سے جوڑ کر دیکھنے لگے تو کچھ لوگ اسے سازش مانتے ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ ایکسرسائز میں جسم تو دکھتا ہی ہے، تو اس پر کوچ کی نظر کو لے کر سوال نہیں اٹھائے جانے چاہئیں۔اس سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ ٹیم مینجمنٹ میں رہنے والے مردوں کا لڑکیوں کو لے کر کیا نظریہ رہتا ہوگا اور وہ ان سے کیسے برتائو کرتے ہوں گے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ کوچ ایم کے کوشک پر جو سنگین الزامات عائد ہوئے ہیں، وہ خود کھلاڑیوں نے لگائے ہیں۔ یہ وہ کھلاڑی ہیں، جنہیں معلوم ہے کہ اگر جھوٹے الزامات عائد کیے گئے تو انہیں ٹیم میں کبھی جگہ نہیں ملنے والی۔ ان کی آواز کو کچھ پرانے کھلاڑیوں کے بیانوں سے بھی طاقت ملی ہے۔خواتین کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ ایسا پہلی بار نہیں ہوا ہے ۔اور جیسے ہی معاملہ کی ایک کڑی سامنے آئی، اس سے جڑی کئی کہانیوں کے ورق کھلنے لگے۔ ان کھلاڑیوں کی مانیں تو کوچ کے برتائو کو لے کر پہلے بھی کئی بار شکایتیں ہوتی رہی ہیں، لیکن ایسی شکایتوں پر کوئی دھیان نہیں دیا جاتا، بلکہ شکایت کرنے والی لڑکی کو ہی بڑی بے شرمی کے ساتھ ٹیم سے باہر کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے۔
ہاکی کھلاڑیوں کے الزامات کی حمایت ویٹ لفٹنگ میں چمپئن رہیں کرنم ملیشوری نے بھی کی تھی۔ان کے مطابق، کھیل چاہے کوئی بھی ہو، خواتین کھلاڑیوں کو ہر جگہ ایسی دقتوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ مختلف کھیلوں سے جڑی خواتین اکثر اس طرح کے جنسی استحصال کی شکایت کر تی رہتی ہیں۔ گزشتہ سال حیدر آباد میں ایک خاتون مکے باز نے خود کشی کر لی۔اپنے سوسائڈ نوٹ میں اس نے لکھا تھا کہ اسے اس کا ایک مرد کوچ تنگ کر رہا تھا۔ آندھرا پردیش کی خواتین کرکٹروں نے بھی الزام لگایا تھا کہ ٹیم میں سلیکشن کے لیے بی سی سی آئی کے ایک افسر نے ان سے سیکس کو لے کر چھوٹ لینی چاہی تھی۔ بنا کسی ثبوت کے اس طرح کے الزامات کو ثابت کرنا عام طور پر مشکل ہوتا ہے۔ پہلوان سے ماڈل بنیں ایک لڑکی نے الزام لگایا کہ اس سے بھی ایسی چھوٹ لینے کی کوشش کی گئی۔ اس کا کہنا ہے کہ معاملہ جنسی استحصال کا ہی نہیں، بدعنوان افسروں کا بھی ہے، جو کسی کو ٹیم میں شامل کرنے سے پہلے اس سے طرح طرح کے فیور چاہتے ہیں، خوا وہ مرد ہو یا عورت۔ حالانکہ یہ کہنا کہ صرف تمام کوچ ہی بدعنوان ہیں، غلط ہوگا۔ کئی بار ایسابھی ہوتا ہے کہ ٹیم میں جگہ پکی کرنے کے لیے کئی کھلاڑی کوچ کو استعمال کرتے ہیں اور جب بعد میں ان کا جنسی استحصال ہونے لگتا ہے تو پھر اس طرح کے تنازعات پیدا ہوتے ہیں۔ اب قصور خوا ہ کوچ کا ہو یا پھر کھلاڑیوںکا، اتنا تو طے ہے کہ اس سے کھیل کے تقدس پر سوال اٹھتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ کاجل کی اس کالی کوٹھری میں سبھی کالے ہیں۔ کچھ کھلاڑی ایسے بھی ہوتے ہیں، جو سالوں سے اس فیلڈ میں ہیں اور اپنی عظمت کو بچا کر رکھتے ہیں۔ سچن اس بات کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ان تمام کھلاڑیوں کو ایک بات سمجھنی چاہیے کہ ایسا برتائو ان کی حصولیابیوں کو بونا کرتا ہے۔اگر انہیں سیکھنا ہے تو سچن جیسے کھلاڑیوں سے سیکھیں۔ ورنہ جو عوام انہیں سر پر بیٹھا کر اسٹار ہونے کا رتبہ دیتے ہیں، وہی عرش سے فرش تک پہنچانے کا بھی مادہ رکھتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *