!زندہ رہنے کی مارا ماری میں کچھ بھی ہو سکتا ہے

حیدر طبا طبائی
برطانیہ سے خبر آئی ہے کہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر ’’باڈی اسکینرز‘‘ نصب کردیے گئے ہیں۔ برطانوی وزیر ٹرانسپورٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ سیکورٹی خطرات کے پیش نظر حکومت سمجھتی ہے کہ فوری طور پر اس طرح کے  اسکینرزنصب کرنے میں ہی بھلائی ہے۔
ادھر وزیرداخلہ نے گزشتہ ہفتے پروگرام میں برطانوی ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیتے ہوئے ایک ہنگامہ بیان میں کہا ہے کہ دہشت گردی کے امکانات کا جائزہ لینے والے مشترکہ کمیشن نے عالمی خطرات جس میں دہشت گردی کے خطرہ کو اولین حیثیت حاصل ہے کو سنگین قرار دیا ہے، اس لیے برطانیہ میں دہشت گردی کے بڑے واقعہ کا خطرہ بڑھ گیا ہے، اس لیے مزید الرٹ رہنے کی ضرورت بھی پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ سیکورٹی لیول کو چوتھے بلند ترین لیول پر پہنچا دیا ہے، جو انتہائی سے محض ایک قدم پیچھے ہے۔ ایئرپورٹس سمیت حساس مقامات کی نگرانی میں اضافہ کردیاگیا ہے۔ برطانوی سیکورٹی ایجنسی ایم آئی فائیو کی ویب سائٹ پر اگست 2007 سے مسلسل سیکورٹی لیول کو اپ ڈیٹ کیا جارہا ہے۔ ہوائی اڈوں کے عملے کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ افراد اور ان کے سامان کی ’’ہاتھوں سے تلاشی‘‘ کو یقینی بنائیں، اس کے علاوہ ہوائی اڈوں پر سراغ رساں کتوں کی تعداد میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے کہ وہ کھانے پینے کی اشیاء کو سونگھ یا چکھ کر یقینی بنائیں کہ اس میں کوئی دھماکہ خیز مواد یا ڈرگ تو شامل نہیں ہے، اس کے باوجود یہ ایک واضح امر ہے کہ دہشت گردی پر کمربستہ افراد کو اس مذموم کارروائی سے روکنا ممکن نہیں ہے اور یہ بات بھی واضح ہے کہ ابھی تک ایسا کوئی آلہ ایجاد نہیں کیا گیا، جس کے ذریعے سو فیصد اس طرح کے حملوں سے نمٹا جاسکے، ان خدشات کے پیش نظر برطانیہ ’’پسنجر پروفائلنگ‘‘ کو ملک بھر میں استعمال کرنے پر غور کررہا ہے۔ ہوم ڈپارٹمنٹ اس کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیاسیکورٹی میں مزید اضافے کے لیے کس حد تک ضرورت ہے اور مسافروں کو ایئر پورٹ پر ’’اضافی ٹارگٹڈ پروفائلنگ‘‘ کی ایئر پورٹس پر رنگ و نسل اور جنس کی بنیاد پر سرچ کیا جاسکتا ہے۔ ہوم آفس کے مطابق ہم اس بات سے آگاہ ہیں کہ شناخت کی بنیاد پر پروفائلنگ کی اپنی حدود ہیں، لیکن عوام کی زندگی اور آزادی کا تحفظ ہماری ترجیحی ذمہ داری ہے۔ ہوم آفس نے نئے اقدامات کے حوالے سے اتحادی ممالک کی جانب سے ظاہر کیے گئے، ان تحفظات کا بھی ذکر کیا، جس کے مطابق نئے اسکینرز کی تنصیب کے بعد بچوں اور عورتوں(مردوں کا کوئی ذکر نہیں ہے) کی ننگی، برہنہ یا شرمناک تصاویر بنائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا، لیکن ایسا کچھ نہیں ہے، اخبارات کے مطابق یوروپی ممالک(اتحادی) کی حکومتوں نے ’’خلوت‘‘ کے بارے میں خطرات و خدشات لاحق ہونے پر ہوئی اڈوں پر متعارف کرائے گئے نئے باڈی  اسکینرز کا دفاع کیا ہے۔ اٹلی کے وزیر خارجہ فرانکو فرتینی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ یہی وہ طریقہ رہ گیا ہے، جس سے سیکورٹی کے جدید ترین تقاضے پورے ہونے کی امید ہے۔ واضح رہے کہ یوروپی کمیشن 2008 میں اس ’’شرمناک منصوبے‘‘ سے دستبردار ہوگیا تھا، جس کے بعد ہر ملک اپنے طور پر ہاں یا نا میں فیصلہ کرنے کے لیے آزاد تھا۔ کمیشن نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ان اقدامات سے سیکورٹی کے تقاضے پورے ہوتے ہوں تو یہ فیصلہ یوروپی قوانین کے منافی نہیں، لیکن سول و انٹلیجنس گروپس کی جانب سے اس کی مخالفت کرتے ہوئے یہ کہا گیا ہے کہ نئے  اسکینرز سے مسافروں کی پرائیویسی متاثر ہوگی۔
دوسری طرف ملک عزیز ہنوز ’’میٹل ڈیٹکٹرز‘‘ پر زندہ ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ میٹل ڈیٹکٹرز آج کل کے جدید دور میں پلاسٹک استعمال کرکے بنائے جانے والے بم سرے سے نشاندہی نہیں کرسکتا اور یہ کام ایکسپلوسیو ڈیٹکٹرز کا ہے، جس کی قیمت تقریباً تیس لاکھ روپے ہے اور یہ بھی اس وقت ناکام ثابت ہوتا ہے جب کسی بھی قسم کے دھماکہ خیز مواد کی ’’طبعی عمر‘‘ پوری ہوچکی ہو اور اس کے ساتھ اس کی مخصوص بو بھی ختم ہوچکی ہو، ایسے بموں یا مواد کی ڈیٹکٹرز نشاندہی نہیں کرسکتے اور وہ تباہ کن ثابت ہوتے ہیں۔ حکومت پاکستان جو آلات خریدتی ہے، اس سے صرف دھات کی نشاندہی ہوسکتی ہے، دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی نہیں ہوسکتی۔ ماہرین کے مطابق اگر دھماکہ خیز مواد میں کسی بھی جگہ پر دھات استعمال کر کے اس کو مخصوص پلاسٹک کی موٹی تہہ سے ڈھانپ دیا جائے تو بھی میٹل ڈیٹکٹرناکام ثابت ہوتا ہے۔ آج کل تو ڈیجٹل گھڑیاں اور پن بھی مارکیٹ میں موجود ہیں، جن میں دھات کا استعمال برائے نام ہے، جو ٹائم بم کے لیے باآسانی استعمال ہوسکتی ہیں۔ علاوہ ازیں فائر آپٹک کے نظام میں بھی یہی جدید ٹکنالوجی استعمال کی جارہی ہے، جس میں دھات کا عمل دخل انتہائی معلوماتی ہے، لیکن اس میں سے باآسانی ’’کرنٹ‘‘ گزارا جاسکتا ہے۔ ایسے بموں میں دھماکہ خیز مواد ٹی این ٹی اور روسی ساخت کا بے حد خطرناک مواد PE-3A استعمال ہوتا ہے، جب کہ ان دنوں تو ٹی این ٹی وغیرہ سے بھی زیادہ طاقت ور دھماکہ خیز مواد امریکہ نے عراق اور افغانستان میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا ہے، جسے C4اور C6 کہا جاتا ہے۔ امریکہ کی طرف سے لائی گئی یہ خطرناک قسم کی ’’ایجاد‘‘ سنتے ہیں، القاعدہ اور طالبان کے ہاتھ بھی لگ چکی ہے، پاکستان میں ایسی بارودی سرنگیں بھی پائی گئی ہیں جو مکمل طور پر پلاسٹک سے تیار شدہ ہیں۔ ان میں صرف 2سے 3 اونس دھماکہ خیز مواد ڈالا جاتا ہے اور بال پوائنٹ پن کی نوک کے برابر ڈینوینٹر استعمال ہوتا ہے، اگر کسی کا پاؤں اس پر پڑجائے تو ا س کے جسم کے ٹکڑے 50 میٹر کے فاصلے تک جاگرتے ہیں۔
اس تمام تر ملکی سیکورٹی کی صورت حال سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دہشت گردی کو کنٹرول کرنے میں حکومت ناکام ہو رہی ہے یا ہوچکی ہے یا پھر ہمارا معاشرہ تشدد، ابتری اور انتشار کو ’’انجوائے‘‘ کرنے لگا ہے۔
میں بھی سوچتا ہوں آپ بھی سوچیے…؟
غرق تو ہونا ہے پر جتنی بھی مہلت ہے نصیب
ہم کوئی نقش ہی پانی پہ بنا کر دیکھیں!

Latest posts by حیدر طباطبائی (see all)

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *