…..ایک تھا اسامہ

ڈاکٹر منیش کمار
سیڑھیوںپر اپنی جان بچاتے دوڑتے، بھاگتے اور ہانپتے دنیا کے سب سے طاقتور ملک کے ممبران پارلیمنٹ۔ کوئی گر رہا ہے، کوئی دوسرے کو دھکا دے رہا ہے۔ سب جان بچا کر بھاگنے میں لگے ہیں۔ یہ آنکھوں پر بھروسہ کرنے والا نظارہ نہیں ہے۔ 9 ستمبر 2001 سے قبل یہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکہ کے ممبران پارلیمنٹ اپنے ہی پارلیمنٹ ہاؤس سے جان بچا کر اس طرح بھاگتے ہوئے نظر آئیںگے۔ ایک بار، دو بار نہیں، 2001 کے بعد ایسا نظارہ کئی بار دیکھا گیا۔ 31 جنوری 2007 کو تو حد ہی ہوگئی۔ امریکہ کے بوسٹن شہر میں کسی کمپنی کی تشہیر کے لیے کئی جگہوں پر ایل ای ڈی بورڈ لگا دئے۔ دور سے دیکھنے میں یہ بم کی طرح نظر آرہے تھے۔ خبر پھیلتے ہی شہر پر فوجی ہیلی کاپٹر منڈلانے لگے۔ ٹی وی پر لائیو دکھایا جانے لگا۔ شہر کے لوگ گھروں میں دبک گئے۔ ایسا لگا کہ کسی سیریل بلاسٹ کی اسکیم ہے۔ اس طرح کے اور بھی واقعات کئی دوسرے شہروں میں ہوئے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر حادثے کے بعد امریکیوں کے دلوں پر دہشت گھر کر گئی۔ امریکہ کا غرور ٹوٹ گیا۔ دنیا کا سب سے طاقتور ملک، جس کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ اس کی جغرافیائی، اسٹریٹجک اور سیاسی صورت حال ایسی ہے کہ اس پر کوئی حملہ نہیں کرسکتا، اپنے ہی تحفظ کے لیے فکرمند ہوگیا۔
یہ غرور توڑنے کا کریڈٹ اسامہ بن محمد بن عوض بن لادن کو جاتا ہے، جسے ہم دنیا کا سب سے خطرناک دہشت گرد اسامہ بن لادن کے نام سے جانتے ہیں۔ اسامہ بن لادن ایک دہشت گرد تو تھا، لیکن اس نے ایسا کام کیا، جسے طاقتور سوویت روس نہیں کرسکا، جاپان نہیں کرسکا، ہٹلر کا جرمنی نہیں کرسکا۔ دوسری جنگ عظیم میں بھی کسی نے نیویارک پر حملہ کرنے کی ہمت نہیںکی۔ جاپان نے پرل ہاربر پر حملہ ضرور کیا، لیکن یہ مین لینڈ سے 2000 کلو میٹر سے بھی زیادہ دور سمندر میں ایک جزیرہ ہے۔ اسٹریٹجک نقطہ نظر سے اسامہ بن لادن کا ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملہ، تاریخ میں امریکہ پر ہوا سب سے بڑا حملہ ہے۔ اسامہ بن لادن نے پہلی بار امریکہ کو یہ احساس دلایا کہ اس کے شہر محفوظ نہیں ہیں۔ اٹلانٹک مہاساگر پار کر کے اس کے شہروں کو تباہ کیا جاسکتا ہے۔ اسامہ بن لادن کا امریکہ پر یہ پہلا حملہ نہیں تھا۔ اس سے پہلے بھی امریکی سفارت خانوں اور سمندری جہازوں کو نشانہ بنا چکا تھا۔ لیکن ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے نے دنیا کا رنگ ہی بدل دیا۔ بین الاقوامی سیاست، اقتصادی نظام، ناٹو کی ذمہ داریاں، روس اور چین کی عالمی سیاست میں مداخلت، مغربی ایشیا کے تئیں دنیا کا رویہ، اسرائیل و فلسطین کی لڑائی اور دہشت گردی کے تئیں دنیا کا رویہ جیسی کئی اہم چیزیں ہیں، جن میں پر اثر تبدیلی آئی۔ ان تبدیلیوں کی ایک ہی وجہ تھی اسامہ بن لادن کا امریکہ پر حملہ۔ اسامہ کے حملے نے نہ صرف امریکہ کو غیر محفوظ قرار دیا، ساتھ ہی عالمی سیاست بھی بدل گئی۔ ا س کے بعد دنیا کی ساری طاقتیں اسامہ بن لادن کو ڈھونڈنے نکل گئیں، لیکن وہ 10 سالوں تک امریکی فوج کو چکما دیتا رہا۔ بیچ بیچ میں وہ اپنے آڈیو اور ویڈیو ٹیپ جاری کردیتا، دنیا کو یہ بتانے کے لیے کہ وہ زندہ ہے۔ 2 مئی 2011 کو پاکستان کے ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو امریکی فوج نے مار گرایا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اسامہ کی موت کے ساتھ اس کا باب ختم ہوگیا؟
اسامہ بن لادن کی موت القاعدہ کے حوصلے پر گہرا جھٹکا ہے۔ اسامہ بن لادن دنیا، خاص طور سے غیرمسلم ممالک کے لیے، ایک دہشت گرد تھا، لیکن اس کے ساتھ ہی اس بات سے بھی انکار نہیں کیاجاسکتا کہ وہ ایک کرشمائی لیڈر تھا۔ کروڑوں لوگ اسے ایک عظیم مجاہد مانتے تھے۔ اسامہ بن لادن کے نام سے کون واقف نہیں ہے۔ دنیا بھر میں بچے بچے کے منہ پر، اسامہ بن لادن کا نام ہے۔ کروڑوں لوگوں کے لیے اسامہ کی پہچان یہ ہے کہ وہ ایک ارب پتی تھا، جس نے اسلام کے دشمنوں سے لڑنے کے لیے دنیا کے سارے عیش و آرام ترک کیے۔ ایسے بھی لوگ ہیں جو اسامہ کے ذریعہ کی گئی ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہیں، ساتھ ہی اس کی ہمت کی داد بھی دیتے ہیں کہ وہ اکیلا ایک ایسا انسان تھا، جس نے امریکہ سے لوہالیا۔ اسامہ نے جو کیا، جس طرح کیا، اس پر اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن اس بات کو کون جھٹلا سکتا ہے کہ اس نے دھیرے دھیرے دنیا بھر میں ایک ایسی تنظیم تیار کردی جس سے بڑی بڑی سرکاریں سہم گئیں۔
اسامہ بن لادن کوئی معمولی دہشت گرد نہیں تھا۔ وہ امریکی مخالفت کی جیتی جاگتی علامت بن چکا تھا۔ فلسطین کا معاملہ ہو یا پھر افغانستان اور عراق کا، امریکہ نے اپنی طاقت کا استعمال کیا۔ تیل کے لئے اس نے مغربی ایشیا کی حکومتوں کے ساتھ مل کر وہاں کے شہریوں کومنحرف کیا۔ اسلامی ممالک کے لوگ امریکہ کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتے ہیں، اسے دشمن مانتے ہیں۔ اسامہ بن لا دن ایسے لوگوں کا سپر ہیرو بن کر ابھرا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلم ممالک میں اسامہ کے چاہنے والے موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسامہ کی موت کے بعد ان لوگوں نے کھلے عام اس کی نماز جنازہ ادا کی۔ اسامہ بن لا دن کسی شخص یا دہشت گرد کا نام نہیں رہ گیا ہے۔ اسامہ ایک آئیڈیا ہے۔ اسامہ بن لا دن نے اسلامی معاشرہ اور عیسائی تہذیب کے درمیان ایسی لکیر کھینچ دی، جس کا اثر پوری دنیا میں راست طورپرنظر آیا۔کلیش آف سویلائزیشن کی باتیں پہلے سے ہو رہی تھیں، لیکن اسامہ بن لا دن نے اسے حقیقت میں بدل دیا۔ ایسا خیال ، جو یہ مانتا ہے کہ امریکہ اور یوروپ اسلامی تہذیب کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔اس نے مغربی ایشیا کے لوگوں کو یہ سمجھایا کہ امریکہ اپنے نظریاتی، سماجی ، اقتصادی اور سیاسی اقتدار کو مسلمانوں پر تھوپنا چاہتا ہے۔اس نے یہ اپیل کی کہ امریکہ اور یوروپ کے ملک طاقتور ہیں اور ان سے لڑنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔مسلم ممالک کی حکومتیں امریکہ سے نہیں لڑ سکتی ہیں، اس لئے خود ہی لڑنا ضروری ہے۔ ان کے خلاف جہاد کرنا ہی سب سے مقدس فریضہہے۔ یہ آئیڈیا خطرناک اور پر تشدد ہے ،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اسامہ بن لادن کے خیالات اور پیغامات سے نوجوان متاثر ہوتے ہیں۔ وہ عرب ممالک کے نوجوانوں کا ہیرو ہے۔یہ اسامہ بن لا دن کا ہی اثر ہے کہ امریکہ کی مخالفت ان کے دلوں میں ایسے بیٹھ جاتی ہے کہ وہ خود کش حملہ کرنے سے بھی نہیں ہچکچاتے۔اسامہ بن لا دن کے ذریعہ بنائی گئی تنظیم القاعدہ ایسے ہی جاں نثار لوگوں کی فوج ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یوروپ، شمالی امریکہ، وسط مشرقی اور ایشیا کے 40سے بھی زائد ممالک میں اسامہ بن لا دن کی القاعدہ سرگرم ہے۔
اسامہ بن لا دن کے مرنے کے بعد القاعدہ کا نیا چہرہ ابھرے گا۔اسامہ بن لا دن کی حیثیت اب ایک فلسفی کی ہوگی۔ یہ تنظیم لادن کے ذریعہ بتائی گئی آئیڈیالوجی اور حکمت عملی پر چلے گی۔ گزشتہ دس سالوں میں اسامہ بن لادن نے القاعدہ کو بڑی سوجھ بوجھ کے ساتھ فرنچائزی ماڈل میں تبدیل کر دیا۔ مطلب یہ کہ پہلے جہاں القاعدہ کی صرف ایک تنظیم ہوتی تھی، اب یہ الگ الگ جگہوں پر چھوٹی چھوٹی یونٹوں کی طرح کام کرے گی۔ اسامہ بن لادن اسلام کا تقدس پر اعتقاد  تھا۔ وہ ڈیمو کریسی، کمیونزم ، سوشلزم یا پھر کسی بھی غیر اسلامی حکومتی نظام کے خلاف تھا۔ وہ اسلامی ممالک میں شریعت کے مطابق قانون نافذ کرنے کا طرفدار تھا۔اس کا ماننا تھا کہ ملا عمر کی طالبانی حکومت والا افغانستان ہی واحد اسلامی ملک ہے۔ وہ ایسی ہی حکومت ہر ملک میں نافذ کرنا چاہتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ امریکہ نے مغربی ایشیا میں آ کر تہذیب اور اسلام کو آلودہ کر دیا ہے، اس لئے امریکہ کو پورے مغربی ایشیا سے باہر کرنا ضروری ہے۔ اسامہ فلسطین کا حامی تھا اور اسرائیل کو مغربی ایشیا سے باہر نکالنے کا طرفدار تھا۔ اس کے لئے اسے تشدد سے بھی گریز نہیں تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے خیالات اور ہدف حاصل کرنے کے طریقے اسے دہشت گرد کے زمرے میں شامل کرتے ہیں۔اسامہ کی حکمت عملی الگ الگ دشمنوں کے حساب سے تھی۔ القاعدہ کے مینول میں اسے اچھی طرح سے سمجھایا گیا ہے۔ اسامہ بن لا دن چھوٹے ممالک سے لڑنے کے لئے بم دھماکے اور خود کش حملے جیسی حکمت عملی پر کام کرتا تھا، لیکن سوویت یونین اور امریکہ جیسے بڑے ممالک کے لئے اس کی حکمت عملی الگ تھی۔ وہ ان کے ساتھ سالوں تک چلنے والی لمبی لڑائی کر کے انہیں تباہ کرنا چاہتا تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ ایسی لڑائی کے ذریعہ ہی عالمی طاقت کو ہرایا جا سکتا ہے۔ ایسی حکمت عملی کی وجہ سے عالمی طاقت کی اقتصادی صورتحال کمزور ہو جاتی ہے۔ فوجیوں کے مرنے سے ان ممالک کی حکومت پر دبائوبڑھتا ہے، جس کی وجہ سے وہ جنگ کے میدان سے بھاگنے کے لئے مجبور ہو جائیں گے۔ ساتھ ہی اس دوران مذہبی جنگ کے نام پر الگ الگ ممالک سے جہادی شامل ہوں گے، جو جان دے دیں گے، لیکن سپردگی نہیں کریں گے۔ اسی حکمت عملی کے ذریعہ اسامہ بن لا دن نے سوویت یونین کو افغان جنگ میں شکست دی تھی۔ سوویت فوج کو اپنے ٹینک چھوڑ کر بھاگنا پڑا تھا۔ اسامہ بن لا دن یہی امید کر رہا تھا کہ افغانستان میں جو حال سوویت یونین کا ہوا، وہی امریکہ کا ہوگا۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ اس کی حکمت عملی کامیاب ہوتی نظر آ رہی ہے۔ امریکہ کی معیشت جنگ کی وجہ سے خراب ہو گئی ہے ۔ امریکہ اب زیادہ دنوں تک عراق اور افغانستان سے جنگ جاری رکھنے کے حق میں نہیں ہے۔ان ممالک میں جنگ کو لے کر حکومت کو عوامی حمایت حاصل نہیں ہے۔ انتخابات کے دوران امریکی صدر اوبامہ نے یہی وعدہ کیا تھا کہ وہ جنگ کو ختم کریں گے، عراق اور افغانستان سے فوجیوں کو واپس لائیں گے۔امریکی فوج کے واپس جانے سے پہلے ہی اسامہ بن لا دن پکڑا گیا۔ امریکہ نے اسے مارا گرایا، لیکن یہ کہنا پڑے گا کہ وہ تاریخ کا واحد ایسا شخص ہے، جس نے دونوں سپر پاور سے لڑائی لڑی۔ ایک کو اس نے ہرا دیا اور دوسرے کے ساتھ جنگ میں مارا گیا۔ مستقبل میں اگر امریکی فوج افغانستان سے  واپس آتی ہے اور طالبان واپس افغانستان میں حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یقینا اس کا شرف اسامہ بن لا دن کو جائے گا۔
اب سوال یہ ہے کہ اسامہ بن لا دن کے بعد القاعدہ کا کیا ہوگا۔ اسامہ بن لا دن نے ایک ایسی تنظیم تیار کی ، جو تعداد کی بنیاد پر زیادہ بڑی نہیں ہے، لیکن اس کے ممبر جاں نثار کرنے والے تربیت یافتہ لڑاکو ہیں، جو جان پر کھیل کر اپنا کام کرتے ہیں۔سمجھنے والی بات یہ ہے کہ القاعدہ کسی دوسری تنظیم کی طرح کوئی کلاسیفائڈتنظیم نہیں ہے۔ اس کا کوئی مقرر کنٹرول اور کمانڈ سسٹم نہیں ہے۔ آج القاعدہ کا نیٹورک انڈو نیشیا سے لے کر امریکہ تک پھیلا ہے۔ 9/11کے بعد اسامہ نے القاعدہ کو چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں تقسیم کر دیا۔ اسامہ بن لا دن نے القاعدہ کو پوری دنیا میں پھیلا دیا۔ اس کی تمام سرگرمیاں دنیا سے پوشیدہہیں۔ اس کے ممبر خفیہ طور پر کام کرتے ہیں۔ لادن کو ٹیکنالوجی کی اچھی سمجھ تھی۔ وہ اس بات سے واقف تھا کہ افغان جنگ کے بعد سے دنیا کافی بدل چکی ہے۔ وہ اس بات کو بھی سمجھتا تھاکہ کس طرح انٹرنیٹ اور سیٹیلائٹ کے ذریعہ طاقتور ملک اس کی تنظیم پر نگرانی رکھ سکتے ہیں اور کس طرح اسے تباہ کر سکتے ہیں۔ اس لئے اس نے ایک ایسی تنظیم تیار کی، جس کے ممبروں، حامیوں اور منصوبوں کی جانکاری اور اندازہ کرنا کافی مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسامہ بن لادن کی موت سے القاعدہ کی تنظیم کو زیادہ نقصان نہیں ہونے والا ہے۔ اسامہ بن لا دن نے 9/11کے بعد ’’ایک آدمی ، ایک بم‘‘ کی حکمت عملی پرکام کیا۔ حالانکہ پاکستان اور افغانستان میں القاعدہ کے کئی ٹھکانوں پر حملے ہوئے، اس کے کئی ممبر مارے گئے، لیکن امریکہ اور یوروپی ممالک کو سب سے زیادہ خطرہ القاعدہ کی ان ٹکڑیوں سے ہے، جو مغربی ایشیا ، امریکہ، یوروپ اور افریقہ میں سرگرم ہیں۔ اس سے بھی زیادہ خطرہ ان لوگوں سے ہے، جو القاعدہ سے جڑے تو نہیں ہیں، لیکن القاعدہ کے پیغام سے متاثر ہو کر جہادی بنتے ہیں یا کبھی بھی جہادی بن سکتے ہیں۔ اس لئے اسامہ بن لادن مرنے کے بعد بھی اتنا ہی خطرناک ہے، جتنا وہ زندہ رہنے پر تھا۔ اسامہ بن لا دن کا زندہ رہنا القاعدہ کے لئے ایک جیت کی طرح تھا کہ دنیا کے سب سے طاقتور ملک نے جسے پکڑنے کے لئے اپنی پوری طاقت لگا دی، پھر بھی وہ اسامہ بن لا دن زندہ ہے، امریکہ کی پکڑ سے باہر ہے۔ اسامہ بن لادن کے مارے جانے سے امریکہ کو صرف ذہنی فائدہ ہوا ہے۔ حالانکہ اسے القاعدہ کے ممبران اور حامیوں سے خطرہ آج اور بھی زیادہ ہے، کیونکہ القاعدہ اب اسامہ کی موت کا بدلا لینے پر آمادہ ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ اسامہ کی موت سے امریکی حکومت نے راحت کی سانس لی۔ امریکہ کے پالیسی ساز یہی سوچ رہے ہوںگے کہ مستقبل میں اب کوئی دوسرا اسامہ بن لادن نہ پیدا ہو۔ ایک اور بات جو غور کرنے والی ہے کہ اسامہ بن لادن نے ذہنی اور نظریاتی سطح پر بھی وسیع اثر ڈالا ہے۔ 9/11 کے واقعہ کے بعد سے اسلام، جہاد اور دہشت کو لے کر پوری دنیا میں بحث چھڑ گئی۔ 2001 کے بعد سے اسلامی معاشرے کو دہشت گردی اور عسکریت پسندی نے اپنے چنگل میں لیا اور اس میں انہیں کامیابی بھی ملی۔ وہیں مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ اسلام کی اس شکل کی مخالفت میں جا کھڑا ہوا۔ اسامہ بن لادن، القاعدہ اور اس سے متعلق تنظیموں کی وجہ سے مسلم قوم میں جدیدیت کی ہوا چلی۔ جہاد کے نام پر ہونے والے تشدد کی مذمت کرنے کے لیے مسلمان آگے آنے لگے۔ مسلم سماج کی نئی پیڑھی یعنی نوجوان طبقہ نے تو تشدد اور دہشت گردی کو سرے سے خارج کردیا۔ اس کا اثر مغربی ایشیا میں دیکھنے کو مل رہا ہے، جہاں مسلمان جمہوریت کے لیے تحریک چلا رہے ہیں۔ ان تحریکوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ ہندوستان اور پاکستان میں شدت پسند تو ہیں، لیکن انہیں مسلم نوجوانوں کی حمایت حاصل نہیںہے۔ اسامہ بن لادن کی سرگرمیوں کی وجہ سے یوروپ اور امریکی قوم کا اصلی چہرہ بھی سامنے آیا۔ یوروپ اور امریکہ اپنی ثقافتی برتری پر غرور کرتے رہے ہیں۔ اب تک یہی بتایا گیا کہ تحمل اور فراخدلی  مغربی تہذیب کی بنیاد ہے۔ 9/11 کے بعد سے جس طرح غیر عیسائیوں کے ساتھ برتاؤ ہوا، جس طرح غیرعیسائیوں پر حملے ہوئے، جس طرح پگڑی اور حجاب کو لے کر سکھوں اور مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس سے مغربی تہذیب کی قلعی کھل گئی۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *