اتراکھنڈ میں کانگریس گروپ بندی کا شکار

راجکمار شرما
ملک کی پانچ ریاستوں میں انتخابات کے اختتام کو پہنچتے ہی ریاست اتراکھنڈ کی سیاسی تپش میں اضافہ ہونے لگا ہے۔ریاست میں پانچ پارلیمانی سیٹوں پر کانگریس کا قبضہ ہو جانے کے بعد کانگریسی لیڈران خوشی سے پھولے نہیں سما رہے ہیں۔آٹھ مہینے بعد ہونے والے ریاستی  اسمبلی انتخابات میں عوام کے رجحان کانگریس کے حق میں زیادہ جانے کی امید سے  کانگریس میں گروہ بندی تیز ہوگئی۔فی الحال صورتحال یہ ہے کہ اس ریاست کے پانچ قدآور کانگریسی لیڈر جنہیں پانچ پانڈووں کے طور پر جانا جاتا ہے ۔ وہ وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں سب سے آگے نکلنیکے لئے اپنوں کوہی پچھاڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔کانگریس کے پانڈو ہریش راوت، وجے بہوگنا ، اندر اہردیش، ہرک سنگھ راوت، یشپال آریہ سیاست کے ایسے کھلاڑی ہیں جو متحد ہو کراگر انتخابی میدان میں اتر جائیں تو پوری ریاست میں کانگریس کو انتخابی جنگ جیتنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی، اس انتخاب میں میدان کی سیاست میں بھاری دخل رکھنے والے انتخابی میدان میں سارتھی کرشن کا کردار ادا کرنے والے جے رام اداروں کے صدر برہم سوروپ برہمچاری جو دس جن پتھ کے کافی قریبی ہیں وہ انتخاب لڑنے میں کم کانگریس کے سارتھی دکھائی دینے میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں ۔ماہرین سیاست کا ماننا ہے کہ  کانگریس کوہار جیت دلانے میں ان کی صلاحیت کو کانگریس ہائی کمان بھی تسلیم کر کے ان کے اسمبلی انتخاب نہ لڑنے کا اعلان کرنے کے باوجود انہیں انتخابی مہارتھی کے کردار میں دیکھنا چاہتی ہے۔برہم چاری جی نے دیو بھومی میں جس بحران کے وقت میں کانگریس صدر سونیا گاندھی کو اپنے ہریدوار میں واقع جے رام اداروں میں ہندوستانی رسم و رواج کے مطابق تہہ دل سے خیر مقدم کر کے سونیا گاندھی کو ہندو مندروں میں نہ صرف داخلہ کا راستہ ہموار کیا تھا،بلکہ انھوں نے سنگھ کے لیڈران کو کرارا جواب دے کر ان کی بولتی بند کر دی تھی، تبھی سے انہیں 10جن پتھ والے بے حد پسند کرتے ہیں، دہلی دربار کی دخل اندازی کے بعد ہی تیواری جی کے ذریعہ انہیں ریاست کی پہلی سنسکرت یونیورسٹی کا وائس چانسلر ، کے ساتھ ساتھ ریاستی سنسکرت اکادمی کا نائب صدر بھی بنایا گیا تھا۔ طالب علمی کے زمانہ سے ہی سنگھ مخالف ہونے کے ساتھ ان کی سماجی خدمات کے سبب ایک وفادار کانگریسی کی شکل میں انہیں جانا جاتا ہے۔
اسمبلی انتخابات میں کانگریس کی واپسی کے مل رہے اشاروں نے ابھی سے کانگریس کے مہارتھیوںمیں وزیر اعلیٰ کے اہم دعویدار ہونے کی چاہت پیدا کر دی ہے ۔کانگریس ہائی کمان کے کسی کو وزیر اعلیٰ پروجیکٹ کر کے انتخاب نہ لڑنے کے منشا کے برعکس یہ قدآورلیڈران گاہے بگاہے خود کو وزیر اعلیٰ کی دوڑ میں سب سے آگے ہونے کی بات خود کر کے پارٹی کی جیتی بازی کوہار میں بدلنے سے نہیں چوک رہے ہیں۔ اس بڑبولے پن میں اب تک سب سے آگے ہریدوار سے ممبر پارلیمنٹ بن کر مرکزی حکومت میں وزارت پانے والے ہریش رائوت سب سے آگے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ان کے حق پر شدید ضرب لگا کر ہائی کمان نے گزشتہ مرتبہ تیواری جی کو وزیر اعلیٰ بنا کر بھیج دیا۔ اس مرتبہ تو ان کا حق بنتاہی ہے۔ گزشتہ بار نارائن دت تیواری کے وزیر اعلیٰ بننے کے بعد انہیں گھیرنے کا کام اپوزیشن سے زیادہ ہریش نے کیا ۔جس کے سبب تیواری جی کے وکاس پروش ہونے کی پچ پر عوام نے سیاہی پوت دی، اور کانگریس کے قدآور لیڈر تیواری کے ذریعہ کئے گئے ریاست کے دیگر ترقیاتی کاموں کے باوجود کانگریس بی جے پی سے پچھڑ گئی۔ ہریش راوت کو ان کے بڑبولے پن سے تنگ آ کر کانگریس ہائی کمان نے انہیں اور ان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے پہلے ممبر پارلیمنٹ اورپھر وزیر بھی بنا دیا ہے، اس سب کے باوجود ہریش راوت وزیر اعلیٰ کے عہدہ کے لئے ابھی بھی بیتاب ہیں۔ دوسرے پانڈو وجے بہوگنا جو ٹہری کے ممبر پارلیمنٹ ہیں، جن کا نام  ٹہری ممبر پارلیمنٹ بننے کے ساتھ ساتھ سابق ججہونے اور  اتر پردیش سابق کے وزیر آنجہانی ہیم وتی نند ن بہوگنا کا بیٹا ہونے کے سبب سرخیوں میں ہے۔ یہ بھی صوبہ کا مکھیا بننے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ تیسری پانڈو اندرا ہردیش ہیں جو تیواری وزارتی کابینہ میں سینئر ممبر رہی ہیں، خواتین ہونے کے ناطہ بھی آدھی آبادی کی ا ٓوازہونے کا فخر حاصل ہیں۔ چوتھے لیڈر اور اپوزیشن لیڈر ہر ک سنگھ راوت ہیں جو ان پانچ پانڈووں میں شمار کئے جاتے ہیں۔ جنھوں نے ریاست کی بی جے پی حکومت کو بدعنوان لوگوں کی حکومت بتا کر سڑک سے لے کر ایوان تک اہم کردار ادا کر کے کانگریس کے یوراج راہل گاندھی کی ٹولی میں بھی خاصی جگہ بنا لی ہے، ہرک کانگریس کے نوجوان لیڈران کی پہلی پسند بن چکے ہیں، خواہ عوامی ریلی ہو، عوام کے مفاد میں حکومت کو سڑک پر گھیرنا ہو، یا ایوان میں، سب جگہ اپنے اہم کردار کے سبب ان کا دعویٰ مضبوط ہے۔ ہرک بھی خود کو مستقبل کا وزیر اعلیٰ بتانے میں نہیں جھجکتے ۔کانگریس کے ان پانچ پانڈووں میں کانگریس کے صدر یشپال آریہ بھی شمار کئے جاتے ہیں۔آریہ پر کانگریس صدر سونیا گاندھی بھی بھروسہ رکھتی ہیں، آریہ کانگریس کا دلت چہرہ ہیں جن کی کوشش کے سبب کانگریس ہی مایاوتی کے ہاتھی کے پائوں سے بچ سکی ۔دلت ووٹ کے بل پر ہی عام انتخابات میں کانگریس کو امید سے کہیں زیادہ کامیابی ملی، اور کانگریس نے ریاست میں پانچوںسیٹیں جیت کر بی جے پی کا سوپڑا صاف کر دیا۔آریہ اس ریاست کی برہمن چھتری سیاست کو متوازن کرنے کے ساتھ مایاوتی کے ہاتھی کو روکنے میں بھی کامیاب ثابت ہوئے ہیں۔ اسی سبب اس بار تمام مخالفتوں کو درکنار کر تے ہوئے دس  کانگریس صدر سونیا گاندھی نے دوبارہ ان پر بھروسہ کیا ہے۔ ان کے من میں بھی اپنی بہترین خدمات کے سبب سی ایم بننے کی خواہش ہلورے مار رہی ہے۔ آریہ سابق وزیر اعلیٰ تیواری جی کی بھی پہلی پسند ہیں۔ اسی کے ساتھ صوبہ میں وزیر اعلیٰ کے عہدہ کی لڑائی میں اس ہمالیائی ریاست میں نصف سے زائد سیٹوں پر پہاڑی منش ، میدانی منش ایشو کو بھی سیاسی پارٹیاں ہوا دینا چاہ رہی ہیں جس میں ہریش راوت پہلے پہاڑ سے منتخب ہو کر آتے تھے اور اب وہ میدانی علاقہ ہریدوار سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے ہیں۔ ہریش کانگریس کے یوراج راہل گاندھی کی مدد سے ہریدوار میں ہاری بازی کو جیت کر ہیرو بنے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ وہ پہاڑ میں جتنے مقبول تھے میدان میں بھی اس سے کم مقبول نہیں ہیں، ہریش خود کو پہاڑی میدانی جنگ کے درمیان خود کو ایک پل کی طرحتسلیم کرتے ہیں، جب کہ ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ راہل فیکٹر کے ساتھ بی جے پی کے ذریعہ عین موقع پر امیدوار بدلنے کے غم وغصہ کا فائدہ کانگریس امیدوار ہریش راوت کو براہ راست طور پر ملا۔
کانگریس کے ان پانچوں پانڈو وں کی عوامی خدمات کمال کی ہیں۔ عوام میں اندرا ہردیش کو چھوڑ کر انہیں کبھی ذلت کا سامنا نہیں کرنا پڑا، اس مرتبہ بھی اب تک کی تمام پیش گوئیاں یہی کہتی ہیں کہ اگر کانگریس کے یہ  لیڈرمتحد ہو کر انتخابی میدان میں اترجائیں تو نشنک کے بس کی بات نہیں ہے کہ وہ کانگریس کو روک سکیں ۔ ریاستی کے اقلیت اور دلت رائے دہندگان کو اپنے پالے میں لانے کے لئے بی جے پی کی نشنک حکومت ہر ممکن کوشش کر رہی ہے ۔ نشنک بھیکھلے عام پارٹی سے مسلم امیدواروں کو اتارنے کے اعلان کے ساتھ ساتھ کانگریس کے دلت ووٹ میں بھی سیندھ لگانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے  ہیں۔ اتر اکھنڈ میں دلت ووٹ کا کانگریس سے جڑنا بی جے پی ہائی کمان کے لئے گلے کی ہڈی بنتا جا رہا ہے۔بی جے پی کی نشنک حکومت کانگریس خیمہ میں انتشار پیدا کر کے اپنے مشن 2012کو کامیاب بنانے کے ساتھ اپنے وژن 2020کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر کرنا چاہتی ہے۔ کانگریس ہائی کمان نے بھی انتخابات کے پہلے چودھری ویریندر سنگھ کو انچارج بنا کر اپنے بے لگام لیڈران کو لگام لگانے اور ان پر شکنجہ کسنے کا کام کیا ہے۔چودھری کو بھی یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی ہے کہ جیتی ہوئی بازی کو کیسے قائم رکھا جائے، اپنے بڑبولے لیڈران کو اپنا نقصان کرنے سے کیسے روکا جائے۔ چودھری نے اگر ان لیڈران پر لگام کس لی تو اتراکھنڈ میں سونیا ، راہل کے خوابوں کی حکومت بن کر ہی رہے گی۔صوبہ کے کانگریسی لیڈران  بھی اپنی خواہشات کو دبا کر بی جے پی کی نشنک حکومت کو جسے عوام بھی ایک طلسمی  حکومت مانتے ہیں اسے اقتدار سے بے دخل کرنا چاہئے اس کے بعد ہی وزیر اعلیٰ کی کرسی کے سوال بارے میں سوچنا چاہئے، ابھی تو جس طرح یہاں کے لیڈر خواب دیکھ رہے ہیں، اس پر اگر ہوشیاری نہ برتی گئی تو ان کے خوابوں کو چکنا چور ہونے میں ذرا دیر نہ لگے گی۔بی جے پی کے لیڈر کانگریسی خیمہ میں بڑھ رہے انتشار پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ان کے یہاں تو دلی دربار سے جنرل ،کوشیاری تک انتشار ہی انتشار پھیلا ہے۔ وزیر اعلیٰ نشنک اپنی جماعت کے قدآور لوگوں کو پھوٹی آنکھ نہیں بھا رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *