بارش ہونے کے سائنسی رموز اور قرآنی آیات

وصی احمد نعمانی
پانی  برسنے کے سائنسی حقائق اور قرآنی آیات میں تال میل کو سمجھنے کے لیے بادلوں کی قسموں اور ان کی کارکردگی کو سمجھنا ضروری ہوگا۔ ہمیں معلوم ہے کہ سورج کی نہایت تیز کرنوں کی وجہ سے سمندر کا پانی نہایت تیزی سے بڑی مقدار میں بھاپ بن کر فضا میں اڑتا رہتا ہے۔ گرم بھاپ اوپر اٹھ جاتی ہے اور پھر ٹھنڈی ہوا سے جاکر ٹکراتی ہے۔ اس عمل سے بھاپ اور ٹھنڈی ہوا میں زبردست تصادم ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہی بھاپ جو ٹھنڈی ہوا سے جا ملی تھی بادل میں بدل جاتی ہے۔ اسی بھاپ سے نو قسم کے بادل کی تخلیق ہوتی ہے۔ ان نو قسم کے بادلوں کی فطرت بالکل الگ الگ ہوتی ہے۔ ان کی فطرت کی تشکیل، اس میں موجود ٹھنڈک اور پانی برسانے کی صلاحیت پر منحصر ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے بادل کی مندرجہ ذیل قسمیں ہیں:
(1) سیرس CIRRUS (2) سیروکومولس CIRROCUMULUS (3) کیومولمبسCUMULONIMBUS (4 ) الٹوکومولس ALTOCUMULUS (5) الٹواسٹریٹس ALTOSTRATUS(6) اسٹریٹوکوملس STRATOCUMULUS (7 کیوملسCUMULUS (8) نمبواسٹیریٹسNIMBOSTRATUS (9) اسٹیریٹس ASTRATUS
اگرچہ سائنس دانوں کے نظریہ کے مطابق مندرجہ  بالا 9قسم کے بادل ہوتے ہیں۔ مگر ان میں سے کل چار قسم کے بادل نہایت اہم ہیں، جو بارش ہونے، اولے برسنے، بجلی کڑکنے اور چمکنے کے بارے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ان تمام کردار کا نہایت موزوں ذکر قرآن کریم میں ملتا ہے۔
1- CIRRUS یا طرۂ ابر، یہ بادل سب سے اونچائی پر ہوتا ہے۔ اس کی اونچائی بارہ ہزار میٹر تک ہوتی ہے۔ اس طرۂ ابر کا مطلب ہوتا ہے ’’گھنگھریالے‘‘ یہ لاطینی لفظ CIRRUS کا ترجمہ ہے۔ اس کی شکل سفید گھنگھریالے پروں جیسی ہوتی ہے، چونکہ نو ہزار میٹر کی اونچائی پر سردی زیادہ ہے۔ اس لیے پانی برف بننا شروع ہوجاتا ہے۔ اس لیے اس مقام سے اوپر اٹھنے پر بادل جم کر برف بن جاتا ہے اور اولے بن کر گرنے لگتا ہے۔ نازک نازک سے یہ بادل خشک موسم میں نظر آتے ہیں۔ آسمان پر پائے جانے والے یہ بلند ترین بادل ہیں، جو ہواؤں کے رخ پر اڑتے ہیں اور عام طور پر طوفان کی نشان دہی کرتے ہیں۔ یہ بادل ہماری زمین سے 6.4 سے 8 کلو میٹر کے فاصلے پر ہوتے ہیں۔
2- تودۂ ابر(CUMULUS) یہ بھی لاطینی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی ’’ڈھیر‘‘ کے ہیں، یہ پھولے پھولے سفید رنگ کے بادل ہوتے ہیں اور یہ آسمان پر موٹی موٹی تہوں کے ڈھیر کی شکل میں نظر آتے ہیں۔ ان کی شکل گنبد نما ہوتی ہے، جو بالائی حصہ سے گول اور نچلے حصے سے چپٹے ہوتے ہیں، جب یہ بادل آسمان پر چھائے ہوئے ہوتے ہیں توآسمان اس طرح دکھائی دیتا ہے، جیسے اس پر روئی کے پہاڑوں کا نہایت ہی خوبصورت سلسلہ پھیلا ہوا ہے۔ اس طرح کے بادل عام طور پر شدید موسم گرما میں دوپہر کے بعد دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے بادلوں کی اونچائی تقریباً چار ہزار سے پانچ ہزار فٹ کی ہوتی ہے۔ ایسے بادل جب پانی سے بھر جاتے ہیں تو گرجنے اور برسنے والے بن جاتے ہیں۔
3- طبق ابر(STRATUS) : یہ بھی لاطینی زبان کا ایک لفظ ہے، جس کے معنی ’’پھیلنے والے‘‘ ہیں۔ آسمان پر یہ بادل چاروں طرف پھیلے ہوئے اور دھندنما ہوتے ہیں۔ یہ زیادہ بلندی پر نہیں ہوتے ہیں، عام طور پر یہ 2 ہزار سے 7 ہزار فٹ کی بلندی تک پھیلے ہوئے ہوتے ہیں۔ عام طور پر یہ بادل خاموش دکھائی دیتے ہیں۔ مگر یہی بادل موسم خراب ہونے کی نشان دہی بھی کرتے ہیں۔ یہ بادل گھنا نہیں ہوتا ہے۔ اس کی بعض قسموں میں ہلکی ہلکی، رم جھم بارش ہوتی ہے۔ ٹھنڈے ملکوں میں زیادہ تر رم جھم رم جھم بارش ہوتی ہے۔ موسلادھار بارش کم ہوتی ہے۔
4-ابر باراں(NIMBUS) : یہ بھی لاطینی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا مطلب بارش کا طوفان ہے، انہیں بارشی بادل بھی کہا جاتا ہے۔ ان بادلوں کا رنگ گہرا سلیٹی ہوتاہے۔ ان کی کوئی واضح شکل و صورت نہیں ہوتی ہے۔ انہیں بادلوں کا مشاہدہ کر کے ماہر موسمیات، موسم کے بارے میں پیش گوئی کرتے ہیں، یہ بادل بارش کے لحاظ سے سب بادلوں سے اہم ہے۔ دور دور تک پھیلا ہوا ہوتا ہے اور بڑا ہوتا ہے۔ ہوائی جہاز سے اوپر جا کر دیکھیں تو یہ پہاڑ کی طرح اونچا دکھائی دیتا ہے۔ گرم ممالک میں گرمی کے زمانہ میں بھاپ بن کر اور گرم ہو کر اوپر اٹھتا ہے اور ٹھنڈی ہوا سے ٹکراتا ہے تو اور اوپر بھی چلا جاتا ہے۔ اٹھتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔ اونچا بنتا جاتا ہے اور کالی گھٹا کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اسی سے دھواں دھار تیز موسلادھار بارش ہوتی ہے۔ اس کے اوپر کا حصہ تقریباً نو کلومیٹر سے بھی اوپر چلا جاتا ہے۔ ا س سے وہاں ٹھنڈا ہو کر اولے کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اس لیے ایسی حالت میں بڑے بڑے اولے بھی گرتے ہیں۔ بارش کے لیے یہ سب سے اہم بادل ہے۔ قرآن پاک میں ایسے بادل کا نہایت صاف لفظوں میں ذکر فرمایا گیا ہے، جو اس طرح ہے’’تم نے نہیں دیکھا کہ اللہ ہانک لاتا ہے، بادل کو پھر ان کو ملا دیتا ہے، پھر ان کو رکھتا ہے تہہ بہ تہہ پھر تم دیکھو گے کہ مینہ نکلتا ہے اس کے بیچ سے۔ اتارتا ہے آسمان سے جو (بادل) پہاڑ کی طرح ہوتا ہے۔ اس میں اولے ہوتے ہیں۔ پھر وہ اولے ڈالتا ہے، جس پر چاہے اور بچا دیتا ہے جس کو چاہے۔ ایسا لگتا ہے کہ اس کی بجلی کی کوند آنکھوں کو اچک لے جائے۔‘‘
اس بادل میں وہ تمام صفات ہیں جن کا ذکر قرآن نے کیا ہے۔ یعنی بادل کا پہاڑ کی طرح بلند ہونا۔ تہہ بہ تہہ ہونا، اونچائی پر جا کر ٹھنڈا ہونا، پھر ٹھنڈا ہو کر اولہ کی شکل اختیار کرلینا اور بارش کے ساتھ اولہ کا برسنا وغیرہ، کیوںکہ ایسے بادل جب بہت زیادہ بلندی پر پہنچتے ہیں تو زیادہ ٹھنڈک ملنے کی وجہ سے وہاں بڑی بڑی بوندیں بننے لگ جاتی ہیں اور بڑی بڑی بوندوں والی بارش کی شکل میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور اگر یہی بادل درمیانی بلندی پر پہنچتے ہیں یا نیچے نیچے ہوتے ہیں تو بوندیں بھی چھوٹی چھوٹی بنتی ہیں۔ اس لیے چھوٹی چھوٹی بوندوں والی ہی بارش ہوتی ہے، اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ کیومولمبس بادل (CUMULONIMBUS) یا ابر باراں کا سفر نیچے سے اوپر کی طرف ہوتا ہے اور ٹھنڈی ہواؤں سے متصادم ہو کر چکر کھانے لگتا ہے تو قدرتی طور پر اس سے اوپر کے حصے میں مثبت چارج POSITIVE CHARGES کی خصوصیت والی بجلی پیدا ہوجاتی ہے اور اس بادل کے زیریں حصے میں منفی چارج NEGATIVE CHARGES کی بجلی پیدا ہوجاتی ہے، پھر اس طرح بادل کے آپسی تصادم کے نتیجے میں منفی اور مثبت دونوں طرح کے چارجز یکجا ہوجاتے ہیں، جس کی وجہ سے بجلی کی رو دوڑ جاتی ہے اور بادل کے نیچے سے اوپر تک کے حصے بیک وقت جل اٹھتے ہیں، یہی جلتی ہوئی بجلی ہمیں زمین سے نظر آتی ہے۔ اسی کو ہم بجلی کی ’’کوند‘‘ کہتے ہیں۔
یہی گرم بادل جب ٹھنڈی ہوا سے ٹکراتے ہیں اور چکر کھاتے ہیں تو ایک زبردست آواز پیدا ہوتی ہے، اسی آواز کو ہم ’’کڑک‘‘ کہتے ہیں۔ بجلی اور کڑک عام طور پر کیومولمبس بادل میں پیدا ہوتی ہیں، کیوں کہ اسی میں بادل ایک دوسرے سے زبردست انداز میں ٹکراتے ہیں اور بھیانک آواز اور تیز روشنی پیدا ہوتی ہے، جس سے لگتا ہے کہ آنکھ کی روشنی اچک لی جائے گی اور کبھی کبھی تو اس کی چمک سے آنکھوں کے پتھرا جانے کا احساس ہوتا ہے، ہمیں یہ بات یاد رکھنی ہوگی کہ پانی کا سمندر سے بھاپ بن کر اڑنا، آسمان کی بلندیوں تک پہنچنا، پھر وہاں سے ٹھنڈک لے کر بادل کی شکل میں بدلنا اور ٹھنڈا ہو کر برف، اولے اور بوندوں کی شکل اختیار کرنا اور زمین پر گرنا، ندی، نالوں، پہاڑوں، جنگلوں، کھیتوں، سبزہ زاروں کا سفر طے کر کے پھر سے انجانے سمندروں میں مل جانا اور پھر بھاپ بن کر آسمان سے زمین کا سفر کرتے رہنا۔ یہ خدا کا مکمل نظام ہے، جس کے ذریعہ پانی کی سائیکل کوبروئے کار لا کر اپنے بندوں اور تمام مخلوق کو پانی پہنچاتا رہتا ہے۔ یہ ایک زبردست اور مکمل نظام ہے، جو صرف خدا کے دست قدرت میں ہے، پانی کی اس سائیکل کا نظریہ 1580 میں ’’برنارڈ پیلسی‘‘ نے پیش کیا تھا، جس میں اس نے اس بات کی وضاحت کردی تھی کہ سمندروں سے بخارات کی شکل میں اٹھنے والا پانی کس طرح ٹھنڈا ہو کر بادلوں کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ پھر یہ بادل زمین پر آبادی کی جانب حرکت کرتے ہیں اور بلندی پر چڑھ کر ٹھنڈک کی وجہ سے منجمد ہو کر بارش کی صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ یہی بارش کا پانی پھر جھیلوں، ندی نالوں میں جمع ہوتا ہے اور پھر واپس سمندر میں پہنچ جاتا ہے اور پانی کا یہ چکر چلتا رہتا ہے۔ اتنا بڑا نظام مکمل درستگی اور پختگی کے ساتھ ہمیشہ چلتے رہنا صرف خدا کی کرشمہ سازی اور اس کی ربوبیت کی بے مثال نشانی ہے۔
سائنس نے آج تسلیم کرلیا ہے کہ ’’یہ حقیقت ہے کہ آج ہم جو پانی استعمال کرتے ہیں، وہ کروڑوں، اربوں سالوں سے موجود ہے اور اس کی موجودہ مقدار جو ہمیں میسر ہے، اس میں کوئی بہت زیادہ تبدیلی نہیں پیدا ہوئی ہے۔ پانی پوری زمین میں مختلف حالتوں میں اور شکلوں میں استعمال ہورہا ہے۔ اس کو پودے اور جانور بھی استعمال کرتے ہیں۔ مگر حقیقتاً یہ کبھی بھی غائب نہیں ہوتا ہے، یہ ایک بہت بڑے دائرے کی شکل میں بہتا رہتا ہے، اسی کو ہم Hydrolgic Cycle کہتے ہیں۔(بحوالہ سائنس خدا کے حضور میں)
قرآن کریم میں بارش کے برسنے کے جو مراحل بتائے گے ہیں، وہ اور سائنس نے جو کچھ بھی اب تک تحقیق اور ریسرچ کر کے ثابت کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے، ان دونوں میں بڑی حد تک مماثلت ہے۔
اللہ نے سورہ الروم ، آیت نمبر 30 میں ارشاد فرمایا ہے:’’اللہ وہ ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے تو وہ بادل کواٹھا لاتی ہیں۔ پھر جیسے چاہتا ہے اس بادل کو آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور اسے ٹکڑیاں بنا دیتا ہے، پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے اس میں سے نکلتے ہیں پھر جب اللہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہے بارش برسا دیتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں۔‘‘
یعنی پہلے مرحلہ میں جب سمندروں میں جھاگ پیدا ہوتی ہے تو ان گنت بلبلے بنتے ہیں، اس سے پانی کے ذرات بلند ہو کر آسمان کی طرف خارج ہوتے ہیں، ان پانی کے ذرات میں نمک کافی مقدار میں ہوتا ہے، ان کو پھر ہوائیں اپنے دوش پر لے لیتی ہیں اور کرہ ہوائی میں کافی بلندیوں کی جانب لے جاتی ہیں۔ یہ ذرات جن کو ایروسول بھی کہتے ہیں وہ ’’آبی پھندوں‘‘ کا کام کرتے ہیں اور اپنے گرد پانی کے ان بخارات کو جمع کر کے بادلوں کے قطرے بناتے ہیں، یہ بخارات چھوٹے چھوٹے قطروں کی شکل میں سمندروں سے بلندی کی طرف اٹھتے ہیں، دوسرے مرحلہ میں یہ ہوا میں بادل کو اوپر اٹھا لاتی ہیں۔ پھر خدا ان بادلوں کو جیسے چاہتا ہے، آسمان میں پھیلا دیتا ہے اور الگ الگ ٹکڑیوں میں تقسیم کردیتا ہے۔ اس طرح بادل پانی کے ان بخارات سے بنتے ہیں جو نمکین بلوروں یا ہوا میں مٹی کے ذرات کے گرد منجمد ہوجاتے ہیں۔ ان بادلوں میں پانی کے قطرے چونکہ بہت چھوٹے چھوٹے یعنی ان کا ’’قطر‘‘ ایک یا دو ملی میٹر کا ہوتاہے۔ اس لیے یہ بادل ہوا میں معلق ہو کر آسمان پر پھیل جاتے ہیں، اس طرح ہم کہتے ہیں کہ مطلع ابر آلود ہوگیا۔ تیسرے مرحلہ میں پھر جب اللہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہے بارش برسا دیتا ہے تو وہ خوش ہوجاتے ہیں یعنی پانی کے جو قطرے نمکین بلوروںاور مٹی کے ذرات کے گرد جمع ہوجاتے ہیں دبیز اور موٹے ہوکر بارش کے قطروں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ اس طرح جو قطرے ہوا سے زیادہ بھاری ہوجاتے ہیں، وہ بادلوں کو چھوڑ کر زمین پر بارش کی شکل میں برسنے لگتے ہیں۔(اللہ کی نشانیاں عقل والوں کے لیے، صفحہ 236)        (جاری)
حوالہ جات:
1- قرآن کریم
2- سائنس خدا کے حضور میں
2- اللہ کی نشانیان عقل والوں کے لیے

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *