بدعنوانی مخالف تحریک سے جڑے سوال

ششی شیکھر
ستائس اپریل کو دہلی کے وسنت کنج میں ایک جلسہ تھا۔ موقع تھا جنوبی ہند کے ایک سوامی جی کی 81 ویں یوم پیدائش کا۔ منچ پر لال کرشن اڈوانی، اشوک سنگھل، پروین توگڑیا، اوما بھارتی، گوونداچاریہ اور سادھوی رتمبھرا موجود تھیں۔ یہ منظر اس وقت کی یاد دلا رہا تھا جب بابری مسجد شہید کیے جانے سے پہلے سادھو-سنت اور سیاسی لیڈر ایک منچ پر اکٹھا تھے۔ اس منچ پر بابا رام دیو بھی موجود تھے۔ ان لوگوں کی موجودگی میں بابا رام دیو نے 4 جون سے بدعنوانی کے خلاف اپنے کروڑوں لوگوں کے ساتھ ملک گیر تحریک اور بھوک ہڑتال کا اعلان کیا۔ اشوک سنگھل نے بھی اعلان کر دیا کہ اس تحریک میں سنگھ پریوار بابا رام دیو کے ساتھ ہے۔
بہرحال کیا بابا رام دیو کا اعلان اور سنگھل کی جانب سے اس اعلان کی حمایت دئے جانے کا واقعہ اور اس وقت ملک میں بدعنوانی کے خلاف چل رہی تحریک کو یوں ہی چھوڑ دیا جائے کیا اس بات کی ضرورت نہیں ہے کہ ان تحریکوں کے براہ راست یا بالواسطہ ایجنڈے کا تجزیہ ہو۔ دراصل بابا رام دیو طویل عرصہ سے سیاسی اصلاحات اور کالے دھن کی بات کر رہے ہیں۔ اس کے لیے وہ ملک کا دورہ بھی کر رہے ہیں اور اب تحریک کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ لیکن پہلا سوال تو یہی اٹھتا ہے کہ جس منچ سے بابانے یہ اعلان کیا وہاں اڈوانی، سنگھل، اوما بھارتی اور پروین توگڑیا کیا کر رہے تھے یا اس سوال کو الٹ دیں تو یہاں بابا رام دیو کیا کررہے تھے؟
خیر اس کا جواب بابارام دیں نہ دیں لیکن ایک سوال اس ملک کے عوام ان تمام لوگوں سے پوچھنا چاہتے ہیں جو بدعنوانی کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ بدعنوانی جب ایک خیال کی شکل اختیار کرلے تو پھر یہ شمار کر پانا مشکل ہو جاتا ہے کہ اس کے سر کتنے ہیں، چہرے کتنے ہیں۔ ایسے میں جب بابا رام دیو یہ کہتے ہیں کہ کالے دھن کی واپسی سے یہ ملک امیر ہو جائے گا یا انا ہزارے یہ مانتے ہوں کہ لوک پال سے بدعنوانی ختم ہوجائے گی تو اس پر بھروسہ کر پانا عام آدمی کے لیے تھوڑا مشکل ہوجاتا ہے۔ دراصل اس وقت ملک میں تین لہریں چل رہے ہیںجو بدعنوانی کے خلاف خود کو جنگجو ثابت کرنے میں جٹی ہوئی ہیں۔ ایک طرف بابا رام دیو ہیں، ان کے ساتھ لوگ بھی ہیں اور یہ بھی کہا جارہا ہے کہ انہیں آر ایس ایس کی حمایت بھی حاصل ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ بدعنوانی کا مطلب ان کے لیے صرف کالا دھن ہی ہے۔ دوسری جانب انا ہزارے اور ٹیم یہ سوچتی ہے کہ اگر اس ملک میں لوک پال آجائے گا تو بدعنوانی اپنے آپ ختم ہوجائے گی۔ دراصل اس ٹیم کے پاس صلاحیت تو ہے لیکن لوگ نہیں ہیں۔ تنظیم نہیںہے۔ 29 اپریل سے انا کا اترپردیش کے کئی شہروں میں گھومنے کا پروگرام تھا۔ لیکن اس پر اتنا تنازعہ ہوا کہ مجبوراً انا کو اپنا دورہ رد کرنا پڑا۔ حالانکہ یہ کہا گیا کہ ڈاکٹر نے انہیں چلنے پھرنے سے منع کیا ہے، لیکن سبب کچھ اور ہے۔ مایاوتی نہیں چاہتی تھیں کہ انا یہاں آکر بدعنوانی کے خلاف آواز اٹھائیں۔ دراصل انا نے اپنی تحریک کو شروع سے ہی لیڈروں سے دور رکھا تھا اور یہ اسی کا نتیجہ ہے۔ اس وقت ملک کی تمام پارٹیاں بدعنوانی کے ایشو پر انا اور ان کی ٹیم کے خلاف ایک ساتھ کھڑی ہیں۔ تیسری طرف کچھ ایسے دانشور ہیں جو اپنے خیالات اور کچھ دستاویزات کے سہارے بدعنوانی کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں اور لڑ بھی رہے ہیں۔ ان میں گوونداچاریہ، ایس گرومورتی، سبرامنیم سوامی جیسے لوگ ہیں۔ ان کے پاس خیالات کی طاقت ہے۔ ان کے ساتھ تنظیم کی طاقت بھی ہے، لیکن تنظیم سامنے آکر حمایت نہیں کر رہی ہے اور سب سے بڑا مسئلہ ان کے ساتھ یہ ہے کہ ان کے ایشوز ایسے ہیں جس سے عوام خود کو نہیں جوڑ پا رہے ہیں۔ مثلاً سوامی اور مورتی کے لیے سونیا گاندھی کی مخالفت کرنا ہی سب سے بڑا ایجنڈا ہے۔ ایک ایسا ایجنڈا جسے ہندوستانی ووٹر کب کا ریجیکٹ کر چکا ہے۔
دراصل بدعنوانی کے خلاف بہہ رہی ان تینوں لہروں کا اپنا اپنا مسئلہ ہے۔ خیال کی سطح پر۔ ویژن کی سطح پر۔ ایجنڈے کی سطح پر۔ ان تینوں کے لیے بدعنوانی کے معنی الگ الگ ہیں۔ بدعنوانی کو یہ لوگ صرف دس سروں والا ایک راون مان رہے ہیں اور اپنی اپنی لڑائی کے لیے ایک سر چن لیا ہے یعنی ایک ایجنڈا کا انتخاب کر لیا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ بدعنوانی کی شکل کا یہ راون ہزار سروں والا ہے۔ اس ہزار سر رکھنے والے راون کے خاتمے کے لیے ان کے پاس کوئی ویژن نہیں ہے، کیوں کہ ان سب کی لڑائی کے پیچھے کہیں نہ کہیں ذاتی شہرت کا لالچ بھی ہے جو ان کی تحریک کو کمزور بنا دیتا ہے۔ آخر یہ لوگ 2جی یا 26 لاکھ کروڑ کے کوئلہ گھوٹالے پر ہلہ کیوں نہیں بولتے؟ مہنگائی جیسے مسئلہ پر آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ ریلی کیوں نہیں کرتے؟ کیا ایک بڑا سکھ حاصل کرنے کے لیے عوام ہزاروں چھوٹے چھوٹے (اصل میں بڑے) دکھوں کا  سامنا کرتے رہے ہیں؟ لیکن کب تک؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *