!سیاستداں قوم بڑی خطرناک ہوتی ہے

سنتوش بھارتیہ
سیاستدانوں سے ڈرنا چاہئے۔ گزشتہ ایک ماہ کے حادثات کچھ یہی اشارہ کرتے ہیں۔ اب وہ سیاستداں خواہ سماجوادی پارٹی کا ہو، بی جے پی کا ہو یا پھر وہ کانگریس کا ہو۔ سیاستداں کب کیا کرے ، کیسے کرے اس کی مثال گزشتہ ایک ماہ میں ہمارے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے۔مثال کے طور پر انا ہزارے کو لیا جا سکتا ہے ،جو یہ سمجھنے میں آسانی پیدا کردے گا کہ سیاستدانوں سے کیوںڈرنا چاہئے۔ انا ہزارے نے ایک تحریک چلائی۔ ان کے ساتھ کچھ لوگ آئے۔ ظاہر ہے، اس میں پولس افسران، سابق نوکر شاہ، سماجی کارکن تھے۔ اس لئے خود بخود لوگ جگہ جگہ پر جمع ہوئے اور انھوں نے انا ہزارے کے ساتھ بھوک ہڑتال کی۔ جو بھوک ہڑتال پر نہیں بیٹھ سکے انھوں نے جلوس نکالے۔ ایک ماحول سا بن گیا پورے ملک میں۔ یہ ماحول میڈیا نے بنایا،کہنا غلط ہوگا۔ میڈیا نے دکھایا، پھر میڈیا کو لگا کہ ارے یہ تو ماحول بن رہا ہے تو اس کو اور زیادہ دکھائو تاکہ ان کی viwershipمیں اضافہ ہو۔لوگوں کویہ سمجھ میںآنے لگا کہ یہ جو سب کچھ ہو رہا ہے وہ ہمارے حق کے لئے ہو رہا ہے اور میڈیا بھی ساتھ دے رہا ہے۔ کمیونکیشن چینل پورا بن گیا۔ لوگ سڑکوں پر اتر آ ئے۔ انا ہزارے کے ساتھ آئے، پہلے نہیں آئے تھے، بعد میں بابا رام دیو بھی آئے، کیونکہ بابا رام دیو سے لوگوں نے کہا کہ جب وہ آپ کی ریلی میں آئے تھے تو آپ کو جانا چاہئے۔ بابا رام دیو وہاں آئے۔ انھوں نے کچھ گیت بھی گائے اور جنتر منتر پر جہاں انا ہزارے بھوک ہڑتال کر رہے تھے ،تقریر کر کے چلے بھی گئے۔انا ہزارے کا ساتھ جو لوگ مسلسل دے رہے تھے ان میں کرن بیدی تھیں، اروند کیجریوال تھے۔ اروند پرانے نوکر شاہ ہیں اور اب اطلاعاتی تحریک کے اہم لیڈر ہیں۔علاوہ ازیں سوامی اگنی ویش اور دو وکیل بھی شامل ہیں۔ پرشانت بھوشن جن کا نام اخباروں کی زینت بنا ہوا ہے اور شانتی بھوشن، جو ان دنوں سب کی آنکھوں کی کرکری بنے ہوئے ہیں۔ کسے یہ برا لگا ، یہ میں نہیں کہہ سکتا لیکن یہ مہم شانتی بھوشن اور پرشانت بھوشن کے خلاف نہیں ہے۔ یہ مہم کس کے خلاف ہے، یہ میں آگے لکھنے جا رہا ہوں۔
یہ مہم در اصل عوام کے دل میں اٹھے جذبات کو کمزور کرنے کے لیے ایک حملہ ہے۔اور وہ حملہ کس نے کیا۔حملہ سیاست دانوں نے کیا۔سب سے پہلے بی جے پی اور بابا رام دیو نے اس تحریک کی سرگرم حمایت نہیں کی۔وہ چاہتے تو لوگوں سے اپیل کر سکتے تھے کہ سارے ملک میں بدعنوانی کے خلاف لڑائی شروع ہو گئی ہے، اس لیے سب لوگ جو بھی بی جے پی کے حامی ہیں یا بابا رام دیو کے حامی ہیںیا آر ایس ایس کے حامی ہیں، وہ بھی اپنے اپنے یہاں چوراہوں پر،گلیوں میں ، محلوں میں بھوک ہڑتال شروع کردیں۔کیونکہ ایک آدمی صحیح لڑائی لڑ رہا ہے۔انہوں نے یہ نہیں کیا۔کیونکہ یہ دیکھنا چاہ رہے تھے کہ اگر کچھ ماحول بنتا ہے تو اس ماحول کو اپنی حمایت میں کیسے موڑا جائے۔پہلا حملہ دگوجے سنگھ نے کیا۔دگوجے سنگھ کانگریس کے جنرل سکریٹری ہیں۔اور دگوجے سنگھ نے یہ حملہ یہ مان کر کیا کہ یہ پوری تحریک کانگریس کے خلاف چلی جائے۔انہیں کون ملا حملہ کرنے کے لیے ۔ سب سے پہلے انہیں حملہ کرنے کے لیے شانتی بھوشن ہی ملے۔اور شانتی بھوشن کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ سیاست داں نہیں ہیں۔اندر کی کہانی یہ ہے کہ کانگریس قیادت کسی باہری آدمی کو تلاش کررہی تھی۔جو اس مہم کو شروع کرے۔خاص طور پر انا ہزارے کی مہم کے خلاف ۔ سونیا کے سپہ سالاروں نے امر سنگھ سے رابطہ قائم کیا۔امر سنگھ بہت دنوں سے کانگریس کی حمایت میں ، راہل گاندھی کی حمایت میں اور سونیا گاندھی کی حمایت میں دائیں بائیں سے بیان دے رہے تھے۔امر سنگھ نے کہا کہ میں ان کو نمٹاتا ہوں۔امر سنگھ اس کے پہلے رابطے میں رہے تھے۔بات ہوئی تھی۔امر سنگھ کو بہت ساری چیزیں ویسے بھی پتہ ہیں۔کیونکہ امر سنگھ ملک کے ان لیڈران میں ہیں جن کے پاس خبر ہوتی ہے۔امر سنگھ نے پوری سیاسی برادری کی طرف سے انا ہزارے کی ٹیم پر حملہ بول دیا اور پہلا نشانہ انہوں نے بنایا۔اور بعد میں آخری نشانہ بھی اوراکیلا نشانہ بھی انہوں نے شانتی بھوشن اور پرشانت بھوشن کو بنایا۔ شانتی بھوشن کو اس لیے کیونکہ شانتی بھوشن کے ساتھ ان کا رشتہ رہا ہے۔ان کا رابطہ رہا ہے۔اور شانتی بھوشن نے پہلا بیان یہ دے دیا کہ ، شاید ان کے بیٹے پرشانت بھوشن نے دیا ، شانتی بھوشن جی سے بات کرکے ہی دیا ہوگاکہ وہ ملائم سنگھ سے تو بات کرتے رہے ہیںلیکن ان سے امر سنگھ کی کوئی بات نہیں ہوئی۔ ملک کا کوئی بھی آدمی یہ ماننے کو تیار نہیں ہوگا کہ پرشانت بھوشن کی یہ بات صحیح ہے کیونکہ جس دور کی یہ بات چیت ہے، اس دور میں اگر کسی کو ملائم سنگھ سے بات کرنی تھی تو وہ بغیر امر سنگھ کے ہو ہی نہیں سکتی تھی۔ یہ بالکل کھلی سچائی ہے۔
امر سنگھ نے اس چیز کو سامنے رکھا اور انہوں نے پرشانت بھوشن اور ان کے والد شانتی بھوشن کے اوپر سوال کردیا۔پھر ایک سی ڈی آئی جس کو کہا گیا کہ یہ ایڈیٹڈ ہے۔ اس میں کچھ چیزیں ملائی گئی ہیں اور کچھ کاٹی گئی ہیں۔میں یہاں پر امر سنگھ کی تعریف کروں گا۔امر سنگھ نے اس ملک کی سیاسی برادری کی طرف سے ان لوگوں کے خلاف جو سیاست دانوں کو بدعنوان مانتے ہیں اور زیادہ تر لوگ سیاست دانوں کو بدعنوان مانتے ہیں، ان لوگوں کے اوپر حملہ بول دیا اور کہا کہ یہاں بھی تو بدعنوانی ہے۔ہم ہی تھوڑی بدعنوان ہیں۔یہاں بھی بدعنوانی ہے۔اور اس کو امر سنگھ نے بہت کامیابی سے ثابت کیا۔اور اس کے بعد سامنے آئے دگوجے سنگھ۔ دگوجے سنگھ نے کانگریس کی طرف سے کمان سنبھالی۔اور نتیجہ یہ ہواکہ آج شانتی بھوشن اور پرشانت بھوشن لوگوں کی نظر میں ولین تونہیں ہیں لیکن ان کے خلاف ایک اندیشہ کا ماحول بن گیاہے۔یہ ماحول اس لیے بنایا گیا کیونکہ نشانہ یہاں نہیں ہے۔نشانہ کہیں اور ہے۔پرشانت بھوشن 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ میں وکیل ہیں۔ایک مہم کا حصہ ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ پرشانت بھوشن اس 2 جی اسپیکٹرم گھوٹالہ کی کارپوریٹ وار میں، جس کو ہم دوسرے الفاظ میں جو محب وطن لوگ کہتے ہیں کہ یہ ملک کے ساتھ دھوکہ ہوا، اس میں کہیں انل امبانی پھنس سکتے ہیں اور اس کے خلاف اگر آپ یقین کریں تو ملک کی ایک بڑی ٹیلی کام کمپنی ہے جس کا پورے ہندوستان پر راج رہاہے۔ اور وہ کمپنی چاہتی ہے کہ 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ کی بات زیادہ سے زیادہ سامنے آئے، مقدمہ چلے، لوگوں کو سزا ملے اور اس کا راستہ انل امبانی کے گھر کے پاس سے بھی ہو کے نکلے۔
دراصل یہ پرشانت بھوشن کو فکس کرنے کی ایک چال ہے ۔جس چال کو امر سنگھ نے بہت سوچ سمجھ کر کھیلا اور انہوں نے دو لوگوں پر احسان کردیا۔ایک طرف انل امبانی پر اور دوسری طرف سونیا گاندھی پر ۔ یا کہیں کانگریس کے اوپر۔ شانتی بھوشن کی زمین جو انہوں نے لی، جائیداد جو انہوں نے بنائی اور کورٹ فیس جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے کم دی۔ہم نے اس کے بارے میں پڑتال کی۔اور پڑتال کرنے پر ہم کو یہ پتہ چلا کہ کورٹ فیس کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے۔اس میں شانتی بھوشن کہتے ہیں کہ اگر قاعدے کے حساب سے کورٹ فیس زیادہ ہوگی تو ہم زیادہ دے دیں گے لیکن دگوجے سنگھ نے اسے پورا پالیٹکل ایشو بنا دیا۔ جو بڑے وکیل ہیں چاہے وہ شانتی بھوشن ہوں چاہے وہ وینو گوپال جی ہوں چاہے رام جیٹھ ملانی ہوں۔ایسا مانا جاتا ہے کہ اس ملک میں بہت سارے ایسے لوگ ہیں جنہوں نے ایک سنوائی کے لیے ایک لاکھ روپے ان لوگوں کو دئے ہیں۔اور اکثر یہ لوگ ایک سنوائی کا ایک لاکھ لیتے ہیں۔ اب وہ انکم ٹیکس میں دکھاتے ہیں یا نہیں، یہ الگ چیز ہے۔لیکن یہ پیسے لیتے ہیں۔ اگر شانتی بھوشن نے یہ چیز انکم ٹیکس میں نہیں دکھائی ہوتی تو ان کے پاس ایک ارب سے زیادہ کی جائیداد نہیں ہوتی۔
میرا صرف یہ کہنا ہے کہ اگر شانتی بھوشن اور پرشانت بھوشن سیاست داں ہوتے تو وہ یہ کہتے کہ میری زمین لے لو، میری جائیداد پر انکم ٹیکس کی انکوائری بٹھا لو اور کورٹ فیس جتنی کورٹ کہے گا، جو رجسٹری آفس کہے گا، اتنا میں ابھی دینے کو تیار ہوں۔ سب کچھ ٹھیک ہے لیکن اس لوک پال بل کا کیا۔ یہ سیاست داں نہیں تھے۔ انہوں نے اپنا بچاؤ شروع کردیا۔اور اپنا بچاؤ کرنے کی سیاست نے انہیں سیاست دانوں کے سامنے ہلکا ثابت کر دیا۔ملک کے لوگوں کے من میں ان کو لیکر اندیشہ پیدا ہو گیا۔ کرناٹک کے لوک آیکت سنتوش ہیگڑے نے پریشانی میں پڑ کر کے بیان دیا کہ جس طرح سے  کمیٹی کے لوگوں کی مذمت کی جارہی ہے۔اس سے وہ استعفیٰ دینے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔ ایسا بیان انہوں نے اس لیے دیاکیونکہ ان کی کمیٹی کے لوگوں کی چمڑی سیاست دانوں کے جتنی موٹی نہیں ہے۔ ویسے اچھا تو یہ ہوتا کہ نریمن کو یہ کمیٹی کا مشترکہ چیئر مین بنواتے، شانتی بھوشن اس میں رہتے اور ایک دوسری کمیٹی  بنادیتے جو نریمن صاحب کو صلاح دیتی۔ لیکن ایسا انہوں نے کیا نہیں۔ کرنا چاہئے تھا۔ نہ کرنے کا نتیجہ نکلا۔ کہ آج سیاست دانوں کے سامنے انا ہزارے کی ٹیم تھوڑی گھبراہٹ میں کھڑی ہے۔حالانکہ سوامی اگنی ویش ، کرن بیدی، اروند کیجریوال، یہ اپنی آواز تیزی سے اٹھا رہے ہیں لیکن اب ان کی آواز میں وہ دم نظر نہیںآتاجو انا ہزارے کی تحریک کے دنوں میں آتا تھا۔ اور سب سے بڑی دقت یہ ہے کہ سول سوسائٹی کے نام پر یہ پانچ لوگ تو ہیں نہیں۔ باقی لوگ کہاں چلے گئے۔ کہاں بل میں گھس گئے جو کہتے تھے ہم ساتھ دیں گے۔ہم سول سوسائٹی ہیں۔ ہم لوگوں کو کھڑا کریں گے۔ یہ لوگ نظر نہیں آرہے ہیں ۔اگر وہ نظر آتے تو شاید سیاست دانوں کا یہ حملہ سول سوسائٹی جھیل جاتی کہ دو نے حملہ کیا ہے50لوگ ان کی حمایت میں کھڑے ہو گئے۔ میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ سو ل سو سائٹی کے لوگوں کو ، اخبار والوں کو ، خاص کر وہ اخبار والے جو ایمانداری سے کام کرتے ہیں،سیاست دانوں سے ڈرنا چاہئے نہیں تو سیاست داں ان کے خلاف بھی کوئی جائیداد کا چھوٹا سا معاملہ ، کسی لڑ کی سے ان کی کوئی بات چیت ، کسی ہوائی جہازکا ٹکٹ، کسی ہوٹل میں ٹھہرنا جیسے ایشو کو لیکر ان کے خلاف شک کا ماحول پیدا کردیں گے۔اور کہ دیں گے کہ ہم بے ایمانی کرتے ہیں تو صحیح کرتے ہیںکیوں کہ یہ بھی تو چار آنے چرائے تھے بچپن میں ۔ یا دوسال پہلے اس نے بھی تو چار روپے کا سموسہ کہیں کھایا تھا اور بغیر بل دئے چلا آیا تھا۔ یہ قوم بڑی خطرناک ہے ، جس کا نام سیاست داں ہے۔ ان لوگوں کو سیاست دانوں سے ڈرنا چاہئے جو لوگ ملک سے پیار کرتے ہیںیا جو لوگ ملک سے برائیوں کو مٹانا چاہتے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *