لندن نامہ

حیدطباطبائی
لندن میں پاکستانیوں کی ایک بہت بڑی تعداد سوگ میں ڈوبی ہوئی ہے، کیوں کہ یہ لوگ دہشت گردی سے محبت کا ناطہ رکھتے ہیں اور اسامہ ان کا محبوب تھا، ا س کے باوجود کہ ازل سے انسانوں کی فطرت خدا فراموش فرعونوں سے نفرت کرتی چلی آئی ہے۔ عہد حاضر میں فرعون بھی بذریعہ زر انسانوں کا محبوب بن جاتا ہے، ایسا ہی اسامہ بھی تھا۔ برطانوی لوگوں کے مطابق نہ اس کی حکمت عملی اسلامی تعلیمات کے مطابق تھی، نہ وہ ایک مرد دانا کی طرح عہد حاضر کی زمینی حقیقتوں کا شعور رکھتا تھا، وہ تو بس شادیاں کرو، انسانوں کو مارو اور عیش کرو پر یقین رکھتا تھا۔ نہ اس کے منتخب کردہ راستے نے بالعموم امت مسلمہ کے مفادات کی آبیاری کی۔ اسامہ اپنی دولت کے بوتے بے خوف رہا، ہر چند کہ اس پر سنگ زنی ہوتی رہی اور آج بھی اس پر نشتر زنی ہو رہی ہے۔ لیکن اس کی روح اب سود و زیاں کے دنیوی پیمانوں سے بہت دور جاچکی ہے۔ اس جیسے خود فروش، بزدلوں، کمزوروں، عورت پرستوں اور بندگان خدا میں بہت فرق ہے۔ اب اس کی لاش کو سمندر کی مچھلیاں کھا رہی ہوںگی، اس سے ہمدردی، ظلم سے ہمدردی کے مترادف ہے۔
برطانیہ کے سیاسی لیڈران و اخبارات سبھی یہی لکھ رہے ہیں کہ دس سال سے زیادہ عرصے تک امریکی افواج کو لوہے کے چنے چبوانے کے بعد دہشت گردی کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کرکے مرگیا یا مارا گیا۔ امریکہ جیسی بڑی طاقت کے سامنے اس نے پاکستان کے سہارے جہاد نامی دہشت گردی جاری رکھی۔ اس لیے آئندہ امریکی حملہ کسی اور روپ میں پاکستان کے ایٹمی پلانٹ پر ہوگا، اگر وہ پاکستانی ایٹمی پلانٹ کاایک حصہ اٹھا کر لے جائیں یا اسے وہیں پر ناکارہ بنادیں تو پاکستان دوبارہ ایٹمی طاقت نہیں بن پائے گا اور یہ ایک دن ہونا ہے۔ خبر ہے کہ برطانیہ میں آب زمزم کے نام پر زہرآلود پانی فروخت ہورہا ہے، کیوں کہ پہلے کی ایک رپورٹ ہے کہ اصل چشمۂ زمزم میں آلودگی آچکی ہے۔ بی بی سی لندن نے کہا ہے کہ اب عمرہ زائرین آب زمزم کے غیر قانونی فروخت ہونے والے پانی سے گریز کریں۔ یاد رہے کہ پورے یورپ میں آب زمزم کی فروخت پر پابندی ہے۔ زمزم کے پانی میں بڑی تعداد میں سنکھیا کے باعث کینسر ممکن ہے۔ ڈاکٹر ڈنکن میکاؤ نے جو ماحولیاتی ہیلتھ آفیسر ہیں، نے کہا ہے کہ آب زمزم کا معاملہ انتہائی حساس ہے۔ لوگ اس کو مقدس پانی تصور کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانان عالم اس حقیقت کو سوچ بھی نہیں سکتے کہ اب آب زمزم زہر آلود ہوچکا ہے۔ جلد ہی سعودی عرب اور برطانیہ زمزم کی صفائی کا کام سنبھالیںگے۔
امریکی صدر براک اوباما نے پرنس چارلس کو ان کے بیٹے پرنس ولیم کی شادی پر مبارک باد دی ہے۔ اوباما نے کہا کہ شاہی شادی کی اس باوقار تقریب کو دیکھ کر پورا امریکہ حیران ہوگیا۔ وہائٹ ہاؤس میں بھی اس تقریب کو دیکھا گیا۔ برطانوی یونیورسٹیوں نے اعلان کیا ہے کہ آئندہ سال سے غیرملکی طلبا کی فیسوں میں 10 فیصد کا اضافہ ہوگا۔ اب آکسفورڈ یا کیمبرج وغیرہ میں آرٹس کے طلبا 13000 پونڈ سالانہ ادا کریںگے اور سائنس کے طلبا بیس ہزار پونڈ سالانہ ادا کریںگے۔
برطانیہ میں ہندوستانی و پاکستانی لاکھوں کی تعداد میں رہائش پذیر ہیں، 60 برس قبل ہجرت کر کے یہاں آنے والے ہندوستانیوں کو یہ علم نہیں تھا کہ ان کی قبریں انگلستان میں بنیںگی، ان کی اب چوتھی نسل جوان ہو رہی ہے۔ عام طور سے یہ ایشیائی مہاجرین بڑے محنتی اور ایماندار ہیں، ان لوگوں نے برٹش سرزمیں پر قدم رکھتے ہی یہاں کی فیکٹریوں، کارخانوں، ٹرانسپورٹ، دھاگہ اور دیگر ملبوسات بنانے والی ملوں میں دن رات محنت مزدوری اور سخت مشقت والے کام کر کے اپنی جفا کشی اور غیور و بہادری کی مثال قائم کردی۔ ان لوگوں نے یہاں آکر نہ صرف اپنے مالی اور معاشی معاملات درست کیے، بلکہ تھوڑے ہی عرصے میں ذاتی مکانات خریدنے شروع کردیے اور اب تو پراپرٹی بزنس میں ایشیائی بہت آگے ہیں۔ پھر اپنے رشتہ داروں کے لیے اسپانسر شپ کے کاغذات بھیج کر یہاں بلوایا اور پڑھوایا و کام دلوایا۔ اسی طرح ایشیائی کمیونٹی نے برطانوی معاشرے میں ایک مقام پیدا کرلیا۔ ملکۂ عالیہ کی جانب سے سر اور لارڈ کے خطاب حاصل کیے اور کابینہ میں وزارتیں ملیں۔ 5 مئی کو مقامی انتخاب میں (جو لوکل کونسلوں یا یوں کہہ لیں میونسپلٹیوںکے لیے تھے) بہت سی سیٹیں حاصل کرلیں۔ اب جلد ہی وہ وقت آنے والا ہے کہ جب پارلیمانی انتخابات یا مقامی انتخابات میں بڑی تعداد ہم ایشیائیوں کی ہوگی۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ فرقہ واریت نہیں ہے، میرے پاس ووٹ حاصل کرنے کیدارناتھ شرما آئے، تو میں نے کہا کہ آپ پہلے نریندر مودی پر لعنت بھیجیں اور کہیں کہ گجرات میں بے خطا مسلمانوں کو ظلم و ستم کر کے مارڈالا تو ان کے چہرے کا رنگ فق ہوگیا، لیکن الیکشن میں جیت کے خواب دیکھ رہے تھے، اس لیے فرمایا جو باتیں آپ کہہ رہے ہیں، میں ان سے متفق ہوں ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ میں نے کہا جب ہم برطانوی طاقت بن جائیں گے تو ہندوستان کے ظلم و ستم پر پابندی لگائیںگے۔ یہاں سے بیٹھ کر وہاں والوں کی ہمدردی میں بیان دے کر ساری دنیا میں مسائل کو اجاگر کریںگے۔ ہم ظاہری طور پر یہاں ہیں، لیکن دل ہمارے ہم وطنوں کے ساتھ ہیں۔

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *