لندن نامہ

حیدر طبا طبائی
مستقبل کے بادشاہ ولیم پنجم شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔ دنیا کے 180ممالک میں عوام نے تقریب عقد کو براہ راست دیکھا۔ دوران عقد دونوں نے ہر دکھ و سکھ میں ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کی قسمیں کھائیں تاہم لیڈی ڈائنا کی طرح کیٹ میڈلٹن نے بھی اپنے شوہر کی اطاعت کرنے کاحلف نہیں اٹھایا۔ شاہی جوڑے نے ملکۂ برطانیہ شہزادہ چارلس اور شاہی خاندان کے دیگر افراد کے ہمراہ بکنگھم پیلس کی مرکزی بالکنی سے، شادی میں شرکت کرنے اور ریت کی رسم دیکھنے آئے لاکھوں لوگوں کو دیدار بخشا اورایک کے بجائے دو بار بوسہ لے کر ریت میں ہلچل مچادی۔ شاہی شادی کے دیدار کے لئے ایک ملین سے زیادہ لوگ لندن آئے۔ آسٹریلیانیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ کے لوگ سب سے زیادہ تھے پھر کنیڈا اور امریکہ کے لوگ تھے۔ اس شادی کو خاندان شاہی کی چارلس وڈائنا کی شادی کے بعد سب سے بڑی شادی قراردیاجارہاہے۔ شہزادہ ولیم نے 1982میں جنم لیا۔ کیٹ برکشائرکا نونٹی کے علاقے بکلری کے ایک متوسط خاندان میں 1982کو ہی پیدا ہوئی۔ کیٹ ولیم سے تین ماہ بڑی ہے۔
برطانوی اخبارات بھی تحقیقات کی انتہاتک جاتے ہیں آج کے مرمرنے لکھا ہے کہ گزشتہ جنگ عظیم کے آخری ایام میں جرمن ڈکٹیٹراڈولف ہٹلر نے اپنے بنکر میں 29اپریل 1945کو ایوابرائون سے شادی کی اور اپنی وصیت تحریر کی دوسرے ہی دن اس نے 30اپریل1945کو خودکشی کرلی اب عین 66سال بعد 29اپریل2011کو برطانوی شہزادہ ولیم نے کیٹ میڈلٹن سے شادی کے لئے یہی تاریخ منتخب کی۔ برطانوی تاریخ کا پہلا بجٹ بھی 29اپریل 1909کو منظور ہوا تھا ولیم کے باپ شہزادہ چارلس اور ماں لیڈی ڈائنا  کی شادی بھی 29جولائی 1981 میں ہوئی تھی پھر انگریزی فلموں کے عظیم اسکرین رائٹر اور مصنف الفریڈ ہچکاک کاانتقال 29اپریل1980کو ہواتھا۔ 29اپریل 1781کو ہی امریکی انقلاب کے لئے جنگ شروع ہوئی جسے جنگ رائل فورٹ کے نام سے یاد کیاجاتاہے۔
اس شادی میں ایک نئی بات یہ ہوئی کہ خفیہ طورسے علم نجوم کے جاننے والوں کا بھی سہارا لیاگیا۔ ہندوستانی مغل شہنشاہ ہمایوں کو سری نگر میں ایک کشمیری نیلم پیش کیا گیا تھا تب درباری نجومی نے کہا کہ پتھر تو بے مثال ہے لیکن خوش یوم نہیں ہے اس لئے شہنشاہ نے استعمال نہیں کیا۔ شاہ نے ایک افغان لڑکی کو اپنے عقد میں شامل کیا تھا لیکن چھ ماہ بعد طلاق ہوگئی وہ نیلم منحوس کیاقرار پایا کہ اب ہر نیلم منحوس کہلاتاہے۔ شہنشاہ جہانگیر کے اس نیلم کو لال قلعہ کے شاہی خزانے سے برآمدکرکے ملکۂ وکٹوریہ کو بھیج دیا گیا جو استعمال نہ ہوا۔ برطانوی شاہی خزانے میںلوٹ کھسوٹ کے دوسرے مال کے ساتھ رکھا ہوا 35کیرٹ کا یہ انمول نیلم پہلی بار ڈائنا  نے پہنا تھا اور انجام کار اس پری وش شہزادی کو جان دینا پڑی۔ شہزادہ ولیم کو اپنی ماں کی املاک سے وہ نیلم بہت پسند آیا اور وہ کیٹ کو پہنا دیا لیکن نجومی کی ہدایت پرکیٹ نے وہ نیلم دوسرے ہی دن اتار دیا۔ جب کہ ڈائنا تمام زندگی اکثر اپنی داہنے ہاتھ کی درمیانی انگلی میں اسے پہنے رہتی تھیں۔ اس بے گانی شادی میں لاکھوں دیوانے تھے لندن کیا برطانیہ بھر کے شہروں اور گائوں میں اسٹریٹ پارٹیاں ہوئیں اور جشن منایا گیا امید ہے کہ شادی کامیاب ہوگی کیونکہ شہزادہ ولیم بہت خوش مزاج ہیں وہ ہر بات میں ہنس دیتے ہیں ایک دم ماں پر گئے ہیں۔ اسکاٹ لینڈ کی سینٹ اینڈریو یونی ورسٹی کے ایک پروفیسر نے بتایا کہ اگر اس شہزادے سے کوئی دقت بھی دریافت کرے تو ہنس کر جواب دے گاایک دن سورج نکل آیا تو کرن آفتاب کو دیکھ کر خوب ہنسے نہایت شریف اور ہمدرد قسم کا مستقبل کا بادشاہ ہے لیکن یہاں کی بادشاہت بھی ہاتھی کے دانت سے زیادہ نہیں ہوتی۔
ایک برطانوی رپورٹ میں بتایاگیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے گوانتاموبے جیل میں قیدیوں پر ٹارچر کے اثرات کو چھپانے کی کوشش وہاں کے ڈاکٹر کرتے ہیں ڈاکٹروں کی ٹیم کو جیسی ہدایت کی جاتی ہے وہ ویسا ہی کرتے ہیں۔ یہ انداز طبی پیشے کے اخلاقیات کے منافی ہے۔ڈاکٹروں کے سامنے ان نام نہاد اسلامی ممالک کے ملزمان کو ٹارچر کیا جاتاہے۔ ڈاکٹروں سے کہاجاتاہے کہ تمام تر بدسلوکی کے واقعات کو پوشیدہ رکھاجائے ان باتوں کو ریکارڈ پر نہ لایا جائے۔ چنانچہ ڈاکٹر شدید ذہنی و جسمانی تشدد کے اثرات کو بھی ریکارڈ پر نہیں لاتے گوانتاموبے میں قیدیوں کے ساتھ تشدد اور بدترین ٹارچر کے وہ طریقے استعمال کئے جاتے ہیں جن پر اقوام متحدہ کی سخت پابندی ہے۔ یہ رپورٹ ریٹائرڈ بریگیڈ جنرل ڈاکٹراسٹیفن زینکس اور یونیورسٹی آف منی سوٹاڈاکٹر ونسنٹ لیکو پیندنے مرتب کرکے شائع کی ہے۔ ایک رپورٹ میں بتایاگیاہے کہ لیبیا کے صدر معمرقذاقی کے اثاثے منجمد کرنے کی کوششوں میں مزاحمت ہورہی ہے یہ مزاحمت روس چین اورہندوستان کی جانب سے ہورہی ہے۔ لیبیا کے اب تک امریکی بینکوں میں 60ارب ڈالر کے اثاثے موجود ہیں۔ ہندوستان، ترکی، کینیااور لاطینی امریکہ کے کئی ممالک رکاوٹیں ڈال رہے ہیں جب کہ کوئی رقم قذافی کے نام سے نہیں ہے۔
برطانوی حکومت نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی یوروپی عدالت اسائلیم امیگریشن کے مقدمات میں دخل نہ دے یہ بات کونسل آف یوروپ کی جانب سے کہی گئی ہے۔ عدالت کو امیگریشن ٹریبونل کاکردار ادا نہیں کرنا چاہئے اور انتہائی غیرمعمولی بات پر ہی دخل دینا چاہئے۔ برطانیہ نومبر میں کونسل آف یوروپ کا عہدہ سنبھالے گا اور مزید اصلاحات کی کوشش کی جائے گی۔ برطانوی وزیر انصاف کینتھ کلارک کا ان باتوں پر زور زیادہ ہے کہ سیاسی یا سماجی پناہ نہ دی جائے دوسری جانب انسانی حقوق و انصاف کے تقاضوں کی بھی کھل کر خلاف ورزی جاری ہے۔

Share Article

حیدر طباطبائی

haidertabatabai

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *