آئی پی ایل: کھلاڑیوں کو گمراہ کرنے کی کوشش

راجیش کمار
گزشتہکچھ سالوں میں اگر ہندوستان کی شبیہ بین الاقوامی سطح پر مثبت انداز  میں ابھری ہے تو اس میں کرکٹ کا بھی قابل قدر اشتراک رہا ہے۔ طویل عرصہ بعد یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ ہندوستانی کھلاڑی بیرونی ممالک میں نہیں بلکہ اپنے ہی ملک میں کرکٹ کے ذریعہ پیسہ اور بین الاقوامی شہرت حاصل کر رہے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں، ہم کبھی کرکٹ کے سرتاج کہے جانے والے ممالک کے کھلاڑیوں کی نیلامی بھی کر رہے ہیں۔ آج حالت یہ ہے کہ کرکٹ بالواسطہ طور پر قومی کھیل بن چکا ہے اور یہ سب ہوا ہے آئی پی ایل کی وجہ سے،لیکن زیادتی تو کسی بھی چیز کی اچھی نہیں ہوتی۔ آئی پی ایل کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ مودی اور کلماڈی کا حشر تو دنیا دیکھ ہی چکی ہے۔ ان دونوں کے گھوٹالوں کو دیکھتے ہوئے یہ ہونالازمی بھی تھا، لیکن اس بات پر کوئی دھیان نہیں دے رہا ہے کہ پیسہ، گلیمرکی  چکا چوندھ سے لبریز یہ آئی پی ایل اس جینٹل مین کھیل کو ہی برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔
جینٹل مین اس لئے ، کیونکہ ایک دور تھا، جب کھلاڑی کھیل کے میدان پر اتر کر ایک دوسرے سے ہاتھ ملا کر اپنے اپنے ملکوں کی نمائندگی کرتے تھے اور ناظرین سے کھچا کھچ اسٹیڈیم اپنے ان ہیروز کے لئے ہوا میں میں اچھلتا تھا۔ ہر کھلاڑی اپنے ملک کی شان مانا جاتا تھا اور آج بھی سچن جیسے کھلاڑی دنیا بھر کے ہیرو مانے جاتے ہیں، لیکن اب کرس گیل اور ملنگا جیسے کھلاڑیوں کو دیکھئے، ویسٹ انڈیز اور سری لنکا کے یہ تیز طرار کھلاڑی گزشتہ کچھ دنوںسے میڈیا میں چھائے ہوئے ہیں۔ اس بار یہ کسی بہتر کارکردگی کو لے کر نہیں،بلکہ اس بات پر ہیںکہ وہ اپنے ملک کے لئے کھیلیں یا نوٹوں کی برسات کرنے والے آئی پی ایل کے لئے۔ آخر میں ان دونوں کھلاڑیوں نے ملک سے زیادہ نوٹوں کو ترجیح دیتے ہوئے آئی پی ایل کو منتخب کیا۔دونوں کے اپنے الگ الگ بہانے ہیں۔ کسی کی  اپنے ملک کے کرکٹ بورڈ سے ناراضگی ہے تو کوئی کہنی میں چوٹ کی وجہ سے ٹیسٹ میچ سے رٹائرہو رہا ہے۔
غور طلب ہے کہ آئی پی ایل میں کھیل رہے سری لنکائی کھلاڑیوں کو کچھ وقت پہلے ان کے بورڈ نے انگلینڈ دورہ کی تیاریوں کے لئے جلد وطن لوٹنے کو کہا تھا ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ کھلاڑی آئی پی ایل کو درمیان میں ہی چھوڑ کر وطن واپس لوٹ آئیں۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی تھا کہ آئی پی ایل کو درمیان میں چھوڑنا یعنی کھلاڑیوں کو کروڑوں کا نقصان۔ اس سے بی سی سی آئی اور سری لنکائی کرکٹ بورڈ میں ٹکرائو کی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔اندر سے تو ایسی خبریں بھی آئیں کہ سری لنکا کی وزارت کھیل کو کافی منافع نہیں ملا، اس لئے وہ کھلاڑیوں پر واپسی کا دبائو بنا رہی ہے۔ کمار سنگ کارا کا کہنا ہے کہ اگرا یف ٹی پی میں باقاعدہ طور پر آئی پی ایل کو جگہ دی جاتی ہے تو اس طرح کے ٹکرائو سے بچا جا سکتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ آئی پی ایل کے لئے خاص جگہ ہونی چاہئے اور بی سی سی آئی کو یہ یقینی بنانا چاہئے کہ کافی ٹیسٹ کرکٹ کھیلا جائے۔ آپ کو بتا دیں کہ سری لنکا  کرکٹ بورڈ نے اپنے کھلاڑیوں کو 18مئی تک آئی پی ایل میں کھیلنے کی اجازت دے دی ہے، لیکن سنگ کارا کچھ دن پہلے انگلینڈ دورہ پر چلے جائیں گے۔ انھوں نے کہا، ہمیں 20مئی تک کا وقت دیا گیا ہے۔ ہمارا 16اور 21مئی کو میچ ہے۔ میں16مئی کے میچ کے بعد واپس چلا جائوںگا۔
غور طلب بات یہ ہے کہ اگر یہ کھلاڑی اپنے بزی شیڈیول سے وقت نکال کر ملک واپسی کر سکتے ہیں تو کیا گیل اور ملنگا ایسا نہیں کر سکتے تھے؟ ان دونوں معاملوں میں کرس گیل کی بات پر کچھ یقین کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق، وہاں کے بورڈ نے انہیں سلیکشن سے متعلق عمل سے درکنار کیا ہے، جس کی وجہ سے انہیں ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ لیکن ملنگا کا معاملہ بالکل عجیب اور الگ ہے۔ انھوں نے تواپنے ملک واپس جانے سے بچنے کے لئے یا یوں کہیں کہ اپنا نقصان بچانے کیلئے ٹیسٹ کرکٹ سے رٹائرمنٹ لینے کا اعلان کر دیا۔ یہاں پر تعجب والی بات یہ ہے کہ اس کی وجہ انھوں نے اپنے گھٹنے کی چوٹ بتائی ہے۔27سال کی عمر میں ہی ٹیسٹ کرکٹ سے رٹائرمنٹ کا اعلان کرنے والا یہ کرکٹر اصل میں شروعات سے ہی اس کشمکش میں تھا کہ وہ پیسہ چنے یا اپنا ملک۔ اس کشمکش کا نتیجہ یہ نکلا کہ قومی ٹیم کے منتظمین کو اپنے چوٹ لگنے کی اطلاع دے لر لستھ ملنگا آئی پی ایل میں کھیل رہے ہیں۔ ملنگا کے معاملہ میں یہ دلیل گلے نہیں اترتی کہ آئی پی ایل میں تو صرف چار اوور ہی پھینکنے ہوتے ہیں۔
ملنگا کی دلیل کرکٹرس کی اس کشمکش کو نمایاں کرتی ہے، جس میں ایک طرف تو آئی پی ایل کی جانب سے ملنے والی بڑی رقم ہے تو دوسری جانب قومی ٹیم کے تئیں ذمہ داری۔ اب یہ تو کھلاڑیوں کو ہی طے کرنا ہے، کیونکہ جس طرح ملنگا نے ٹیسٹ کرکٹ سے رٹائرمنٹ لینے کا اعلان کر دیا ہے، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ طاقت کے بل پر کسی کوبھی ذمہ داریوں کا احساس نہیں کرایا جا سکتا۔ یہ بات بڑی عجیب ہے کہ انہیں چوٹ لگی ہے ، لیکن پھر بھی وہ کھیل رہے ہیں۔ دلیپ مینڈس کہتے ہیں کہ ہم نے ملنگا کو خط لکھ کر گھر لوٹنے کو کہا تھا، لیکن جواب میں ملنگا نے کہا کہ ان کے گھٹنے میں درد ہے، جس کی وجہ سے وہ ٹیسٹ سیریز نہیں کھیل پائیں گے۔دلیپ مینڈس نے سخت رخ اختیار کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ اگر کھلاڑیوں کو چوٹ لگی ہے تو انہیں فوراً علاج شروع کر انا چاہئے، تاکہ وہ اگر اپنے ملک کے لئے کھیلنے میں دلچسپی رکھتے ہیں تو اس کے لئے صحت مند ہو سکیں۔تلک رتنے دلشان کی کپتانی میں انگلینڈ کے دورہ پر جانے والی سری لنکائی ٹیم اینجلو میتھو کے چوٹ لگنے کے سبب پہلے ہی گیند بازی کے محدود متبادل سے پریشان ہے، لیکن شاید ملنگا کو یہ بات سمجھ میں نہیں آئی اور انھوں نے ان سب الجھنوں سے پیچھا چھڑانے کے لئے رٹائرمنٹ لینا ہی بہتر سمجھا۔ اب انہیں آئی پی ایل میں کھیلنے سے کوئی بھی نہیں روک سکتا۔کرس گیل پر بھی یہی بات نافذ ہوتی ہے کہ اگر انہیں اپنے ملک کے کرکٹ بورڈ سے کوئی ناراضگی تھی تو اس کا بہانہ لے کر آپ آئی پی ایل نہیں کھیل سکتے۔
ایسا نہیں ہے کہ پیسے اور گلیمر کی چمک میں صرف غیر ملکی کھلاڑی ہی اندھے ہوئے ہیں، ہمارے کھلاڑی بھی کم نہیں ہیں۔ یہ تو اچھا ہے کہ آئی پی ایل ہمارے ملک میں ہو رہا ہے، نہیں تو کسی اور ملک میں ان کھلاڑیوں کی بولی لگتی تویہ بھی گھریلو کرکٹ کو درکنار کرتے ہوئے پیسہ کمانے کی سوچ بیٹھتے۔ایسا اس لئے کہا جا رہا ہے، کیونکہ ابھی حال ہی میں دھونی سمیت کئی ہندستانی کھلاڑی ورلڈ کپ میں ملنے والی انعامی رقم سے خوش نہیں تھے اور انھوں نے باقاعدہ اعتراض ظاہر کیا ۔نتیجتاً ، بی سی آئی نے عالمی کپ جیتنے والی ہندوستانی ٹیم کے ہر کھلاڑی کو دی جانے والی رقم ایک کروڑ سے بڑھا کر دو کروڑ کر دی۔ لیکن اندرونی ذرائع کی مانیں تو یہ رقم ابھی بھی کم ہے، کیونکہ کھلاڑیوں کا مطالبہ پانچ کروڑ روپے تھا۔
ہم یہ نہیں کہہ رہے ہیں کہ کھلاڑی پیسہ نہ کمائیں، پیسہ کمانے میں کوئی برائی نہیں ہے، لیکن وہ کس طرح پیسہ کما رہے ہیں، یہ توجہ طلب ہے۔ اسے کس طرح صحیح کہا جا سکتا ہے کہ آپ اپنے ملک میں ہونے والے ٹورنامنٹ کو چھوڑ کر صرف اس لئے آئی پی ایل میں شامل ہیں، کیونکہ وہاں آپ کو اپنے ملک سے زیادہ پیسے مل رہے ہیں۔ اس بات کو کھلاڑی کیوں بھول جاتے ہیں کہ انہیں یہ پیسہ اس لئے مل رہا ہے، کیونکہ وہ اپنے ملک کی جانب سے بین الاقوامی کرکٹ کھیلتے ہیں۔اگر وہ اپنے ملک کے اسٹار کھلاڑی نہیں ہوتے تو آئی پی ایل تک کیسے پہنچتے؟ بدقسمتی یہ ہے کہ کچھ ہی سالوں قبل شروع ہوا آئی پی ایل ایڈیشن اپنے پیسوں کے بل پر کھلاڑیوں کو باغی بنا رہا ہے۔ یہاں پر ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب کرکٹ انتظامیہ کروڑوں میں کھیل رہا ہے اور مودی جیسے سورما بڑے بڑے گھوٹالے کر رہے ہیں تو ایسے میں کھلاڑی پیسہ کیوں نہ کمائیں۔ آئی پی ایل نے نہ صرف کھلاڑیوں کو خیموںمیں تقسیم کر دیا ہے، بلکہ ان کے سامنے لالچ کی ایک ایسی کھائی پیدا کر دی ہے، جس سے بچنا سب کے بس کی بات نہیںہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *