اسلام کا پیام امن، اقوام عالم کے نام

دشمنان اسلام نے اسلام کے خلاف یہ پروپیگنڈہ کیا ہے کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے۔ جہاد کی وجہ سے دنیا میں دہشت کا ماحول ہوچکا ہے ۔ امن وسکون فوت ہوچکا ہے۔ اسلام دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے۔ قتل وخونریزی کا حکم دیتا ہے۔ مسلمانوں کا وجود دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے۔ یہ اسلام کے خلاف گہری منصوبہ بند سازش ہے۔
اسلام اور دہشت گردی کے تعلق کی بات کرنا حقیقت کے خلاف ہے۔ یہ بات دروغ گوئی اور بہتان ہے۔ اسلام کے معنی اطاعت وفرمانبرداری کے ہیں جو دہشت گردی کے خلاف ہے۔ لغوی ، اصطلاحی اور حقیقی ، کسی بھی اعتبار سے اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔ عملی طورپر دیکھا جائے تو اسلامی احکام میں ایثار وقربانی اور فرمانبرداری کا، کامل مفہوم موجود ہے جو دہشت گردی کے مغائراور اس سے کوسوں دور ہے۔کیا وہ دین دہشت گردی کی تعلیم دے سکتا ہے جو دوسری قوموں کو کسی مطالبہ اور اصرار کے بغیر مساویانہ حقوق دیتا ہے؟کیا وہ مذہب دہشت گردی سکھاتا ہے جو عصبیت وعلاقائیت ، نسل پرستی وخود غرضی سے روکتا ہے؟ کیا وہ قانون امن کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے جو دشمنوں کے مفتوحہ علاقہ میں ایک پھل دار درخت کاٹنے کو روا نہیں رکھتا؟کیا وہ اہل ایمان بقائے امن کے لیے خطرہ ہوسکتے ہیں جن سے دنیا نے امن وسلامتی کا درس حاصل کیا؟ ہرگزنہیں، اسلام صلح وامن کا دین ہے، محبت وسلامتی کا مذہب ہے، اس کا ہر حکم بقائے امنِ عالم کا ضامن اورسلامتی کا موجب ہے۔ جہاد کاحکم ،اسلام کی تبلیغ کے لیے نہیں دیا گیا بلکہ جہاد کی وجہ باغیوں کی جنگجویانہ کارروائیاں اور خانماں سوز سرگرمیاں ہیں۔جہاد کی غرض وغایت یہ ہے کہ فتنہ ختم کیا جائے ، امن کو قائم کیا جائے، جہاد، خواہ دفاعی ہویا اقدامی ،یہ ظلم وبربریت اورانسان دشمنی کے خلاف ایک تحریک ہے۔ اگر جہاد کی وجہ اور علت کفر ہوتی تو اسلام جنگ کے موقع پرغیر مسلم عورتوں، بچوں، بوڑھوں، معذوروں اور راہبوں کوقتل کرنے سے منع نہ کرتا۔ اگر جہاد کا مقصد غیر مسلموں کو صفحۂ ہستی سے نابود کرنا ہوتا تو صدیوں حکومت کرنے والے شاہان ہند کسی غیر مسلم فرد کو سرزمین ہندوستان پر سانس لینے کاحق نہ دیتے، ان کے عباد ت خانوں کو منہدم اور زمین دوز کردیتے جب کہ مسلم حکمرانوں کے دور میں صوفیاء کرام کے حسن سلوک کی برکت سے تمام برادران وطن چین وسکون راحت وآشتی سے پر امن ماحول وخوشگوار فضا میں زندگی بسرکرتے رہے۔ مسلمانوں نے پرخطر حالات میں بھی غیرمسلموں کے ساتھ جس خوش اسلوبی اور عمدگی سے ایفائے عہد کی تاریخ مرتب کردی ہے کہ دنیا اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔
شریعت اسلامیہ نے مسلمانوں کو اجازت دے رکھی ہے کہ وہ دنیا کے کسی بھی خطہ میں جائیں کیوں کہ مسلمان سراپا رحمت و سلامتی ہوتے ہیں۔ مسلمان امن کے لیے خطرہ اور فسادی نہیں ہوتے بلکہ امن کے علمبردار اور سلامتی کے پیکر ہوتے ہیں، ساری انسانیت کے لیے نفع بخش اور راحت رساں ہوتے ہیں۔عرب سے عجم تک، یوروپ سے افریقہ تک اور افریقہ سے ایشیا تک مسلمان جہاں بھی گئے امن و سلامتی عدل و انصاف ، صلہ رحمی و احسان کا پیغام لے کر گئے۔ خوف و دہشت ، فتنہ و فسادکے زہر آلود معاشرہ و سماج کو انہوں نے گہوارۂ امن و سلامتی بنا ڈالا۔ ان کے اخلاق کی پاکیزگی ، معاملات کی صفائی، رواداری ، بھائی چارگی، اتحاد و یگانگت ، محبت و اخوت، رحمت و مودت کی بدولت ظلم و عدوان کے بادل چھٹ گئے اور عدل و انصاف کے پھول کھل گئے۔
اسلام نے غیر مسلم ابنائے وطن سے معاشرتی تعلقات، کاروباری معاملات ، تجارت، خرید و فروخت، لین دین، رہن، کفالہ، صلح وغیرہ دیگر امور کی اجازت دی ہے اور تمام معاملات و تعلقات میں صداقت و راست بازی کی پابندی کی تاکید کی اور جھوٹ، مکر و فریب اوردھوکہ و خیانت سے اجتناب کاحکم فرمایا ہے، نخوت و استکبار کی جگہ تواضع و انکساری، فروتنی و خاکساری کے معاملہ کا قانون دیا ہے۔ مسلمان کا ربط و تعلق کسی بھی مذہب و ملت کے افراد سے ہو اس کو بہر طور یہ ملحوظ رکھنا ہے کہ میں تو مسلم ہوں، اسلام نے غیر مسلموں کے ساتھ معاشرتی اور اخلاقی تعلقات کی مسلمانوں کے بالمقابل زیادہ تاکید کی ہے۔
ارشاد خداوندی ہے۔ ترجمہ:’’اللہ تعالیٰ تمہیں اس بات سے منع نہیں کرتا کہ تم ان لوگوں کے ساتھ حسن سلوک اور عدل و انصاف کا برتاؤ کرو جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہیں کی اور نہ تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا۔ اللہ تعالیٰ عدل و انصاف کرنے والوں کو پسند کرتاہے۔‘‘ (سورۃالممتحنہ : 8)
اس آیت کریمہ سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ غیر مسلموں سے ہر حال میں عدل و انصاف کا برتاؤ کرنا چاہیے، بلکہ اس آیت کریمہ کی تفسیرمیں مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ عدل و انصاف تو ہر کافر کے ساتھ کرنا ہے ، یہاں معنیٰ یہ ہیں کہ تم ان کی دل جوئی کے لیے بطور تبرع و احسان اپنے اموال کا کچھ حصہ دو(احکام القران)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ترجمہ:’’لوگوں سے اچھی بات کہنا۔(سورۃ البقرہ:83)
اور اچھی طرح پیش آنا۔ اس میں کسی رنگ و نسل ،مذہب و عقیدہ کی تخصیص نہیں بلکہ یہ حکم سب کے حق میں ہے۔  قریش مکہ کی جانب سے حج و عمرہ کے لیے کسی پر بھی پابندی اور روک نہیں تھی حتیٰ کہ جانی دشمن کے لیے بھی، لیکن جب مسلمان عمرہ کے ارادے سے نکلے، راستے میں روک دیے گئے ، عمرہ کی اجازت نہیں ملی ، مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے اور انہیں غیر معمولی صدمہ پہنچا۔ فطری طور پر آتش انتقام شعلہ زن ہوسکتی تھی، مسلمان جوابی کارروائی کرسکتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے افراد کے حق میں بھی حسن سلوک کا حکم فرمایا اور ظلم و زیادتی پر روک لگادی ۔ترجمہ:’’کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ تم زیادتی کر بیٹھو۔ اس وجہ سے کہ انھوں نے تم کو مسجد حرام سے روکا تھا۔‘‘(سورۃالمائدہ :2)
عدل و انصاف کے معاملے میں اسلام میں دوست و دشمن ،مسلم و غیر مسلم کا فرق درست نہیں۔اسلام دشمنوں کے ساتھ بھی عدل و انصاف کو لازمی قرار دیتا ہے تاکہ اس کی بنیاد پر ایک خوش گوار معاشرہ تشکیل پائے۔ ارشادحق تعالی ہے۔ ترجمہ:’’ کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر ہرگز نہ اکسائے کہ تم عدل کا دامن ہاتھ سے چھوڑدو ، عدل کرو، عدل تقویٰ سے بہت قریب ہے۔‘‘(سورۃ المائدہ :8)
اسلام ، ’’چلیں گے اْدھر کو جدھر کی ہوا ہے ‘‘ والی بات نہیں کرتا، اسلام ہر حال میں عدل و انصاف کے ایسے قوانین نافذ کرتا ہے جو ہوا کے رْخ کو موڑدیں۔
ان واضح اور پاکیزہ تعلیمات کے بعد کیا اس امر کی گنجائش ہے کہ یہ کہا جائے اسلام اپنے مخالفوں کو برداشت نہیں کرتا! ان سے جنگ و جدال کی بات کرتاہے! دہشت گردی کی تعلیم دیتا ہے!اور اپنا عقیدہ بہ جبر واکراہ ان پر مسلط کرتا ہے؟
غیر اسلامی ملک کے غیر مسلم افراد پر انفاق کرنا اور مصیبت و آفت میں ان کے ساتھ ہمدردی و تعاون کرنا تو مسلمانوں کا وصف خاص ہے ۔اس وصف خاص سے متصف فرمانے کے لیے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فعل مبارک سے مسلمانوں کو جو نمونۂ عمل عنایت فرمایا اس کی ایک مثال یہ حدیث پاک ہے:’’ایک سال مکہ مکرمہ کے لوگ قحط میں مبتلا ہوگئے تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان بن حرب اور صفوان بن امیہ کے پاس پانچ سو درہم روانہ کیے تاکہ وہ مکہ کے ضرورت مندوں اور محتاجوں میں تقسیم کردیں۔‘‘(رد المحتار،ج2،کتاب الزکوٰۃ ،باب مصرف الزکوٰۃ والعشر،ص92)
اسلام نے غیر مسلم افراد سے کاروبار، تجارت، لین دین اور معاملات کو درست رکھا ہے، چنانچہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر فتح ہونے کے بعد اسلام کے سب سے بڑے دشمن یہود کے ساتھ مزارعت کا معاملہ فرمایا ہے اس طرح کہ وہ زراعت کریں گے اور پیداوار کا آدھا حصہ آپ کو اداکریں گے ، جب بٹائی کا وقت آتا حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیداوار کا اندازہ کرنے کے لیے حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کو روانہ کرتے۔ (ابوداؤد،کتاب البیوع، باب فی الخرص ،حدیث نمبر:2962)
حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ پیداوار کو دو حصوں میں تقسیم کرکے فرماتے :جس حصہ کو چاہو لے لو ! یہود اس عدل و انصاف کو دیکھ کر یہ کہتے’’ ایسے ہی عدل و انصاف سے آسمان اور زمین قائم ہے۔ حضرت ابن رواحہ رضی اللہ عنہ ان سے فرماتے : اے گروہ یہود! تمام مخلوق میں تم میرے نزدیک سب سے زیادہ ناپسندیدہ ہو، تم نے اللہ کے نبیوں کو قتل کیا اور تم نے اللہ پر تہمت باندھا لیکن تمہاری دشمنی مجھ کو اس بات پر آمادہ نہیں کرسکتی کہ میں تم پر کسی قسم کا ظلم کروں۔ (شرح معانی الاثار ج 1، ص316)
اس سے ظاہر ہے کہ مسلمان غیر مسلموں کے ساتھ کتنے پاکیزہ طریقہ پر معاملات کرتے آئے ہیں کہ ظلم و زیادتی اور حق تلفی کا کوئی شائبہ تک نہیں ، اسی طرح مسلمان غیر مسلموں سے رہن کا معاملہ بھی کرسکتے ہیں۔  اب اخیر میں ایک حدیث مبارک ذکر کی جاتی ہے جو اس سلسلہ کے تمام احکام کا لب لباب ہے۔  حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :مومن وہ ہے جس سے تمام لوگوں کے خون اور مال محفوظ ہوں۔ اس ارشاد مبارک سے روز روشن کی طرح ظاہر ہے کہ اسلام نے غیر مسلموں کے بھی جان و مال کو تحفظ دیا ہے اور انہیں باوقار زندگی مرحمت کی ہے اور کامل مومن کی علامت و شناخت بھی یہی رکھی کہ اس سے دوسرے لوگ خواہ مسلم ہوں کہ غیر مسلم، مامون و محفوظ رہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *