ہاکی کو آئی پی ایل کیسے بنائیں

پرینکا پریم تیواری
اس بات سے تو سبھی واقف ہیں کہ ہندوستان میں ہاکی کو کیا حیثیت حاصل ہے، لیکن سننے میں آ رہا ہے کہ ہاکی کی حالت کو بہتربنانے کے لئے کئی منصوبوں کو عملی جامہ پہنایا جائے گا۔ ان میں سب سے پر کشش منصوبہ یہ ہے کہ اب ہاکی بھی آئی پی ایل کی طرز پر پیشہ ور لیگ کی شکل میں کھیلی جائے گی۔یعنی اب ہاکی کے فارمیٹ میں کئی ضروری تبدیلیاں ہوں گی اور اگر یہ کہا جائے کہ اب پیسوں کی برسات ہوگی تو غلط نہ ہوگا، لیکن یہ بھی ہوا میں محل بنانے جیسا ہے۔ دراصل، ہاکی اور کرکٹ میں بہت فرق ہے۔موجودہ وقت میں ہاکی اور کرکٹ کے حالات پر نظر ڈالیں تو تمام صورتحال سمجھ میں آ جائے گی کیونکہ لیگ کی روایت ہاکی کے لئے مشکل ہے۔خیر یہ تو بعد کی بات ہے، لیکن اس اعلان نے کافی لوگوں کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔غور طلب ہے کہ ایف آئی ایچ کے صدر لیاندرو نیگرے نے گزشتہ دنوں اعلان کیا تھا کہ ہم سال 2013میں عالمی کلب چمپئن شپ منعقد کریں گے، جو ایک سالانہ ٹورنامنٹ ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی ہماراہاکی انڈیا کے ساتھ ہندوستان میں ایک پیشہ ور لیگ شروع کرنے کا منصوبہ ہے، جس کی فاتح ٹیم عالمی کلب چمپئن شپ میں حصہ لے گی۔
نیگرے نے حالانکہ واضح کیا کہ پیشہ ور لیگ ابھی زیر غور ہے اور ایف آئی ایچ اس کے لئے ونڈو مقرر کرنے کے لئے تمام ممبران ممالک سے بات کی جا رہی ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس کے لئے وقت اہم ہے اور یہ جنوری سے فروری کے درمیان ہونا چاہئے۔اسے لندن اولمپک کے بعد ہی منعقد کیا جائے گا، لیکن ہمیںا س کے لئے ونڈو بنانے کی ضرورت ہے۔
اس کے علاوہ ایف آئی ایچ آئندہ سال سے ورلڈ لیگ بھی منعقد کرے گا، جس کا فائنل 2013میں ہندوستان میںہوگا۔ نیگرے کے مطابق، ہم نے حال ہی میں ٹورنامنٹ کے ڈھانچہ میں تبدیلی کی ہے۔ آئندہ سال سے ہم ورلڈ لیگ شروع کریں گے۔ ایف آئی ایچ کے مجوزہ منصوبہ کے تحت 58مرد اور 50 خاتون انٹرنیشنل ٹیمیں زونل کوالیفائر کھیل کر آٹھ ٹیموں کے ورلڈ لیگ فائنل میں جگہ بنائیں گی۔ یہ لیگ آنے والے وقت میں ورلڈ کپ اور اولمپک کے لئے کوالیفائنگ ٹورنامنٹ بنے گی۔دوسری طرف انڈین ہاکی فیڈریشن (آئی ایچ ایف) نے بھی ہندوستانی ٹی وی کمپنی ’’نمبس‘‘ کے ساتھ کروڑوں ڈالر کی ورلڈ ہاکی سیریز کا اعلان کیا ہے۔ نیگرے نے دہرایا کہ ایف آئی ایچ کسی غیر اختیاری ٹورمامنٹ کو منظوری نہیں دیتا ہے اور وہ ہاکی انڈیا کے ساتھ مل کر ہی کام کرے گا۔ اس تبدیلی کی وجہ آئی پی ایل کی بے پناہ کامیابی کے ساتھ ساتھ اس میں برسنے والی دولت بھی ہے۔آئی پی ایل کی بے پناہ کامیابی نے دوسرے کھیلوں کے لئے بھی اسی طرز پر لیگ منعقد کرانے کا راستہ ہموار کر دیا ہے۔اسی کے تحت بین الاقوامی فیڈریشن (ایف آئی ایچ) ہاکی انڈیا کے تعاون سے ہندوستان میں فرنچائزی پر مبنی پروفیشنل لیگ منعقد کرنے پر غور و خوض کر رہا ہے۔ گزشتہ سال نئی دہلی میں منعقد عالمی کپ اور دولت مشترکہ کھیلوں کی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ایف آئی ایچ نے بھی پروجیکٹ ’’چک دے‘‘ شروع کیا ہے۔ اس کے تحت ہندوستان اس سال سے 2014تک پانچ اہم بین الاقوامی ہاکی ٹورنامنٹ کھیلے جائیں گے۔ حالانکہ ابھی تک مذکورہ تمام منصوبے صرف اعلانات تک ہی محدود ہیں، اس لئے ابھی کسی نتیجہ پر پہنچنا ٹھیک نہیں ہے، لیکن ہاکی کی موجودہ حالت اور سمت کی بنیاد پر اتنا تو طے کیا جا سکتا ہے کہ اس منصوبہ کی کامیابی کس حد تک ممکن ہے۔
اب ذرا ہاکی کی موجودہ حالت کی بات کرتے ہیں۔ 20ویں سلطان ازلان شاہ کپ ٹورنامنٹ میں ہندوستان کی شرمناک شکست تو سب کے سامنے ہے۔ پاکستانی ہاکی ٹیم نے لیگ مقابلہ میں ہندوستان کو 3-1سے ہرایا۔ ہندوستان کوپہلے مقابلہ میں بھی کوریا کے ہاتھوں 2-3سے شکست ملی تھی، لیکن اس کے بعد اس نے انگلینڈ کو 3-1سے ہرایا اور پھر آسٹریلیا کو 1-1سے برابری پر روکا۔ چوتھے مقابلہ میں اس نے ملیشیا کو 5-2سے ہرایا تھا۔ لیکن پھر نیوزی لینڈ نے بھی ہندوستان کو 7-3کے بڑے فرق سے ہرا کر ٹورنامنٹ سے ہی باہر کر دیا تھا۔ ملیشیا کے اپوہ شہر میں ہو رہے ٹورنامنٹ میں اپنے آخری لیگ میچ میں ہندوستان نیوزی لینڈ سے پہلی بار اتنی بری طرح ہارا ہے ۔ اس ہار کے ساتھ ہی گزشتہ بار کا نائب فاتح ہندوستان ٹورنامنٹ کے فائنل میں جگہ پانے کی دوڑ سے باہر ہو گیا۔ سات ممالک کی اس سلطان ازلان شاہ کپ ہاکی ٹورنامنٹ میں ہندوستان اس ہار کے بعد پوائنٹ ٹیبل میں سات پوائنٹ کے ساتھ ملیشیا اور کوریا کے بعد پانچویں نمبر پر ہے ۔ دوسری جانب پاکستان نے اس ٹورنامنٹ میں اپنی ساکھ بچا رکھی ہے۔
ٹورنامنٹ میں ہندوستانی ہاکی کی حالت صاف ہے، علاوہ ازیں ہندوستانی ٹیم کس پوزیشن میں ہے، اس کا اندازہ مختلف تنازعات اور اسکینڈلس کی بنیاد پر طے کیا جا سکتا ہے۔ ہندوستانی ہاکی کے دامن میں ایک سیاہ داغ اس وقت لگ گیا ، جب ایک نیوز چینل میں انڈین ہاکی فیڈریشن (آئی ایچ ایف) کے جنرل سکریٹری کے جیوتی کمارن ایک کھلاڑی کا قومی ٹیم میں سلیکشن کرانے کے لئے رشوت لیتے دکھائی دئے تھے۔ یعنی اسے آپ آئی پی ایل کے نقش قدم پر چلنے کی شروعات کہہ سکتے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ چینل کی خفیہ ٹیم نے ہندوستانی ہاکی کے زوال کے اسباب کی جانچ کی اپنی مہم میں طویل وقت تک لگے رہنے کے بعد یہ حقیقت سامنے لا کر سب کو حیرت زدہ کر دیا تھا کہ ہندوستانی ہاکی ٹیم میں سلیکشن کاعمل بالکل بھی غیر جانبدارانہ نہیں ہے۔ چینل نے دعویٰ کیا تھا کہ جیوتی کمارن نے اس کی خفیہ ٹیم کو ازلان شاہ ہاکی ٹورنامنٹ کے لئے ہندوستان کی سینئر ہاکی ٹیم میں ایک کھلاڑی کا سلیکشن کرانے کی یقین دہانی کرائی اور اس کے عوض میں پانچ لاکھ روپے کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد دو لاکھ ر وپے کی رشوت جیوتی کمارن کو دہلی کے پانچ ستارہ ہوٹل میں10اور 11اپریل کو ادا کر دی گئی اور بقیہ 3لاکھ روپے ان کے آدمی کو دہلی میں دینے کا وعدہ ہوا۔پیسے ملنے کے کچھ دنوں بعد جیوتی کمارن نے انہیں بتایا کہ کھلاڑی کا نام اس ہفتہ وزارت کو ازلان شاہ کپ ٹورنامنٹ کے لئے بھیجی جا چکی کھلاڑیوں کی فہرست میں پہلے ہی شامل کیا جا چکا ہے۔ چینل نے بتایا کہ جیوتی کمارن نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ جہاں تک ان کا تعلق ہے، کھلاڑی کی ٹیم میں جگہ بک ہو چکی ہے اور اب صرف رسمی خانہ پری باقی ہے۔ حالانکہ چینل کی خفیہ ٹیم اس کھلاڑی کو بالکل بھی نہیں جانتی ہے اور اس نے اپنی جانچ کو حقیقی شکل دینے کے لئے جیوتی کمارن کو ایک ایسے کھلاڑی کا نام بتایا تھا، جو بنگلور میں حال ہی میں ہوئے کیمپ میں شامل تھا، لیکن اسے آئندہ آسٹریلیائی دورہ کے لئے ٹیم میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔
اس معاملہ کے انکشاف کے بعد پوری کھیل دنیا میں سنسنی پھیل گئی تھی۔یہاں تک کہ ریاستی وزیر کھیل منوہر سنگھ گل نے ایک بیان میں کہا کہ معاملہ کی پوری تفتیش کرائی جانی چاہئے اور تب تک جیوتی کمارن کو اپنے عہدہ سے استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ حالانکہ انھوں نے تفتیشی عمل کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ دھنراج پلے، پرگٹ سنگھ، محمد شاہد اور اشوک کمار سمیت کئی سابق قدآور ہاکی کھلاڑیوں نے اسے شرمناک واقعہ قرار دیتے ہوئے جیوتی کمارن اور کے پی ایس گل کے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ ادھر آئی ایچ ایف کے نائب صدر نریندر بترا نے بھی اس معاملہ کی تفتیش سی بی آئی سے کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے شرمناک واقعہ کی تہہ تک تفتیش ہونی چاہئے۔ لیکن کہتے ہیں کہ ہاتھ کنگن کو آرسی کیا اور پڑھے لکھے کو فارسی کیا۔ اسی طرزپر ازلان شاہ کپ ٹورنامنٹ میں ہندوستانی ہاکی ٹیم کی شرمناک کارکردگی نے یہ تو ثابت کر ہی دیا کہ کھلاڑیوں کے سلیکشن عمل میں کتنی شفافیت برتی گئی تھی۔ دراصل، یہپورا کھیل ملک کے وقار کے لئے نہیں، بلکہ صرف پیسہ کے لئے ہوتا ہے۔ ہاکی کو بھی آئی پی ایل کی طرح لیگ کی شکل میںبازار میں اتارنا کھیل کو فروغ دینا نہیں،بلکہ آئی پی ایل کی طرح بدعنوانی کا اڈہ بنانا ہے۔یہ تو سب کو پتہ ہے کہ کلماڈی اور للت مودی نے کرکٹ کے فارمیٹ کو تیز کر کے جس طرح پیسہ، گلیمر اور بدعنوانی کاکاکٹیل بنایا ہے، اس سے اتنا تو طے ہے کہ اس کھیل میں سب نے اپنی اپنی جیبیں گرم کی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ کوئی گرفت میں آ جاتا ہے اور کوئی شرد پوار کی طرح بچا رہتا ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہ کرکٹ کو فرنچائزی کے طور پر اتارنا اور اس سے بازار میں پیسہ کمانا اس لئے نسبتاًآسان تھا، کیونکہ ہندوستان میں کرکٹ کا جو فین فالوئنگ ہے ، وہ ہاکی کا نہیں ہے۔ اس ملک میں کرکٹ گلی سے لے کر ہر چھوٹے موٹے میدان میں ہوتے دیکھا جاسکتا ہے، لیکن ہاکی نہیں۔ کرکٹ کے چاہے جتنے فارمیٹ بنا لیجئے، آپ کو کھلاڑی مہیا ہو جائیں گے، کیونکہ بین الاقوامی ٹیم کے علاوہ اور جونیئراور ریاستی سطح پر بھی خوب کرکٹ ہوتا ہے، لیکن ہاکی میں تو بین الاقوامی ٹیم میں ہی کھلاڑی پورے نہیں ہوتے، فرنچائزی کے لئے کھلاڑی کہاں سے مہیا ہوں گے۔
جب انڈین پریمئر لیگ یعنی آئی پی ایل پر کرکٹ کی روح کے ساتھ کھلواڑ کرنے کا الزام لگا تھا، تب بہت سے لوگوں نے یہ دلیل دی تھی کہ اس ٹورنامنٹ کے سبب کئی نئے کھلاڑی قومی اور پھر بین الاقوامی سطح پر نام روشن کر رہے ہیں۔اگر یہی بات ہاکی پر بھی نافذ کی جائے تو یہاں مسئلہ کچھ اور ہے۔ کرکٹ میں جب یہ فارمیٹ شروع ہوا تھا، تب ہندوستان میں کرکٹ پر پیسہ لگانے والوں کی کمی نہیں تھی۔ ایسا اس لئے تھا، کیونکہ ہندوستانی کرکٹ ٹیم اپنی کارکردگی کی بنیاد پر بین الاقوامی مارکیٹ میں اپنا سکہ جما چکی تھی اور اس سے ہندوستانی کرکٹ ایک بڑا بازار بن کرابھرا۔ یہی آئی پی ایل کی کامیابی کا راز تھا، لیکن ہندوستانی ہاکی کی ازلان شاہ کپ ٹورنامنٹ میں جو کارکردگی رہی ہے، اس بنیاد پر بین الاقوامی بازار میں کتنے انویسٹرپیسہ لگائیں گے، یہ بتانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ازلان شاہ ٹورنامنٹ کی کارکردگی کو چھوڑ دیں تو بھی کئی تنازعات ہیں، جو اسے آئی پی ایل کی طرح کامیاب ہونے سے روکتے ہیں۔ ا س لئے ہاکی کو فرنچائزی میں بدلنے کے بجائے ٹیم کی کارکردگی بہتر کر کے اسے بین الاقوامی سطح پر باوقار مقام دلانے کی کوشش کی جائے تو شاید اچھا ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *