انتخابی نتائج: قومی پارٹیاں اپنی شناخت کھو رہی ہیں

سنتوش بھارتیہ
تاریخ کروٹ لینے جا رہی ہے، اور جب تاریخ کروٹ لینے والی ہوتی ہے تو اس کا اشارہ وہ پہلے سے ہی کر دیتی ہے۔ پانچ اسمبلی انتخابات کے نتائج ہمارے سامنے ہیں جوکسی کی جیت یا کسی کی شکست سے بڑا اشارہ کر رہے ہیں۔ ہم اس سے سبق لیں یا نہ لیں یہ ہم پر منحصر ہے۔ لیکن اگر ہم اس سے سبق لینا چاہیں تو سبق بالکل صاف اور واضح ہے کہ تاریخ کروٹ لینے والی ہے۔ ہندوستان کے رائے دہندگان جن میں آسام، مغربی بنگال، تمل ناڈو، کیرالا اور پانڈیچیری کے لوگ شامل ہیں،نے فیصلہ کن نتائج ہمارے سامنے پیش کیے ہیں اور یہ نتائج ہمیں بتاتے ہیں کہ بہت سارے ایشوز جنھیں ہم نے مان لیا تھا کہ وہ اب ایشو نہیں ہیں، حقیقتاً وہ ایشو ہیں۔ ان انتخابات سے قبل جس قسم کے سروے آئے تھے اور خاص کر ہمارے ساتھی میڈیا کے لوگ کہتے تھے کہ بدعنوانی کوئی ایشو نہیں ہے اور تمل ناڈو میں برابر کی لڑائی ہوگی، ہوسکتا ہے کہ کروناندھی کی حکومت بن جائے یا ہوسکتا ہے کہ جے للتا کی حکومت بنے، لیکن اگر جے للتا کی حکومت بنے گی تو بہت تھوڑے ووٹوں سے بنے گی۔ لوگوں نے اس قیاس آرائی کو ختم کردیا کہ بدعنوانی کوئی ایشو نہیں ہے۔ ان انتخابات نے یہ ثابت کردیاکہ اب یہ ممکن نہیں ہے کہ سیاسی پارٹیاں انتخاب میں اپنے دعوے کریں، زیادہ پیسے خرچ کریں، پیسہ بانٹیں، میڈیا کو خریدیں، فرضی سروے رپورٹ چھپوائیں اور یہ امید کریں کہ لوگ انھیں ووٹ دے دیں گے۔ کارکردگی ضروری ہے۔ منفی ووٹنگ کی جگہ مثبت ووٹنگ بھی ہوتی ہے۔ مغربی بنگال اور تمل ناڈو میں مثبت ووٹنگ ہوئی۔ آسام میں ٹوٹی پھوٹی مثبت ووٹنگ ہوئی۔ اسی طرح پانڈیچیری میں مثبت ووٹنگ ہوئی۔ رائے دہندہ اب بالغ ہو چکا ہے۔ اس نے ایک جھٹکے میں سب کو سبق دے دیا اور بہت سی غلط فہمیوں کو بھی دور کردیا۔
کانگریس پارٹی کو رائے دہندگان نے یہ سبق دیا ہے کہ اگر وہ بدعنوانی کے ساتھ کھڑی دکھائی دیتی ہے اور بہتر کارکردگی نہیں کرتی ہے تو اسے پورے ملک میں نقصان ہونے والا ہے۔ ملک میں پیغام گیا کہ کروناندھی کی پارٹی کی بدعنوانی کے ساتھ کانگریس کھڑی ہے۔ کیا کانگریس پارٹی اور کانگریس حکومت الگ ہے؟ اگر الگ ہے تو اس کا حکومت کے اوپر کوئی کنٹرول نہیں ہے، اور اگر پارٹی اور حکومت ایک ہے تو پھر اس پارٹی کاخدا ہی مالک ہے۔ جب راجا کو ہٹانا چاہیے تھا تب نہیں ہٹایا، جب راجا پر مقدمہ چلانا چاہیے تھا، تب نہیں چلایا۔ جب راجا کو ہٹایا تو اس کا کریڈٹ حکومت کو نہ جاکر سی بی آئی کو ملا۔ کانگریس نے بنگال میں لگاتار غلطی کی، اور حالت یہ ہوئی کہ کانگریس آدھی سے زیادہ سیٹیں ہار گئی۔ ممتا بنرجی کے خلاف راہل گاندھی نے بنگال میں جاکر بیان بازی کی۔ حالانکہ وہ سنبھل گئے اور بعد میں ان بیانات سے خود کو دور کر لیا۔وزیر خزانہ پرنب مکھرجی کا کہنا ہے کہ وہ سیٹیں کانگریس اس لیے ہاری کیوں کہ وہاں اس نے اُن امیدواروں کو کھڑا کیا جو ممتا کے ساتھ معاہدہ کی مخالفت کر رہے تھے۔
کانگریس پارٹی آندھرا پردیش میں بھی انتخاب ہاری۔ دونوں جگہ اس کے فیصلے غلط ثابت ہوئے۔ ملکی پیمانے پر موٹے طور پر یہ لگا کہ کانگریس پارٹی اُن موضوعات کے تئیں سنجیدہ نہیں ہے جن کا رشتہ اس ملک کے عوام کے درد، غم اور تکلیف سے ہے۔ آسام میں کانگریس جیتی، لیکن منموہن سنگھ یا سونیا کی کانگریس نہیں جیتی۔ وہاں کانگریس جیتی ترون گوگوئی کے کام، دگ وجے سنگھ کی حکمت عملی اور پرویز ہاشمی کی مسلمانوں کے درمیان کی گئی کوششوں کی وجہ سے۔ انتخابی نتائج سے بہت پہلے دگ وجے سنگھ نے کہہ دیا تھا کہ آسام میں کانگریس جیتنے والی ہے، کیوں کہ وہاں پر حزب اختلاف بنٹا ہوا ہے۔ دگ وجے سنگھ کا یہ سیاسی تجزیہ بالکل صحیح تھا۔ انھوں نے ہوشیاری کے ساتھ یہ تجزیہ اس وقت کیا جب وہاں آخری دور کی ووٹنگ ختم ہوگئی۔ اگر وہ یہی بات پہلے کہہ دیتے تو شاید حزب اختلاف وہاں ایک ہونے کی کوشش کرتا۔ ایک ہونے کے بعد بھی شاید یہ ممکن نہیں ہو پاتا کیوں کہ اُن سب کے مفادات الگ الگ تھے۔ کانگریس اس حکومت کے بننے سے خوش ہو سکتی ہے، کیرالا میں اپنی حکومت بننے سے خوش ہو سکتی ہے، لیکن یہ دیکھنا ہوگا کہ کتنی سیٹوں سے اس نے اپنی حکومت بنائی ہے۔ اگر کیرالا کے بائیں محاذ میں، خاص کر مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی میں اندرونی چپقلش نہیں ہوتی اور وہ جی جان سے الیکشن لڑتی تو کانگریس کے لیے وہاں حکومت بنانا مشکل ہوجاتا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ کیرالا کی ایک امیج بن گئی ہے کہ وہاں کے عوام حکومت بنانے والی پارٹیوں کو ہر پانچ سال میں بدل دیتے ہیں۔
سونیا گاندھی کے لیے سوچنے کا وقت ہے کہ وہ کیسے کانگریس پارٹی کو متحرک کریں۔اگر وہ کانگریس کو متحرک نہیں کر پاتیں، اپنے ممبران پارلیمنٹ کو متحرک نہیں کر پاتیں کہ وہ انتخابی حلقوں میں جائیں اور پارٹی کی جیت کے لیے جی جان لگائیں تو انھیں کم از کم گجرات اور اترپردیش میں ویسی ہی شکست کا سامنا کرنا پڑے گا جیسے اس دفعہ تمل ناڈو یا بنگال میں کرنا پڑا ہے۔ سونیا گاندھی با شعور ہیں۔ جو اُن سے ملنے جاتا ہے، ان کے شعور کی داد دیتا ہوا واپس لوٹتا ہے، لیکن المیہ یہ ہے کہ سونیا گاندھی اُن چیزوں، جنھیں عام آدمی سمجھتا ہے، جنھیں پارٹی کا عام کارکن سمجھتا ہے، اُن باتوں کو سمجھ کر بھی پارٹی نہیں چلا پاتیں۔ یہ ایک سیدھا سوال ہے جس کا جواب اگر کہیں ہے تو صرف سونیا گاندھی کے پاس۔ کانگریس کے لیڈروں کے پاس بھی اس کا جواب نہیں ہے۔ جن لیڈروں سے ہم بات کرتے ہیں وہ بھی حیران رہ جاتے ہیں۔ لیکن کانگریس اس معاملہ میں زیادہ شائستہ ہے کہ اس کے لیڈر بند کمروں میں ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہیں تاکہ عوام کے سامنے ان کے اختلافات نہ آنے پائیں۔ لیکن کانگریس کتنا سبق لے گی، پتہ نہیں۔ اس نے سبق نہ لینے کی قسم کھائی ہے۔ اس کے ممبران پارلیمنٹ گھروں میں، دہلی میں یا غیر ممالک میں آرام فرماتے رہتے ہیں۔ کانگریس کے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں ہے کہ وہ اپنے ممبران پارلیمنٹ کو اترپردیش میں آئندہ ہونے والے انتخابات میں اتارے یا اُن ریاستوں میں سال بھر پہلے ان کی ڈیوٹی لگا سکے جہاں انتخاب ہونے والے ہیں۔کانگریس کے پاس ممبران پارلیمنٹ کی اچھی خاصی تعداد ہے، لیکن کوئی روڈ میپ نہیں ہے، خود اعتمادی نہیں ہے کہ وہ تنہا حکومت بنانے کا منصوبہ تیار کر سکے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی ان پانچ ریاستوں کے انتخاب میں کانگریس کی خراب حالت پر بہت خوش ہے۔ ایک طرف جہاں کانگریس خوش ہے کہ وہ ممتا کے ساتھ بنگال میں خود کو شکست خوردہ نہیں مان رہی ہے، آسام اور کیرالا میں اس نے حکومت بنالی۔ وہ تمل ناڈو کو یاد نہیں کرنا چاہتی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اس کے بالکل برعکس اپنی شکست کو دیکھنا ہی نہیں چاہتی۔ اس کے صدر نتن گڈکری ایک نااہل صدر کی شکل میں سامنے آئے ہیں۔ نہ تو وہ پارٹی میں جوش پیدا کر سکے اور نہ ہی پارٹی کے کارکنوں میں کوئی جوش ڈال سکے، نہ گروہ بندی دور کر سکے اور نہ خود کو ایک توانا، پرجوش، بصیرت آموز صدر کے روپ میں پیش کر سکے۔ نتیجہ کے طور پر پارٹی کے سینئر لیڈران، چاہے اڈوانی جی ہوں، چاہے سشما جی ہوں، ارون جیٹلی ہوں، راج ناتھ سنگھ ہوں، مرلی منوہر جوشی ہوں، کسی کو بھی وہ پارٹی کے کام میں لگانے کے لیے متحرک نہ کر سکے۔ نتن گڈکری، جسونت سنگھ جیسے لوگوں کو پارٹی میں لے تو آئے لیکن ان کا استعمال نہ کر سکے۔ اب وہ کوشش کر رہے ہیں کہ اوما بھارتی کو پارٹی میں لے آئیں، لیکن اوما بھارتی کو مدھیہ پردیش نہیں جانے دیں گے۔ ایسا لگتا ہے جیسے اترپردیش میں بی جے پی کے پاس ایسا کوئی لیڈر نہیں بچا ہے جو وہاں پارٹی میں دوبارہ جان ڈال سکے۔ یہ پہلی مثال ہوگی جس میں کوئی سیاسی پارٹی اپنے سینئر لیڈر کو آئی اے ایس افسروں کی طرح ایک صوبہ سے دوسرے صوبہ میں منتقل کرے گی۔ یہ نتن گڈکری کی سوچ کا دیوالہ پن ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بیہوشی کے عالم میں جاتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ ان انتخابات میں اس کا جیسا حال ہوا ہے، اس سے ڈر اس بات کا ہے کہ لوک سبھا میں اب اس کی بات میں کوئی دم رہے گا یا نہیں۔ان پانچ ریاستوں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے پاس پہلے جتنی سیٹیں تھیں اُن میں ایک بھی سیٹ کا اضافہ نہیں ہوا بلکہ آدھی سے زیادہ سیٹوں کا نقصان ہوا ہے۔ آسام اس کی مثال ہے۔ سوال سیٹوں کا نہیں ہے، پارٹی کو بہتر بنانے کا ہے، پارٹی میں توانائی ڈالنے کا ہے، ہارنے کے باوجود پارٹی میں لڑائی لڑنے کی صلاحیت پیدا کرنے کا ہے۔ نتن گڈکری پارٹی کے صدر ہونے کے ناطے ان میں سے کچھ بھی نہیں کر سکے۔
مجھے پورا یقین ہے کہ وہ اپنے عہدہ سے استعفیٰ نہیں دیں گے اور وہ اس شکست کو اپنی شکست کی شکل میں نہیں لیں گے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی سے کوئی اتفاق کرے یا نہ کرے، لیکن اس کا حزب اختلاف کا رول مستعدی کے ساتھ کیسے چلے، اس میں ہر اس آدمی کی دلچسپی ہوگی، جس کا جمہوریت پر اعتقاد ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پارٹی کو ایک ایسا صدر ملے جو پوری تنظیم میں نئے سرے سے توانائی ڈال سکے۔ آج ایسے دو لوگ ہو سکتے ہیں، لال کرشن اڈوانی جی، جنھیں صدر کے طور پر پارٹی کی پوری کمان سونپی جائے اور آزادی دی جائے کہ وہ کس طرح کی حکمت عملی لو ک سبھا اور راجیہ سبھا کے لیے طے کرنا چاہتے ہیں تاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی حزب اختلاف کی شکل میں اپنا رول ادا کرسکے۔ دوسرا نام جسونت سنگھ کا ہے۔ جسونت سنگھ کو شاید آج بھی پتہ نہیں ہوگا کہ انھیں کیوں پارٹی سے نکال دیا گیا، یہ بھی پتہ نہیں ہوگا کہ انھیں پارٹی میں دوبارہ کیوں لیاگیا۔ لیکن اب جب کہ وہ دوبارہ پارٹی میں لے لیے گئے ہیں اور اگر اڈوانی جی پارٹی کی کمان سنبھالنے سے انکار کرتے ہیں تو جسونت سنگھ دوسرے ایسے شخص ہیں، جن میں اٹل بہاری واجپئی کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کا سرگرم ہونا عوامی جمہوریت کے لیے بھی بہت ضروری ہے۔
کروناندھی کا ساتھ دے کر کانگریس نے اپنے لیے کانٹے بو دیے ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ اس نے بدعنوانی کے الزامات لگنے پر اپنے وزیر اعلیٰ، ممبران پارلیمنٹ اور حلیف پارٹی کے وزیر کے خلاف کارروائی کی۔ رکن پارلیمنٹ سریش کلماڑی پر کارروائی تب ہوئی جب ان کو گرفتار کر لیا گیا، اور تب جاکر انھیں پارٹی سے نکالا گیا۔ ساری کارروائی وقت نکل جانے کے بعد کی گئی۔ ہمارے یہاں کہاوت ہے کہ اب پچھتائے ہوت کیا، جب چڑیا چگ گئی کھیت۔ کانگریس، خاص کر سونیا گاندھی کو ایسی با اثر قیادت ملک کو دکھانی ہوگی، جس کی بات حکومت اور پوری پارٹی مانے، ورنہ کانگریس کے لیے اترپردیش کا انتخاب جیتنا تو دور کی چیز، لوک سبھا انتخاب میں بھی اتنے ممبران پارلیمنٹ جٹانے مشکل ہو جائیں گے، جو کہ حکومت یا مخلوط حکومت بنانے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔
تمل ناڈو، پانڈیچیری اور آندھرا کے اشارے کیا ہیں؟ جے للتا بھی بہت ایماندار نہیں ہیں۔ پچھلی دفعہ بدعنوانی کے الزام میں ہی عوام نے اُن کے خلاف کروناندھی کو ووٹ دیا تھا، لیکن کروناندھی کی فیملی، حلیفوں، ان کی بیٹی کے تعاون سے اے راجا نے جس طرح تمل ناڈو اور پورے ملک میں لوٹ مچائی، اس نے عوام کو  پس و پیش میں ڈال دیا۔ کروناندھی کی ہار یا جیت کاانتظار پورے ملک کو تھا۔ اگر ان کی شکست پانچ یا دس سیٹ سے ہوتی تو یہ ملک کے باشندوں کے لیے فکرمندی کا باعث ہوتی کیوں کہ اس سے یہ پیغام ملتا کہ بدعنوانی اب ملک کے اندر تشویش کا باعث نہیں رہی، لیکن تمل ناڈو کے لوگوں نے ایسا فیصلہ لیا جیسا ملک کے عوام امید کر رہے تھے۔ ملک کے لوگ چاہتے تھے کہ کروناندھی بری طرح ہاریں کیوں کہ ان کی پارٹی اور ان کے رشتہ داروں کی بدعنوانی جے للتا کی بدعنوانی سے ہزار گنا بڑی تھی۔ تمل ناڈو کے لوگوں نے ایک سچے ہندوستانی ووٹر ہونے کا فرض نبھایا۔ ہندوستان میں جب ووٹر کو موقع ملتا ہے، وہ اپنا فرض ادا کرتا ہے۔ یہی فرض رائے دہندگان نے بنگال میں نبھایا۔ وہاں گذشتہ 34 برسوں میں پہلی دفعہ لوگوں نے آزادی سے ووٹ ڈالے۔ ممتا بنرجی کی شبیہ، اُن کا لڑاکو چہرہ، لوگوں سے کیے گئے وعدے، لیفٹ سے ناامیدی اور ممتا سے امید جیسے کئی سوال تھے۔ لیکن جب آپ ووٹ ہی نہ ڈال پائیں تو یہ سوال صرف دماغ میں بنے رہ جاتے ہیں۔ بنگال میں الیکشن کمیشن کا رول اہم رہا۔ بنگال سے میرے دوستوں نے مجھے فون کرکے بتایا کہ پچھلے 30-35 سالوں میں لوگوں نے پہلی بار اپنی مرضی سے اپنے امیدواروں کو ووٹ دیے۔ جب لوگوں نے ووٹ ڈالے تو ایسا بدلہ لیا، جو تاریخ میں ایک نیا صفحہ جوڑ گیا۔
پوڈو چیری اور آندھرا پردیش میں کانگریس نے جو فیصلہ لیا، وہ غلط ثابت ہوا۔ کانگریس کے لیڈروں کو یہ معلوم تھا کہ اُن کا فیصلہ غلط ہے، لیکن اُن میں غلط فیصلہ لینے کے بعد اسے درست کرنے کی کوئی روایت ہے نہیں۔ اندرا گاندھی کے بعد یہ روایت ختم ہوگئی۔ اگر لیڈر اپنے غلط فیصلہ کو درست کر لے تو وہ عظیم لیڈر کہلاتا ہے۔ کانگریس میں اس وقت کوئی عظیم رہنما نہیں ہے، صرف لیڈر ہیں اور انھیں پانچ ریاستوں میں ہوئے انتخابات سے سبق لینا چاہیے۔ ممتا بنرجی کو بنگال کے لوگوں نے فاتح بنایا، الیکشن کمیشن نے بھی راستہ صاف کیا۔ اب ممتا کی باری ہے۔ ان کے پاس صرف چھ مہینے کا وقت ہے۔ ڈاکٹر لوہیا کہا کرتے تھے کہ جو حکومت چھ مہینے کے اندر آگے کیے جانے والے کاموں کی بنیاد نہ ڈال سکے اور اپنا روڈ میپ عوام کے سامنے نہ رکھ سکے، وہ بقیہ ساڑھے چار سالوں میں بھی کچھ نہیں کر سکتی، علاوہ عوام کو ناامید کرنے کے۔ بنگال میں انہی چھ مہینوں میں طے ہوگا کہ ممتا بنرجی ایک کامیاب وزیر اعلیٰ کی شکل میں اپنی میعاد طے کریں گی یا ایسی وزیر اعلیٰ کی شکل میں اپنی میعاد پوری کریں گی، جس سے لوگوں نے امید تو بہت لگائی تھی، لیکن ہاتھ لگی صرف نا امیدی۔
ملک کا اگلا عام انتخاب نہ کانگریس کے لیے آسان ہوگا اور نہ بی جے پی کے لیے۔ کانگریس آگے بڑھ نہیں رہی ہے، اس میں حوصلہ نہیں پیدا ہو رہا ہے۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی اپنے صدر کے کرشمے کی وجہ سے لگاتار سکڑتی جا رہی ہے۔ راہل گاندھی 2014 میں وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔ کانگریس کے لوگوں کا کہنا ہے کہ 2014 میں اپنے دم خم پر 200 سے زیادہ ممبران پارلیمنٹ کو فتح دلا کر راہل گاندھی وزیر اعظم بنیں گے، لیکن مجھے لگتا ہے کہ 2014 راہل کے لیے بہت ٹیڑھی کھیر ثابت ہونے والا ہے۔ انگور کھٹے ہیں والی کہاوت کہیں صحیح نہ ہو جائے۔ دوسری طرف بھارتیہ جنتا پارٹی سکڑ رہی ہے، حزب اختلاف کا رول نہیں نبھا پا رہی ہے اور بھروسہ نہیں جگا پا رہی ہے کہ وہ لوگوں کے مسائل، دکھ درد اور تکالیف کو دور کرنے کے لیے تحریک چلائے گی۔ اسی طرح این ڈی اے، جس کے ساتھ پارٹیاں جڑی تھیں اور جس کی وجہ سے اٹل جی کی حکومت چلی، وہ بھی ناکارہ ہوگئی۔ شاید اس لیے کہ شرد یادو کی کوششوں پر بھارتیہ جنتا پارٹی روک لگا رہی ہے اور شرد یادو کو لگتا ہوگا کہ جب وقت آئے گا تو دیکھیں گے کہ کیا صورت حال بنتی ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ شرد یادو کے دماغ میں کوئی سیاسی نقشہ ہوگا، جس کی وجہ سے وہ این ڈی اے کو ناکارہ کیے ہوئے ہیں۔ مجموعی طور پر یہ انتخابات پارٹیوں کے لیے مایوسی کا باعث ہیں، خطرے کااشارہ ہیں۔ یہ انھیں سنبھلنے، ہوشیار ہونے اور اپنے کام کرنے کے طریقے کو بدلنے کی وارننگ دیتے ہیں۔ وہیں دوسری جانب ملک کے عوام کے لیے یہ انتخاب امید کی کرن ہیں۔ امید کی کرن اس لیے کہ کوئی ایسا گروہ، فرد، خواب اور وعدہ اگر سامنے آتا ہے، جس میں لوگوں کو اپنے مسائل کا حل نکلتا دکھائی دے تو لوگ اس کے ساتھ ضرور کھڑے ہوں گے۔ اب یہ گروہ یا فرد کون ہوگا، ابھی نہیں معلوم۔ ابھی 2014 تھوڑی دور ہے، تب تک ہو سکتا ہے کہ ان انتخابات کے اشاروں کو سمجھ کر کوئی نیا گروپ تیار ہو، جسے ملک کے لوگوں کی حمایت حاصل ہو سکے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *