دادا صاحب پھالکے ایوارڈ: پھر نظر انداز کیا گیا پران کو

سشما گپتا
سال 2010کے دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے سینئر فلمساز بالا چندر کو نوازا جائے گا۔وہ گزشتہ 45سالوں سے ہندوستانی سنیما میں سرگرم ہیں۔بالا چندر کو اس ایوارڈ کے لئے منتخب کئے جانے کا مطلب ہے کہ 91سالہ پران کو اس مرتبہ بھی اس ایوارڈ سے محروم رکھا جائے گا۔ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ فلم انڈسٹری میں ناقابل فراموش تعاون کے لئے دیا جاتا ہے، لیکن شاید 60سے زیادہ سالوں تک اداکاری کرنے والے اس اداکارکی خدمات کو جیوری کے ممبر ان ناقابل فراموش نہیںمانتے ۔ شروعات کے صرف 20سال، جبکہ وہ بڑے ہو رہے تھے، چھوڑ دئے جائیں تو ان کی پوری زندگی فلم انڈسٹری کو وقف رہی ۔چالیس سال ہو گئے، پران کو فلموں میں ویلن کا رول چھوڑے ہوئے، لیکن آج بھی ہندوستانی سنیما میں جب ویلن کا ذکر آتا ہے تو ذہن میں سب سے پہلے پران کا ہی نام آتا ہے۔ یہ ان کی اداکاری کا جادو نہیں تو اور کیا ہے!
ہندی فلموں میں کھلنائکی کے ذریعہ پران نے اداکاری کو نئی بلندیاں بخشیں۔ پران فلمی دنیا میں اس وقت سے سرگرم ہیں، جب ہندوستانی سنیما اپنی شناخت کے لئے جدوجہد کر رہا تھا۔ سال 1940میں پنجابی فلموںسے پران کا فلمی سفر شروع ہوا تھا۔ یملا جٹ نامی پنجابی فلم میں انھوں نے ویلن کا کردار ادا کیا تھا۔ اس وقت وہ لاہور میں رہ کر کام کرتے تھے۔ اس کے دو سال بعد سلور اسکرین پر وہ ہیرو بن کر اترے فلم ’’خاندان‘‘ میں۔ اس فلم میں ان کے مدمقابل نورجہاں نے کام کیا تھا۔ تب نور جہاں کی عمر محض13-14عمرکی تھی۔ فلم ہٹ ہوئی۔ اس کے بعد تو ان کے پیچھے فلمسازوں کی لائن سی لگ گئی۔ انہیں فلموں میں ہیرو کے رول ملنے لگے، لیکن ہیروکے کردار انہیں زیادہ راس نہیں آ رہے تھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ ہیرو کے پاس کرنے کے لئے کچھ ہوتاہی نہیں تھا، علاوہ ہیروئین کے ساتھ پیڑوں کے ارد گرد چکر لگانے اور ناچ گانے کے ۔ لہٰذا انھوں نے پھر سے کھلنائکی شروع کی۔ ان کا کریئر تیزی سے آگے بڑھ ہی رہا تھا کہ ملک کی تقسیم کا المیہ انہیں برداشت کرنا پڑا اوروہ لاہور سے ممبئی آ گئے۔ چھ ماہ تک مفلسی اور جدوجہد کے بعد پران کو دیو آنند اور کامنی کوشل کی فلم ’’ضدی‘‘ میں کام ملا۔ان کی شاندار اداکاری دیکھ کر ہندی فلموں کے ہدایت کار حیرت زدہ رہ گئے۔ اس کے بعد ایک بار پھر ان کے پیچھے ہدایتکاروں، فلمسازوں کی لائن لگ گئی۔
پچاس اور 60کی دہائی آتے آتے پران ہندی فلموں میں کھلنائکی کی  علامت بن گئے۔ان کا ادا کیا گیا ہر رول لوگوں کے دلوں میں خوف طاری کر دیتا تھا۔ ان کاکردار ایسا موثر ہوتا کہ اصل زندگی میں بھی لوگ پران سے خوف کھاتے تھے ۔وہ جہاں بھی جاتے ، لوگ ان سے کنی کاٹ لیتے تھے۔ ایک بار وہ دہلی میں اپنے کسی دوست کے گھر چائے کے بلاوے پر گئیاور جب وہ ان کے گھر پہنچے تو ان کی بہن انہیں دیکھتے ہی وہاں سے بھاگ گئی۔بعد میں ان کے دوست نے فون پر انہیں بتایا کہ ان کی بہن ان سے لڑ رہی تھی کہ انھوںاتنے برے آدمی کو گھر میں کیوں بلایا۔ پچاس کی دہائی کے بعد عالم یہ تھا کہ لوگوں نے اپنے بچے کا نام پران رکھنا بند کردیا۔
اس دور میں دیو آنند کی شہرت کا مقابلہ صرف پران ہی کر سکتے تھے۔ فرق صرف اتنا کہ یہ شہرت دیو آنند کو پیار کی شکل میں ملی اور پران کو نفرت کی شکل میں۔ کہا جاتا ہے کہ دیو آنند جہاں بھی جاتے تھے، لڑکیاں انہیں گھیر لیتی تھیں اور ان کی ایک جھلک پانے کے لئے چھت سے بھی کودنے کو تیار رہتی تھیں۔ ٹھیک اسی طرح پران جہاں جاتے تھے، لوگ راستہ بدل لیتے تھے یا دائیں بائیں ہو جاتے تھے۔ غور طلب بات ہے کہ دیو آنند کو یہ مقبولیت صرف اداکاری کے بل پر نہیں، بلکہ اپنی خوبصورتی اور مخصوص انداز کی بدولت بھی ملی۔جبکہ پران نے یہ مقبولیت صرف اپنی اداکاری کے بل پر حاصل کی۔ پران کی یہ منفی مقبولیت عالمی سنیما کی تاریخ میں انوکھی ہے۔یہ ہندوستان ہی نہیں، عالمی سنیما کی تاریخ میں بدنامی سے ملی شہرت کی ایسی مثال تھی، جسے کوئی بھی فنکار دوہرا نہیں پایا۔ کردار چاہے جیسا بھی ہو، ان کی اداکاری کے خاص انداز کو کون بھول سکتا ہے۔ مکالمے کی ادائیگی ، ہونٹوں پر تیرتی خوفناک مسکان اور الگ الگ گیٹ اپ کے ساتھ پران نے منفی کرداروں کو کچھ اس طرح پیش کیا کہ ہر کردار زندہ جاوید اور یادگار ہو گیا۔
پران کی اس کامیابی کی وجہ ان کی بے مثال اداکاری اور ان کی اداکاری کے تئیں دلچسپی بھی ہے۔ اداکاری کے تئیں ان کی دلچسپی اتنی گہری تھی کہ پنجابی فلموں میں بطور ہیرواپنا مقام بنانے کے بعد بھی چیلنجنگ رول کی خاطر انھوں نے کھلنائکی کی جانب رخ کیا۔ ہندی فلموں میں ایسا کرنے کی جرأت ہیروزمیں ان کے ساٹھ سال بعد آئی(21ویں صدی میں ہی ہندی فلموں کے ہیروزنے ویلن بننے کا رسک اٹھایا)۔ پران ان فنکاروں میں شمار کئے جاتے ہیں، جو اپنے کردار پر کیمرے کے سامنے آنے سے پہلے محنت کرنے میں یقین کرتے تھے۔رول کے مطابق ڈائیلاگ ، پوشاک،گیٹ اپ اور اسے نیا رنگ دینے کے لئے وہ باقاعدہ کئی کئی دنوں تک صرف مطالعہ کرتے تھے۔ کیرکٹر کے حساب سے خود کو ڈھالنا پران کی خوبی رہی ہے۔ مخصوص گیٹ اپ کے لئے وہ اخباروں سے تصویریں کٹنگ کر لیا کر تے تھے۔بعد میں کوئی ایسا کردار انہیں ادا کرنا ہوتا تھا وہ اس کے مطابق فوٹو دیکھ کر ہیئر اسٹائل ، موچھیں یا پوشاک پہنتے تھے۔ ہر فلم میں ان کا الگ اسٹائل ہوتا تھا، الگ مکالمہ کی ادائیگی ہوتی تھی۔ ان کے ذریعہ اپنائے گئے اسٹائل بے حد مقبول ہوا کرتے  تھے۔ یہ ان کی اداکاری کا ہی جادو تھا کہ ویلن ہونے کے باوجود ان کا ہیئر اسٹائل، سگریٹ پینے کا انداز اور چلنے بولنے کا انداز خوب مقبول ہوا۔ پران شاید پہلے ایسے ویلن تھے، جن کی سنگدلی اور غنڈہ گردی  میں بھی ایک قسم کی کشش رہتی تھی۔
ویلن کے طور پر اپنے جھنڈے گاڑنے کے بعد انھوں نے ایک بار پھر اپنی کھلنائک والی شبیہ ختم کر دی۔ انھوں نے یہ کام منوج کمار کی فلم ’’اپکار ‘‘ کے ذریعہ کیا۔ایک فلم سے ہی ہندی فلموں کا سب سے بڑا کھلنائک ملنگ چاچا بن گیا ۔اس کے بعد انھوں نے کئی یادگار کردار ادا کئے۔ستر کی دہائی کے بعد پران کی امیتابھ کے ساتھ جوڑی کافی ہٹ رہی تھی۔ وہ کبھی امیتابھ کے دوست بنے تو کبھی والد۔پردے پر جب بھی ان دو عظیم ہستیوں کا آمنا سامنا ہوا، تو وہ سین یادگار بن گئے۔ خواہ وہ زنجیر ہو یا پھر شرابی۔ اس دور میں وہ فلموں میں کیرکٹر رول کے لئے ایسی ضرورت بن گئے کہ فلمساز، ہدایت کار انہیں منھ مانگی قیمت دیتے تھے۔فلم ڈان کے فلمساز نے جتنے پیسے امیتابھ کو ڈبل رول کے لئے دئے تھے، اس سے زیادہ پیسے اسے پران کو دینے پڑے تھے۔ اگر اداکاری سنیما کی ترقی میں معاون ہے تو ان کی اداکاری ہندی سنیما کے لئے بہت بڑی معاون  تھی۔ مگر حیرانی کی بات ہے کہ یہ عظم فنکار ہندوستانی سنیما میں قابل ذکر کارکردگی، تعاون کے لئے ملنے والے سب سے بڑے اعزاز یعنی دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے آج تک محروم ہے۔
لگتا ہے، اس اعزاز کیلئے مقررہ پیمانے صرف نام کے لئے ہیں۔حکومت کو جو پسند آتا ہے، ایوارڈ اسے ہی دیا جاتا ہے۔پران کو اب تک یہ اعزاز نہ ملنا اس بات کا ثبوت ہے۔ کیا اس اعزاز کے لئے نام کے انتخاب والی سلیکشن کمیٹی میں فلم انڈسٹری کے قدآور لوگ شامل ہوتے ہیں، جن سے اعلیٰ درجہ کی سنیمائی سمجھ کی توقع کی جاتی ہے۔ کم سے کم اتنی تو ضرور کہ فنکار فنکار ہی ہوتا ہے، خواہ وہ نائک ہو یا کھلنائک ۔ پران نے 350سے زیادہ فلموں میں یادگار اداکاری کی ہے۔ ہندوستانی سنیما کے ہر اتار چڑھائو کے وہ حصہ دار رہے ہیں۔ آج ہم کہتے ہیں کہ مہاتما گاندھی کو نوبل انعام نہ ملنا مہاتما گاندھی کی نہیں، نوبل انعام کی بدقسمتی ہے۔کہیں ایسا نہ ہو کہ آنے والے دنوں میں یہی بات پران اور دادا صاحب پھالکے ایوارڈ کے لئے کہنی پڑے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *