ملک پارٹی لائن سے زیادہ اہم ہے

سنتوش بھارتیہ
ملک میں جمہوریت رہے گی یا نہیں رہے گی، اس کے بارے میں تھوڑی سی فکر زیادہ بڑھ گئی ہے۔ جمہوریت کو چلانے کی ذمہ داری اگر سیدھے طور پر دیکھیں تو ہمارے ممبران پارلیمنٹ کی ہوتی ہے وہ لوگوں کے ووٹ سے منتخب ہو کر جاتے ہیں اور ان کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ملک سے جڑے مسائل کے اوپر آپس  میں تنازعہ نہ کریںبلکہبحث کریں اور بحث کر کے جو ملک کیمفاد میں ہو، وہ فیصلہ کریں۔ جمہوریت بھی بچے اور بے روزگاری، مہنگائی اور غریبی وغیرہ سے ملک لڑتا بھی دکھائی دے۔ لیکن ممبران پارلیمنٹ کی کمیٹیوں میں ادھر جو ہونے لگا ہے، وہ پریشانی کے اشارے دیتا ہے۔پبلک اکائونٹس کمیٹی ایک ایسی کمیٹی ہے، جو حکومت کے ذریعہ پورے ملک میں کئے گئے کاموں، خاص طور سے جن کا رشتہ اقتصادی اخراجات سے ہوتا ہے، پرنظر رکھتی ہے اور جو رپورٹس آتی ہیں، خواہ وہ سی اے جی کی رپورٹ ہو یا کوئی اور رپورٹ ہو، ان سب کاوہ تجزیہ کرتی ہے اور ملک کو بتاتی ہے کہ اس میں یہ سچائی ہے اور پبلک اکائونٹس کمیٹی کی رپورٹ کو اگر پارلیمنٹ تسلیم کر لیتی ہے تو پھر پارلیمنٹ کی اس پر مہر لگ جاتی ہے۔ پارلیمنٹ کی سب سے اہم کمیٹی پبلک اکائونٹس کمیٹی اہم کمیٹی مانی جاتی ہے لیکن گزشتہ دنوں جو کچھ ہوا اس نے اس طرح کے اشارے دئے کہ اب پبلک اکائونٹس کمیٹی اہم نہیں رہی۔ اس کے ممبران اہم نہیں رہے۔ ممبران نے خود اپنی کمیٹی کی عظمت ختم کرنے کی کوشش کی۔ جب کسی کمیٹی میں ممبر ہوتے ہیں تو وہ پارٹی کے ممبر نہیں رہ جاتے۔ خوا ہ وہ کمیٹی کا صدر ہو یا مختلف جماعتوں کے ممبر ، جب وہ پبلک اکائونٹس کمیٹی میں پہنچتے ہیں، تب ان کے اوپر ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ آنے والے موضوع کی خوبی اور نقصپر غور وخوض کریں۔لیکن یہاں کیا ہوا؟ یہا ںہوا یہ کہ پبلک اکائونٹس کمیٹی کی رپورٹ جب بنی، اس کے اہم اقتباسات اخباروں میں لیک ہو گئے۔ صدر مرلی منوہر جوشی کے اوپر الزام عائد ہوا کہ انھوں نے پارٹی لائن پر اس کو بنایا اور باقی ممبران سے بات نہیں کی۔کانگریس، بی ایس پی اور سماجوادی پارٹی کے ممبر ایک ہو گئے اور انھوں نے کہا کہ اس رپورٹ کو ہمیں پاس ہی نہیں ہونے دینا ہے۔
اے راجا جیل میں ہیں۔ 2جی اسپیکٹر م کا مسئلہ تھا۔ پہلے بحث ہوئی کہ اس کے لئے کیا ہو؟ پورا ایک سیشن ہنگامہ کی نذر ہو گیا اور تب مشترکہ پارلیمانی کمیٹی بنی۔ اس نے 2جی اسپیکٹرم کی پیریلل جانچ کی۔ہم یہ سمجھ نہیں پاتے ہیں کہ ملک کے ممبران پارلیمنٹ کیا کبھی اپنی پارٹی لائن سے اوپر اٹھ کر ملک کے بارے میں سوچیں گے۔ بی جے پی کے ممبران ہوں، کانگریس کے ہوں یا دوسری پارٹیوں کے ، یہ سارے کے سارے پارٹی میںمنقسم ہیں۔یہ اپنی پارٹی کا مفاد سوچتے ہیں۔پارٹی کو اسکور کیسے ملے، پارٹی کا مفاد کیسے ہو، اس کے اوپر ان کا دماغ بہت چلتا ہے، لیکن اس ملک کے سامنے کوئی سچائی آئے، اس کے بارے میں یہ سوچتے ہی نہیں، بلکہ سوچنا چاہتے ہی نہیں ہیں۔ پارلیمنٹ میں لوک سبھا کی میٹنگ ہوتی ہے، راجیہ سبھا کی میٹنگ ہوتی ہے، آپ جو چاہیں کریں۔ بی جے پی کانگریس کو گالی دے، کانگریس بی جے پی کو گالی دے۔لیکن اتنی سمجھ ان ممبران پارلیمنٹ میں پیدا نہیں ہوتی کہ جب وہ کسی کمیٹی میں بیٹھتے ہیں ، تو وہ اپنی پارٹی لائن سے اوپر اٹھ کر ملک کے مفاد کے بارے میں سوچیں۔ جمہوریت کی یہ خوبی اب ہمارے درمیان سے رفتہ رفتہ ختم ہو رہی ہے۔
لوک سبھا کی ایک مثال پبلک اکائونٹس کمیٹی کے صدر آر آر مورارکا تھے۔ آر آر مورارکا نے اپنی رپورٹ میں کچھ تبصرہ کیا اور اس وقت کے وزیر داخلہ گلزاری لال نندا نے لابی میں (ایوان کے اندر نہیں) اور دونوں کانگریس پارٹی کے ہی ممبر تھے، مورارکا جی سے کہا کہ مورارکا جی ، آپ ایسی رپورٹ کیوں لکھ رہے ہیں؟ مورارکا جی نے کہا کہ میرا اس میں کوئی قصور ہی نہیں ہے۔ کمیٹی کے ممبران ہیں، جنھوں نے یہ رپورٹ بنائی ہے، اس وقت بھی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا ڈھانچہ ایسا ہی ہوتا تھا، جیسا ابھی ہے۔ تب تک کسی ممبر نے، شاید آچاریہ کرپلانی نے اس کو سن لیا اور انھوں نے ایوان میں کھڑے ہو کر کہا کہ گلزاری لال نندا پبلک اکائونٹس کمیٹی کے صدر آر آر مورارکا کو دھمکا رہے تھے۔ایوان میں ہنگامہ ہو گیا۔ تمام لیڈران نے اس واقعہ کی مذمت کی۔گلزاری لال نندا نے ایوان سے معافی مانگی۔حالانکہ انھوں نے کہا کہ میرا مطلب یہ نہیں تھا، جو آچاریہ جی نکال رہے ہیں، لیکن ان کو پارلیمنٹ میں معذرت کرنا پڑی۔ پبلک اکائونٹس کمیٹی کی لائن پارٹی نہیں تھی، ملک کی لائن تھی۔ آج کیا ہو گیا ہے؟ کیا تیس سالوں میں ہماری پارلیمانی جمہوریت انتشار کی کگار پر پہنچ گئی ہے۔ہم اتنے زیادہ پارٹی لائن سے جڑ گئے ہیں کہ ہم ملک کے بارے میں کچھ سوچ ہی نہیں سکتے؟ یہ سوال ہم اس لئے اٹھا رہے ہیں ، کیونکہ ملک کے سامنے حقیقت میں اعتماد کا بحران کھڑا ہو گیا ہے۔ان ممبران پارلیمنٹ کو پتہ ہی نہیں ہے کہ ممبر پارلیمنٹ چاہے کسی بھی پارٹی کا ہو ، کانگریس کا ہو، بی جے پی کا ہو یا کسی اور پارٹی کا ، لوگوں کی نظر میں ممبرپارلیمنٹ کی کوئی عزت نہیں ہے۔وہ ہر ممبر پارلیمنٹ کو بکا ہوا مانتے ہیں، وہ ہر ممبرپارلیمنٹ کو دلال مان رہے ہیں۔ ایماندار لوگ ہیں، لیکن ان کی سنتا کون ہے؟ ایماندار ممبران پارلیمنٹ کو تو پارلیمنٹ میں بولنے کا موقع ہی نہیں ملتا۔ ایسی ایسی مثالیں ہیں کہ ممبران پارلیمنٹ کی پوری کی پوری مدت کار گزر جاتی ہے ، لیکن ان کی پارٹی کے لیڈر انہیں پارلیمنٹ میں بولنے کی اجازت ہی نہیں دیتے۔ ایماندار ممبران پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ کے ایک کونے میں اچھوت کی طرح بٹھادیا جاتا ہے، بولتا کون ہے، جو داغدار ہوتا ہے۔ بولتا کون ہے، جو مجرم ہوتا ہے۔ شور کون کرتا ہے، جس کے پاس کوئی علم نہیں ہوتا، جس کے پاس ملک کے مسائل کی جانکاری نہیں ہوتی او ریہی ملک کی فکرکا موضوع ہے۔
دوسرا ایشو عوام سے جڑا ہوا ہے۔ جب ہم بات کرتے ہیں پارلیمنٹ کے ممبران سے کہ آپ کے یہاں ایسے ایسے لوگ آتے ہیں اور آپ لوگ اس طریقہ کی حرکت کرتے ہیں اور ملک برا مانتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ملک کو برا ماننے کی کیا ضرورت ہے؟ یہی لوگ تو منتخب کرتے ہیں ایسے لوگوں کو۔ جن ممبران پارلیمنٹ سے ہمارے لوگ یا ہم بات کرتے ہیں، ان سے ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ ملک کے لوگوں کو کیوں پریشانی ہے۔ آپ منتخب ہی ایسے لوگوں کو کرتے ہیں اور ہم یہاں آ کر جو کرتے ہیں، اس سے آپ کو کوئی پریشانی یا شرم نہیں ہونی چاہئے۔ ایک ممبر پارلیمنٹ نے بہت صاف کہا کہ ہم اپنے الیکشن کے اوپر 10سے 15کروڑ روپے خرچ کرتے ہیں۔ 10سے 15کروڑ روپے کا مطلب !پورے پارلیمانی حلقہ کے ہر گھر کو، اب کوشش کی جاتی ہے کہ کیش پیسہ جائے۔ پارٹیاں اپنے اپنے حامیوں کی لسٹ بناتی ہیں اور انہیں ان کے رائے دہندگان کے حساب سے پیسہ دیا جاتا ہے۔الیکشن کمیشن سخت ہو گیا ہے ۔ اب گاڑیوں کا قافلہ نہیں نکلتا۔ اب دیوارپر آپ لکھ نہیں سکتے ۔ پوسٹر ایک حد سے زیادہ نہیں نکال سکتے۔ آپ ہورڈنگ نہیں لگا سکتے۔ لوگوں کو بے وقوف بنانے کے اور ذرائع نہیں بنا سکتے۔تو لوگوں نے سیدھا راستہ نکال لیا کہ رائے دہندگان کے پاس سیدھے پیسے بھیجو اور جب اس ممبرپارلیمنٹ نے یہ کہا تو دماغ ہل گیا۔ اس نے کہا کہ ہر گھر میں پیسہ بھیجتے ہیں، لفافے بھیجتے ہیں اور جب اتنا خرچ کر کے ہم یہاں دہلی میں آتے ہیں، اورہمیں اگلا الیکشن بھی لڑنا ہوتا ہے۔ تو کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم صرف پارلیمنٹ کی تنخواہ سے اپنی زندگی کاگزارا کر سکتے ہیں، جو خرچ کیا ہے، اس کی وصولیابی کہاں سے ہوگی، بھرپائی کہاں سے ہوگی۔اگلا الیکشن بھی ہمیں لڑنا ہے تو ہم کس طرح لڑیں گے، اس کی بھی تیاری ہم کو کرنی پڑتی ہے۔ اس لئے جو بھی پارلیمنٹ میں ہو رہا ہے، جیسا بھی ہو رہا ہے، جس کے بھی حق میں ہو رہا ہے یا جس کے بھی خلاف ہو رہا ہے، اس سے عوام کا کیا مطلب؟
ہمیں بھی یہ لگتا ہے کہ اگر اس ملک کے عوام بیدار نہیں ہوئے تو ہماری پارلیمنٹ، اس عظیم ہندوستان کی پارلیمنٹ جمہوریت کے اختتام کا گیت گائے گی۔اس پارلیمنٹ کو کنٹرول کرنا ہے اور اس پارلیمنٹ کو سمت دینی ہے تو عوام کی دخل اندازی لازمی ہے۔ ملک کے عوام یعنی ملک کے رائے دہندگان اگر بیدار نہیں ہوئے تو پارلیمنٹ میں آ ج جو ہو رہا ہے، جس کی سب سے تازہ مثال پبلک اکائونٹس کمیٹی ہے، ویسے آپ مان کر چلیں کہ ہندوستان کی پارلیمنٹ میں اب اکثر ہوگا، کیونکہ ان ممبران پارلیمنٹ کے لئے ملک نہیں، ان کی پارٹی اہم ہے اور پارٹی میں بھی پارٹی مفاد نہیں، جس لیڈر نے ان کو ٹکٹ دلایا ہے، اس کا مفاد اہم ہے۔ اس تضاد کو اگر اس ملک کے عوام سمجھ لیں، تبھی کچھ ہو سکتا ہے اور اگر وہ نہیں سجھیں گے تو ہمیں بھی اپنے ملک سے جمہوریت کو وداع ہوتے دیکھنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *