چوتھی دنیا کو آن موبائل کمپنی کا نوٹس

ششی شیکھر
چوتھی دنیا (11 اپریل تا 17 اپریل) کے شمارہ میں شائع کور اسٹوری (عنوان:راجاکے ایک اور کرتوت کا پردہ فاش: محکمہ ٹیلی کام کا نیا گھوٹالہ) میں بی ایس این ایل کی ویلیو ایڈیڈ سروسز (وی اے ایس) برانچ میں ایک گھوٹالے کا انکشاف کیا گیا تھا۔ اس انکشاف کے بعد بی ایس این ایل، وی اے ایس سروسز دینے والی ایک کمپنی آن موبائل کی جانب سے ایک لاء فرم نے ’’چوتھی دنیا‘‘ کے چیف ایڈیٹر سنتوش بھارتیہ اور نامہ نگار ششی شیکھر کے نام سے ایک لیگل نوٹس بھیجا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ اسٹوری غلط ہے، حقیقت سے پرے ہے اور اس اسٹوری کی وجہ سے ان کے کلائنٹ (آن موبائل کے سی ای او اور چیئرمین اروند راؤ) اور ان کے بزنس کو نقصان ہوا ہے۔ لیگل نوٹس میں ہم سے اس اسٹوری کو ’’چوتھی دنیا‘‘ کی ویب سائٹ سے ہٹا لینے، بغیر شرط معافی مانگنے اور نقصان کی بھرپائی کے طور پر 10 کروڑ روپے کی ادائیگی کرنے کو کہا گیا ہے، وگرنہ ہمارے خلاف سول اور کریمنل پروسیڈنگ چلائے جانے کی بات کہی گئی ہے۔
بہرحال ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ ہم نے یہ اسٹوری کسی کمپنی کے خلاف نہیں، بلکہ بی ایس این ایل کے ذریعہ فرنچائزی کمپنیوں کے ساتھ ایگریمنٹ کرتے وقت کیے گئے بھید بھاؤ کو سامنے لانے کے لیے کی تھی۔ ہمارا مقصد کسی کمپنی کو بدنام کرنے کا نہیں تھا۔ اس اسٹوری میں کہیں بھی آن موبائل کمپنی یا اس کے سی ای او کو نشانہ بنانے کی کوشش نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی اس کمپنی کے خلاف کچھ لکھا گیا ہے۔ نتیجتاً نہ تو معافی مانگنے کا سوال اٹھتا ہے اور نہ ہی اسٹوری کو ویب سائٹ سے ہٹائے جانے کا۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ ہمیشہ عوامی مفادات سے متعلق صحافت کرتا رہا ہے اور مستقبل میں بھی کرتا رہے گا۔  فی الحال اس لیگل نوٹس کے مدنظر ہم اس اسٹوری سے متعلقہ حقائق اور تمام دستاویزات سے آپ کو آگاہ کرا رہے ہیں، تاکہ یہ الزام کہ اسٹوری حقیقت سے پرے ہے، کا جواب دیا جاسکے۔ ہم نے اس اسٹوری کے ذریعہ سے بی ایس این ایل کی من مانی پر سوال اٹھائے تھے۔ یہ بات ثبوت کے ساتھ بتائی تھی کہ کیسے بی ایس این ایل وی اے ایس برانچ نے ایک ہی کام(صارفین تک ویلیو ایڈیڈ سروسز پہنچانے کا کام) کے لیے الگ الگ کمپنیوں سے الگ الگ معاہدہ کیا تھا۔ یہ اسٹوری ہمارے پاس دستیاب دستایزات (جس میں بی ایس این ایل کے سینئر افسران کی جانب سے لکھے گئے خط، مہاراشٹر کے دو ممبران پارلیمنٹ کے ذریعہ وزیر مواصلات/سکریٹری کو لکھے گئے خط، بی ایس این ایل کے ذریعہ فرنچائزی کمپنیوں کے ساتھ کیے گئے معاہدہ کی کاپی شامل ہے) کی بنیاد پر لکھی گئی ہے۔
اہم دستاویزات اور حقائق
1    آن موبائل اور بی ایس این ایل کے بیچ 8نومبر 2004 کو ہوئے ایگریمنٹ کی کاپی(نمبر 200-38/2004این ایس)۔ اس کے مارکیٹنگ کلاز، پوائنٹ نمبر 13 میں لکھا ہے کہ بی ایس این ایل اور آن موبائل مل کر وی اے ایس سروسز کی مارکیٹنگ، پرموشن، ایڈورٹائزنگ کا کام کریںگے۔ جب کہ دیگر فرنچائزی کو یہ سہولت نہیں ملی۔ ظاہر ہے ایسے میں اس معاہدہ اور بی ایس این ایل کی منشا پر سوال اٹھنا لازمی ہے۔(ایگریمنٹ کی کاپی ’’چوتھی دنیا‘‘ کے پاس ہے)
2    5 فروری 2008 کو آن موبائل اور بی ایس این ایل کے درمیان ہوئے ایگریمنٹ کی کاپی۔ اس میں 2سال کے لیے ایگریمنٹ کیا گیا ہے۔  2008 میں ہی دیگر فرنچائزی اور بی ایس این ایل کے درمیان ہوا معاہدہ صرف ایک سال کے لیے کیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ بی ایس این ایل نے دوہرا معیار کیوں اپنایا؟ (ایگریمنٹ کی کاپی ’’چوتھی دنیا‘‘ کے پاس ہے)
3      8 جنوری 2008 کو ایک دیگر فرنچائزی کمپنی کے ساتھ بی ایس این ایل کا ایگریمنٹ۔ اس کمپنی کے ساتھ ایک سال کے لیے ایگریمنٹ کیا گیا تھا۔ (ایگریمنٹ کی کاپی ’’چوتھی دنیا‘‘ کے پاس ہے)
4     لیٹر نمبر 200-17/2006 این ایس، بتاریخ22 مئی 2008 کو بی ایس این ایل ڈی ڈی جی (وی اے ایس) کا لکھا خط، جس میں سی بی ایس ای ریزلٹ صرف آن موبائل کمپنی کے شارٹ کوڈ 12555 کے ذریعہ جاری کرنے کے سلسلہ میں کئی ٹیلی کام سرکلوں کے سی جی ایم کو مطلع کیا گیا۔ آخر دیگر فرنچائزی کو یہ سہولت کیوں نہیں دی گئی؟(خط کی کاپی ’’چوتھی دنیا‘‘ کے پاس ہے)
5     لیٹر نمبر 200-38/2004 این ایس (والیوم-2)، بتاریخ 6 فروری 2007 کو بی ایس این ایل کے اے ڈی جی (نیو سروسز) کے ذریعہ بی ایس این ایل کے تمام سرکلوں کے سی جی ایم کو لکھاگیا خط۔ اس میں شارٹ کوڈ 12555 کے پرموشن/ ایڈورٹائزنگ کے لیے کہا گیا ہے۔ دیگر فرنچائزی کمپنیوں کے لیے یہ خط کیوں نہیں لکھا گیا؟ (خط کی کاپی’’چوتھی دنیا‘‘ کے پاس ہے)
6     مہاراشٹر(بھنڈارا) سے لوک سبھا کے ممبر ششوپال پٹیل کے ذریعہ اس  وقت کے وزیر اے راجہ کو لکھا گیا خط، جس میں وی اے ایس محکمہ میں بے ضابطگی کی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے وزارت کو ساری معلومات دستیاب کرائی گئی ہیں اور جس پر مدھیہ پردیش کے ساگر علاقہ سے ممبر پارلیمنٹ ویریندر کمار کے بھی دستخط ہیں۔ لیکن خط لکھے جانے کے بعد بھی نہ تو جانچ ہوئی اور نہ کوئی کارروائی ہوئی۔ آخر کیوں؟ (خط کی کاپی ’’چوتھی دنیا‘‘ کے پاس ہے)
7     شیوسینا کے لوک سبھا ممبر پرکاش جادھو کے ذریعہ 4 جولائی 2008 کو لکھے گئے دو خط، جن میں انہوں نے وزارت مواصلات کے سکریٹری کو بی ایس این ایل اور فرنچائزی کمپنیوں کے درمیان ہوئے ایگریمنٹ اور دیگر بے ضابطگیوں کے بارے میں مطلع کیا تھا۔ وزارت کے سکریٹری نے خط ملنے کے بعد آخر کوئی کارروائی کرنے کی ضرورت کیوںنہیں سمجھی، جانچ کیوں نہیں ہوئی؟ (خط کی کاپی ’’چوتھی دنیا‘‘ کے پاس ہے)
8     بی ایس این ایل اور فرنچائزی کمپنیوں کے بیچ ہوئے ایگریمنٹ سے متعلق کئی خطوط، جن میں کئی سطح پر بی ایس این ایل کے ذریعہ ایگریمنٹ کرتے وقت بھید بھاؤ کیے جانے کی بات واضح ہوتی ہے۔ (خط کی کاپی ’’چوتھی دنیا‘‘ کے پاس ہے)
9     ریلوے ٹکٹ، بی ایس این ایل کے فون بل، اخباروں کی کٹنگ اور بجلی کے بل کی کاپی، جس میں بی ایس این ایل نے ایک خاص شارٹ کوڈ کی تشہیر کی ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *