بہار پنچایتی انتخابات: بدعنوانی کا مرکز

ششی شیکھر
بہار  میں پنچایتی انتخابات آخری مرحلہ میں پہنچ چکے ہیں۔ تقریباً ڈھائی لاکھ سے زیادہ عوامی نمائندوں جن میں 8 ہزار سے زیادہ مکھیا کے عہدے ہیں، کے انتخابات کے لیے ووٹر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ انہیں نمائندوں اور خاص طور سے مکھیا پر گاؤں کی ترقی کی ذمہ داری ہوتی ہے، لیکن جس پنچایتی راج ادارہ کے ذریعہ گاندھی جی نے رام راج کا خواب دیکھا تھا، وہ بکھر چکا ہے۔ کم سے کم بہار کے پنچایتی راج اداروں کی حالت تو ایسی ہی ہے۔ ’’چوتھی دنیا‘‘ نے پنچایتی انتخابات شروع ہونے سے قبل بہار کے کچھ علاقوں میں گرام پنچایتوں کا دورہ کیا، لوگوں سے بات چیت کی۔ اس بات چیت کے دوران لوٹ مار کے کچھ ایسے حیرت انگیز طریقوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی کہ عموماً اس کے بارے میں دہلی-ممبئی میں بیٹھے لوگ سوچ بھی نہیں سکتے۔ مکھیا کے ذریعہ پیسہ کمانے کے یہ عجیب و غریب ہتھکنڈے دراصل پنچایتی راج نظام کا مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً گیا ضلع کے ٹکاری بلاک کی ایک پنچایت کے لوگ بتاتے ہیں کہ اندرا آواس یوجنا کے تحت مستفید ہونے والوں کے سلیکشن کے بعد ان کا بینک میں کھاتا کھلتا ہے، جس میں ان کے حصے کا پیسہ قسطوں میں آتا ہے۔ یہاں تک تو سب ٹھیک ٹھاک چلتا ہے، لیکن جب ایک غریب آدمی اپنے حصے کا پیسہ لینے بینک پہنچتا ہے تو بینک افسر یہ کہہ کر اسے پیسہ نہیں دیتے کہ جب تک مکھیا جی نہیں آئیںگے، تب تک پیسہ نہیں مل سکتا۔ اس کے بعد باقاعدہ مکھیا جی آتے ہیں اور ان کے حکم کے بعد پہلی قسط اس غریب آدمی کو ملتی ہے۔ بینک سے باہر نکلنے پر مکھیا جی اپنے چیلوں کے ساتھ تیار ملتے ہیں۔ اس آدمی کو ملے پیسوں میں سے ایک بڑا حصہ مکھیا جی لے لیتے ہیں۔ کبھی پیار سے کبھی زبردستی۔ اس سے بھی کام نہیں بنا تو راستے میں ہی اس آدمی سے پیسہ چھین لیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس طرح کی لوٹ بلاک سے لے کر ضلع سطح تک کے افسران کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتی۔
بہار پہلا صوبہ ہے، جس نے خواتین کو پنچایتی راج ادارہ میں 50 فیصد ریزرویشن دیا، لیکن اس نظام کا بھی جم کر غلط استعمال کیا جارہا ہے۔ ریزرویشن دئے جانے کے بعد سے بہار میں ایک نیا لفظ مشہور ہوا ہے، ’’ایم پی‘‘ یعنی ’’مکھیا پتی‘‘۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس پنچایت میں خاتون ریزرویشن ہے، وہاں کی مکھیا تو کوئی خاتون ہی ہوگی، لیکن صرف دکھاوے کے لیے اور  دستخط کرنے کے لیے۔ دراصل سارا کام اس مکھیا کا شوہر ہی کرتا ہے۔ باقاعدہ انتخابی تشہیر میں مکھیا امیدوار کے ساتھ ساتھ مکھیا کے شوہر کی بھی تصویر چھپتی ہے۔ ذات کی بنیاد پر ملے ریزرویشن کی وجہ سے بھی گاؤں میں ذات پات کی گروپ بندی بھی ابھر کر سامنے آئی ہے۔ گزشتہ 10 سالوں میں مقامی سیاست میں برتری قائم کرنے کے نام پر کافی خون خرابہ بھی ہواہے۔
گرام سبھا ایک آئینی ادارہ ہے، جس کی بنیاد پر گاندھی جی کے سوراج کا خواب پورا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ سوچ یہ تھی کہ گرام سبھا عوام کو نظام سے زیادہ مضبوط بنائے گی۔ پنچایتی راج میں عوام جو چاہیںگے وہی ہوگا، پنچ کا فیصلہ پرمیشور کا فیصلہ ہوگا۔ پنچایت کا ہر فیصلہ گرام سبھا کی میٹنگ میں ہی لینا ہوتا ہے، لیکن شاید ہی بہار کی کوئی ایسی پنچایت ہوگی، جہاں باقاعدہ اور شفاف طریقے سے گرام سبھا کی میٹنگ ہوتی ہو۔ مکھیا گرام سبھا کی کھلی میٹنگ نہ کرانے کے لیے طرح طرح کی کوششیں کرتا ہے۔ مظفر پور کی ایک پنچایت میں لوگوں نے بتایا کہ ایک بار مکھیا نے گاؤں والوں کو یہ کہہ کر پنچایت بھون میں بلایا کہ صحت سے متعلق ایک اسکیم کے لیے تمام لوگوں کی تصویر لی جائے گی۔ گاؤں کے لوگ وہاں پہنچے۔ تصویر بھی لی گئی۔ اس کے بعد تمام لوگوں سے ایک رجسٹر پر دستخط کرنے کے لیے کہا گیا۔ لوگوں نے دستخط بھی کر دئے۔ اسی دوران ایک بزرگ، جو سابق مکھیا تھے، اچانک رجسٹر کو غور سے دیکھنے لگے۔ اس رجسٹر میں گرام سبھا کی کارروائی درج کی گئی تھی اور گاؤں کے لوگوں یعنی گرام سبھا کے ممبران سے اتفاق رائے کے طور پر دستخط کرائے جارہے تھے۔ تب جا کر اس دھوکہ دہی کے معاملے کا انکشاف ہوا۔
اب سوال یہ ہے کہ ایسے نظام کا فائدہ عام آدمی تک کیسے پہنچے گا؟ نظم حکومت کرسی پر بیٹھتا ہے اور عوام زمین پر، نظام قانون بناتا ہے اور عوام اس پر عمل کرتے ہیں۔ آخر کیوں بہار حکومت کے مکھیا نتیش کمار ایسے سوالات اور پنچایتی راج ادارہ کی حقیقت سے آنکھ چرانا چاہتے ہیں؟ 50 فیصد ریزرویشن کے مسئلے پر تو خود وہ اپنی پیٹھ تھپتھپا رہے ہیں، لیکن پنچایتی راج ادارہ میں ہورہی بدعنوانی پر ان کا ڈنڈا کیوں نہیں چلتا؟ کیوں گرام سبھا اپنے حقیقی انداز میں فیصلہ نہیں لیتی؟ حکومت کیوں نہیں ایسے قوانین وضع کرتی جو پنچایتی سطح پر عوامی نمائندہ کو مجبور کرے کہ وہ گرام سبھا کے فیصلے کے مطابق چلنا شروع کرے؟ نتیش کمار کہہ چکے ہیں کہ مرکز ہم پر اپنی اسکیمیں نہ تھوپے، لیکن کیا یہی سوال گاؤں کی جانب سے ریاست کے لیے نہیں اٹھتے؟ آج حکومت میں حصہ داری کے نام پر عوام کے پاس کیا ہے، سوائے 5 سال میں ایک بار ووٹ دے کر اپنا نمائندہ منتخب کرنے کے۔ دراصل سیاسی پارٹیاں عوام کو اختیارات دینے سے ڈر رہی ہیں، کیوںکہ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ ایسا کرنے سے ممبران اسمبلی اور ممبران پارلیمنٹ کی اہمیت ختم ہوجائے گی۔ یہی سوچ سارے مسائل کی جڑ ہے۔ ایسے میں ملک کے پالیسی سازوں کو پھر سے اپنی ہی بنائی ہوئی اسکیموں اور پالیسیوں پر نظر ثانی کرنی ہوگی۔ یہ سوچنا ہوگا کہ کیا حقیقت میں جس پنچایتی راج ادارہ کو انہوں نے کھڑا کیا، وہ گاندھی جی کے رام راج، سوراج یا کہیں کہ عوامی راج قائم کرپائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *