!انا کو وجے ہزارے کی طرح کھیلنا ہوگا

میگھناد دیسائی
جس  ہزارے کو میں نے سب سے پہلے عزت دینا شروع کی تھی، وہ انا نہیں، وجے سیمیو ال ہزارے تھے۔ وہ رن جی ٹرافی میں بڑودہ کی جانب سے کھیلتے تھے۔ بعد ازیں 1950کی شروعات میں ہندوستان کے لئے بھی کھیلے۔ وہ چوتھے نمبر پر بیٹنگ کے لئے مشہورتھے اور اپنی پوری طاقت لگا دیتے تھے۔تب ہندوستان کو کرکٹ میچ میں مسلسل شکست کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جبکہ ہزارے ہمیشہ یہی کوشش کرتے تھے کہ کم سے کم میچ کو ہارنے کے بجائے ڈرا کر دیا جائے۔بہر حال، آج کی صورتحال کو دیکھ کر ان دنوں کی یادیں اب اوجھل ہوتی جا رہی ہیں۔اب سچن مسلسل کھیل رہے ہیں، رنوں کی بارش کر رہے ہیں اور دھونی اپنی پوری طاقت لگا کر ٹیم کو جیت دلوا دیتے ہیں۔ ورلڈ کپ میں ہندوستان کی جیت کی فوراً بعد میرے ذہن میںشدت سے 1950کی دہائی کی یادیں تازہ ہونے لگیں۔موہالی کے میچ کو لے کر میری سوچ یہی تھی کہ یہاں دو ٹیمیں (ہندوستان اور پاکستان) اس میچ کو ہارنے کے لئے مقابلہ کر رہی تھیں۔ یہ میچ کچھ ایسا ہی تھا، جیسا کہ لوک سبھا کی کارروائی کے دوران یو پی اے اور این ڈی اے کے درمیان ہوتا ہے۔ وزیر اعظم کی بیٹنگ کچھ اسی طرح کی ہوتی ہے، جیسے موہالی میں سچن پاکستان کے خلاف کر رہے تھے اور اپوزیشن بار بار کیچ چھوڑتا  نظر آتا ہے۔
انا ہزارے کی ٹیم کا رویہ بھی کچھ ایسا ہی ہے، جیسا موہالی میں پاکستانی ٹیم کا تھا۔ 9اپریل کی شروعاتی جیت کے بعد ان لوگوں نے کئی غلط قدم اٹھا لئے۔ پہلی غلطی تو یہی تھی کہ ان لوگوں نے لوک پال بل کو پاس کرانے کے لئے ایک ڈیڈ لائن(15اگست) طے کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ آخر کار ڈیڈ لائن طے کرنے کی علامتی اہمیت کیا ہے، جبکہ ہمیں ایک بہت ہی پیچیدہ بل پاس کرانا ہے۔ بل کو لے کر پوری ہوشیاری برتنی ہے، گہرائی سے غور خوض، صلاح و مشورہ کرنا ہے۔ ایسے میں عجلت کا مظاہرہ کرنا برخلاف ثابت ہو سکتا ہے۔مجھے یاد ہے، شمالی آئرلینڈ کے اوماگھ میں ہوئی بمباری میں کافی تعداد میں بے قصور لوگوں کی موتیں ہو ئیں تھیں۔نتیجتاً غصہ میں آکر برطانوی حکومت نے پارلیمنٹ کی میٹنگ بلائی( اس وقت پارلیمنٹ میں تعطیل چل رہی تھی) ۔ آناً فاناً میں ایک دن کے اندر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں نے دہشت گردی کے خلاف ایک بل پاس کر دیا، تاکہ قاتلوں کو سزا دی جا سکے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ بل اتنی جلد بازی میں تیار کیا گیا تھا کہ اس کے تحت کسی پر مقدمہ نہیں لگایا جا سکتا تھا۔
عوام کے دل ودماغ میں سیاستدانوں کے تئیں شک و شبہات ہیں، لیکن بل پاس کرانے کے لئے بہتر ہوتا کہ ممبران پارلیمنٹ سے کہا جاتا کہ وہ سنجیدگی سے یہ کام کریں اور جلد بازی نہ کریں۔ اگر جلد بازی میں بل بنایا گیا اور یہ ثابت ہو گیا کہ بل لاپروائی سے بنایا گیا ہے تو سپریم کورٹ اسے خارج کر سکتا ہے۔ ایسی صورت میں عجلت بیکارثابت ہو گی۔ ہزارے کی ٹیم کو اپنے دونوں وکیلوں پر بھروسہ کرنا چاہئے اور وزارت میں جانے سے پہلے ایک اچھا مسودہ تیار کرنے کے لئے ان پر زور دینا چاہئے۔ چنانچہ لوک سبھا اور اسٹینڈنگ کمیٹی کو اس پر بحث کرنے دیں۔ پھر راجیہ سبھا کو اس پر بحث کرنے دیں۔ ہزارے کی ٹیم کو پورے عمل پر نگرانی رکھنی چاہئے اور اس بات پر زور دینا چاہئے کہ یہ پور ا عمل صاف و شفاف بنایا جائے۔ہزارے کی ٹیم کو اس پورے عمل کی رفتار تیز کرنے پر زور نہیں دینا چاہئے۔
بی جے پی اور این ڈی اے اس پورے معاملہ میں خود کو دودھ کا دھلا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اس بل پر جلد بازی کا وعدہ کر کے یہ لوگ غلطی کر رہے ہیں۔ ظاہرہے جمہوریت میں اپوزیشن سے ایسی توقعات نہیں ہوتیں۔ بی جے پی کو اس بل کا احتیاط کے ساتھ مطالعہ کرنا چاہئے، کیونکہ وہ اس بل کو تیار کرنے والی ٹیم میں شامل نہیں ہیں۔ دیگر پارٹیوں کو بھی اس پر پینی نظر رکھنی چاہئے۔ ہزارے کی ٹیم پر جانبداری کے بھی الزام عائد ہو رہے ہیں۔
جس کسی نے بھی بابا رام دیو کو جنتر منتر پر انا کی بھوک ہڑتال کے دوران اسٹیج سے بولتے دیکھا اور سنا، اس سے سیدھا پیغام یہی ملا کہ بابا کا ایجنڈا وہ نہیں تھا، جو سول سوسائٹی کا تھا۔ جوائنٹ ڈرافٹنگ کمیٹی کے ممبران میں پرشانت بھوشن اور شانتی بھوشن کو لے کر انھوں نے جو سوال اٹھائے ،وخالص طور پر سیاسی تھے۔انا کے ذریعہ مودی اور نتیش کی تعریف نے بھی بے وجہ کا بکھیڑا کھڑا دیا ۔ کسی بھی آدمی کو سند دئے جانے کی ضرورت نہیں تھی۔ کوئی بدعنوان نہیں ہے، اسے معمولی سی بات ماننے کی ضرورت ہے۔ جو بدعنوان نہیں ہیں، ان کی تعریف سے زیادہ ضروری ہے کہ بدعنوان لوگوں کو سزا ملے، جوکافی مشکل ترین کام ہے۔ مقبول تحریک کی کہانی یہی رہی ہے کہ علامتی جیت کے بعد یہ کئی گروپوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔میں نے 1960کی طلبا بغاوت اور جنگ مخالف تحریک میں بھی یہ سب ہوتے دیکھا ہے۔ ایک مقبول تحریک کو بنا منظم ڈھانچے کے طویل عرصہ تک چلائے رکھنا کافی مشکل کام ہے۔یہی وجہ ہے کہ سول سوسائٹی حکومت کے خلاف اپنے محاذ پر ہارتی جاتی ہے۔ لوگوں کو اپنا کام کرتے رہنا چاہئے، صرف جیتنے کے لئے نہیں، بلکہ ہار سے بچنے کے لئے بھی۔ انا کو وجے ہزارے کی طرح کھیلنا چاہئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *