نوجوانوں کو سڑک پر اترنا ہوگا

سنتوش بھارتیہ
تیئس مارچ 1931 کی صبح 7 بجے لاہور جیل میں بھگت سنگھ، راج گرو اور سکھ دیو کو پھانسی دے دی گئی۔ یہ جانباز جنگ آزادی کے عظیم ہیرو تھے۔ ان کی آنکھوں میں آزاد ہندوستان کا خواب تھا۔ ایک ایسا ہندوستان جو دنیا بھر میں جمہوریت کی ایک مثال بنے گا۔ عوام کی قیادت کرنے والے لیڈر سچے اور ایماندار ہوںگے۔ 80 سال کے بعد یعنی 23 مارچ 2011 کو آزاد ہندوستان کی پارلیمنٹ میں اس موضوع پر بحث ہو رہی تھی کہ حکومت کو بچانے کے لیے ممبران پارلیمنٹ کی خریدو فروخت ہوئی یا نہیں۔ ممبران پارلیمنٹ کو پیسہ کس نے دیا؟ اسٹنگ آپریشن کس نے کیا؟ پارلیمنٹ کی یہ بحث ہمیں بتاتی ہے کہ ہم کس حد تک گر چکے ہیں۔
بی جے پی کے ذریعہ لوک سبھا میں خصوصی مراعات شکنی تجویز سے کیا حاصل ہوا؟ وزیراعظم منموہن سنگھ نے وہی کہا جو پہلے سے کہتے آرہے تھے کہ نہ تو حکومت اور نہ ہی کانگریس کی جانب سے 2008 میں اعتماد کی تجویز کے دوران ممبران پارلیمنٹ کے ووٹ خریدے گئے۔ پارلیمنٹ میں نوٹ فار ووٹ کا معاملہ پھر سے اس لیے گرم ہوا، کیوں کہ وکی لیکس نے امریکی ہائی کمیشن کے ایک پیغام کو عام کر دیا۔ پارلیمنٹ میں نیوکلیئر ڈیل کو لے کر تنازعہ چل رہا تھا۔ امریکی حکومت متفکر تھی کہ ڈیل کا کیا ہوگا۔ اس پیغام سے پتہ چلا کہ کانگریس کے ایک لیڈر نے امریکی ہائی کمیشن کو نوٹوں سے بھرا بیگ دکھایا تھا اور یہ کہا کہ ان پیسوں سے ہم ممبران پارلیمنٹ کی حمایت لینے جارہے ہیں، حکومت نہیں گرے گی۔ وکی لیکس کے مستند ہونے پر سوال اٹھانا غلط ہوگا، کیوں کہ یہ معلومات انٹرنیٹ کے ذریعہ بھیجے جارہے پیغاموں کو ہیک کر کے عام کی گئی ہیں۔ دنیا کے کسی بھی لیڈر یا ملک نے اس کی معتبریت پر سوال نہیں اٹھایا ہے۔
کیا پارلیمنٹ صرف دلیل دے کر بحث جیتنے کا اڈہ بن گئی ہے؟ کیا پارلیمنٹ میں ٹیکنیکل اور لیگل پوائنٹس پر بحث ہوگی؟ یا پھر ملک کے مستقبل کے خطرے اور تشویش پر غور ہوگا۔ کس نے اسٹنگ کیا، کون ماسٹر مائنڈ ہے،بی جے پی نے کیا کیا، کانگریس پارٹی نے کیا کیا، امر سنگھ کا کردار کیا رہا، وغیرہ ساری باتیں اہم نہیں ہیں؟ ملک کی سیاست کو جو بھی سمجھتے ہیں، وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہندوستان میں ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ وقت کے مطابق اس کے ریٹ بھی طے ہوتے ہیں۔ نرسمہا راؤ کی حکومت کے دوران بھی پیسے دے کر ممبران پارلیمنٹ کے ووٹ خریدے گئے تھے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے اور ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ ممبران پارلیمنٹ کی خرید و فروخت کا یہ آخری واقعہ بھی نہیں ہے۔ یہی سب سے گمبھیر اور خطرناک ایشو ہے۔ کیا ہمارے ممبران پارلیمنٹ کی حمایت خریدنے اور بیچنے کی چیز بن گئی ہے؟
ایک کہاوت ہے، چوبے گئے چھبے بننے، بن کے آئے دوبے۔ بی جے پی کے ساتھ یہی ہوا ہے۔ بحث کے دوران کانگریس پارٹی نے یہ کہہ کر چونکا دیا کہ پورا اسٹنگ آپریشن بی جے پی کے سینئر لیڈروں کے اشارے پر کیا گیا۔ اس الزام کا بی جے پی نے جو جواب دیا، وہ لوگوں کو یقین نہیں دلا سکا۔ ٹی وی چینلوں پر پارٹی کے لیڈر کمزور دلیل دیتے نظر آئے۔ ایک طرح سے کہیں تو بی جے پی نوٹ پر ووٹ کے معاملے میں خود ہی پھنس گئی۔ پارلیمنٹ کے اندر کپل سبل اور چدمبرم نے جہاں اپوزیشن کی دلیلوں کا سخت جواب دیا، وہیں وزیراعظم نے بی جے پی کی بولتی بند کردی۔ لال کرشن اڈوانی کو لگتا ہے کہ وزیراعظم بننے کا پیدائشی حق انہیں کا ہے، ایسا کہہ کر وزیراعظم نے اپوزیشن کا مذاق بنادیا۔ وزیراعظم پر سیدھا حملہ کرنا بی جے پی کے لیے ایک مرتبہ پھر مہنگا پڑا۔ ویسے سشماسوراج اور ارون جیٹلی نے تیکھے سوالات اور الزامات کی جھڑی لگانے میں کوئی کمی نہیں کی تھی۔ پارلیمنٹ میں بحث تو دلچسپ ہوئی، لیکن ایشو شرمسار کرنے والا تھا۔
اس کہانی کا ایک پہلو یہ ہے کہ دونوں ہی طرف سے ممبران پارلیمنٹ نے اپنی اپنی پارٹی کی ہدایات کے خلاف جا کر ووٹ کیے۔ کل 51 ممبران پارلیمنٹ ایسے تھے، جنہوں نے پارٹی کے وہپ کو نہیں تسلیم کیا۔ ایسا کیوں ہوا؟ کیا یہ ہمارے پارلیمانی سسٹم کے لیے فکر کا موضوع نہیں ہے؟ اگر بحث ہی کرنی تھی تو اس موضوع پر بحث ہوتی کہ ایسے ممبران پارلیمنٹ کے ساتھ کیا کیا جائے؟ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے شیبو سورین نے کیا کیا؟ سیاست میں یہ اخلاقی زوال کا ثبوت ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اس پر غور و فکر ہونا چاہیے تھا۔ پارٹی کی اعلیٰ کمانوں اور پارٹی کے مفاد سے وابستہ ہمارے امیدواروں کا قد بونا ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ صرف نجی یا پارٹی کے مفاد کے لیے کام کرتے ہیں۔ نظر اٹھا کر دیکھیے تو پتہ چلتا ہے کہ ملک کے بدحال عوام کا پرسان حال کوئی لیڈر یا پارٹی موجود ہی نہیں ہے۔ اس معاملے میں میڈیا کو بھی اپنے کردارپر غور کرنا ہوگا۔ میڈیا کا کام سیاسی لیڈروں پر نظر رکھنا ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں نے سیاست دانوں سے اتنا زیادہ میل جول بڑھا لیا ہے کہ صحافی بھی ان جیسے ہو گئے ہیں۔ صحافیوں نے سیاسی پارٹیوں اور سیاسی لیڈروں کے ترجمان بننے کا کام شروع کردیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیاسی لیڈر بے لگام ہو گئے ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اس انگریزی چینل نے اسٹنگ آپریشن کا وہ ٹیپ عوام سے کیوں چھپا کر رکھا۔ کسی میگزین نے بحث کے دن اس پورے معاملے کو ٹوسٹ کرنے کی کیوں کوشش کی؟
جب بھگت سنگھ کو پھانسی دی گئی، تب وہ 23 سال کے تھے۔ راج گرو کی عمر 22 سال تھی، سکھ دیو 24 اور اشفاق اللہ 27 سال کے تھے۔ وہ نوجوان تھے۔ ان کی آنکھوں میں آزاد ہندوستان کا خواب تھا۔ وہ ملک کے لیے غور و فکر کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہنستے ہنستے وہ سولی پر چڑھ گئے۔ آج کے نوجوان شاید افیون کھا کر سو رہے ہیں۔ کہاں ہیں ملک کی نوجوان تنظیم اور طلبا تنظیم؟ چاہے وہ ودیارتھی پریشد ہو، این ایس یو آئی ہو یا پھر ایس ایف آئی۔ ان تنظیموں کو اپنی اپنی پارٹیوں سے الگ اپنا ایجنڈا طے کرنا ہوگا۔ بہتر مستقبل کے لیے سڑکوں پر اترنا ہوگا۔ جب تک یہ طلبا اور نوجوانوں کی تنظیم اپنے سیاسی آقاؤں کی ہدایات پر عمل کرتے رہیںگے، تب تک یہ ملک کی مین اسٹریم میں کوئی کامیاب اشتراک نہیں کر پائیںگے۔ سیاسی پارٹیوں نے اپنی ساکھ کھو دی ہے۔ عوام کا بھروسہ اتنا کمزور ہوچکا ہے کہ جو ان پارٹیوں کی حمایت میں بات کرتا ہے، وہ بھی نظروں سے گر جاتا ہے۔ ہندوستان کا مستقبل آج کے نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے۔ اچھا ہوتا کہ جس دن پارلیمنٹ میں ممبران پارلیمنٹ کی خرید و فروخت کی بحث ہورہی تھی، اس دن ہمارے نوجوان کالی پٹی باندھ کر پورے ملک میں گھومتے، تحریک چلاتے۔ مہابھارت کی لڑائی سے ہمیں سبق لینا چاہیے۔ مہابھارت کی لڑائی کی اہم وجہ دھرت راشٹر کا موہ اور غیراخلاقی قیادت تھی۔ مہابھارت کی لڑائی میں کورؤوں اور پانڈؤوں کے ونش تو ختم ہوئے ہی، ساتھ ہی ہستناپور کا بھی زوال ہوگیا۔ کرن، بھیشم، دروناچاریہ جیسیعالم اور ایماندار لوگ بھی خاموش تماشائی بن کر غیرمذہب کا ساتھ دیتے رہے۔ یہی وجہ ہے کہ مہابھارت سے ہوئی تباہی کے لیے بھیشم، دروناچاریہ اور کرپاچاریہ کو بھی ذمہ دار مانا جاتا ہے۔ ملک کی حالت ایسی ہی بنتی جارہی ہے۔ عاملہ اور مقننہسے عوام کی امید ختم ہو گئی ہے۔ آخری امید صرف عدلیہ سے بچی ہے۔ نوجوانوں کو سمجھنا ہوگا کہ اگر وہ خاموش بیٹھے رہے تو ملک کی تباہی و بربادی میں ان کی شراکت بھی تاریخ میں درج ہوگی۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *