تم کو بھلا نہ پائیں گے

سلمان علی
بالی ووڈ کی یہ ریت رہی ہے کہ اس میں ہر سال کئی نئے و پرکشش چہرے داخل ہوتےہیں، کچھ کامیابی کی منزلیں طے کرکے آسمان پر مانند روشن ستارہ چمکتے ہیں توکچھ گمنامی کی تاریک وادیوں میںکہیں گم ہو جاتے ہیںنیز جہاں ہر سال کئی نئے چہرے بالی ووڈ کی چمک میں اضافہ کرتے ہیں وہیں ہر سال کئی معروف و شناساچہرے اس دنیا کوخیر باد بھی کہتے ہیں۔ آج ہم ایک ایسے ہی اداکار کی موت پر غم کا اظہار کر رہے ہیں جس نے اپنے منفرد انداز بیان کے سبب لوگوں کے دلوں میں ایک خاص جگہ بنائی اور جو ہمیشہ لوگوں کے دلوں دھڑکتا رہے گا۔ جی ہاںہم بات کر رہے ہیںایک ایسے ویلن کی جس نے ویلنزکی دنیا میں اپنا ایک منفرد مقام بنایا۔یوں تو اس اداکار کو اتنی شہرت نصیب نہیں ہوئی جس کا وہ حقدار تھا، شاید اردو وہندی کی کمزوری نے اس کے مقدر کو چمکنے نہیں دیا۔تاہم یہ بات بھی ہے کہ ناظرین نے اسے ٹوٹی پھوٹی لیکن دلچسپ ہندی بولنے کے انداز کی وجہ سے ہی اپنے دلوں میں جگہ دی۔ بیشتر ناظرین اس اداکار کے نام سے واقفیت نہیں رکھتے ہوں گے لیکن اگر آپ 1987کی فلم مسٹر انڈیا میں مسٹر والکٹ کا ’’ ساری بجرنگ بلی‘‘ کا ڈائیلاگ یاد کریں گے تو یکایک آپ کے ذہن میں اس اداکار کی تصویر ابھر آئے گی ۔جی ہاں! ہم بات کر رہے ہیں باب کرسٹو کی۔ہندی فلم انڈسٹری میں 80اور 90کی دہائی کے فرنگی ویلن رابرٹ کرسٹو اب ہمارے درمیان نہیں رہے۔باب کرسٹو72سال کے تھے۔ باب کرسٹو کا اصلی نام رابرٹ جان کرسٹو تھا جو ہندی سنیما میں باب کرسٹو کے نام سے مشہور ہوئے۔باب کرسٹو دراصل آسٹریلیائی شہری اورساتھ ساتھ ہی ایک کوالیفائڈسول انجینئر بھی تھے۔ رابرٹ کرسٹوں کی پیدائش 1938میں آسٹریلیا میں ہوئی اور انھوں نے وہیں سول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ بعد ازیں وہ گزرے زمانہ کی مشہور اداکارہ پروین بابی سے ملنے کی چاہت لئے ممبئی آئے اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ انگریزی نسل کے ہونے کے سبب انہیں انگریزی کردار وں کے لئے خوب پسند کیا جاتا تھا۔انگریزی کرداروں کے لئے اگر کسی کا نام آتا تھا تو سب سے پہلے روبرٹ کرسٹوکا ہی نام زبان پرآتا تھا۔دراصل ان کو 1980میں آئی فلم ’’ عبد اللہ‘‘ میں بطور ویلن اداکاری کرنے کا موقع ملا جس میں بطور مجیشین انھوں نے کام کیا۔ اس فلم میں ناظرین نے انہیں خوب پسند کیا، خاص کر ان کی ٹوٹی پھوٹی ہندی بولنے کی ادا ناظرین کوبے حد پسند آئی۔اپنی فلم کی کامیابی کے بعد انھوں نے یہیں رہنے کا فیصلہ کر لیا۔200سے زائد فلموں کے اس کھلنائک نے اپنے فن اورٹوٹی پھوٹی ہندی بولنے کے سبب پورے ہندوستان میں اپنی منفرد شناخت قائم کی ۔’’ مسٹر انڈیا‘‘ اور’’ ڈان‘‘ جیسی فلموں میں ان کے کردار آج بھی ناظرین کے دل و دماغ میں رچے بسے ہیں۔طویل وقت سے باب کرسٹو فلموں سے علیحدگی اختیار کئے ہوئے تھے اور بنگلور میں لوگوں کو یوگا کی ٹریننگ دے رہے تھے اوراس طرح پرسکون زندگی گزار رہے تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اکشے کمار کی ایک فلم سے پردۂ سیمیں پر واپسی کرنے جا رہے تھے لیکن زندگی نے ان کا ساتھ نہیںدیا اور اس طرح یہ اداکار ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گیا۔  ’’فلیش بیک مائی ٹائمس ان بالی ووڈ ان بیانڈ‘‘ اکشے کمار لانچ کرنے والے تھے لیکن 20مارچ 2011کو حرکت قلب بند ہو جانے سے ان کا انتقال ہو گیا۔ لمبے چوڑے قد اور جسم کی وجہ سے انہیں ماڈلنگ کے لئے بھی کئی آفر ملے ۔باب کرسٹو نے کناڈا، تمل، ملیالم اور تیلگو زبانوںکی کئی فلموں میں بطور ویلن اداکاری کی اور ہندوستان بھر میں اپنی ایک منفرد پہچان بنائی۔اس کے بعد 1980میں فیروز خان کی اداکاری اور ہدایتکاری میں بنی فلم ’’قربانی ‘‘ میں انھوں نے مختصر کردار ادا کیا۔یاد رہے کہ یہ فلم اس وقت کی بہترین ہٹ فلم تھی۔ اس کے بعد ٹینو آنند کے ڈائریکشن میں بننے والی فلم ’’کالیا ‘‘ میں کام کیا۔باب کرسٹو نے 1986کی کیتن دیسائی کی فلم ’’اللہ رکھا‘‘ میں ڈان کا کردارادا کر کے اپنی اداکاری کے جلوے بکھیرے تھے اور ناظرین نے انہیں خوب سراہا تھا۔فلموں میں ان کا رول بہت مختصر ہوتا تھا لیکن وہ اپنے اسی مختصر رول سے پوری فلم میں اپنی چھاپ چھوڑ جاتے تھے۔آخر ی بار یہ ویلن اپنے مداحوں کو 2003میں بنی کیدار کشمیری کی فلم ’’امن کے فرشتے‘‘ میںنظر آیا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *