!مغربی ایشیا اور امریکی مفادات

سنتوش بھارتیہ
ہم  لوگ یا ہندوستان کے لوگ بھول گئے ہیں کہ مغربی ایشیا میں، لیبیا میں لڑائی چل رہی ہے۔یمن میں عوام سڑکوں پر ہیں۔شام میں لوگ بشارالاسد کی مخالفت کر رہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ جہاں سے یہ کہانی شروع ہوئی تھی یعنی مصر، وہاں بھی تحریر چوک پر لوگ ڈٹے ہوئے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ فوج کو اقتدار چھوڑنا چاہئے اور انتخابات کرانے چاہئیں، لیکن اس میں سب سے زیادہ نقصان لیبیا کے لوگوں کا ہوا اور لیبیا کو لیکر ہی ہمیںزیادہ حساس ہونے کی ضرورت ہے۔ لیبیا کے اوپر اچانک حملہ امریکہ نے کیا اور ان دنوں اوبامہ صاحب، ہلیری کلنٹن اور رابرٹ گیٹس، جو وہاں کے وزیر دفاع ہیں مسلسل ٹی وی پر آکر، آنکھوں میں غصہ بھر کر اور باہیں اٹھاکر قذافی کو تباہ کرنے کی دھمکیاں دے رہے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ قذافی کے پاس کوئی حمایت نہیں ہے۔ امریکہ کو محسوس ہوتا تھا کہ ان پر بم برسائیں گے، حملے کریں گے اور قذافی یا تو خود اقتدار چھوڑ دیں گے یا قذافی کے لوگ اس خوف سے کہ امریکہ سامنے آ گیا ہے اور عراق، افغانستان کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر دبائو ڈالیں گے کہ وہ اقتدار چھوڑ دیں، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ امریکہ میں اگلے سال صدارتی انتخابات ہیں۔ اوبامہ صاحب دوبارہ الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ اوبامہ صاحب سے لوگوں نے کہا کہ آپ نے جو قدم اٹھایا ہے وہ غلط قدم ہے۔ دراصل امریکہ میں اوبامہ کے اوپر دو طرح کا دبائو پڑا۔ ایک تو یہ کہ یہ غلط قدم ہے، دوسرا ان سے کہا گیا کہ آپ وہاں پر اپنی فوج کو اس لڑائی میںشامل کیجئے، کیونکہ جب تک زمین کے اوپر قذافی کا اقتدار ختم نہیں ہوتا تب تک آسمان سے بم برسانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ امریکہ سے زیادہ ہوشیار اور اسمارٹ قذافی نظر آئے۔ انھوں نے اپنی فوج کو جہاں جہاں لوگوں کے پاس خبریںتھیں وہاں سے ہٹا دیا۔ان کی فضائیہ کی کمر تو پہلے امریکی بمباروں پھر ناٹو کی بم باری نے توڑ دی، لیکن ان کی اپنی فوج ان کے تئیں وفادار بنی رہی۔ لیبیا میں 50 ہزار فوجی ہیں، جن میں 10 ہزار وہ لو گ ہیں جو لیبیا کے لیے یا کہیں کہ قذافی کے لیے ہر لمحہ اپنی جان ہتھیلی پر لیے گھومتے رہتے ہیں۔ بش نے جو لڑائی عراق میں لڑی تھی، اس کو لوگ بھولے نہیں تھے اور سینئر بش کا ایک قصہ لوگوں کو یاد ہے کہ جب عراق نے کویت کے اوپر حملہ کیا تھا، تب سینئر بش نے کویت کو چھڑانے کے لیے اپنی فوج بھیج دی۔ کویت کی آزادی کے ساتھ ہی جنوبی عراق میں عوام کی بغاوت صدام حسین کے خلاف بھڑک گئی اور لوگوں کو لگا کہ اب امریکہ ساتھ ہے تو ہم کیوں نہ صدام کو اقتدار سے بے دخل کردیں، لیکن سینئر بش نے کویت کو آزاد کرانے کے ساتھ ہی ان لوگوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا اور نتیجہ یہ ہوا کہ صدام حسین نے جنوبی عراق کے لوگوں کا بے رحمی سے قتل کیا۔ اسی طرح اس بار اوبامہ صاحب نے کیا۔ اوبامہ نے جو بغاوت قذافی کے خلاف کھڑی کی اور جس طرح سے لوگ، ان ٹرینڈ لوگ، صرف جوش سے بھرے ہوئے لوگ، قذافی کے خلاف کھڑے ہوئے دراصل مختلف قبائل کے تھے۔ جو قذافی قبائل کے خلاف کھڑے رہے ہیں، وہ لوگ آگے آئے اور انہوں نے روایتی گاڑیوں کے اوپر ہتھیار لگائے۔ ایسے ہتھیار جو انہیں آسانی سے دستیاب ہوگئے۔ اس سے انہوں نے لڑائی لڑنے کی کوشش کی۔ ان لوگوں کو لگا کہ امریکی بمبار ایسے حالات پیدا کردیںگے کہ وہ آسانی کے ساتھ طرابلس پر قبضہ کرلیںگے، لیکن طرابلس تو دور وہ میشرا تو اور بن غازی پر قبضہ نہیں کر پائے، وہاں تھوڑے دنوں کے لیے قبضہ ہوا، لیکن بعد میں قذافی کی فوجوں نے دونوں مقامات سے باغیوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس درمیان امریکہ نے طے کیا کہ وہ لیبیا سے اپنے ہاتھ کھینچ لے گا اور اس نے اس ساری لڑائی کو ناٹو کے اوپر چھوڑ دیا۔ دراصل ناٹو کا مطلب اس لڑائی میں سب سے زیادہ فرانس تھا۔ فرانس چاہتا تھا کہ وہ دنیا کے اندر اپنی ایسی ساکھ بنائے جو ساکھ آج تک اس کی تھی نہیں۔ برطانیہ نے اس کا ساتھ دیا۔ دونوں کے دباؤ میں امریکہ نے وہاں بمباری شروع کی، لیکن جب امریکہ نے دیکھا کہ دونوں اس کا ساتھ پوری طور پر نہیں دے رہے ہیںا ور اس لڑائی کی وجہ سے اوبامہ کو اگلے سال ہونے والے الیکشن میں فائدہ کی جگہ نقصان ہوگا۔ میں یہاں یہ بھی بتادوں کہ امریکیوں کے اوپر چالیس ملین ڈالر ہر مہینے کا اضافی ٹیکس لیبیا کی لڑائی کی وجہ سے لگنے کا خدشہ پیدا ہوگیا تھاا ور اس کا امریکہ کے الیکشن کے اوپر بہت برا اثر ہوتا۔ ہلیری کلنٹن گئیں اور انہوں نے اس لڑائی کو ناٹو کو لڑنے کے لیے دے دیا۔ برطانیہ اور فرانس کے لیے سنہری موقع تھا کہ وہ وہاں جائیں، قذافی کو ہٹائیں اور وہاں تیل کی دولت پر اپنا قبضہ کرلیں۔ امریکہ نے اپنا مفاد بتادیا کہ اس کو لیبیا کے تیل میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ فرانس اور برطانیہ کو تھی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ایک طرف بات چل رہی تھی اور اسی وقت لیبیا کے وزیرخارجہ یونان کے ذریعہ خاموشی سے برطانیہ پہنچ گئے۔ برطانیہ پہنچتے ہی ایسا لگا کہ ایک بڑا کریک ہوا، لیکن وہ کریک ہوا نہیں لیبیا میں قذافی کے خلاف بس مس فائر ہو کر رہ گیا۔ ناٹو کی فوج نے حملے دھیرے کردئے اور یہ بہانا کیا کہ وہاں موسم اتنا خراب ہے کہ ہم حملے نہیں کرسکتے۔ دراصل لیبیا میں ناٹو اور امریکی فورسز کو پتہ چل گیا کہ سچائی اس کے کہیں مخالف ہے جو ان کے پاس جانکاری تھی۔ اگر کہیں تو کہہ سکتے ہیں کہ کوئی گراؤنڈ انفارمیشن ان فورسز کے پاس تھی ہی نہیں۔ یہاں پر سی آئی اے نے انفارمیشن کی کمان سنبھالی ۔ٹریننگ دینے کی، خاص طور پر باغیوں کو جو بالکل ان ٹرینڈ تھے، ان کو ہتھیار چلانے ہی نہیں آتے تھے۔ پانچ بڑے جہاز بھر کر امریکہ سے ہتھیار بھیجے گئے، لیکن وہ باغیوں کے کسی کام نہیں آئے۔ ان کو ہتھیاروں کی ٹریننگ دینا سی آئی اے نے شروع کیا اور سی آئی اے نے سوچا کہ وہ ان لوگوں میں کچھ ایسے لوگ تلاش کرلے گی، قذافی کے آس پاس کے رشتہ داروں میں جو ان کا قتل کرسکیں۔ اس ساری بات میں ایک چیز کہیں غائب ہوگئی اور وہ تھی آزادی کی بات۔ برطانیہ اور فرانس نے قذافی کے ساتھ صلح کی کوشش تیز کردی ہے۔ امریکہ نے ایک روڈ میپ بنایا کہ وہ لیبیا کو تقسیم کردے، بن غازی کو راجدھانی بنا کر باغیوں کے ہاتھوں میں سونپ دے۔ دوسری جانب شام میں چونکہ وہاں کے صدر بشار الاسد شیعہ ہیں، وہاں سنیوں نے ان کے خلاف ہنگامہ شروع کردیا۔ المیہ یہ ہے کہ بشار الاسد اور ان کے رشتہ دار، ان کے بیٹے، ان کے بھتیجے، کاؤنٹر ٹریرزم کی لڑائی میں امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں۔ یمن، جارڈن ان سب میں لوگ تو مخالفت میں ہیں۔ یہاں کے حاکم ان کا سامنا بھی کر رہے ہیںاور سب سے بڑی بات جو اس پورے دور میں ہوئی کہ سعودی عرب نے اپنی فوج بحرین میں بھیج دی اور فوج کو بحرین میں بھیج کر انہوں نے وہاں تقریباً 300 لوگوں کا قتل عام کردیا۔ جو لوگ مخالفت کر رہے تھے اس مسئلہ کو لے کر اقوام متحدہ میں، امریکہ کے کئی شہروں میں مظاہرے ہوئے، لیکن ان مظاہروں کو نہ ٹیلی ویژن پر دکھایا گیا اور نہ ہی اخباروں میں خبر آئی۔ امریکہ میں ابھی بھی مظاہرے ہورہے ہیں۔ باقی جگہوں کی خبریں آرہی ہیں، لیکن بحرین کو لے کر کوئی خبر نہیں آرہی ہے۔ ساری حالت بتاتی ہے کہ اگر آپ اپنی آزادی کے لیے امریکہ کے اوپر بھروسہ کرنا چاہتے ہیں تو وہ بھروسہ پوری طرح نہیں کرنا چاہیے۔ گرچہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ جمہوریت کو امریکہ اپنی کھوج سمجھتا ہے اور دوسرے الفاظ میں وہ کہتا ہے کہ جمہوریت ہمارا بچہ ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ساری دنیا میں ہماری جمہوریت رہے، لیکن جمہوریت اسی طرح سے رہے جس کا فائدہ امریکہ کو ہو۔ جس کا فائدہ امریکہ کو نہ ہو، وہاں جمہوریت رہے یا نہ رہے، اس سے امریکہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سوڈان میں، ڈاؤف میں تین لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے۔ امریکہ کے ماتھے پر شکن نہیں آئی۔ صومالیہ میں قتل عام ہورہا ہے، امریکہ کے ماتھے پر کوئی شکن نہیں ہے۔ آئیوری کوسٹ میں بھی تین لاکھ سے زیادہ لوگ مارے گئے، اقوام متحدہ کی تجویز کے خلاف وہاں پر صدر اقتدار پر قابض رہے، لیکن امریکہ کے ماتھے پر کوئی شکن نہیں آئی، کیوں کہ امریکہ کا وہاں کوئی فائدہ نہیں تھا۔ وہاں جمہوریت مرتی رہی، لیکن امریکہ کو کوئی تشویش نہیں ہوئی۔ لیبیا میں، یمن میں، شام میں، مصر میںعوام کو جوش آیا۔ اس عوام کے جوش کو جتنی حمایت دینی چاہیے تھی اتنی حمایت امریکہ نے نہیں دی، لیکن ان ممالک کے لوگوں کو لگا کہ انہیں امریکہ سے حمایت ملے گی اور وہ سڑک پر کھڑے ہوگئے۔ باقی جگہوں پر لوگ پس و پیش میں ہیں کہ وہ کیا کریں؟ لیکن لیبیا میں تو ایک بڑے حصہ کے سامنے اپنی جان گنوانی اور جان گنوانے کے لیے تیار رہنے کی دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ قذافی نے کہا ہے کہ بن غازی کے لوگوں کو قتل عام کا سامنا کرنے پڑے گا، کیوں کہ انہوں نے بغاوت کی ہے اور بن غازی کے لیے لڑنے والے لوگ جن کا بہانا سب سے پہلے امریکہ نے حملہ کرنے کے لیے کیا، ان کو امریکہ نے کھلا چھوڑ دیا، یہ افسوس کی بات ہے کہ ہندوستان، برازیل، چین اور سب سے بڑا افریقی یونین، ان سب نے اس لڑائی کی مخالفت کی، لیکن لڑائی ابھی بھی چل رہی ہے۔ اس سے بھی بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ ہندوستان کے اخباروں میں اب لیبیا یا مغربی ایشیا کی خبریں نہ کے برابر آرہی ہیں۔ ساری دنیا میں جمہوریت کے لیے آواز اٹھانے والوں کو اپنی جان دینی پڑتی ہے، اس کا ثبوت بحرین، لیبیا، یمن اور شام ہیں۔ اس سے بڑا ثبوت کیا ہوگا؟ اس لیے اگر جمہوریت کے لیے آواز اٹھانی ہے تو اپنے دم پر اٹھانی چاہیے، کسی باہری طاقت کے بھروسے اگر کوئی آواز اٹھائے تو اسے مایوسی کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار رہنا چاہیے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *