اردو کی مٹھاس میں کڑوی سچائی کو مت چھپایئے

وسیم راشد
پانچ ریاستوں میں الیکشن بگل بج چکا ہے اور جب سے الیکشن کا اعلان ہوا ہے ہر طرف کھلبلی مچ گئی ہے۔ کہاں کتنی سیٹیں کس پارٹی کو ملیںگی؟ کیا جوڑ توڑ ہوگا؟ مسلم ووٹ کتنے ہوںگے؟ کانگریس پارٹی کا کیا رول رہے گا؟ بی جے پی اپنا کون سا ترپ کا پتہ کھیلے گی وغیرہ۔ مگر ایسے وقت میں وکی لیکس کے انکشافات نے کانگریس کے کردار کو پھر سے مشکوک کردیا ہے۔ یوپی اے گورنمنٹ کے لیے یہ باری بہت مشکل ثابت ہو رہی ہے۔ مسلسل گھوٹالوں کی سنگ باری سے بے حال ایک اور انکشاف نے تو جیسے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ 2008 میں اعتماد کا ووٹ جیتنے کے لیے ارکان پارلیمنٹ کو رشوت دے کر ووٹ حاصل کرنے کے الزام سے نبردآزما یوپی اے سرکار ان پانچ ریاستوں میں اور پھر اگلے پارلیمانی الیکشن میں کس حد تک عوام کا اعتماد حاصل کرے گی، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ مگر سچائی کو اردو اشعار کی مٹھاس میں جس طرح چھپایا جارہا ہے، وہ قابل افسوس ہے۔ ادھر سشما سوراج طنزیہ انداز میں یہ شعر پڑھتی ہیں کہ:
ادھر اُدھر کی تو نہ بات کر یہ بتا کہ قافلہ کیوں لٹا
ہمیں رہزنوں سے گلہ نہیں تیری رہبری کا سوال ہے
پہلی بات تو یہ کہ اتنا بڑا الزام اتنی بڑی بات کے لیے شعر کہہ کر اس کا وزن ہی ختم کردیا گیا۔ سیاست میں نعرہ بازی چلتی ہے، الزامات لگائے جاتے ہیں۔ اپوزیشن کا کام شعر و شاعری سے ماحول کو گرمانا نہیں، بلکہ حقیقت کو سامنے لانا ہوتا ہے۔ اپوزیشن کا لیڈر شیر ہوتا ہے جو دن رات عام لوگوں کی تکالیف کو لے کر حکومت پر گرجتا رہتا ہے اور حکومت کو مجبور کرتا ہے کہ وہ عام لوگوں کے مفاد کو ان دیکھا نہ کرے۔ ان کے مسائل کو سلجھائے۔ یہاں تو معاملہ رقم برائے ووٹ کا تھا، یہاں تو معاملہ پوری حکومت کے بننے کا تھا۔ اپوزیشن کا کام حکومت کو ہر وقت پریشان رکھنا اور جواب طلبی کے لیے تیار رکھنا ہوتا ہے۔ ایک صحت مند اور کامیاب جمہوریت کے لیے مضبوط اور ذمہ دار اپوزیشن بہت ضروری ہے۔ اگر اپوزیشن ہی کمزور ہوگی تو حکومت کو جگائے گا کون؟ اپوزیشن کا کام ایوان چلانے میں تعاون دینے سے لے کر حکومتی پالیسیوں پر سوال پوچھنے اور عام آدمی کے مفاد کے لیے حکومت کو پالیسیاں بنانے پر مجبور کرنا بھی ہے۔ جمہوریت آخر حکمراں اور اپوزیشن کے بہتر تال میل اور اور امتزاج سے ہی تو چلتی ہے۔ اگر اپوزیشن ذمہ دار نہیں ہوئی تو حکمراں جماعت کے تانا شاہ ہوجانے کا خطرہ ہے۔ حکمراں جماعت بے لگام ہوسکتی ہے اور اپنی مرضی سے تمام فیصلے لے سکتی ہے اور منموہن حکومت میں یہی ہو رہا ہے۔ اسی طرح اپوزیشن صرف احتجاج کے لیے مخالفت کرتی ہے، تب بھی جمہوریت کے بنیادی جذبات مجروح ہوتے ہیں۔ اگر عوام کے مفاد کے لیے حکومت کوئی فیصلہ لیتی ہے تو اپوزیشن کو اس کا ساتھ بھی دینا چاہیے، حکومت کے پاس اگر کم ممبران پارلیمنٹ ہیں تو اپوزیشن جماعت کی حمایت سے ہی تو ضروری کام پورے ہوںگے۔ بات بس اتنی سی ہے کہ کامیاب جمہوریت کے لیے حکمراں اور اپوزیشن دونوں کو ہی اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے۔ اب سوال یہاں یہ اٹھتا ہے کہ کیا بی جے پی ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کرپارہی ہے۔ اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ یوپی اے حکومت کی تشکیل کے بعد سے آج تک پارلیمنٹ میں بی جے پی کا کردار دیکھیں تو بڑی آسانی سے اس کا جواب مل جائے گا۔ اٹل بہاری واجپئی جیسا لیڈر تو شاید اب بی جے پی کو نصیب نہ ہو، مگر اڈوانی جی نے بھی خود کو مذاق کا حصہ بننے دیا۔ جب منموہن سنگھ ان پر مسکراتے ہوئے وار کرتے ہیں کہ اڈوانی جی نے وزیراعظم بننا اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا تھا، مگر وزیراعظم میں بن گیا اور اڈوانی جی نے مجھے معاف نہیں کیا ہے اور انہیں اپنے اس خواب کو پورا کرنے کے لیے ابھی مزید تین سال اور انتظار کرنا ہوگا۔تو اڈوانی جی سوائے ایک میٹھی مسکراہٹ کے اور کچھ کرتے نہیں۔
مجھے اس وکی لیکس کے ایک پرمزاح جملے میں نہ تو کوئی لطف آیا نہ ہی کوئی ہنسی آئی، بلکہ غصہ آیا۔ اڈوانی جی کی مسکراہٹ پر اور سشماسوراج کے ہنستے مسکراتے چہرے پر وزیراعظم نے تو مسکرا کر کہہ دیا اور اپنا دامن بچالیا، مگر اپوزیشن یہاں بھی ناکام رہی، کیوں کہ جب مسئلہ گمبھیر ہو اور اس پر بحث چھڑی ہو تو ہنسی مذاق اس مسئلے کی سنگینی کو ختم کردیتا ہے اور وہی ہوا۔ منموہن سنگھ نے نہایت شاطرانہ انداز میں شطرنج کی اس بساط میں اپنے گھوڑے کو ایسا الٹا چلایا کہ پوری بازی ہی الٹ دی اور خود کو بادشاہ ثابت کرتے ہوئے بری طرح مات دے دی۔ بس یہی چیز مجھے بے تحاشہ مجبور کرگئی، اس موضوع پر قلم اٹھانے کے لیے، مجھے نہایت دکھ ہورہا ہے یہ لکھتے ہوئے کہ بی جے پی ایک اندھی، لولی، لنگڑی، کانی بہری اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے۔ چھوٹے چھوٹے مسئلوں کو اٹھاتی ہے اور بڑے مسائل پر ہنسی ٹھٹھوں اور مسخرے پن سے اس مسئلے کی اہمیت اور اس کی سنگینی کو ختم کر دیتی ہے۔ پر وہی بات ہے نا کہ پہلا پتھر وہ مارے جس نے کبھی زندگی میں کوئی گناہ نہ کیا ہو، مگر یہاں تو بی جے پی کا کردار خود مشکوک ہے۔ اس کا اپنا دامن داغدار ہے تو وہ حکومت کو کیسے گھیرے گی؟ جہاں تک مجھے یاد پڑ رہا ہے گزشتہ حکومت کا دور یاد کریں تو کمیونسٹ جماعتوں نے ہی اپوزیشن کا کردار ادا کیا تھا۔ کئی مسئلوں پر حکومت کو باہر سے حمایت دے رہے بایاں محاذ نے ہی گھیرا تھا۔ جب کہ بی جے پی ممبران پارلیمنٹ اپنی ہی دنیا میں مگن تھے۔ بی جے پی کے پاس اس وقت وکی لیکس کا تازہ انکشاف اتنا اہم مسئلہ تھا کہ جس پر وہ حکومت کو گھیر سکتی تھی۔ کپل سبل کے اس بیان پر کہ یہ سب اپوزیشن نے کرایا ہے اور یہ سارا پلان اپوزیشن کا ہے  کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ کتنے مضحکہ خیز بیان دیے فینانس منسٹر پرنب مکھرجی نے۔ کس قدر غیر منطقی اور غیرواضح بیان تھے کہ معمولی سی بھی سیاسی سمجھ رکھنے والے کو اس پر ہنسی آجائے۔ مگر اپوزیشن نے وزیرمالیات کے اس بیان پر بھی کہ جو خطا 14 لوک سبھا میں سرزد ہوئی، اس کے لیے 15 ویں لوک سبھا جواب دہ نہیں ہوسکتی، کا بھی کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔ میں ونوددوا کا لائیو پروگرام دیکھ رہی تھی، جس میں اس بیان پر ونوددوا نے کافی زبردست دلائل دیے، جس میں ایک مجھے پسند آیا کہ اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ جن مجرموں کو جرم کرتے ہوئے پکڑا جائے، ان کو اگلی حکومت آنے پر چھوڑ دیا جائے، کیوں کہ یہ الزام تو پچھلی حکومت کے وقت میں لگایا گیا تھا۔ کیسا مضحکہ خیز بیان ہے۔ خدا کی قسم غصہ آجاتا ہے کہ کیا کردار ہے ہمارے سیاسی رہنماؤں کا جن کو ہمارے معصوم عوام اپنے قیمتی ووٹ سے مسند شاہی پر بٹھاتے ہیں، اس لیے کہ وہ جم کر بدعنوانی کریں، جم کر عوام کا خون چوسیں اور جب یہی عوام ان سے جواب طلب کریں تو یہ ہنسی مذاق کر کے، شعر پڑھ کر اور گھٹیا دلائل دے کر اس مسئلہ ہلکا کردیں۔ ویسے بھی یہ کوئی پہلا موقع تو ہے نہیں کہ کانگریس پر اس طرح کی ارکان پارلیمنٹ کی خریداری کا الزام لگا ہو۔
جب نرسمہاراؤ جی وزیراعظم تھے تو بھی یہ الزام لگا یا گیا تھا۔ جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے ارکان پارلیمنٹ کو رقم دے کر ووٹ خریدے گئے تھے۔ وزیراعظم یہ شعر پڑھ کر:
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
سشما سوراج پر پھپھکی کس کر اڈوانی پر اقتدار کی ہوس کا الزام لگا کر اپنا دامن نہیں بچاسکتے۔ اپوزیشن پر یہ الزام لگانا کہ اسٹنگ آپریشن کر کے یوپی اے کی شبیہ کو داغدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے، سراسر غلط طریقہ ہے۔ خود پر سے الزام ہٹانے کا اور خود کو بے گناہ ثابت کرنے کا۔
پہلے ریل بجٹ آیا، پھر ملک کا عام بجٹ پارلیمنٹ میں پیش ہوا۔ مہنگائی بڑھتی گئی، آمدنی گھٹتی گئی۔ مگر بی جے پی نے کسی بھی مسئلہ پر حکومت کو نہیں گھیرا۔ بی جے پی دراصل ناکارہ ہوچکی ہے۔ وہ نہ حکومت کو گھیرپارہی ہے نہ خود کو مضبوط کرپارہی ہے، بلکہ ایمانداری سے پوچھئے اور مجھے تھوڑا بے باک ہونے دیجیے تو پوری کی پوری مشنری ہی فیل ہوچکی ہے۔ چوری، کالابازاری، رشوت خوری، مہنگائی، کرپشن، جرائم سب نے مل کر پورے ملک کے نظام کو کھوکھلا کردیا ہے۔ دیکھیے کیا ہوتا ہے میرے اس وطن عزیز کا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *