امریکہ نے ایک ارب کو پکڑنے کے لئے کئی ارب لگا دئے

اسد مفتی
ریمنڈ ڈیوس کے ملک امریکہ کا بجٹ خسارہ لگ بھگ 17کھرب ڈالر ہو گیا ہے۔ صدر براک اوبامہ کی جانب سے پیش کئے جانے والے بجٹ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے باعث امریکہ کا بجٹ خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور یہ کہ رواں سال کا بجٹ خسارہ ایک ریکارڈ ہوگا۔
سب سے پہلے ہم عراق، افغانستان کی جنگوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ امریکہ نے 11ستمبر 2001کے مخالف امریکی حملے کے بعد افغانستان، عراق اور دوسرے مقامات پر دہشت گردی کے خلاف بلا وجہ لڑنے بھڑنے میں اب تک دس کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ یا ضائع کر دئے ہیں۔دوسری جنگ عظیم کے بعد دہشت گردی کے خلاف یہ سب سے مہنگی جنگ ثابت ہو رہی ہے۔امریکی کانگریس کی ریسرچ کمیٹی نے امریکی انقلاب کے بعد سے 230سال کا تحقیقی جائزہ لیا ہے،جس میں بتایا گیا ہے کہ دوسری جنگ عظیم پر 40کھرب ڈالر سے زائد رقم خرچ ہوئی۔ یہ جنگ 1940کے عشرے میں لڑی گئی تھی۔ اس جنگ میں امریکہ کی قومی آمدنی کا 36فیصد جنگ میں کھپ گیا جبکہ 11ستمبر 2001کے مخالف امریکہ حملے کے بعد امریکہ کی قومی آمدنی کا ڈیڑھ فیصد مخالف دہشت گردی جنگ پر خرچ ہو گیا جو کہ دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بڑا جنگی مصارف ہے۔جنگوں پر عہد قدیم سے جومصارف ہو رہے ہیں ان کی قدروں کا اندازہ لگانا ایک مشکل کام ہے کہ وقت کے ساتھ رقم کی قدریں بھی بدلتی رہتی ہیں۔ تاہم آج ہم یہ جان سکتے ہیں کہ امریکی حکومت کے قرضوں کا حجم چودہ کھرب ڈالر سے تجاوز کر کے تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔ اس دہلا دینے والے سنگ میل کو عبور کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر یہ رقم امریکیوں پر ساری تقسیم کی جائے تو ہر امریکی 45ہزار تین سو ڈالر کا مقروض ہوگا۔حکومتی حلقوں میں اخراجات پر بحث تو کئی عشروں سے ہوتی رہی ہے لیکن آنے والے دنوں میں امریکی کانگریس کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ قرضوں کی قانونی حد بڑھائی جائے یا نہیں؟ یا پھر قرضوں کے موجودہ حجم کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لئے بجٹ میں ردوبدل کر کے حکومتی اخراجات میں کمی کی جائے، حکومتی اخراجات میں ’’کمی‘‘ کی ایک تازہ ترین مثال یہ ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی مغربی جمہوریت کے فرمانروا براک اوبامہ نے گزشتہ ماہ اپنے کنبے کے افراد کے ہمراہ امریکی ریاست ہوائی میں بڑے تزک و احتشام کے ساتھ چھٹیاں مناتے ہوئے امریکی خزانے کے 20لاکھ ڈالر پھونک دئے جبکہ امریکہ پر 17کھرب ڈالر کا بوجھ لدا ہوا ہے۔ یہ بوجھ کیسے اترے گا؟ اس کے لئے ماہرین کا خیال ہے کہ تمام امریکی اداروں پر ٹیکس لگانا پڑے گا اور اس کے نتیجہ میں لاکھوں افراد بے روزگار ہو جائیں گے۔امریکہ میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران افراط زر اوربے روزگاری دونوں کی شرح میں غیر متوقع اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی ماہرین معاشیات نے امریکی معیشت کو بحالی کی جانب گامزن کرنے کے حکومتی دعووں کو غلط بیانی قرار دیا ہے۔ امریکی لیبر ڈپارٹمنٹ کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومت سے مراعات کے لئے رجوع کرنے والے بے روزگار شہریوں کی تعداد میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران 25ہزار کا اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث امریکہ بھر میں بے روزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے اور اب یہ تعداد چارلاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔ ادھر امریکی معیشت کی شرح نمو توقعات سے کم ہو رہی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق 2010کی چوتھی سہ ماہی کے دوران دنیا کی سب سے بڑی معیشت امریکہ کی شرح نمو 3.2فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ تاہم یہ 2.8فیصد رہی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جی ڈی پی نمو میں کمی تشویشناک ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکہ میں امیر اور غریب طبقے کے درمیان خلیج اتنی بڑھ گئی ہے جتنی کہ پہلے کبھی ریکارڈ نہیں کی گئی تھی۔ امریکہ کی راجدھانی واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک اکنامک پالیسی انسٹی ٹیوٹ (EPT)نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ اس طرح کا جائزہ مرتب کرنے کا سلسلہ 1962سے شروع ہوا تھا اور تب سے لے کر اب تک امیر اور غریب امریکیوں کے درمیان اتنا زیادہ فرق نہیں دیکھا گیا تھا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کے ایک فیصد امیر ترین شہری 99 فیصد اوسط امریکی شہری (گھرانوں) کے مقابلہ میں225گنا زیادہ دولت کے مالک ہیں جبکہ 60کے عشرے میں یہ تناسب 125گنا تھا۔ عالمگیر کسادبازاری کی وجہ سے 2009میں امیر ترین امریکی شہری اوسطاً 15ملین ڈالر کے مالک تھے اور یہ رقم کساد بازاری کی وجہ سے 2007کے مقابلہ میں27فیصد کم تھی کہ امریکی گھرانوں میں اس عالمگیر اقتصادی بحران نے زیادہ شدید اثرات مرتب کئے۔2009میں ان کے مالی اثاثے 64ملین ڈالر ریکارڈ کئے گئے جو 41فیصد زیادہ تھے۔
میرے حساب سے سرمایہ دارانہ نظام کے علاوہ امریکہ کے سرکاری خسارے کا سب سے بڑا سبب ’’امریکی دفاعی بجٹ‘‘ ہے جو کہ 700ارب کے قریب  ہے۔ جبکہ چین جیسے بڑے ملک کا دفاعی بجٹ 91ارب 25کروڑ ہے۔صرف افغانستان میں امریکہ کے 97ہزار فوجی موجود ہیں جو وہاں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ان پر امریکی ٹیکس دہندگان کا روزانہ 30کروڑ ڈالر ’’ضائع‘‘ ہو رہا ہے۔ ان کے علاوہ امریکی کانگریس نے افغانستان کی جنگ کے لئے 345بلین ڈالر منظور کر رکھے ہیں جبکہ عراق کی جنگ میں800بلین ڈالر کا تصرف عمل میں آ چکا ہے۔ ان سب فضول خرچیوں کے باوجود امریکی حکومت دفاعی بجٹ اور فوجی اخراجات کو 17کھرب ڈالر خسارے کا سبب ماننے کو تیار نہیں ہے۔ لہٰذا اوبامہ اس بات پر تیار ہیں کہ غیر مجموعی ا خراجات کو پانچ برس تک منجمد کر دیا جائے تو آئندہ دس برس تک 400بلین ڈالر سے زائد کے خسارے سے بچا جا سکتا ہے۔ اس وقت امریکہ کی مجموعی فوجی پیداوار 14890ارب ڈالر ہے جبکہ چین 9854ارب ڈالر کی مجموعی قومی پیداوار کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے اور جاپان 4333ارب ڈالر کی مجموعی قومی پیداوار کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔
حرف آخر کے طورپر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ امریکہ کی زوال پذیر معیشت اور اس کے تناظر میں معیشت کی مسلسل بدحالی اور امریکی ریاستوں کی توڑ پھوڑ کی پیش گوئیاں اپنی جگہ پر، تاہم حقیقت یہ ہے کہ آج بھی امریکہ گیار ہ منٹ میں آدھی دنیا کو تباہ کر سکتا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *