ٹکٹوں کی تقسیم اور فکر مند کانگریس

کیرالا میں کانگریس کے جنرل سکریٹری راہل گاندھی کی سفارش پر 25 نوجوان کارکنان کو امیدوار بنائے جانے سے ریاست میں گھمسان مچ گیا ہے۔ ٹکٹ کی دعویداری کرنے والے پارٹی کے سینئر لیڈروں نے بغاوت کردی ہے۔ کہا جارہا ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم میں صوبے کی ذاتوں اور فرقوں کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔ سابق وزیر اور پارٹی کے صوبائی اکائی کے ترجمان کوچی سے ملحق الوا سے دعویدار تھے لیکن ان کی جگہ انور کو ٹکٹ دیا گیا ہے۔ اسی طرح کئی دیگر سینئر لیڈروں کے ٹکٹ کٹ گئے ہیں۔ کسی بھی سیاسی جماعت کی مہمات میں نوجوان کارکنان کا اہم کردار ہوتا ہے۔ وہ پارٹی کے پروگراموں میں دریاں بچھانے سے لے کر بھیڑ اکٹھا کرنے تک کا کام کرتے ہیں، لیکن جب امیدواری کی بات آتی ہے تو انہیں نظرانداز کردیا جاتا ہے۔ کبھی پارٹی میں سینئرٹی کے نام پر ان کو نظرانداز کیا جاتا ہے تو کبھی ٹکٹیں فروخت کرکے انہیں حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ راہل گاندھی پارٹی کے اس رواج کو کتنا بدل پاتے ہیں، حالانکہ انہوں نے پہل تو کی ہے۔ کیرالا میں کانگریس اس بار 81 سیٹوں پر انتخاب لڑ رہی ہے۔ یہ سیٹیں پچھلے اسمبلی انتخابات سے سات زیادہ ہیں۔ پارٹی نے اپوزیشن کے لیڈر اومین چانڈی اور پارٹی کے صوبائی صدر رمیش چینی تھلا سمیت سبھی اعلیٰ لیڈروں کو انتخابی میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیرالا میں سی پی آئی کے صوبائی چیف پنرائی وجین کی قیادت والا وام لوک تانترک مورچہ(ایل ڈی ایف) اور کانگریس کے اومن چانڈی کی قیادت میں یو ڈی ایف وغیرہ انتخابی میدان میں ہے۔ کانگریس-یوڈی ایف صوبائی سرکار کی ناکامی سے کم ہوتی مقبولیت، بایاں محاذ کے بکھرنے اور بلدیاتی انتخاب سے لے کر 2009 کے لوک سبھا انتخابات میں یو ڈی ایف کے شاندار مظاہرے کو لے کر پرجوش ہے۔ اس کے علاوہ وہ صوبے کی 24 فیصد مسلم اور 19 فیصد عیسائی آبادی کی حمایت کو اپنی طاقت مان رہی ہے۔ کیرالا میںکانگریس اور مسلم لیگ کے اتحاد کو بھی اس کی طاقت کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔ وام لوک تانترک مورچہ(ایل ڈی ایف) بغیر بدعنوانی کی پانچ سالہ حکومت کی حصولیابیوں، صوبے کے سبھی طبقوں کے لیے مفاد عامہ کے کام اور زمین مافیا کے خلاف کارروائی کو لے کر عوام سے حمایت مانگ رہا ہے۔ کیرالا کے اسمبلی الیکشن میں مارکسوادی کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے وزیراعلیٰ اچیوتا نندن کے ایل ڈی ایف کے انتخابی میدان میں اترنے سے کانگریس کے لیے مشکلیں پیدا ہوسکتی ہیں۔ پچھلے لوک سبھا انتخابات اور مقامی بلدیاتی انتخابات میں بہترین مظاہرہ کرنے والی یو ڈی ایف کو مضبوط دعویدار مانا جارہا ہے۔ مگر اچیوتا نندن کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں، کیوں کہ صوبے میں مارکسوادی پارٹی کے سکریٹری پی وجین اور اچیوتانندن میں چھتیس کا آنکڑا ہے۔ اس کے سبب مارکسوادی کی صوبائی اکائی نے انہیں ٹکٹ دینے سے انکار کردیا تھا، انہیں پلکڑ ضلع کے ملمپچھا حلقے سے امیدوار بنایا گیا ہے۔
کانگریس اور بی جے پی نے پوری طاقت جھونک دی
آسام میں جہاں کانگریس اپنے اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے انتخابی مہم میں پوری طاقت جھونک دینا چاہتی ہے، وہیں بی جے پی کسی بھی صورت میں کانگریس کو اقتدار سے باہر کرنے کی حکمت عملی بنانے میں لگی ہے۔ یہاں وزیراعلیٰ ترون گوگوئی کی قیادت والی کانگریس-بوڈو پیپلز فرنٹ اتحاد، بی جے پی-آسام گن پریشد کا غیررسمی اتحاد اور بدرالدین اجمل کی قیادت والا آل انڈیا یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ وغیرہ انتخابی میدان میں ہیں۔ بی جے پی کے لیڈروں سے اختلافات کے سبب رسمی اتحاد نہیں ہوسکتا، لیکن دونوں کو ہی ایک دوسرے کی ضرورت ہے، اس لیے دونوں نے ہی آپسی تال میل بنائے رکھنا بہتر سمجھا۔ تقریباً تین درجن سیٹوں پر ان کے امیدوار انتخاب لڑ رہے ہیں۔
انتخاب جیتنے کے لیے بی جے پی نے انتخابی مہم میں قومی لیڈروں کو اتارنے کا فیصلہ کیا ہے۔ انتخابی مہم کی کمان راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ارون جیٹلی سنبھال رہے ہیں۔ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی کو مد نظر رکھتے ہوئے پارٹی کے مسلم لیڈر شاہنواز حسین کو بھی انتخابی تشہیر کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔ مارواڑی سماج کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے پارٹی کی مہیلا مورچہ کی سابق صدر کرن مہیشوری اور جنرل سکریٹری دھرمیندر پردھان بھی انتخابی مہم میں جٹے ہوئے ہیں۔ اتنا ہی نہیں پارٹی کے صدر نتن گڈکری بھی آسام کے انتخاب کے لیے کافی سنجیدہ ہیں۔ بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ وہ دو درجن سیٹیں تو جیت ہی لے گی، پانچ صوبوں کے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو سب سے زیادہ امید آسام سے ہی ہے، کیوں کہ یہاں اس کے پاس پارلیمنٹ اور اسمبلی ممبران، دونوں ہی ہیں۔ پچھلے انتخابات میں بی جے پی نے دس سیٹیں جیتی تھیں۔ بعد میں چار ممبران اسمبلی اسے چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
کانگریس الفا سے امن مذاکرات، ترقی اور مستحکم حکومت دینے کا وعدہ کر رہی ہے۔ بی جے پی، بنگلہ دیشی دراندازوں سے نمٹنے میں حکومت کی ناکامی، بدعنوانی اور مہنگائی کو ایشو بنا رہی ہے۔ آسام میں بنگلہ دیشیوں کی دراندازی اور تشدد ایک حساس ایشو ہے۔ کانگریس بی جے پی اور آسام گن پریشد اسے لے کر اپنی سیاسی روٹیاں سینکتی رہی ہیں۔ آسام میں بنگلہ دیشیوں کو کانگریس کے ووٹ بینک کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ آسام میں عوام، سیلاب، صنعتی ترقی کے فقدان اور بے روزگاری وغیرہ کا سامنا کر رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *