یہ آزادی کی دوسری لڑائی ہے

سنتوش بھارتیہ
ہندوستان سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کے با وجود دنیا کا سب سے بدعنوان ملک ہے۔دنیا میں 86 ایسے ملک ہیں جہاں ہندوستان سے کم بدعنوانی ہے۔آزادی کے بعد سے ہی ہم بد عنوانی سے جوجھ رہے ہیں۔بدعنوانی کے خلاف کارگر قانون بنانے کا منصوبہ اندراگاندھی کے دور سے چل رہا ہے۔42سال گزر گئے، پھر بھی ہماری پارلیمنٹ لوک پال قانون نہیں بنا سکی۔یہ جان کر ہر ہندوستانی کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ کیا ہم بدعنوانی کو ختم کرنے کے لیے کچھ نہیں کر سکتے؟ اس سوال کو لے کر لوگوں میں غصہ ہے۔کشن بپٹ بابو راؤ ہزارے عرف انا ہزارے کی بھوک ہڑتال بدعنوانی کے خلاف لوگوں کے غصہ کا اظہار ہے۔
انا ہزارے مہاراشٹر کے احمد نگر ضلع کے ہیں۔غریب خاندان سے ہیں۔وہ صرف ساتویں جماعت تک پڑھے ہیں۔ انا فوج میں بطور ڈرائیور ملازمت کرتے تھے۔جو وقت بچتا اس میں وہ گاندھی اور ونوبا بھاوے کی کتابیں پڑھتے تھے۔ ان عظیم لوگوں کی ترغیب کی وجہ سے انہوں نے ملازمت چھوڑ دی۔ وہ سماجی کارکن بن گئے۔مہاراشٹر کے رالے گن گاؤں میں انہوں نے شراب کے خلاف تحریک چلائی ، پھر گاؤں والوں کے ساتھ مل کر چیک ڈیم اور کینال بنوایا۔ اس کے بعد انا ہزارے نے تقریباً77گاؤں میں’’ شرم دان‘‘ کے ذریعہ گاؤں والوں کی مدد کی۔سماجی زندگی کو انا نے پھر پیچھے مڑکر نہیں دیکھا۔ سال 2000 میں انا نے مہاراشٹر میں ایک تحریک کی شروعات کی ،  جس کی وجہ سے مہاراشٹر حق اطلاعات قانون بنایا گیا۔ یہی قانون حق اطلاعات قانون 2005کی بنیاد بنا۔ 1998میں جب خاندانی فلاح و بہبود کے وزیر نے ان کے خلاف ڈی فیمیشن کیس درج کیا تب شیو سینا ، بی جے پی حکومت نے انا ہزارے کو جیل بھی بھیجا۔عوام نے ہنگامہ کیا، حکومت کو انہیں چھوڑنا پڑا۔ اس بھوک ہڑتال سے پہلے انا ہزارے بدعنوانی کے خلاف لڑائی کی علامت رہے ہیں۔
انا کی پہلے کی دو تحریکوں اور اس بار کی تحریک میں زمین آسمان کا فرق ہے۔پہلے وہ گاؤں والوں کے ساتھ مل کر تحریک چلاتے تھے۔ اس بار شہری نوجوانوں کے دل پر چھا گئے۔ انٹرنیٹ کے سوشل نیٹ ورک پر آج صرف انا کا نام ہے۔انا ہزارے کی تحریک کا پس منظر سرکاری محکمہ میں گھوٹالہ ، اے راجا ، کلماڈی اور نیرا راڈیا جیسے لوگوں نے تیار کیا ہے۔بدعنوانی کے خلاف سپریم کورٹ کے ججوں کے بیانوں اور فیصلوں نے انا ہزارے کی تحریک کو اعتبار بخشا ہے۔اس کے علاوہ ملک کے متوسط طبقہ کو لگتا ہے کہ بدعنوانی کی وجہ سے ہندوستان کی ترقی نہیں ہو پائی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بدعنوانی سے پریشان عوام نے دل کھول کر ا نا کا ساتھ دیا۔
انا ہزارے لوک پال بل کو نافذ کرنے کے لیے لڑائی لڑ رہے ہیں۔حکومت نے بھی ایک لوک پال بل کا مسودہ تیار کیا ہے۔انا ہزارے کا ماننا ہے کہ حکومت کے مسودہ سے بنا لوک پال ایک کمزور لوک پال ہوگا۔جو بدعنوانی سے لڑنے میں نا اہل ہے۔انا ہزارے نے سپریم کورٹ کے سابق جج سنتوش ہیگڑے، کرناٹک کے پبلک کمشنر پرشانت بھوشن کے ساتھ قانون اور انتظامیہ کے کئی جانکاروں کے ساتھ مل کر لوک پال قانون کا ایک مسودہ تیار کیا ہے۔اسے جن لوک پال بل کا نام دیا گیا ہے۔انا ہزارے چاہتے ہیں کہ حکومت جو بل لانا چاہتی ہے اس کا مسودہ تیار کرنے میں جن لوک پال بل بنانے والوں کو بھی شامل کیا جائے۔وزیر اعظم نے لوک پال بل کا مسودہ تیار کرنے کے لیے وزیروں کا ایک گروپ بنایا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نے جن پانچ وزرا کو یہ ذمہ داری سونپی ہے ان میں سے کئی ایسے ہیں جو خود شک کے دائرے میں ہیں ۔ اس گروپ میں ایک نام تھا شرد پوار کا تھا۔شرد پوار کو اچانک پیاز کی قیمت بڑھنا بدعنوانی نہیں لگتی۔سبزیوں اور کھانے پینے کے سامانوں کے زخیروں اور کالا بازاری کی وجہ سے آئی مہنگائی میں کچھ بھی غلط نظر نہیں آتا ہے۔شرد پوار نے اس گروپ سے استعفیٰ دے دیا لیکن سوال حکومت کی سوچ کا ہے۔ مہنگائی سے جوجھ رہے عوام شرد پوار پر کیسے بھروسہ کر سکتے ہیں۔ دوسرانام ہے کپل سبل کا ، جو ملک کے بڑے وکیل ہیں۔ انہیں ملک کے سب سے بڑے ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے میں بھی کوئی گڑبڑ نظر نہیں آتی ہے۔ حکومت کو یہ سمجھنا پڑے گا کہ ایسی شروعات سے عوام کا بھروسہ نہیں جیتا جاسکتا۔اس کے علاوہ اس گروپ میں پی چدمبرم اور پرنب مکھرجی ہیں ۔ ان دونوں کی شبیہ منموہن سنگھ کی طرح ایماندار لیڈر کی نہیں ہے۔
کچھ تجزیہ کار جن لوک پال بل کے خطرے سے فکر مند ہیں۔ پہلا خطرہ یہ تھا کہ لوک پال کیا ملک کا سب سے طاقتور ادارہ بن جائے گا۔کیا یہ حکومت کے کام کاج کو متاثر کرے گا۔ کیا یہ سپریم کورٹ کو بائی پاس کر جائے گا۔کچھ لوگوں کو اس بات کی فکر ہے کہ بدعنوانی کے خلاف یہ مہم کہیں جمہوریت مخالف اور ترقی مخالف تحریک نہ بن جائے۔سمجھنے والی بات یہ ہے کہ جمہوریت اور سیاست کے لیے لوک پال جیسا ادارہ نیا نہیں ہے۔دنیا میں 50سے زیادہ ایسے ملک ہیں جہاں لوک پال جیسا ادارہ موجودہے۔ انگریزی میں اسے اومبڈس مین(محتسب) کہتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے انتظامی شکایت جانچ افسر۔ اومبڈس مین اس افسر کو کہا جاتا ہے جو عوام کی شکایت پر کسی بھی معاملے کی جانچ کرتا ہے۔ اسے حکومت یا پارلیمنٹ کے ذرریعہ مقرر کیا جاتا ہے۔سب سے پہلے1809میں سویڈن میں بنایاگیا تھا۔ ناروے ، سویڈن اور فن لینڈ جیسے ترقی یافتہ جمہوری ممالک میں اومبڈس مین کو خصوصی اختیار ملا ہے۔وہ حکومت سے کسی بھی کاغذات ، جانکاری کوحاصل کر سکتا ہے۔کسی بھی گڑبڑی کے اندیشے پر بغیر کسی شکایت کے جانچ کا حکم دے سکتا ہے۔بدعنوانی اور غیر قانونی کام کرنے والے افسران کو سزا دلا سکتا ہے۔ ان ممالک کے سرکاری محکمہ میں بدعنوانی تقریباً نہ کے برابر ہے۔انا ہزارے اور ان کے معاونین کے ذریعہ بنایا گیا جن لوک پال بل انہیں ممالک کے قانون کی نقل ہے۔
لوک پال کے پاس بدعنوانی سے لڑنے کی ساری طاقت ہوتی ہے۔اس میں کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔ لوک پال کے دائرہ ٔ اختیار میں بیوکریسی سے لیکر ججوں کے ساتھ ساتھ وزیر اعظم کا دفتر بھی ہو تو اس میں بھی کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔لیکن لوک پال کو حکومت کرنے کا حق نہیں دیا جا سکتا ہے۔ قانون بنانے کا کام پارلیمنٹ کا ہے۔انتظام کرنے کا حق عاملہ کا ہے۔عدلیہ کو غلطیوں کی سزا دینے کا حق ہے۔یہی جمہوریت کی بنیاد ہے۔لوک پال کو کیا کیا اختیارات ملیں اور کیا نہیں ملیں، اس بات پر ملک گیر پیمانے پر بحث ہونی چاہئے۔ماہرین کی رائے لینی چاہئے تاکہ لوک پال کی تقرری اور اس کو دئے گئے اختیارات کی وجہ سے جمہوریت کا توازن نہ بگڑے۔ اچھی بات یہ ہے کہ انا ہزارے اور ان کے ساتھی لوگوں کے مشوروں اور ماہرین کی رائے کو شامل کرنے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔وہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ لوک پال قانون کا جو مسودہ تیار ہو اس میں افسران کے علاوہ سماجی کارکنان اور قانون کے جانکاروں کی حصہ داری ہو۔بات چیت سے اس قانو ن کا مسودہ تیار کیا جائے۔
بدعنوانی کی لڑائی لوک پال بل کے قانون بننے سے ختم ہونے والی نہیں ہے۔انا ہزارے نے جس تحریک کی بنیاد رکھی ہے اسے فیصلہ کن موڑ پر لے جانا ہوگا۔جیسا مہاتما گاندھی اور لوک نائک جے پرکاش نارائن نے کیا۔اس کے لیے شہر کے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ دیہی نوجوانوں ، جنگل میں رہنے والوں ، مزدوروں اور کسانوں کو بھی اس تحریک میں شامل کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ ان سب کو منظم کرنا پڑے گا۔ ملک کے الگ الگ گاؤں اور شہروں میں جاکر لوگوں کو بیدار کرنا پڑے گا۔ایسی تحریکوں میں فن کاروں ، ڈرامہ نگاروں ، مصنفین اور شعرا کا کردار بھی اہم ہوتا ہے۔ انہیں بھی اس جنگ کی تیاری کرنی ہے۔ انا ہزارے نے کہا کہ یہ آزادی کی دوسری لڑائی ہے۔تو آزادی کی پہلی لڑائی کی طرح ہی اس تحریک کو منصوبہ بندی کے ساتھ منظم کرنا ہوگا ۔تاکہ شہر کے نوجوانوں کے ساتھ ساتھ عام پبلک بھی اس میں اپنا تعاون دے سکے۔ یہ ابھی شروعات ہے ۔بدعنوانی کے خلاف لمبی لڑائی چلنے والی ہے۔ عوام کو آگے آنا ہوگا اور سیاسی جماعتوں کو مستقل مزاجی کا ثبوت دینا ہوگا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *