سچ کے سپاہی کو دھمکی

سوال پوچھنا عوام کا حق ہے او ریہ حق آئین دیتا ہے، لیکن سوال پوچھنا کبھی کبھی کتنا تکلیف دہ ہو سکتا ہے یہ پچھلے سال ہوئے آر ٹی آئی کارکنان کے قتل سے واضح طور پر معلوم ہو جاتا ہے۔ بہر حال کارکنان کے قتل سے الگ آر ٹی آئی کارکنان کو پریشان کرنے اور دھمکی دینے کا معاملہ تو تقریباً ہر مہینے ہی سامنے آتا رہتا ہے۔اس کالم میں آج ایک ایسے ہی آر ٹی آئی کارکن کی بات کرتے ہیں، جن کی آر ٹی آئی درخواستوں کی وجہ سے دہلی کے سنجے نگر(گلابی باغ) علاقے میں غیر قانونی طور پر چل رہے گودام، ہیوی ٹرکوں کے ورکشاپ اور دیگر سرگرمیاں چلانے والوں کانہ صرف پردہ فاش ہوا بلکہ ان کے خلاف کارروائی بھی شروع ہوئی اور یہی بات ان مافیائوں کو ناگوار بھی گزری۔ نتیجتاً ان لوگوں نے آر ٹی آئی درخواست دہندہ کوبالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر دھمکانا شروع کر دیا۔غور طلب ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر بہت پہلے ہی ان ورکشاپ، گوداموں اور فیکٹریوں کوسنجے گاندھی ٹرانسپورٹ نگر اور بوانا میں زمین دی جا چکی ہے۔ باوجود اس کے رہائشی علاقے سے ان غیر قانونی سرگرمیوں کو ہٹایا نہیں جا سکا ہے۔ سپریم کورٹ کے اس حکم کی تعمیل بھی نہیں کی جا رہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی طور پر چلائے جا رہے گوداموں، فیکٹریوں، ورکشاپ اور بجلی پانی کے کنیکشن کاٹے جائیں۔
دراصل سنجے نگر گلابی باغ کے رہنے والے ستیش شرما نے اپنے علاقے میں دیکھا کہ یہاںسپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رہائشی علاقے میں گودام بنے ہوئے ہیں۔ہیوی ٹرکوں کے ورکشاپ چل رہے ہیں۔تب انھوں نے اس سب کے بارے میںپہلے دلی نگر نگم، اس کے لائسنسگ کے محکمے، پالیوشن کنٹرول بورڈ اور محکمۂ صنعت میں شکایت کی اور شکایت درج کرانے کے کچھ روز بعد ستیش شرما نے آر ٹی آئی کے تحت درخواست دے کر اس سلسلے میں اطلاع مانگی،لیکن تقریباً ہرمحکمہ پہلے اطلاع دینے میں کاہلی کا مظاہرہ کرتا رہا، تاہم ستیش شرما اس لڑائی کو آگے لے جاتے رہے۔اپیل میں جانے کے بعد انہیں کچھ اطلاعات ملنا شروع ہوئیں، معلوم ہوا کہ37 نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں اور چالان کاٹا جا رہا ہے۔ساتھ ہی متعلقہ محکمہ بھی حرکت میں آیا۔لائسنسنگ محکمے کے لوگ علاقے میں پہنچ کر چالان کاٹنے لگے۔ اس سب کے بعد غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث مافیائوں نے آر ٹی آئی کارکن ستیش شرما کو سبق سکھانے کی ٹھان لی اور انہیں دھمکی بھرے کال ملنے لگے۔آس پاس کے لوگوں سے ستیش شرما کو پیغام بھجوایا جا رہا ہے کہ وہ خاموش بیٹھ جائے اور اس معاملے کو یہیں ختم کردے نہیں توسنگین نتائج بھگتنے ہونگے۔
چوتھی دنیا سے بات کرتے ہوئے ستیش شرما کہتے ہیں کہ رہائشی علاقوں میں چل رہی ان غیر قانونی سرگرمیوں کی وجہ سے آلودگی تو بڑھ ہی رہی ہے ساتھ ہی یہاں کے اسکول میں پڑھنے والے بچوں اور عام آدمی کو بھی کئی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔یہی سب دیکھتے ہوئے میں نے اس کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے آر ٹی آئی کا سہارا لیا۔میں اس میں کامیاب بھی ہوا اور اب یہی لوگ مجھے دھمکی دے رہے ہیں اور دلوا رہے ہیں۔مجھے یقین ہے کہ یہ لوگ کوئی ایسی چال چلیں گے جس سے یہ مجھے پھنسا سکیں۔ظاہر ہے یہ مافیا ایسے لوگ ہیں جن کے پاس نہ تو پیسے کی کمی ہے اور نہ ہی پہنچ کی۔بہت ممکن ہے کہ ایسے میں ستیش شرما کے ساتھ کچھ بھی ایسا ویسا ہو جائے جوپچھلے کچھ مہینوں میںملک کے مختلف حصوں میںآر ٹی آئی کارکنان کے ساتھ ہو چکا ہے۔
بہر حال جب آئین نے عوام کوسوال پوچھنے کا حق دیا ہے تو پولس سے لیکر انتظامیہ تک میں بیٹھے افسران کی یہ ذمہ اری بنتی ہے کہ وہ سچ کے ان سپاہیوں کو تحفظ فراہم کرے اور دھمکی دینے والے لوگوں کے خلاف فوراً کارروائی کرے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *