آر ایس ایس کے ایجنڈے پر بابا رام دیو

منیش کمار
جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا ہے، یوگ گرو بابا رام دیو کے دوست اور دشمن کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ بابا کے خلاف ہریدوار کے سنت سماج کے کچھ سنت اور اکھاڑہ پریشد کے کچھ بڑے بڑے دھرم آچاریہ دشمن بن گئے ہیں۔ کانگریس پارٹی سے ان کی دشمنی اب گہری ہوتی جارہی ہے، وہیں بی جے پی اور آرایس ایس کی دوستی رنگ بکھیرنے لگی ہے۔ جیسے جیسے بابارام دیو کی سیاست پروان چڑھے گی، ویسے ویسے سوال بھی اٹھنے لگیںگے۔ ان سوالوں کا جواب رام دیو کو دینا ہوگا۔ مثلاً اگر ان کی پارٹی الیکشن لڑتی ہے تو پارٹی کی آئیڈیالوجی کیا ہوگی؟ اقتصادی پالیسی کیا ہوگی؟ دلتوں، کسانوں اور مزدوروں کے لیے رام دیو کی پارٹی کیاکرے گی؟ خارجہ پالیسی کیا ہوگی؟ دفاعی پالیسی کیا ہوگی؟ بابا رام دیو اپنی تقریروں میں سسٹم کو بدلنے کی بات تو کرتے ہیں، لیکن سسٹم بدل کر متبادل نظام کیسا ہوگا؟ یہ ملک کے عوام کو بتانا چاہیے۔
کانگریس پارٹی اب بابارام دیو کو سرکاری طاقت کا احساس کرانے میں لگی ہے۔ پہلی بار بابا رام دیو بیک فٹ پر نظر آرہے ہیں۔ ان کی بلیک منی اور بدعنوانی کے خلاف سوابھیمان تحریک کو 23 مارچ کو جھٹکا لگا۔ اس دن ہریانہ کے جھجر میں ان کی ریلی تھی۔ اس کا اعلان وہ پہلے ہی کرچکے تھے۔ تقریباً 20 ہزار لوگ جمع بھی ہوئے، لیکن ملک میں کسی کو پتہ نہ چل سکا کہ بابا رام دیو نے کیا کہا؟ ان کے ساتھیوں نے سیاسی پارٹیوں پر کیا نئے الزامات لگائے۔ بدعنوانی اور بلیک منی سے رام دیو کی لڑائی میں کیا نیا موڑ آیا؟ دہلی کے رام لیلا میدان میں ہوئی ریلی کے بعد ملک کے عوام کی رام دیو سے امیدیں بڑھ گئی تھیں، لیکن آج آستھا چینل پر رام دیو کی تقریر کو لائیو دکھانے پر پابندی لگادی گئی ہے۔ پابندی اس لیے لگائی گئی ہے کیوں کہ آستھا چینل کو مذہبی پروگرام دکھانے کے لیے لائسنس دیا گیا ہے۔ اس چینل پر سیاسی پروگرام نہیں دکھایاجاسکتا ہے۔ حکومت کہتی ہے کہ آپ کا مذہبی چینل ہے۔ آپ مذہب کی بات کریں۔ آتما پرماتما کی بات کریں۔ سیاست کی باتیں مذہبی چینل پر کرنا منع ہے۔ جھجر میں ریلی ہوئی، لیکن آستھا پر اس کا راست نشریہ نہیں ہوا۔ کسی دوسرے چینل نے بھی اسے نہ تو راست دکھایا اور نہ ہی بعد میں اس ریلی کے بارے میں کوئی خبر دی۔ ملک کے کئی چینلوں کے مالکوں سے بابا رام دیو کی دوستی ہے۔ پھر بھی کسی نے بھی نہ تو بابا رام دیو کو دکھایا اور نہ ہی کوئی خبر دی۔ اس کی وجہ جاننا بھی دلچسپ ہوگا۔ دہلی کے اخباروں میں بھی بابا رام دیو کی ریلی کا نام و نشان نہیں ملا۔
اس معاملہ میں ہم نے بابا رام دیو کے ساتھیوں سے بات چیت کی جو سوابھیمان کی تحریک میں رام دیو کے ساتھ ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ یہ نوٹس غیر قانونی ہے۔ یہ دفعہ 19 کی خلاف ورزی ہے، جس کے تحت اظہار خیال کا حق دیا گیا ہے۔ اس میں دو طرح کی روک ہے۔ ایک یہ کہ آپ اپنے خیال سے تشدد نہ پھیلائیںا ور دوسرا ہندوستان کے آئین کے خلاف نہ بولیں۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ کیا بابا فرقہ پرستی کی باتیں کر رہے ہیں؟ تشدد بھڑکانے والی تقریر کر رہے ہیں یا پھر آئین کے خلاف بول رہے ہیں۔ سب سے چونکانے والی بات سوابھیمان تحریک میں رام دیو کے ساتھی انکم ٹیکس محکمہ کے سابق کمشنر وشوبندھو گپتا نے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی کے لیڈر اب بابا رام دیو کو دھمکی دے رہے ہیں کہ تم سیاست میں مت آؤ۔ تم اپنا دھرم کرم کا کام کرو۔ یہ کانگریسی لیڈران کس حیثیت سے بابا رام دیو کو دھمکی دے رہے ہیں۔ بابا کو ٹیلی فون پر یہ دھمکی دی گئی ہے۔ وہیں بھارت سوابھیمان تحریک کے رام دیو کے قریبی مسلم مذہبی رہنما کلب رشید رضوی نے کہا کہ اتنی بڑی حکومت جس کا نام حکومت ہند ہے، اگر وہ حکومت رام دیو کی آواز بند کر رہی ہے تو اس سے رام دیو کا قد بڑھ رہا ہے۔ دلوں میں رام دیو بڑے تھے ہی، اب دَلوں(پارٹیوں) میں بھی رام دیو بڑے ہوگئے ہیں۔ ورنہ ایک فقیر کی آواز سے حکومت کو کیا خطرہ ہوسکتا ہے۔ جھجر کی ریلی میں لوگ پرجوش تھے۔ سب یہ سوال کر رہے تھے کہ بابا رام دیو کی تقریر کے راست نشریہ کو حکومت نے سنسر کیوں کیا۔ بابا رام دیو نے ان لوگوں سے کہا کہ صبر کرو، میں نے تیر چھوڑ دیا ہے لگے گا ضرور۔ جلدی نہیں تو دیر سے لگے گا، لیکن چھاتی کے درمیان لگے گا۔ آستھا چینل پر رام دیو کی ریلیوں کے نشریہ پر پابندی لگا کر حکومت نے اپنی طاقت دکھائی، لیکن اس پر بابارام دیو کیا کریںگے؟ یہ دیکھنا باقی ہے۔
کانگریس پارٹی اور بابا رام دیو آمنے سامنے کیوں ہوگئے؟ کیا اختلاف صرف بلیک منی کو لے کر ہے؟ کیا کانگریس اس لیے ناراض ہے کہ بابارام دیو کے اسٹیج سے گاندھی خاندان پر الزامات لگائے جارہے ہیں۔ بابا کی دوستی گاندھی خاندان کے دشمنوں سے ہوگئی ہے، اسی لیے تو کانگریس آگ ببولا نہیں ہے؟ ویسے رام دیو نے کئی بار یہ کہا ہے کہ ان کی کسی پارٹی سے دشمنی نہیں ہے، لیکن وہ ملک کے بدعنوان سسٹم کے خلاف تحریک چلارہے ہیں۔ اس لیے بابا رام دیو کے نشانے پر موجودہ حکومت ہے۔ بابا رام دیو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ اگر حکومت میں بی جے پی بھی ہوتی تب بھی وہ تحریک چلاتے۔ کیا درحقیقت ایسا ہے؟
رام دیو کی تحریک کا پہلا ہدف بلیک منی کو واپس لانے کا ہے اور غیرملکی بینکوں میں بلیک منی جمع کرنے والوں کو بے نقاب کر کے انہیں سزا دینے کا ہے۔ اس مہم میں بابا کے ساتھ پورے ملک کو کھڑا ہونا چاہیے۔ غیرملکی بینکوں میں جمع ہندوستان کی دولت اگر واپس آگئی تو سچ مچ ملک کے وارے نیارے ہوجائیںگے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ بابا کی اس مہم کی مخالفت کرنا ملک سے غداری کے مترادف ہے۔ لیکن ایک سوال اٹھتا ہے کہ کیا ملک کی بلیک منی صرف غیرملکی بینکوں میں ہے؟ ملک میں جو بلیک منی ہے، جمع خوری ہے، کالا بازاری ہے، اس کا کیا ہوگا؟ بابا رام دیو کا بلیک منی سے مطلب ملک کے بڑے دولت مندوں سے ہے۔ جس نے ملک کے لوگوں کے خون پسینے کی کمائی کو غیرملک میں جمع کردیا ہے۔ لیکن ہمارے ملک میں متوسط طبقے کے دولت مند بھی ہیں۔ جن کا سیدھا رشتہ بھی عام لوگوں سے ہوتا ہے۔ دولت مندوں کا جو بی گریڈ ہے، اس بلیک منی کی کوئی بات کیوں نہیں کر رہا ہے؟ ملک میں جو بلیک منی پڑی ہوئی ہے اس کا کیا ہوگا۔غیر ممالک سے بلیک منی کو لایا جائے اس میں پورا ہندوستان بابا رام دیو کے ساتھ ہے۔بابا رام دیو کو غیر ممالک میں جمع بلیک منی کے ساتھ ملک کے اندر موجود بلیک منی کو باہر نکالنے کے لیے بھی اپنی مہم میں جگہ دینی چاہئے۔ دہلی کی ایک مشہور دکان ہے اور جب بھی وہاں چھاپہ پڑتا ہے تو گھی کے کنستر میں ہزار روپے کی گڈی ملتی ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ جتنی بیرون ملک میں بلیک منی ہے اس سے کئی گنا زیادہ ہندوستان میں بلیک منی ہے جو کہیں ہیرے کی شکل میں ہے، سونے کی شکل میں ہیں، کیش کی شکل میں ہے اور جسے لوگ زمین کے اندر گاڑ کر رکھتے ہیں۔ ملک میں موجودہ بلیک منی ہی ملک میں بدعنوانی کی جڑ ہے۔ رشوت میں جو پیسہ دیا جاتا ہے وہ سفید نہیں بلیک منی ہی ہوتی ہے۔ اگر ملک کے اندر موجودبلیک منی کو پکڑا جائے تو ملک کے وارے کے نیارے ہونے کے ساتھ ساتھ بدعنوانی بھی ختم ہو جائے گی۔ ان کے خلاف بابا رام دیو کیوں نہیں بولتے ہیں؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا صرف غیر ممالک میں جمع بلیک منی کو واپس لانے سے ہندوستان میں نظام تبدیل ہو جائے گا۔
بابا رام دیوملک کو نئی سمت میں لے جانا چاہتے ہیں۔ بلیک منی کو واپس لانا، بدعنوانی کو ختم کرنا وغیرہ ۔کسی بھی جماعت کا ایک ایجنڈا ہو سکتا ہے، ملک کو چلانے کے لئے ایک منظم نظریہ کی ضرورت ہوتی ہے۔جس سے ملک کی اقتصادی پالیسی ، دفاعی پالیسی اور ترقی کا راستہ طے ہوتا ہے۔ بابا رام دیو سے یہ سوال اس لئے پوچھا جانا لازمی ہے کیونکہ انھوں نے یہ اعلان کیا ہے کہ ان کی پارٹی 542سیٹوں پر الیکشن لڑے گی۔ ملک کے عوام کا یہ حق بنتا ہے کہ الیکشن سے قبل یہ جانیں کہ رام دیو کی پارٹی کی آئڈیا لوجی کیا ہے۔
بابا رام دیو نے اب اپنی تحریک یا پارٹی کاکوئی مکمل اور منظم نظریہ پیش نہیں کیا ہے۔ وہ اپنے کیمپوں اور ریلیوں میں سیاست کے بارے میں باتیں کرتے ہیں۔ ان کی باتوں سے لگتا ہے کہ بابا رام دیو ہندوستان میں ملکی نظام ، انگریزی زبان کا بائیکاٹ، گو کشی کی مخالفت اور متحد ہندوستان کے پیروکار ہیں۔ رام دیو کی تقاریر سے جو بات سمجھ میں آتی ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ بابا رام دیو کا نظریہ اور راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ کا نظریہ ایک جیسا ہی ہے۔ رام لیلا میدان میں بابا رام دیو نے کہا کہ سوئس بینکوں سے چار سو کروڑ ہندوستان لانے ہیں اور گو کشی کے پاپ سے بھی ملک کو بچانا ہے۔ گو کشی کا جرم سنگھ بھی مانتا ہے۔بی جے پی کی حکومت جس ریاست میں آتی ہے گو کشی پرپابندی نافذ کرتی ہے۔ بابا رام دیو کہتے ہیں کہ ملک میں ملکی مشینری ،ملکی نظام اور ملک کے کام کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔ اب یہ ملکی نظام کیا ہے؟ کئی سالوں سے آر ایس ایس ملکی تحریک چلا رہی ہے۔بابا کے ملک اور سنگھ کے ملک میں کوئی فرق ہے بھی یا نہیں۔یہ رام دیو کو صفائی سے بتانا چاہئے۔ بابا رام دیو اپنی تقاریر میں کہتے ہیں کہ زبان کے نام پر اس ملک کے کروڑوں لوگوں کے ساتھ نا انصافی ہو رہی ہے۔ دنیا کا کوئی آزاد ملک غیر ملکی زبان میں نہیں پڑھتا ہے۔ وہ نا انصافی بھی مٹانی ہے۔ آزاد ہندوستان میں جو انگریزی مشنری چل رہی ہے اس کو بھی مٹانا ہے۔اب سوال ہے کہ اگر ہندی کو ہم پورے ملک میں نافذ کریں گے تو جنوب اور مشرقی ریاستوں میں تحریکیں چلیں گی تو انہیں کیا جواب دیا جائے گا۔ مزیدار بات یہ ہے کہ آر ایس ایس بھی انگریزی کا بائیکاٹ اور ہندی کو قومی زبان بنانے کے حق میں ہے۔ بلیک منی پر بھی رام دیو نے بی جے پی والی لائن لے لی ہے۔ غیر ممالک میں جمع کالے دھن کو نشانہ بنایا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ گزشتہ لوک سبھا انتخابات میں اڈوانی نے کالے دھن کا معاملہ اٹھایا تب سے بابا رام دیو نے بھی بلیک منی کو اہم ایشو بنایا جو غیر ممالک میں ہے۔ایک اور ایشو چونکانے والا ہے۔ ملک میں یہ اکیلی آر ایس ایس ہی ہے جو21ویں صدی میں بھی متحدہ ہندوستان کی بات کرتی ہے اور یہی خواب بابا رام دیو کی آنکھوں میں بھی نظر آتا ہے۔دہلی کے رام لیلا میدان میں ہوئی ریلی میںبابا رام دیو نے یہ کہہ کر سب کو چونکا دیاکہ افغانستان سے لیکر برما تک اور کیلاش مان سرور جو ہندوستان کا تاج ہے اس کو بھی ہندوستان میں واپس لانا ہے۔ہو سکتا ہے کہ بابا رام دیو جوش میں یہ بات کہہ گئے ہوںلیکن اسٹیج پر بیٹھے مسلم لیڈر بھی بابا کی اس بات کو سن کر سہم گئے۔ بابا رام دیو کی باتو ں میںآر ایس ایس کا ایجنڈہ جھلکتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہندوستان میں جتنی بھی پارٹیاں یا تنظیمیں ہیں ان میں بابا رام دیو کی سب سے زیادہ اخلاقی قربت آر ایس ایس سے ہے۔
حکومت نے آستھا چینل پرسیاسی خطاب پر پابندی ضرور لگا دی لیکن بابا رام دیو اور ان کے حامیوں کو ایک نیوز چینل کولگانے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا۔جس پر دن بھر بابا رام دیو بولیں گے۔ویسے ہندوستان ایک عجیب و غریب ملک ہے جہاں مذہب اور سیاست میں فرق کر پانا بڑا مشکل ہے۔ہندوستان میں تو مذہب کے بغیر سیاست اندھی ہے اور سیاست کے بغیر مذہب لنگڑا ہے۔بابا رام دیو پورے ملک کو قیادت دینا چاہتے ہیں۔ اس ملک میں ہندو کے علاوہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی ہیں۔ بابا رام دیو کو ملک کے ہر مذہب، ذات اور علاقے کے لوگوں کی سماجی و اقتصادی ترقی کا ایجنڈا لوگوں کے سامنے رکھنا ہوگا۔ بی جے پی کی بی ٹیم بن کرملک کے نظام میں تبدیلی نہیں لائی جا سکتی۔ ویسے آر ایس ایس کو اس بات سے خوش ہونا چاہئے کہ اس کے نظریات کو پھیلانے کا کاکام ملک کا سب سے مقبول سنت کر رہا ہے۔بی جے پی کو اس بات سے خوش ہونا چاہئے کہ جس نظریے کو آگے بڑھانے اور ماننے میں انہیں شرمندگی محسوس ہوتی ہے وہ بابا رام دیو کر رہے ہیں۔
ویسے ملک کی سیاست میں دوست ملنا مشکل ہے اور سامنے سے لڑنے والے دشمن تو اور بھی مشکل سے ملتے ہیں۔کانگریس پارٹی کو اس بات سے خوش ہونا چاہئے کہ جس نظریے سے وہ لڑنے کا دم بھرتی ہے اسی ایجنڈے کو لیکر رام دیو آمنے سامنے لڑنے کو تیار ہیں۔ ویسے ہندوستان کی سیاست میں چھپ کر حملہ کرنے کی روایت کئی برسوں سے چلی آ رہی ہے۔ایجنڈے کو سامنے رکھ کر سیدھی لڑائی لڑنے والے سیاستداں رام دیو کا استقبال ہونا چاہئے۔

ہٹھ یوگی سمیت درجنوں سنتوں کےخلاف مقدمہ
بابا رام دیو اور ان کے سوابھیمان ٹرسٹ کے عہدیداروں نے سنتوں کے خلاف ہریدوار کوتوالی میںاکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کے قومی ترجمان ہٹھ یوگی سمیت 20-25 لوگوں کے خلاف مجرمانہ مقدمہ درج کراکر آگ میں گھی ڈالنے کا کام کر دیا ہے۔سنت سماج کی مخالفت جھیل رہے یوگ گرو کی دیویہ یوگی پیٹھ کے ذریعہ شائع کتاب سنت درشن کے ایک مضمون نے رام دیو کی ہندو مخالف ذہنیت کی قلعی کھول کر رکھ دی ہے۔مہاکنبھ منعقد کرانے والی سنتوں کی تنظیم اکھاڑا پریشد کے سیکڑوں سنتوں نے متحد ہو کر دیویہ یوگ پبلی کیشن کی کتابوں کو ہندو مخالف قرار دیتے ہوئے سر عام ان کی ہولی جلائی۔
اس واقعہ کے بعداپنی بڑھتی مخالفت سے بچنے کے لیے بابا کے حامیوں نے آناً فاناً میںہریدوار کوتوالی پہنچ کر دھرم نگری کے26سنتوں کے خلاف مجرمانہ دفعات میں مقدمہ درج کرا دیا۔ہریدوار کوتوالی میںبھارت سوابھیمان ٹرسٹ کے چیف سینٹرل انچارج راکیش کمار نے جو تحریر سنتوں کے خلاف دی اس کی بنیاد پر ہریدوار پولس نے گزشتہ23مارچ کو مقدمہ جرم نمبر122، آئی پی سی ایکٹ353اے-بی، 295 اے اور604کے تحت ہٹھ یوگی سمیت29سنتوں کے خلاف رپورٹ درج کر کے جانچ آر پی قنوجیہ کو سونپ دی ہے۔
معاملے کے جانچ افسر قنوجیہ کا کہنا ہے کہ مذہبی جذبات بھڑکانے کا الزام درست پائے جانے پران سنتوں کو جیل کی ہوا بھی کھانی پڑ سکتی ہے۔جانچ افسر کے تھانہ علاقے سے باہر ہونے کے سبب دو روز تک پولس ان سنتوں پر کوئی دبائو نہیں بنا سکی۔سب سے زیادہ شدید مخالفت کرنے والے سنت ہٹھ یوگی کا کہنا ہے کہ رام دیو اور ان کی تنظیم کی ہندو مخالف کارروائی کی ہر سطح پر مخالفت کرنے کے فیصلے پروہ اور پریشد کے سنت ابھی بھی قائم ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سناتن ہندو دھرم کی بے عزتی اور اس پر حملہ ہم کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کریںگے۔ چاہے ہم سنتوں پر ایک نہیں ہزار مقدمے چلا دیے جائیں۔
با با کی پیٹھ سے شائع ’سنت درشن‘ نامی کتاب کے صفحہ نمبر 186پر لکھا گیاہے۔ہندو سماج ایسے انتہا پسندوں کی پارٹی ہے جو اپنے کسی بھی ممبر کو ایک لمحہ کے لیے بھی سکھ کا سانس نہیں لینے دیتی،ظالم ہندو سماج اپنے ممبران کو پچھلے جنموں کے کئے گئے گناہوں کا پھل بھی اسی جنم میں بھوگنے کے لیے مجبور کرتا ہے۔ عدم تشدد کا سائن بورڈ لگا کررحم کا ڈھنڈورا پیٹ کر قصائیوں کی طرح طرزعمل اختیارکرنا، سچائی کی آڑ میں جھوٹ بولنا،مذہب کے نام پر بڑی بڑی لیلائیں کرنا، مذہب کے لیبل میں گناہوں کا بنڈل باندھنا، چندن کپور کے تلک لگا کر دن رات اپنی روح کو دھوکہ دینا،108نمبر کا ٹریڈ مارک لگا کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنا،یہ ہندو سماج کا پیشہ ہے۔آگے صفحہ189پر بھی ہندؤں کو بھڑکانے والے مضامین کچھ اس طرح ہیں۔ہندو سماج کتنا بے وقوف ہے جو دن رات جھوٹ بولتا ہے اور دوسروں سے سچ بولنے کی امید کرتا ہے۔خود تو غلط کاموں میں مگن ہے لیکن دوسروں کو سچائی کا پیغام دینا اپنا سب سے بڑا دھرم سمجھتا ہے۔وہ اتنا بھی نہیں سمجھتا کہ ایک درجن بچوں کا باپ ، جس کے پیر قبر میں لٹک رہے ہیں، بھی اپنی خواہشات پر قابو نہیں کر سکتا، تو سولہ سترہ برس کی نابالغ لڑکی اپنی جوانی کو کیسے سنبھال سکتی ہے۔
دھرم نگری ہری دوار کے سنت اب یوگ گرو کو بابا ماننے سے انکار کر رہے ہیں۔اب وہی سنت بابا کو ہندو دھرم مخالف کے ساتھ سنت سماج مخالف بتا کر چو طرفہ مخالفت کے ذریعہ رام دیو کو آئینہ دکھانے پر آمادہ ہیں۔سنتوں کے خلاف کئے گئے مقدموں کو واپس لینے ، رام دیو پر ہندؤں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کے الزام کے ساتھ ہری دوا ر کے درجن بھر سنتوں کے ساتھ ملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی کے عہدیداران نے انتظامیہ کو میمورنڈم دے کر سنتوں پر سے مقدمہ واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

راجکمار شرما

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *