نئی نسل کا اردو ذوق و شوق پرانی نسل کے لئے سبق ہے

وسیم راشد
سیاسی مضامین لکھتے لکھتے کبھی کبھی دل گھبرانے لگتا ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی دہلی آمد۔ ہند-پاک کرکٹ میچ، شنگلو کمیٹی کی حکماء اور بھنوٹ کو سرزنش۔ پاکستان کی مذہبی جماعت جمعیۃ علماء اسلام کے لیڈر مولانا فضل الرحمن کے قافلے پر حملہ وغیرہ اور ان سب کے دوران یہ خبر کہ ہم ہندوستانی اب ایک ارب 21 کروڑ ہوگئے ہیں اور یہ خوش خبری بھی کہ آبادی میں اضافہ کی شرح میں کمی آئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ دہلی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ میں جاری اردو کتاب میلہ۔ اب آپ سوچ رہے ہوںگے کہ ان سب سیاسی ہنگامہ خیز یوں میں یہ اردو کتاب میلہ کہاں سے آگیا تو ہوا یوں کہ ہم نے تو قلم اٹھایا تھا ہند-پاک کرکٹ میچ ڈپلومیسی پر لکھنے کے لیے لیکن ایک صاحب تشریف لائے جو کافی مشہور و معروف اردو والے ہیں اور اردو کی روزی روٹی کھاتے ہیں۔ خود کو اردو والے کہلانے میں شرم محسوس کرتے ہیں اور دوسروں کو بہت ہی حقارت سے یہ کہہ کر کہ ’’ہیں نا اردو والے‘‘ اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ ان کا اردو والوں سے یہ شکوہ تھا کہ یہ نہ اردو کی کتابیں خریدتے ہیں نہ اردو کے فروغ میں کچھ حصہ لیتے ہیں۔ اردو کے پروفیسرز، لیکچررز، ریڈرزسے تو وہ بہت ناراض تھے کہ یہ اتنی زیادہ تنخواہ تو لے لیتے ہیں مگر اردو کی کتابیں خریدنے میںان کے ہاتھ جیبوں تک جاتے ہی نہیں۔ خیر یہ تو ان کی رائے تھی ، لیکن نہ جانے کیوں میرے دل میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ اردو کتاب میلے پر ہی اس بار لکھا جائے، میلے کے دوران ہم بھی لگاتار وہاں حاضری لگا رہے تھے، کیوں کہ ’’چوتھی دنیا‘‘ کا ہمارا اپنا اسٹال لگا ہوا تھا، اس کے علاوہ ہر سال جہاں بھی یہ میلہ لگتا ہے، ایک عجیب سی کشش کے تحت ہم بھی کھنچے چلے جاتے ہوں۔ قومی اردو کونسل، مکتبہ جامعہ اور دہلی اردو اکادمی کے تعاون سے یہ میلہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے انصاری آڈیٹوریم کے باہر والے وسیع و عریض لان میں لگایا گیا تھا۔ قومی اردو کونسل جس طرح اردو کی ترویج و ترقی کے لیے کام کر رہی ہے، اس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ تقریباً ایک سال سے کونسل کے پروگراموں میں لگاتار شرکت کر رہی ہوں اور اسکول و کالج کی سطح پر اردو زبان کے مسائل، اردو زبان کی تدریسی کتابوں کے مسائل، اردو میں کمپیوٹر کورس اور اب نوجوان صحافیوں کے لیے تربیتی کورس یہ سب وہ کام ہیں جو اردو کونسل نہ ستائش کی تمنا نہ صلے کی پروا کے بغیر مہم کی طرح انجام دے رہی ہے۔ بلاشبہ حمیداللہ بھٹ صاحب لائق ستائش ہیں جو بار بار اردو والوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں۔ اردو کتاب میلہ بھی اس کی ایک کڑی تھی، جو کونسل کی جانب سے ہر سال کسی نہ کسی شہر میں لگایا جاتا ہے۔ اسی طرح دہلی اردو اکادمی کو نہ جانے یہ ہلکے سے گندمی رنگ والا ہیرا اخترالواسع کی شکل میں کہاں سے مل گیا۔ ہیرے کا رنگ سفید ہوتا ہے یہ تو دیکھا ہی تھا اور سنا بھی پر یہ یاقوتی ہیرا تو بے مثال ہے۔ کس قدر کام ان کی تقرری کے بعد دہلی اردو اکادمی اردو کی ترویج و ترقی کے لیے انجام دے رہی ہے۔ وہ ایک فعال وائس چیئرمین کی موجودگی کا ہر جگہ احساس کراتے ہیں اور پھر اس اکادمی کو نوجوان فعال سکریٹری انیس اعظمی کی شکل میں مل گیا گویا معاملہ دو آتشہ ہوگیا۔ اب یہ دونوں راغب صاحب، شمیم صاحب جو کہ اکادمی کے سرگرم ارکان میں ہیں اور دوسرے اراکین کی مدد سے لگاتار بس اردو کے کاموں میں لگے ہوئے ہیں اور مکتبہ جامعہ تو وہ ادارہ ہے جس کو ڈاکٹر ذاکر حسین، پروفیسر محمد مجیب اور ڈاکٹر عابد حسین جیسی شخصیات کی سرپرستی حاصل رہی ہے۔ گویا یوں کہہ لیجیے کہ اس اردو میلے کو بہتر سے بہتر بنانے میں ان سبھی اداروں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، مگر مگر مگر، اب آگے اس مگر کے درد کا بھی احساس کراتے چلتے ہیں۔ جامعہ کے وسیع و عریض لان میں لگے اس میلے میں غالب انسٹی ٹیوٹ، انجمن ترقی اردو ہند، دی سنڈے انڈین، عاکف بک ڈپو، انجم بک ڈپو، الکتاب پبلی کیشنز، البلاغ پبلی کیشنز، ملی پبلی کیشنز وغیرہ کم سے کم 50 اسٹال لگے ہوئے تھے بے حد خوبصورتی سے ہر اسٹال سجایا گیا تھا، مگر سبھی اسٹالوں پر اکا دکا ہی بھیڑ نظر آرہی تھی۔ سبھی کا یہ کہنا تھا کہ دیکھنے کو تو بہت لوگ آتے ہیں، مگر خریدنے والے کم ہیں۔ ہاں ایک خوش آئند بات بھی دیکھنے کو ملی کہ نوجوان نسل اس میلے میں اردو میں کچھ مشہور کتابوں کے تراجم تلاش کرتی ہوئی نظر آئی جیسے الحسنات سے شائع مائیکل ہارٹ کی کتاب کا اردو ترجمہ سو عظیم آدمی، جے کرشنا مورتی کی کتاب کا اردو ترجمہ زندگی کی اہمیت وغیرہ کتابوں کی زیادہ مانگ تھی۔ مگر سبھی اسٹال مالکان کا یہ کہنا تھا کہ اگر صرف دہلی کے ہی سارے اردو استاد اسکول، کالج اور یونیورسٹی کے کتابیں خریدنے پر آجائیں تو ہزاروں کی سیل ہوسکتی ہیں۔ خود مجھے اس بات کا تجربہ ہوا کہ ’’چوتھی دنیا‘‘ کے اسٹال پر بھیڑ لگی رہی، سب نے اس کے کاغذ کی، طباعت کی، کلر اسکیم کی، مواد کی بے حد تعریف کی، مگر اس کی صرف اور صرف 250 روپے سالانہ ممبر شپ لینے میں نوجوان ہی آگے آگے رہے۔ وہی اس اخبار کو اٹھا کر دیکھتے تھے اور بے حد متاثر ہوکر داد دیتے تھے اور پھر اس کے ممبر بن جاتے تھے۔ یہ سب ہم صرف ایک تماشائی کی طرح دیکھ رہے تھے اور دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے تھے، مگر یہ سب بہت ہی خوش کن تھا۔ کالج، یونیورسٹی کے اساتذہ اور مشہور اردو ہستیوں کو تو یہ زعم تھا کہ ہم کو تو اخبار مفت میں ملنا چاہیے اور تو آپ ہمیں بھیج ہی رہے ہیں ہم پڑھ بھی رہے ہیں، یہ بھی کیا کم احسان ہے اور پھر آپ کا ادبی صفحہ ہمارے دم سے ہی چھپ رہا ہے، مگر یقین جانییہمیں ان کے ممبر نہ بننے کا اتنا دکھ نہیں تھا جتنا نوجوان نسل کے ممبر بننے کی خوشی۔
اس اردو میلے کو کامیاب بنانے میں قومی اردو کونسل، دہلی اردو اکادمی نے جیسے جان لگادی۔ روز ہی کوئی نہ کوئی ثقافتی پروگرام منعقد کیا گیا۔ ایسے ایسے ادباء اور شعراء کو بلایا گیا، جس کو دیکھنے اور سننے کے شوق میں اس میلے کی رونق بڑھ جائے۔ مشاعرہ، قوالی، شام غزل، ڈراما وغیرہ غرضیکہ ہر عمر اور ہر طرح کے شوق رکھنے والوں کے لیے دہلی اردو اکادمی نے جتنی بھی محفلیں سجائیں، وہ لائق ستائش تھیں اور اس بات کا ثبوت کہ اردو کی ترقی کے لیے اس کی آبیاری کے لیے پیسہ کوئی معنی نہیں رکھتا، بس اس زبان کا پودا ہرا بھرارہے۔ اپنے اس اداریہ میں ہم نے بے جا کسی کی تعریف نہیں کی، کیوں کہ ہم نے جو دیکھا، محسوس کیا اور جو جذبہ نظر آیا، اس کو من و عن بیان کردیا، کیوں کہ یہی رونا رویا جاتا ہے کہ اردو کے لیے اردو والے کچھ نہیں کرتے، مگر ہم یہ کہیںگے کہ اردو والوں میں اردو اداروں کو مت جوڑیے۔ ادارے تو اپنا کام کر رہے ہیں، مگر اردو والوں میں ہم اور آپ آتے ہیں۔ اس زمرے میں ہمارا اور آپ کا ہی تعاون درکار ہے اور ہم اردو والے اس کی بدحالی کے خود ذمہ دار ہوںگے، کیوں کہ ہر سطح پر اردو کے لیے کام ہو رہا ہے۔ ہاں اتنا ضرور کہنا ہے کہ صرف مشاعرے اردو کی بقا کے لیے کافی نہیں ہیں۔ مشاعروں سے زبان کا زوال ہو رہا ہے۔ زبان کو اگر بچانا ہے اور اس کے لیے نسلیں تیار کرنی ہیں تو اسکول کی سطح پر جنگی پیمانے پر یہ کام کرنا ہوگا۔ اردو کتاب میلہ سال میں ایک بار نہیں ہر شہر میں کم سے کم تین چار بار لگنا چاہیے اور اس کے لیے سبھی اداروں کو مل کر کام کرنا چاہیے اور اردو کے سبھی اساتذہ کو بھی اپنے اپنے اسکول و کالج کے بچوں کو میلے میں لانا چاہیے تاکہ ان میں کتابیں خریدنے کا ذوق و شوق پیدا ہو۔ اس میلے میں سوائے جامعہ کے اور کسی اسکول کے بچے نظر نہیں آئے۔ دہلی میں اردو میڈیم اسکول کتنے ہیں اس کی تعداد کا تو ہمیں اندازہ نہیں، مگر دہلی کے ہر علاقے میں کم سے کم 4اردو میڈیم اسکول ہیں، اس کے علاوہ دہلی کے کچھ ایسے بھی انگلش میڈیم اسکول ہیں جن میں اردو پرائمری سے سینئر سکنڈری تک پڑھائی جاتی ہے۔ ان اسکولوں میں، ہمدرد، نیوہورائزن، کریسنٹ، شفیق میموریل، ڈی پی ایس متھرا روڈ، نوئیڈا ایم اے ایف اکیڈمی، اس کے علاوہ اوکھلا میں ہی کئی اسکول ہیں، غرضیکہ اگر ان اسکولوں کے اساتذہ اپنے اسکول کی پرائمری سے سینئر سکنڈری تک کی کلاسوں کو بھی اس میلے میں وزٹ کراتے تو کوئی وقت ایسا نہ ہوتا جب اس میں بھیڑ نہ ہوتی اور اردو کتابوں کی سیل بھی بے پناہ ہوتی۔ بچے چھوٹی چھوٹی شاعری کی کتابیں ہی خریدتے یا چھوٹی چھوٹی کہانیاں، اس سے ان میں ذوق و شوق بھی پیدا ہوتا اور زبان کی اصلاح بھی ہوتی۔
ہم کو تو دو ٹوک لکھنے اور کہنے کی عادت سی پڑ گئی ہے، کیوں کہ ہمارے اخبار کی پالیسی میں ہے سچ کہنا، دو ٹوک کہنا اور سکھی رہنا۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *