مثالی اسلامی معاشرہ کی ضرورت

مولانا حافظ کلیم اللہ عمری مدنی
حق بات یہ ہے کہ صحیح عقیدہ اور صحیح اخلاق وکردار کی جہاں بہت زیادہ اہمیت ہے اسی جگہ یہ بھی مسلّم ہے کہ ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ ناگہانی حالات میں اس کا معاشرہ اس کے ہاتھ میں ہاتھ ملاکر اس کے لیے قوت بازو بن جائے، اس کا ہمدردبنے، مونس وغمگسار ہوجائے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات میں تکافل اجتماعی کی ساری شکلیں موجود ہیں اور اسلام ہی اس کا شروع سے داعی رہا ہے اور عملًا اس کی مثالیں قائم کی ہیں، اس لیے کہ دین اسلام صرف نظریات کا نام نہیں ہے بلکہ ایک زندہ جاوید عملی مذہب ہے۔ سب سے پہلے افراد کو اس کا اہل بناتا ہے اور ایسے افراد کے ذریعہ صالح معاشرہ قائم ہوتا ہے، خاص کر افراد میں بھی میاں بیوی کو اپنے ماتحتوں کی نگرانی اور نگہبانی کا مسؤل بناتا ہے۔ شوہر اپنے ماتحتوں کا ذمہ دار ہے اور بیوی گھر اور بچوں کی ذمہ دار ہے۔ ہر مسؤل اپنے مسؤلیت سے متعلق سوال کیا جانے والا ہے یعنی خاندان کا ہررکن ایک دوسرے سے آشنا ہو اور اس کی ضروریات سے آگاہ ہو، ضرورت پرکام آئے، آپس کے روابط گہرے اور مضبوط ہوں، جس طرح کہ سیسہ پلائی ہوئی دیوارمضبوط اور مستحکم ہوا کرتی ہے ۔یہی حال مومنوں کا بھی ہونا چاہیے ارشاد باری ہے:
( ترجمہ) ’’اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے اور بُری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا، بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے ۔ اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے جنتوں کاوعدہ کیا ہے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہیں، (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور جنت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور اللہ کی رضامندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے، یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘
نیز اسلام نے سن رسیدہ افراد، خاص کر والدین کی خدمت اور ان کی فرمانبرداری تادم حیات واجب قرار دی ہے۔ رشتہ داروں مسکینوں اور مسافروں کا حق ادا کرنے کا بھی حکم صادر فرمایا  ہے۔ ارشاد الٰہی ہے : (ترجمہ) ’’اور تمہارے رب نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو، اگر ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو اُن کو اُف تک نہ کہنا اور نہ اُنہیں جھڑکنا، اور ان سے بات ادب سے کرنا، اور عجز و نیاز سے اُن کے آگے جھکے رہو اور اُن کے حق میں دعا کروکہ اے اللہ! جیسا انہوں نے مجھے بچپن میں (شفقت سے) پرورش کیا ہے تو بھی اُن ( کے حال )پر رحمت فرما ۔ جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے تمہارا رب اس سے بخوبی واقف ہے، اگر تم نیک ہو گے تو وہ رجوع لانے والوں کو بخش دینے والا ہے ۔اور رشتہ داروں اور محتاجوں اورمسافروں کو اُن کا حق ادا کرو اورفضول خرچی سے مال نہ اڑائو کہ فضول خرچی کرنے والے تو شیطان کے بھائی ہیں اورشیطان تو اپنے رب ( کی نعمتوں ) کا کفران کرنے والا یعنی نا شکرا ہے۔ (الاسراء ،23-27)
ایک صالح اسلامی معاشرہ کے ذریعہ ہی معاشرہ کی ساری ضرورتیں پوری ہوسکتی ہیں، جس کے لیے معاشرہ کے ہر فرد میں مدینہ منورۃ کے انصار کے نیک اور سچے جذبات پیدا کرنا از حد ضروری ہے۔ انصار نے مہاجربھائیوں کو اپنا بھائی بناکر ان کی ضرورتوں کا پورا خیال رکھا، مہاجربھائیوں کی اجنبیت کو دور کردیا، آپس میں شیروشکر ہوگئے، ان کا معاشرہ ایک اسلامی اور مثالی معاشرہ بن گیا، جس کی تصویر کشی سورۃ الحجرات میں کی گئی ہے۔ارشاد ربانی ہے :
(ترجمہ) ’’مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرا دیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم پر رحمت کی جائے۔ مومنو! کوئی قوم کسی قوم سے تمسخر نہ کرے، ممکن ہے کہ وہ لوگ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں سے (تمسخر کریں)، ممکن ہے کہ وہ ان سے اچھی ہوں اور اپنے (مومن بھائی) کو عیب نہ لگاؤ ا ور نہ ایک دوسرے کا بُرا نام رکھو، ایمان لانے کے بعد بُرا نام (رکھنا) گناہ ہے اور جو توبہ نہ کریں وہ ظالم ہیں۔ اے اہلِ ایمان! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیاکرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے، اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے (تو غیبت نہ کرو) اور اللہ کا ڈر رکھو، بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا ہے اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو اور اللہ کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ بیشک اللہ سب کچھ جاننے والا(اور) سب سے خبردار ہے۔ (سورۃ الحجرات، 10-13 (
نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’مومن دوسرے مومن کے حق میں عمارت کی مانند ہے۔‘‘ آپ نے اپنی انگلیوں کے درمیان دیگرانگلیوں کو داخل فرما کر ارشاد فرمایا ’’عمارت کا ہر حصہ دوسرے حصے کو مضبوطی کے ساتھ تھام لیتا ہے (بخاری 481)۔ نیز یہ بھی فرمایا کہ ’’مومن آپس میں الفت ومحبت اور ایک دوسرے کے حق میں مہربانی کرنے میںایک جسم وجان کی مانند ہیں، جس طرح جسم کے کسی حصے میں کوئی تکلیف محسوس ہو تو اس دردوکرب میں جسم کا ہر عضو شریک ہوا کرتا ہے۔ ( بخاری 6011) نیزعلامہ ابن حزم ؒ نے لکھا ہے کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ سور یا مردہ کھانے پر مجبور ہو، جب کہ اس کے بھائی کے پاس زائد کھانا موجود ہو ( المحلی لابن حزم 159/6)۔ الغرض اخوت ایمانی صحیح معنی میں پیدا ہوجائے تو امت کے بہت سارے مسائل خود بخود حل ہوتے چلے جائیں گے، ان شاء اللہ ۔ ارشادِ ربّانی ہے: (ترجمہ) ’’اور پرہیزگاری کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کیا کرو اور گناہ اور ظلم کی باتوں میں مدد نہ کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو کچھ شک نہیں کہ اللہ کا عذاب سخت ہے۔ (سورۃ المائدۃ2-(
حضرت ابوہریرۃ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جو شخص (مسلمان) کسی مسلمان کی کسی دنیوی تکلیف کو دورکرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی آخرت کی تکلیفوں میں سے کسی تکلیف کو دور کردے گا، اورجوشخص کسی تنگ دست کی تنگ دستی کو دور کرنے کے لیے آسانی پیدا کرے گا تو اللہ تعالی اس کے مسائل دنیا وآخرت میں آسان کردے گا، اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی دنیا وآخرت میں پوشیدہ کرے گا، اور اللہ تعالیٰ بندہ کی مدد میں لگا رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگارہے گا۔( صحیح مسلم 2699(38)
نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کے دور میں ناگہانی حالا ت میں جب صحابہ کرام وفود کی شکل میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تو عام منادی ہوتی کہ ان پریشان حال مسلمان بھائیوں کی مدد کی جائے، تو مہاجرین وانصار ؓاپنی اپنی حیثیت کے مطابق جمع شدہ پونجی لے آتے اور مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کرتے، جیسا کہ قبیلہ مضر فقر وفاقہ کے عالم میں کسمپرسی کی حالت میں مدینہ منورۃپہنچا تو رسول اکرمؐ نے اس کی مدد کی خاطر صحابہ کرام ؓ کو جمع فرما کر صدقہ وخیرات کا حکم دیا تو صحابہ کرام ؓ نے اپنی اپنی حیثیت کے مطابق دل کھول کر صدقہ وخیرات کیا، دیکھتے ہی دیکھتے اناج اور کپڑوں پرمشتمل دو ڈھیرجمع ہوگئے تو رسول اکرم ؐ کا چہرہ انور چمک اٹھااور فرمانے لگے کہ جس نے اسلام میں کوئی نیک عمل شروع کیا تو اس کا اجر اسے ملتا رہے گا جب تک کہ لوگ اس سنت حسنۃ کو جاری وساری رکھیں گے (مسلم  69  (1017)) ۔ الغرض، سارے مسائل کے حل کے لیے ضروری ہے کہ مسلم معاشرہ آپس میں دین کی بنیاد پر جمع ہوں اور جداہوں اور اخوت دینی کو سارے رشتوں پر ترجیح دیں۔ کتاب وسنت کی بالا دستی کوتسلیم کرتے ہوئے ہر مسئلہ میں کتاب وسنت کی طرف رجوع کریں۔ ہرقسم کی عصبیتوں سے آزاد ہوں، خواہ وہ وطنی ہو یا لسانی یا مسلکی یا رنگ ونسل کی عصبیت ہو، تو وہ دن دور نہیں کہ ہمارا معاشرہ ایک اسلامی معاشرہ بن جائے گا اور مسلم قوم مثالی قوم بن کر اپنے فرضی منصبی کو کما حقہ ادا کرے گی ، ان شاء اللہ ۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *