!ملاوٹ خوروں کو عبرتناک سزا ملے

وسیم راشد
ملاوٹ خوری ہمارے ملک کے لیے ایک ناسور بن چکی ہے۔دنیا جہاں ایڈس اور کینسر جیسی مہلک بیماریوں سے نبرد آزما ہے وہیں ہم ان بیماریوں کے ساتھ ساتھ ملاوٹ خوری کے عفریت سے بھی لڑ رہے ہیں۔ آج ملک میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے جس میں ملاوٹ نہ ہو۔ ہم کسی بھی چیز کی اصلیت کی گارنٹی نہیں دے سکتے۔دودھ، گھی ، تیل ، کھویااور آٹے وغیرہ میں تو ملاوٹ عام سی بات تھی لیکن آج انسان پھلوں اور سبزیوں میں بھی ملاوٹ کرنے سے نہیں چوک رہا ہے۔مختلف اقسام کے کیمیکل کے ذریعہ پھلوں و سبزیوں کو وقت سے پہلے کھانے لائق بنا دیا جاتا ہے۔پھلوں او رسبزیوں میں زہر کے انجکشن لگائے جا رہے ہیں۔ چند منافع خور کیسے کروڑوں لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اس کا اندازہ آپ اخبارات و ٹیلی ویزن میں روز مرہ کی خبروں سے لگا سکتے ہیں۔ آئے دن اخبارات اس طرح کی خبروں سے بھرے پڑے رہتے ہیں ،ٹی وی چینل ہر روز کئی ایسی خبریں نشر کرتے ہیں کہ ملاوٹ کا دودھ پی کر ، شراب پا کریا روٹی کھا کر اتنے لوگ ہلاک ہو گئے۔ایک چھوٹا دوکاندار بھی پھلوں اور سبزیوں کو دیر تک تازہ رکھنے کے لیے ہماری آنکھوں کے سامنے ہی ان پر کیمیکل کا چھڑکائو کر تا ہے۔ ہم یہ سب دیکھتے ہیں اور انجان بنے رہتے ہیں۔ کوئی بھی سماج میں اصلاح کی ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ کسی سے بھی ہم خود ہی جھگڑا کیوں مول لیں؟ شاید ہماری حساسیت ختم ہو گئی ہے،ضمیر ہمارا سو گیا ہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ جب ان زہر آلود سبزیوں، پھلوں یا دیگر اشیائے خورد نوش کے استعمال سے ہمارا کوئی اپنا یعنی قریبی ہلاک ہوتا ہے تو ہم خوب روتے ہیں، ملاوٹ خوروں کو گالیاں دیتے ہیں، انہیں سماج کا دشمن بتاتے ہیں، لیکن یہ سب زیادہ دن تک نہیں چلتا۔ پھر وہی معمول کی زندگی گزارنے لگتے ہیں۔ مجرم ہم خود ہیں،ہماری غیر حساسیتسماج اور ملک کو تاریک کنویں میں دھکیل رہی ہے اور ہم مجرمانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
حالیہ واقعہ کو کون بھول سکتا ہے۔ جب شمالی ہندوستان میں سنگھاڑے کا ملاوٹی آٹا(کٹو) کھانے سے سیکڑوں لوگ بیمار گئے۔ اس آٹے کے استعمال سے لوگوں کے ہاتھ پیر اینٹھنے لگے ، چکر آنے لگے اور پیٹ میں درد و الٹی کی شکایت ہونے لگی۔دیکھتے ہی دیکھتے کئی شہروں کے اسپتالوں میں متاثرین کی لمبی لمبی قطاریں لگ گئیں۔شمالی ہند کے درجنوں شہروں میں افراتفری کا عالم مچ گیا۔اس واقعہ سے اس بات کا اندازہ تو ہو گیا کہ ملاوٹ خوروں کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور نہ ہی ان کے اندر انسیانیت ہوتی ہے۔ کیونکہ کٹو کا آٹا کھانے سے بیمار ہونے والے وہ لوگ ہیں جنھوں نے نوراتروں کا برت رکھا تھا اور برت چونکہ یہ لوک کٹو کے آٹے سے کھولتے ہیں اس لیے ان کا بیمار ہونا لازمی تھا۔یعنی مذہب یا عقیدت کی ملاوٹ خوروں کی نظروں میں کوئی وقعت نہیں، انہیں تو صرف اور صرف پیسہ چاہئے اس کا ذریعہ کیسا بھی ہو؟
ملاوٹ خور منافع خوری کے چکر میں ملک کے مستقبل سے کھلواڑ کر رہے ہیں۔ اشیائے خوردنوش میںزہر ملا کر وہ ملک کے بچپن کو موت کی نیند سلا دینا چاہتے ہیں۔ اسے اپاہج بنا دینا چاہتے ہیںاور اس کام میں حکومت و انتظامیہ بھی ان کی بھرپور مدد کر رہی ہے۔ پولس کا کردار ہمیشہ اس حوالے سے مشکوک رہا ہے، وہ چند روپیوں کی خاطر کروڑوں لوگوں کی زندگی میں زہر گھولنے سے نہیں چوکتی۔افسران و حکمران بھی اس ساز باز میں نہ صرف برابرکے شریک ہیں بلکہ ملاوٹ خوروں کو مکمل تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں۔ ملاوٹ روکنے کے ہمار ے نظام کی ناکامی سے عام آدمی میں یہ تصورپختہ ہوتا جارہا ہے کہ ہمارا سسٹم اسے روکنے یا ختم کرنے میںیا تو ناکام ہے یا پھر دلچسپی ہی نہیں رکھتا۔یوں تو اعلیٰ سطح پر بڑے بڑے دعوے کیے جاتے ہیں، لیکن سب کھوکھلے ،بڑی بڑی حکمت عملیاں بنائی جاتی ہیں مگرزمینی سطح پرکوئی دوسرا ہی کھیل چلتا رہتا ہے۔کہنے کے لئے تو پولیس چھاپہ مارکارروائی بھی کرتی ہے لیکن نہ توکسی کو سزاملتی ہے اورنہ ہی کسی دکان کا لائسنس ضبط کیا جاتا ہے۔پولس و انتظامیہ کے رول سے ایسا لگتا ہے گویا پورے نظام نے ہی ملاوٹ خوروں کو بچانے اوران کو فروغ دینے کا کمٹ منٹ کر رکھا ہے۔سمجھ میں نہیں آتا کہ حکومت ملاوٹ خوروں کے خلاف مہم بھی شروع کرتی ہے اور مہم کی کامیابی کے قصیدے بھی پڑھے جاتے ہیں لیکن نتیجہ جوں کا توں رہتاہے۔ ملاوٹ خوروں کے حوصلے پست کبھی نہیں ہوتے، انہیں کبھی یہ خوف محسوس نہیں ہوا کہ ان کا یہ کام ان کی اور اہل خانہ کی زندگی برباد کر سکتا ہے۔ یہ کیسے مان لیا جائے کہ حکومت کی جانب سے کوئی مہم شروع کی جائے اوراس کی باضابطہ نگرانی بھی کی جائے اورملاوٹ خوروں کو سخت سزائیں دی جائیں اورپھر بھی ملاوٹ خوری جاری رہے ؟یہ ہرگزممکن نہیں ہے، دراصل حقیقت یہ ہے کہ ملاوٹ خور کوئی چھوٹے بنئے یا کسان نہیں بلکہ بڑے بڑے تاجر ہیں جنہیں بڑے بڑے سیاستدانوں کی پشت پناہی حاصل ہے یا یوں کہیں کہ ان سیاستدانوں کا خرچہ پانی ہی ان تاجروں کے گھر سے چلتا ہے۔ملاوٹ خوری اتنا ڈھکا چھپا کام نہیں ہے، اس کام کے بارے میں سب کو معلوم ہوتا ہے۔ پولس جانتی ہے، انتظامیہ جانتی ہے، حکومت جانتی ہے اور یہاں تک کہ عام آدمی بھی جانتا ہے۔ پولس، حکومت و انتظامیہ تو پیسے کے لالچ میں کچھ نہیں کر پاتی لیکن عام آدمی واقعی مجرمانہ طور پر خاموش رہتا ہے اور اس کی خاموشی بجا بھی ہے کیونکہ سانپ کے بل میں ہاتھ وہ کیوں ڈالے؟ ملاوٹ خوروں کے پیچھے پولس ہے، انتظامیہ ہے، حکومت ہے اور سیاستداں ہیں۔ کوئی شخص اپنی جان مصیبت میں ڈال کرملاوٹ کی اطلاع دینے کے لئے آگے کیوںآئے؟یوں بھی مختلف سطحوں پربے ضابطگیوں کی اطلاع دینے والوں کی حفاظت کرنے میں حکومت اب تک ناکام ہی رہی ہے۔اکثرایسے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں کہ سماج کا کوئی فرداگرملاوٹ خوروں کے خلاف کسی قسم کی سرگرمی ظاہرکرتاہے تواسے اپنی جان تک گنوانی پڑجاتی ہے۔تاہم یہ بات دیگر ہے کہ کسی نہ کسی  کو تو بدعنوانی اور ملاوٹ خوری کے خلاف آواز اٹھانی ہی ہوگی اور جان کی قربانی بھی دینی ہوگی۔ اگر گاندھی بھی یہی سوچ کر بیٹھ جاتے کہ میں کیوں آزادی کی تحریک چھیڑوں، ملک میں تو کروڑوں لوگ رہتے ہیں تو شاید ملک ابھی تک آزاد نہ ہوا ہوتا۔ سوناونے کے قتل کو کون بھول سکتا ہے۔ان کا قصور صرف اتنا تھا کہ وہ ایماندار تھے اور انھوں نے ملاوٹ خوروں کے خلاف مہم چھیڑ رکھی تھی، جس کی سزا انہیں اپنی جان سے ہاتھ دھوکر چکانی پڑی، ملاوٹ خوروں نے سوناو نے کو زندہ جلا کر ہلاک کردیا۔ایک پولس اہلکار کو زندہ جلاکر مار دیا جاتا ہے تو پھر عام آدمی کی کیا بساط ہے۔اس سے آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ ملاوٹ خوروں کے حوصلے کتنے بلند ہیں؟ایسی بھیانک واردات وہ تبھی انجام دے سکتے ہیں جب اعلیٰ سطح پر انہیں سیاسی پشت پناہی حاصل ہو۔
بہر حال ہمارا یہ کہنا ہے کہ ملاوٹ خوروں کے خلاف ملک گیر مہم چھیڑی جائے اورقصورواروں کو ایسی سخت سزا ملے کہ دوسرا کوئی آدمی ملاوٹ کے نام سے ہی کانپ اٹھے۔جیسے بدعنوانی کے خلاف انا ہزارے نے آواز بلند کی اور پورا ملک ان کے ساتھ کھڑا ہو گیا ویسے ہی ملاوٹ خوری کے خلاف بھی کوئی انا ہزارے سامنے آئے اور پورا ملک اس کی حمایت کرے۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *