ٹپک رہا ہے لہو آپ کے اجالوں سے

عفاف اظہر
ایک تازہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں جنگوں اور تشدد کے سبب اپنے ہی ملک میں بے گھر ہونے والے افراد کی تعداد دو کروڑ 75 لاکھ ہوگئی ہے۔یہ گزشتہ دس برس کے دوران اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔جینیوا کے انٹرنیشنل ڈسپلیسمنٹ مانیٹرنگ سینٹر کی رپورٹ کے مطابق بیس ممالک میں تقریباً تیس لاکھ افراد حال ہی میں بیگھر ہوئے ہیں جن میں سے بارہ لاکھ افریقہ میں ہیں۔ بدھ کو جاری ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق جنگ اور تشدد کے نتیجے میں بیگھر لوگوں کی تعداد میں پچھلے دس سالوں سے شدید اضافہ ہورہا ہے اور یہ تعداد اس سال بھی بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 2010 میں دنیا کے بے گھر لوگوں کی آدھی سے زیادہ تعداد پانچ ملکوں میں جن میں کولمبیا میں 35سے 52 لاکھ ، سوڈان میں 45 سے 52 لاکھ ، عراق میں 28 ملین ، کونگو میں 17 ملین اور صومالیہ میں 15 لاکھ ہیں جبکہ پاکستان میں بے گھر لوگوں کی تعداد نو لاکھ اسی ہزار ہے۔جنگوں سے متاثرہ بچوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ رادھیکا کمارا سوامی کہنا ہے کہ صرف 2010 میں ہی بے گھر ہونے والوں میں بچوں کی تعداد 12 لاکھ بیس ہزار ہے۔کم از کم گیارہ ملکوں میں کم عمر بچوں کو مسلح گروپوں میں شامل کیا جا رہا ہے اور کم از کم 18 ملکوں میں بے گھر بچوں کو جسمانی تشدد اور حملوں کا خطرہ ہے۔رپورٹ کے مطابق مشرقِ وسطی میں گزشتہ دس سال میں تین گنا زیادہ لوگ بے گھر ہوئے ہیں جن کی تعداد 2010 کے آخر تک چالیس لاکھ پہنچ گئی تھی۔رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ عراق اور یمن میںجاری شورش اور شام، لبنان اور فلسطین میں بے گھر لوگوں کے مسائل کاحل نہ ہونا ہے۔ایشیا میں بے گھر لوگوں کی تعداد میں ستر فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ پاکستان اور افغانستان میں جاری لڑائی ہے۔ تاہم الزابتھ راس موسن کا کہنا ہے کہ ایشیا میں اطلاعات حاصل کرنا مشکل ہے اس لیے بے گھر لوگوں کی تعداد زیادہ ہو سکتی ہے۔
ڈھیروں ڈھیر مبارک ہو دنیائے سیاست کے نا خداؤں کو کہ جن کی دولت کی حرص اور طاقت کا نشہ آج ایک دنیا کے سر کی چھتیں چھین چکا ہے اور مبارک ہو عالمی  مذہبی اکھاڑوں کے تمام پہلوانوں کو بھی کہ یہ تلخ حقائق پر مبنی رپورٹ ہی نہیں بلکہ آج کل عالم کا امن و سکوں جس دوراہے پر کھڑا ہے وہ صرف اور صرف انکی انتھک کاوشوں کا ہی تو ثمر ہے اور مبارک باد کے مستحق ہیں بحیثیت انسان ہم سب کہ آج ہماری بے حسی اور ضمیر فروشی کی یہ نقطۂ انتہا دنیا بھر میں انسانیت کی اس بدحالی و بیچارگی کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے ۔ آج اگر کروڑوں بے گھر افراد کھلے آسمان تلے موسم کی تلخیاں برداشت کرنے پر مجبور ہیں تو کیا ہوا آج ہمارے  پاس نیوکلیئر طاقت بھی تو ہے نا۔ آج کے حالات اگر لاکھوں معصوم و نومولود  جانوں کے لئے ذہنی تشدد کا سبب بن رہے ہیں تو کیا ہوا آج کیمیکل ہتھیاروں کا وہ استعمال بھی تو ہے ہمارے ہاتھوں میں جو پہلے کبھی نہ تھا …آج اگر لاکھوں لاوارث و یتیم بچے شدت پسند تنظیموں کا آلہ کار بن رہے ہیں تو کیا ہوا ہمارے پاس ہتھیاروں سے لیس اسلحہ کی وہ طاقتور منڈیاں ہیں جو ہر شدت پسندی کو کچلنا خوب جانتی ہیں ۔ اس نام و نہاد ترقی کی دوڑ میں ایک دوسرے کو پچھاڑنے کے سپنے آنکھوں میں لئے جنگل کے تمام تر قوانین کو مات کر دینے میں ذرا بھر بھی نہ جھجھکنے والا آج کا یہ حضرت انسان اپنی ہی تباہی کے نظارے دیکھ کر بھی آنکھیں موندے ہے ۔ ہتھیاروں سے لیس اسحلہ کی منڈیوں پر سالانہ کھربوں کا بجٹ مگر بنا سائبان یہ دربدر ہوتی انسانیت کے لئے صرف سالانہ رپورٹیں؟یعنی کہ  موت بانٹنے کے لئے ہمارے پاس کھربوں اور زندگی کے لئے کچھ بھی نہیں ؟ کیا  ہم آج اس ترقی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کہ جہاں زندگی سے موت سستی ہے؟ کتنا اندھا ہے آج کا یہ انسان کہ اپنے ہی ہاتھوں اپنی تباہی کے سامان پیدا کئے اور پھر کھلی آنکھوں سے تباہی کے نظارے دیکھ کر بھی نجانے کونسی ترقی کے نشے میں مدہوش ہے ۔
آج دنیا بھر میںکروڑوں لوگ بنا کسی چھت کے بنا کسی سائبان کے زندگی گزرنے پر مجبور ہیں اور لاکھوں یتیم و لاوارث بچے غربت سے مجبور شدت پسندوں کے ہاتھوں چڑھنے پر مجبور، یہ فقط ایک رپورٹ ہی نہیں بلکہ انسانیت کے منہ پر ایک زور دار طمانچہ ہے ۔ یہ کیسی ترقی ہے جو آج انسانیت کی ہی تنزلی کی سب سے بڑی وجہ بن چکی ہے ؟ کیا یہی ہے ہمارا وہ مستقبل کا خواب جس میں ہمارے اپنے ہی ہاتھوں سے انسانیت کے چیتھڑے مقدر ہیں ؟ ہاں شاید یہی تو ہے وہ ہمارا مستقبل کہ جس میں بہت جلد ہم اپنی ہی پھیلائی ہوئی اس دہشت کے ہاتھوں اپنی نوجوان نسل کا شکار کرنے جا رہے ہیں؟ ایک دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے اس سے بھی بڑی دہشت گردی کو متعارف کروا دو، ایک چالاک لومڑ کو ہٹانے کے لئے اس کی جگہ خونخوار بھیڑیے کو بیٹھا دو۔ یہی تو ہے ہمارا آج کا لائحہ عمل کہ ایک جہالت کے خاتمہ کے لئے اس سے بڑی دوسری جہالت کو مسلط کر دو، بیروزگاری کے خاتمے کے لئے خود ساختہ مالیاتی بحران کا اعلان کر دو، غربت کے خاتمے کے لئے غریبوں کے خاتمے کا بندوبست کر دو۔ شدت پسندوں پر قابو پانے کے لئے جنگوں سے دہشت زدہ کر دو ۔یہی تو ہے ہمارا آج نقطۂ نظر۔
خطا معاف اندھیرا تو پھر اندھیرا ہے
ٹپک رہا ہے لہو آپ کے اجالوں سے
کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہم جا کس طرف رہے ہیں ؟ ہماری منزل کیا ہے ؟ یہ جو کچھ آج ہم کر رہے ہیں اس کا انجام کیا ہے ؟ اپنی اگلی نسل کو ہم کون سا مستقبل دے رہے ہیں ؟ کیا ہم آج حیوانیت کی سطح سے بھی گر چکے ہیں کہ اپنا ہی خوں اپنے منہ پر ملنے لگے اور اپنے ہی بچوں کو نگلنے لگے ؟ اپنے بچوں کی خاطر تو حیوان تک اپنی  جانوں پر کھیل جاتے ہیں مگر ہم آج اپنے مستقبل کے ان معماروں کے ساتھ کیا برتاؤ کر رہے ہیں ؟ انھیں تعلیم سے محروم رکھ کر اپنا مستقبل تو اندھیر کر ہی چکے اب جنگوں کی دہشت اور غربت کی  بھٹیوں میں جھونک کر انھیں دہشتگردی کا وہ کندن بنا رہے ہیں جن  کے آگے کل ہمارے یہ سب ہتھیار تک بے بس ہو  جائیں گے ۔ یہ نام و نہاد ترقی کے سب دعوے دھرے رہ جائیں گے کہ آج ہم انہیں نہیں بلکہ حقیقت میں خود اپنے ہی مستقبل کو یتیم و لاوارث بنا رہے ہیں۔  جس نفرت کی بد نما فصل کا بیج آج ہم انتہائی بے حسی سے بونے میں مصروف ہیں۔ ذرا خود کو تیار رکھیے اسی مردہ ضمیری کے دامن کو اور مضبوطی سے تھام کر کہ بہت جلد یہ فصل بھی تیار ہو گی اور اس کا پھل بھی تو ہمیں کو کھاناہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *