جاپانیوں کو ہمدردی کی ضرورت ہے

وسیم راشد
جاپان کے حالیہ بحران کے حوالے سے مختلف لوگ مختلف قسم کی باتیں کہہ رہے ہیں۔ کسی کا کہنا ہے کہ جاپان چونکہ ایک ناستک ملک ہے ،جاپانیوں کے نزدیک خدا کی کوئی اہمیت نہیں ہے اس لیے جاپان پر یہ قیامت صغریٰ ٹوٹی ہے۔ بہت سے لوگ ایس ایم ایس کے ذریعہ یہ بات عام کر رہے ہیں کہ جاپان دنیا کا ایسا پہلا ملک ہے جہاں حجاب پر سب سے پہلے پابندی عائد کی گئی اور قرآن کی تعلیم پر پابندی بھی سب سے پہلے جاپان میں ہی لگائی گئی۔سائنسدانوں کا ماننا ہے کہ جاپان میں اس طرح کے طوفان یا سونامی کا آنا کوئی نئی بات نہیں ہے کیونکہ جاپان ایک ایسی جگہ بسا ہوا ملک ہے جہاں اس طرح کی تباہ کاریوں کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ جاپان کی اس سونامی کو2012کے حوالے سے کی جانے والی پیش گوئی کا آغاز مان رہے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ2012میں دنیا ختم ہو جائے گی یعنی قیامت آجا ئے گی۔ بہر حال جتنے منہ اتنی باتیں۔
ہر چند کہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جاپان کے لوگ اتنے محنتی اور جفاکش ہیں کہ وہ تمام طرح کی آفات کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور ان آفات سے نمٹنے کے لیے ان کی تیاریاں بھی حیران کن ہوتی ہیں ،اگر کوئی دوسرا ملک جاپان کی جگہ پر ہوتا تو شاید کب کا ختم ہو گیا ہوتا؟ ہاں یہ بات دیگر ہے کہ اس بار کا زلزلہ شدید ترین تھا اور اس کے نتیجہ میں آئی سونامی بھی شدید ترین تھی۔ واضح ہو کہ جاپان میں اس بار زلزلے کی شدت رکٹر پیمانے پر 8سے9 پوائنٹ کے درمیان تھی۔8سے 9پوائنٹ کے درمیان ہم اس لیے کہہ رہے ہیںکیونکہ جاپان کی میٹرولوجیکل ایجنسی نے اس زلزلے کی شدت کے بارے میں کہا ہے کہ اس کی شدت ریکٹرا سکیل پر 9 تھی اور یہ دنیا کی تاریخ کا شدت ترین زلزلہ تھا، جبکہ امریکی جیالوجیکل سروے نے اس کی شدت رکٹر پیمانے پر 8 اعشاریہ9بتائی تھی۔بحر حال زلزلہ اتنہائی شدیدتھا اور یہی وجہ ہے کہ جاپانی قوم اس زلزلے کی تباہ کاری سے اپنے آپ کو بچا نہیںپائی۔
جاپان میں سونامی کے نتیجے میں کتنے لوگ ہلاک ہوئے ،کتنے بے گھر ہو ئے یہ بتا پانا ابھی مشکل ہے ،کیونکہ جب یہ مضمون قلم بند کیا جا رہا ہے اس وقت تک جاپانی پولیس کے مطابق زلزلے اور سونامی سے چھ ہزار چار سو پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ دس ہزار دو سو لاپتہ ہیں۔ تاہم جاپانی خبر رساں ادارے کیوڈو کا کہنا ہے کہ یہ تعداد تو ان لوگوں کی ہے جن کے ناموں کا اندراج پولیس کے پاس ہے اور اصل تعداد دسیوں ہزاروں میں ہے نیز لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور عارضی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔ممکن ہے آگے آنے والے اعدادو شمار کافی چونکانے والے ہوں۔
تابکاری کے سبب بھی ہزاروں لوگوں کی ہلاکت کا امکان ہے۔کیونکہ فوکوشیما جوہری پلانٹ میں کئی دھماکوںسے تابکاری فضا میں پھیل گئی جس کے اثرات روس تک میں بھی محسوس کئے گئے۔ یعنی جاپان پھر 1945والے موڑ پر کھڑا ہے۔ 1945کا حادثہ آپ کو یقینی طور پر یاد ہوگا اگر یاد نہیں ہے تو سنا یا اس کے بارے میں پڑھا ضرور ہوگا۔ ایسا حادثہ جس نے جاپان کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی؟ جس کے اثرات آج بھی جاپان کی زمین اور انسانوں میں موجود ہیں۔ ہم بات کر رہے ہیں دوسری جنگ عظیم کے دوران امریکہ کے ذریعہ جاپان پر گرائے جانے والے ایٹم بموں کی۔6اگست 1945کی منحوس صبح جاپانیوں پرایسا قہر بن کر ٹوٹی جس نے جاپان کو برسوں پیچھے دھکیل دیا تھا۔ اس دن امریکی فضائیہ نے جاپان کے ہیرو شیما پرایٹم بم ’’لٹل بوائے‘‘ گرایا تھا۔ تین روز بعد پھر امریکہ نے ناگاساکی شہر پر’’فیٹ مین‘‘ ایٹم بم گرایا۔ حقوق انسانی کے علمبردار امریکہ کے اس قہر سے جاپان کے یہ دونوں شہر پوری طرح تبا ہ و برباد ہو گئے تھے۔ اندازے کے مطابق، صرف ہیرو شیما پر دھماکے کے نتیجے میں 70ہزار افراد موت کے منہ میں جاچکے تھے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مرنے والوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی اور اگر کینسر اور لمبے عرصے تک بیماری کے بعد مرنے والوں کو شامل کیا جائے تو یہ تعداد دو لاکھ تک پہنچی تھی۔ 60 فیصد افراد آگ کے شعلوں سے جھلس کر ہلاک ہوئے جبکہ 30 فیصد ملبہ گرنے اور 10 فیصد دیگر وجوہات سے موت کے منہ میں چلے گئے۔
ناگا ساکی کی اگر ہم بات کریں تویہ دھماکہ ہیروشیما سے بھی کہیں زیادہ بڑا اور وزنی تھا اور اس سے پیدا ہونے والی تپش کا درجہ حرارت 3900 ڈگری سیلسیس یا 7ہزار ڈگری فارن ہائٹ تھا نیز اس سے پیدا ہونے والے آگ کے شعلوں کی رفتار ایک ہزار پانچکلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ اس کے نتیجے میں تقریباً 20 ہزارعمارتیں مکمل طور پر تباہ ہوچکی تھیں۔ اندازے کے مطابق اس ایٹمی حملے میں 40ہزار افراد ہلاک اور 60ہزار زخمی ہوئے تھے اور جنوری 1946 تک اندازہ لگایا گیا تھا کہ 70ہزار افراد ہلاک ہوچکے تھے۔
تودیکھا آپ نے حقوق انسانی کے علم بر دار کی تباہ کاری کا نمونہ۔ اس سب کے باوجود جاپان نے ترقی کی رفتار جاری رکھی اور موجودہ وقت میں وہ امریکہ اور چین کے بعد دنیا کی تیسری سب سے بڑی معیشت ہے۔آج پھر جاپان کا فوکوشیما شہر تباہ و برباد ہوا چاہتا ہے۔ آج پھر جاپان کے سامنے 1945کے حالات اپنی باہیں پھیلائے کھڑے ہیں۔تاہم جاپانی قوم کے صبرو استقلال اور امیدکی سطح اتنی بلند ہے کہ اس تک اس جیسے ہزار زلزلوں کی رسائی بھی نا ممکن ہے۔ آج بھی جاپانی قوم کے چہروں سے مسکراہٹ غائب نہیں ہوئی ہے۔وہ ہمت اور حوصلے سے کام لے رہے ہیں اور ناامیدی توجیسے انہیں چھو کر ہی نہیں گزری۔ امید ہے وہ جلد ہی اس بحران سے نجات حاصل کر لیں گے اور پھر دنیا میں اپنی ترقی کے جھنڈے گاڑیں گے۔
خیال رہے کہ شمال مشرقی علاقے میں سونامی نے جو قہر ڈھایا ہے وہاں ہر ہزار برس میں اس طرح کی قدرتی آفت آسکتی ہے، کیونکہ وہ علاقہ ایسی جگہ پر ہے جہاں چٹانیں دوسری جگہوں کے مقابلے زیادہ تیزی سے کھسکتی ہیں۔ یہ بات بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ دنیا میں تیاری کے حوالے سے جاپان سے زیادہ بہتر کوئی بھی جگہ نہیں ہے، لیکن عام طور پر آپ 7یا7.5 پوائنٹ تک کی ہی منصوبہ بندی کر سکتے ہیں، لیکن9 کے ا سکیل سے زیادہ پر کچھ نہیں کیا جا سکتا۔
ماہرین کی ایک تحقیق سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ869 میں جوگان میں جو تباہی آئی تھی اس میں سونامی کا پانی زمین کی سطح پر چار کلومیٹر اندر تک پہنچ گیا تھا اور اس سے بڑے پیمانے پر سیلاب کی صورت حال پیدا ہوگئی تھی۔حالیہ سونامی کی لہریں دس میٹر تک اونچی تھیں اور ابھی یہ واضح نہیں کہ وہ زمین پر کتنی دور تک پہنچیں لیکن اطلاعات کے مطابق شاید وہ کئی میل تک گئیں۔
جاپان چونکہ اس وقت شدید ترین بحران کا سامنا کر رہا ہے اس لیے پوری دنیا کے انسانوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ بلا تفریق مذہب و ملت جاپان کی مدد کے لیے آگے بڑھیں اور بے ہودہ یا غیر انسانی تبصروں سے اجتناب کریں۔ دنیا میں سب سے بڑی چیز انسانیت ہے، اس لیے انسانیت کے ناطے انسانوں کی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔ یہ قطعاً ہمیں نہیں سوچنا چاہئے کہ ہم محفوظ ہیں یا ہماری تیاریاں اس طرح کی آفات سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔ قدرت جب کسی پر قہرڈھاتی ہے تو بے حساب ڈھاتی ہے اور تمام تر تیاریاں دھری رہ جاتی ہیں۔یہ کہنا بھی اپنے آپ میں انتہائی مضحکہ خیز ہے کہ جاپان میں قرآن کی تعلیم پر پابندی ہے اس لیے اللہ نے اس پر یہ عذاب بھیجا ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ پاکستان میں تو قرآن کی تعلیم پر پابندی نہیں ہے، تو پھر کیوں گزشتہ برس وہاں اتنا بڑا سیلاب آیا جس نے لاکھوں لوگوں کو بے گھر کر دیا اور ہزاروں لوگوں کو نگل گیا۔ کیا ہمیں پاکستان اور ایران کا زلزلہ بھی یاد نہیں ہے۔ یاد تو ضرور ہے لیکن ہم حقیقت سے آنکھیں چرا رہے ہیں۔ بات قرآن کی تعلیم پر پابندی یا اس کی تعلیم دینے کی نہیں ہے بلکہ اس کی تعلیمات پر عمل کرنے کی ہے۔ کیا ہم قرآنی تعلیمات پر عمل کر رہے ہیں۔ اگر ہم ایمانداری سے اپنے ضمیر کی آواز سنیں تو اس کا جواب ہمیں یقینی طور پر مل جائے گا اور وہ جواب نفی میں ہی ہوگا۔ لہٰذا ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم جاپانی قوم کی مدد کے لیے آگے آئیں اور ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کریں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *