چھبیس لاکھ کروڑ کا گھوٹالہ

سدھارتھ رائے
اگر 2جی اسپیکٹرم گھوٹالہ ملک کے سبھی گھوٹالوں کی ماں ہے توآج جس گھوٹالے کا چوتھی دنیا پردہ فاش کر رہا ہے، وہ ملک میں ہوئے اب تک کے سبھی گھوٹالوں کا باپ ہے۔چوتھی دنیا آپ کو اب تک کے سب سے بڑے گھوٹالے سے رو برو کرا رہا ہے۔ ملک میں کوئلہ الاٹمنٹ کے نام پر تقریباً26لاکھ کروڑ روپے کی لوٹ ہوئی ہے۔ سب سے بڑی بات ہے کہ یہ گھوٹالہ وزیر اعظم منموہن سنگھ کے دورہ اقتدار میں ہی نہیں انہی کی وزارت میں ہوا ہے۔ یہ ہے کوئلہ گھوٹالہ۔ کوئلے کو کالا سونا کہا جاتا ہے، کالا ہیرا کہا جاتا ہے، لیکن حکومت نے اس ہیرے کی بندر بانٹ کر ڈالی اور اپنے محبوب سرمایہ داروں و دلالوں کو مفت ہی دے دیا۔ آئیے دیکھتے ہیں تاریخ کی سب سے بڑی لوٹ کی پوری کہانی کیا ہے۔
سب سے پہلے سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ملک میں کوئلہ کان کنی کے سلسلہ میں سرکاری رویہ کیا رہا ہے۔ 1973 میں اس وقت کی وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی نے اپنی دوراندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ملک میں کوئلے کی کان کنی پرائیویٹ سیکٹر سے نکال لی اور اس اجارہ داری کو حکومت کے ماتحت کر دیا۔ مطلب اس کو نیشنلائزڈ کر دیاگیا۔ شاید اسی سبب ملک میں کوئلے کی پیداوار روز بروز بڑھتی گئی۔ آج یہ 70 ملین میٹرک ٹن سے بڑھ کر تقریباً 493 (2009) ملین میٹرک ٹن ہو گئی ہے۔ حکومت کے ذریعہ کوئلے کی کان کنی اور تقسیم کا حق کول انڈیا لمیٹڈ کو دے دیا گیا ہے۔ اس وجہ سے اب کوئلہ نوٹیفائڈ ریٹ پر دستیاب ہے،  جس کے سبب کوئلے کی کالا بازای پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا۔ لیکن کیپٹیو بلاک(کوئلے کو صاف کرنے کاعلاقہ)کے نام پر کوئلے کو پرائیویٹ سیکٹر کے لیے کھولنے کی سرکاری پالیسی سے اسے بہت بڑا دھچکا پہنچا اور یہ کام یوپی اے حکومت کی قیادت میں ہواہے۔
سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ گھوٹالہ سرکاری فائلوں میں درج ہے اور حکومت کے ہی اعداد و شمار چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ ملک کے ساتھ ایک بار پھر بہت بڑا دھوکہ ہوا ہے۔ یہ بات ہے 2006-2007 کی جب شیبو سورین جیل میں تھے اور وزیر اعظم خود ہی کوئلہ کے وزیر تھے۔ اس مدت میں داسی نارائن اور سنتوش باگڈودیا وزیرمملکت تھے۔ وزیراعظم کی قیادت میں کوئلہ کے ترمیم شدہ علاقوں کو پرائیویٹ سیکٹر میں سب سے زیادہ تیزی سے تقسیم کیا گیا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ کوئلے کی کانیں صرف 100 روپے فی ٹن کی کوئلے کی معدنیات پر رائلٹی کے عوض میں بانٹ دی گئیں۔ ایسا اس وقت  کیا گیا جب کوئلے کی بازاری قیمت 1800 سے 2000 روپے فی ٹن سے اوپر تھی۔ جب پارلیمنٹ میں اس سلسلے میں کچھ ممبران پارلیمنٹ نے ہنگامہ کیا تب شرمندہ ہو کر حکومت نے کہا کہ مائنس اور منرل (ڈیولپمنٹ اینڈ ریگولیشن) ایکٹ 1957 میں ترمیم کی جائے گی اور تب تک کوئی بھی کوئلے کی کان نہیںالاٹ کی جائے گی۔ 2006 میں یہ بل راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا اور یہ مانا گیا کہ جب تک دونوں ایوان اسے منظوری نہیں دے دیتے اور یہ بل پاس نہیں ہو جاتا تب تک کوئی بھی کوئلے کی کان الاٹ نہیں کی جائے گی۔ لیکن یہ بل چار سال تک لوک سبھا میں جان بوجھ کر التوا میں رکھا گیا اور 2010 میں ہی یہ قانون میں تبدیل ہوپایا۔ اس درمیان پارلیمنٹ میں کیے گئے وعدے سے حکومت منحرف ہوگئی اور کوئلے کے بلاک بانٹنے کا گورکھ دھندہ چلتا رہا۔ دراصل اس بل کو التوا میں رکھنے کی سیاست بہت گہری تھی۔ اس بل میں صاف صاف لکھا تھا کہ کوئلے یا کسی بھی معدنیات کی کانوں کی عام نیلامی ضابطے سے کی جائے گی۔ اگر یہ معاملہ التوامیں نہ رہتا تو حکومت اپنے چہیتوں کو مفت میں کوئلہ کیسے تقسیم کر پاتی؟ اس مدت میں تقریباً 21.69 بلین ٹن کوئلے کی پیداواری صلاحیت والی کانوں کو پرائیویٹ سیکٹر کے دلالوں اور سرمایہ داروں کو مفت دے دیا گیا۔ اس درمیان وزیراعظم بھی کوئلہ کے وزیر رہے اور سب سے حیرت کی بات یہ ہے کہ انہیں کے نیچے سب سے زیادہ کوئلے کے بلاک بانٹے گئے، ایسا کیوں ہوا؟ وزیراعظم نے حد کردی جب انہوں نے کل 63 بلاک بانٹ دیے اور ان 4سالوں میں تقریباً 175 بلاک آناً فاناً میں سرمایہ داروں اور دلالوں کو مفت میں دے دیے گئے۔
ویسے باہر سے دیکھنے میں اس گھوٹالے کی اصلیت سامنے نہیں آتی، اس لیے ’’چوتھی دنیا‘‘ نے پتہ لگانے کی کوشش کی کہ اس گھوٹالے میں ملک کو کتنا خسارہ ہوا ہے۔ نتیجہ جو سامنے آیا ہے، وہ سب کو حیران کردینے والا ہے۔ دراصل پرائیویٹ سیکٹر میں کیپٹیو (ترمیم شدہ) بلاک دینے کا کام 1993 سے شروع کیا گیا۔ کہنے کو ایسا اس لییکیا گیا کہ کچھ کوئلہ کانیں کان کنی کے اعتبار سے حکومت کے لیے اقتصادی اور مالی طور پر مشکل کام ثابت ہوںگی، اس لیے انہیں پرائیویٹ سیکٹر میں دینے کا ارادہ کیا گیا۔ ایسا کہا گیا کہ منافع کے لالچ میں پرائیویٹ انٹرپرائزز ان دور دراز کی مشکل کانوں کو ڈیولپ کر لیںگے اور ملک کی کوئلہ پیداوار میں اضافہ ہوجائے گا۔ 1993 سے لے کر 2010 تک 208 کوئلے کے بلاک بانٹے گئے، جو کہ 49.07 بلین ٹن کوئلہ تھا۔ ان میں سے 113 بلاک پرائیویٹ سیکٹر میں 184 نجی کمپنیوں کو دیے گئے۔ جو کوئلے کے حوالے سے 21.69 بلین ٹن کوئلہ کی پیداوار تھی۔ اگر بازاری قیمت پر اس کا اندازہ  لگایا جائے تو 2500 روپے فی ٹن کے حساب سے اس کوئلے کی قیمت 5,382,830.50کروڑ روپے ہوتی ہے۔ اگر اس میں سے 1250 روپے فی ٹن منہاکر دیا جائے یہ مان کر کہ 850 روپے پیداوار کی قیمت ہے اور 400 روپے کو منافع مان لیا جائے تو بھی ملک کو تقریباً 26 لاکھ کروڑ کے ریونیو کا خسارہ ہوا۔ تو یہ ہوا گھوٹالوں کا باپ۔ آج تک کی تاریخ کا سب سے بڑا گھوٹالہ اور شاید دنیا کا بھی سب سے بڑا گھوٹالہ ہونے کاتاج اسے ہی حاصل ہوگا۔ تحقیقات کے دوران چوتھی دنیا کو کچھ ایسی دستاویز ہاتھ لگیں جو چونکانے والاانکشاف کر رہی تھیں۔ ان دستاویزوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اس گھوٹالے کی اطلاع سی اے جی(کیگ) کو بھی ہے۔تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ اب تک اس گھوٹالے پر سی اے جی خاموش کیوں ہے؟
ملک کی معدنی دولت، جس پر120کروڑ ہندوستانیوں کا یکساں حق ہے، کو اس حکومت نے مفت میں غیر اخلاقی وجوہات سے متاثر ہوکر بانٹ دیا۔اگر اسے عوامی نیلامی ضابطے کے مطابق بانٹا جاتا توہندوستان کو اس گھوٹالے سے ہوئے 26لاکھ کروڑ روپے کے ریونیو کے خسارے سے بچایا جا سکتا تھا اور یہ پیسہ ملک کے شہریوں کے حق میں خرچ کیا جا سکتا تھا۔
یہ حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے، اس بات پر زور دے رہی ہے کہ ہندوستان کی ترقی کے لیے ملک میں توانائی کے ذرائع کو خود کفیل بنانا ضروری ہے، لیکن ابھی تک جو بات سامنے آئی ہے، وہ یہ ہے کہ وزیراعظم اور باقی کوئلہ وزیروں نے کوئلے کے بلاکوں کو نجی کھلاڑیوں کو مفت میں بانٹ دیا۔ جب کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ عوامی املاک کی عام اور شفاف نیلامی ہوتی۔اس نیلامی سے بہت زیادہ ریونیو حاصل ہوتا، جسے ملک میں مفاد عامہ کے کاموں میں صرف کیا جا سکتا تھا، لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا۔ جب اس معاملہ کو پارلیمنٹ میں اٹھایا گیا تو حکومت نے پارلیمنٹ اور لوگوں کو گمراہ کرنے کا کام کیا۔ سرکاری بل لانے کی بات کی گئی جس کے تحت یہ نیلامی کی جا سکے گی، لیکن یہ بل چار سال تک پارلیمنٹ میں زیر التوا رکھا گیا تاکہ اس درمیان جو بھی حکومت کے نجی کھلاڑیوں کے ساتھ کالے تعلقات ہیں،ان کے تحت کوئلے کے بلاکوں کو جلد از جلد بانٹ کرختم کیا جائے۔اس میں کتنے پیسوں کا لین دین ہوا ہوگا یہ تو ظاہر سی بات ہے۔
لیکن بے ضابطگیاں یہیںختم نہیں ہوجاتیں۔ایک ایسی بات سامنے آئی ہے جو چونکا دینے والی ہے۔سرکاری ضوابط کے مطابق کوئلے کے بلاک الاٹ کرنے کے کچھ قاعدے قانون ہوتے ہیں جن کو کھلے عام نظر انداز کیا گیا ہے۔بلاک الاٹمنٹ کے لئے کچھ سرکاری شرائط بھی ہوتی ہیں جنہیں کسی بھی صورت میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔جس میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ جن کانوں میں کوئلے کی کان کنی سطح کے نیچے ہوناہے، ان میں الاٹمنٹ کے 36ماہ بعد (اور اگر جنگلی علاقہ میں ایسی کان ہے تو اس کی میعاد میں چھ مہینوںکااضافہ کر دیا جاتا ہے) کان کنی کا عمل شروع ہو جانا چاہئے۔ اگر یہ کان اوپن کاسٹ قسم کی ہے تو یہ میعاد 48ماہ کی ہو تی ہے (جس میں جنگلی علاقہ ہو تو پہلے کی طرح ہی 6ماہ کی چھوٹ ملتی ہے۔)اگر اس میعاد میں کام شروع نہیں ہوتا ہے تو کان مالک کا لائسنس رد کر دیا جاتا ہے۔قابل غور بات یہ ہے کہ اس قانون کو اس لئے بنایا گیا ہے تاکہ کان اور کوئلے کی کان کنی بچولیوں کے ہاتھ نہ لگے جو براہ راست تو کوئلے کا کام نہیں کرتے بلکہ کان خرید کر ایسے تاجروں یا صنعت کاروں کو فروخت کر دیتے ہیں جن کو کوئلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس گور کھ دھندے میں بچولئے منھ مانگی قیمتوں پر کان فروخت کر سکتے ہیں، لیکن حکومت نے ایسی کسی بھی کان کا لائسنس رد نہیں کیا جو اس میعاد کے اندر پیداوار شروع نہ کر پائی ہو۔ایسا اس لئے کیونکہ الاٹمنٹ کے وقت بڑی تعدادمیں ایسے ہی بچولیوں کو کانوں کا الاٹمنٹ کیا گیا تھا جو آگے چل کر صنعت کاروں کو یہ کانیں منھ مانگی قیمتوں پر فروخت کر سکیں۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر حکومت اور بچولیوں کے درمیان ساز باز نہیں تھی تو ایسا کیوں کیا گیا؟یہ ذمہ داری سری پرکاش جیسوال کی بنتی ہے لیکن آج تک وزیر محترم نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ سال 2003تک 40بلاک تقسیم کئے گئے تھے، جس میں اب تک صرف 24 نے پیداوار شروع کی ہے،باوجود اس کے بقیہ 16کمپنیوں کے لائسنس ابھی تک خارج کیوں نہیں کئے گئے؟ سال 2004 میں 4بلاک تقسیم کئے گئے، جن میں آج تک کسی میں بھی پیداوار شروع نہیں ہو پائی۔ سال2005میں 22بلاک الاٹ کئے گئے جن میں
آج تک صرف 2بلاکوں میں ہی پیداوار شروع ہو پائی ہے۔ اسی طرح 2006میں 52بلاک، 2007میں 51بلاک، 2008میں 22بلاک، 2009میں16بلاک اور 2010میںایک بلاک الاٹ کئے گئے لیکن 18جنوری 2011تک کی رپورٹ کے مطابق، کوئی بھی بلاک پیداوار شروع کرنے کی حالت میں نہیں ہے۔پہلے تو بچولیوں کو بلاک مفت الاٹ کئے گئے، جس کے لئے مائن اینڈمنرل ایکٹ میں ترمیم کو لوک سبھا میں چار سال تک روکے رکھا گیا۔ پھر جب ان بچولیوں کی کانوں میں پیداوار شروع نہیں ہوئی (کیونکہ یہ پیداوار کے لئے الاٹ ہی نہیں ہوئی تھیں) تو بھی ان کے لائسنس رد نہیں کئے گئے۔ اب حکومت اور ان بچولیوں اور فرضی کمپنیوں کے درمیان کیا ساز باز ہے یہ سمجھنے کے لئے راکٹ سائنس پڑھناضروری نہیں ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو آج تک 208کوئلے کے بلاکوں میں صرف 26میں پیدا وار ہورہی ہو ایسا نہیں ہوتا۔
اس حکومت کی کتھنی اور کرنی میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ حکومت کہتی ہے کہ ملک کو توانائی کے شعبہ میں خود کفیل بنانا ضروری ہے ۔ ملک میں توانائی کی کمی ہے اس لئے زیادہ سے زیادہ کوئلے کی پیداوار ہونی چاہئے۔اسی مقصد سے کوئلے کی پیداوار نجی شعبوں کے لئے کھولنی چاہئے، لیکن اس حکومت نے ملک کی ترقی کا نعرہ دے کر ملک کی سب سے قیمتی املاک بچولیوں اور اپنے عزیز صنعت کاروں کے ہاتھوں میں سونپ دی۔ایسا نہیں ہے کہ حکومت کے سامنے عام نیلامی کا ماڈل نہیں تھااور ایسا بھی نہیں تھا کہ حکومت کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ مہاراشٹر کے مائننگ ڈیولپمنٹ کارپوریشن نے بھی اس عمل کے چلتے کول انڈیا سے کچھ بلاک مفت لے لئے ۔ یہ بلاک تھے اگر جھری، ورورا، مارکی،جامنی، ادکلی، گارے پیلم وغیرہ ۔ بعد میں کارپوریشن نے ان بلاکوں کو نجی کھلاڑیوں کو فروخت کیا جس  سے اسے 750کروڑ روپے کا فائدہ ہوا۔ یہ بھی  ایک طریقہ تھا جس کے ذریعہ حکومت ان بلاکوں کو فروخت کر سکتی تھی، لیکن بلاکوں کی تو بندر بانٹ ہو گئی اور وہ بھی مفت میں۔ایسا نہیں ہے کہ اس میں بچولیوں کے ہونے کا صرف قیاس لگایا جا رہا ہے، بلکہ ایک مہاراشٹر کی کمپنی جس کا کوئلے سے دو ر تک کا کوئی واسطہ نہیں تھا، نے کوئلے کے الاٹ کئے ہوئے بلاک کو 500کروڑ روپے میںفروخت کر کے بے تحاشہ منافع کمایا۔ مطلب یہ کہ حکومت نے کوئلے اور کانوں کو دلال اسٹریٹ بنا دیا، جہاں پر کانیں شیئر بن گئیں ،جن کی خرید و فروخت چلتی رہی اور عوامی امانت کی لوٹ مار ہوتی رہی۔
پرنب مکھر جی نے عام آدمی کا بجٹ پیش کرنے کی بات توکہی، لیکن جب وہ اپنا بریف کیس کھولتے ہیں تو اس میں عوام مخالف بجٹ نکلتا ہے۔ اگر اس عوام مخالف بجٹ کو بھی دیکھا جائے تو اس کے مطابق سماجی شعبوں کو ایک لاکھ ساٹھ ہزارکروڑ روپے الاٹ ہوئے ہیں۔ بنیادی ڈھانچے کو2لاکھ 14ہزار کروڑ، وزارت دفاع کو ایک لاکھ 64ہزار کروڑ الاٹ کئے گئے۔ ہندوستان کا مالی خسارہ تقریباً چار لاکھ12ہزار کروڑ کا ہے۔ٹیکس کے ذریعہ ہونے والی آمدنی تقریباً9 لاکھ32 ہزار کروڑ ہے۔ 2011-12کے لئے کل سرکاری خرچ بارہ لاکھ 57ہزار  729کروڑ ہے اورتنہا کوئلہ گھوٹالہ26لاکھ کروڑ کا ہے۔ مطلب یہ کہ 2011-2012میں حکومت نے جتنا خرچ ملک کے تمام شعبوں کے لئے مقرر کیا ہے اس کا تقریباً دو گنا پیسہ حکومت نے منافع خوروں، دلالوں اور صنعت کاروں کو خیرات میں دے دیاہے ۔مطلب یہ کہ عوام کی تین سال کی کمائی پر لگا ٹیکس صرف اس گھوٹالہ نے نگل لیا۔اتنا پیسہ جس سے ہمارے ملک کے دفاعی نظام کو آئندہ 25سال تک کے لئے مزین کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کے بنیادی ڈھانچے کو ایک سال میں ہی چاق و چوبند کیا جا سکتا تھا۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ عالمی بحران سے ابھرتے وقت ہمارے ملک کا تمام اندرونی اور باہری قرض اداکیا سکتا تھا ۔غیر ملکی بینکوں میں جمع کالا دھن آج کل ملک کے لئے سردرد بنا ہوا ہے۔ بیرونی ممالک سے اپنا پیسہ لانے سے پہلے اس کوئلہ گھوٹالہ کا پیسہ واپس عوام کے پاس کیسے آئے گا؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *