کرکٹ میچ میں فتح، کرکٹ ڈپلومیسی میں شکست

سنتوش بھارتیہ
ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیمی فائنل کا میچ عالمی کپ کا سب سے بڑا میچ رہا۔ میڈیا نے اس میچ سے پہلے ایسا ماحول بنایا،جیسے یہ کوئی کرکٹ میچ نہیں ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ ہے۔ میڈیا کا کردار سب سے اہم رہا۔ ٹی وی اینکروں نے اسے کرکٹ میچ کے بجائے قومی وقار کا سوال بنا دیا۔
میڈیا کاایسا برتاؤ حکومت ہند کے ایک فیصلہ کی وجہ سے ہوا۔ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان سیمی فائنل ہوگا، یہ خبر ملتے ہی وزیراعظم دفتر اور وزارت خارجہ اس سے فائدہ اٹھانے کی تیاری کرنے لگے۔ کرکٹ ڈپلومیسی کا پانسہ پھینکا گیا۔ پاکستان کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو میچ کا دعوت نامہ بھیج دیا گیا۔ اسی دوران داخلہ سکریٹری سطح کی میٹنگ بھی ہوگئی۔ دونوں وزرائے اعظم میچ سے لطف اندوز ہوئے۔ جب تک وزیراعظم گیلانی ہندوستان میں رہے، سب کی نظر میچ پر ٹکی رہی۔ ہند-پاک بات چیت میں ملی کامیابی اور ناکامی پر پردہ پڑا رہا۔
ہند-پاک رشتے کیا کرکٹ میچ کے محتاج ہیں؟ کیا کرکٹ میچ کی وجہ سے ہی دونوں ممالک کے وزرائے اعظم میں بات چیت ہوگی؟ اگر نہیں تو یہ پہل پہلے کیوں نہیں ہوئی؟ ویسے اس حکومت نے جو کیا وہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ہندوستان اور پاکستان کے رشتے میں کرکٹ ڈپلومیسی کا یہ نیا باب جڑا ہے۔ کرکٹ ڈپلومیسی کی شروعات فروری 1987 میں ہوئی۔ جب راجیو گاندھی نے ہند-پاک کی ٹینشن کے درمیان جنرل ضیاء الحق کو جے پور کے کرکٹ میچ کو دیکھنے کا دعوت نامہ دیا تھا۔ ضیاء الحق لوٹ کر پاکستان چلے گئے۔ اس کے بعد پاکستان نے کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات شروع کردیے۔ 2004 میں کافی دنوں سے بند ہند-پاک کرکٹ میچ کے بعد فرینڈ شپ سیریز کو انجام دیا گیا۔ 2005 میں منموہن سنگھ نے گزشتہ مرتبہ جنرل پرویز مشرف کو بلایا تھا۔ ہندوستان میچ ہار گیا تھا۔ اس مرتبہ پھر منموہن سنگھ نے کرکٹ کا بہانا بنا کر ہند-پاک مذاکرات کی شروعات کی۔ یہ منموہن سنگھ کا اپنا فیصلہ تھا۔ کرکٹ کو ڈپلومیسی کا اوزار بنانا وزیراعظم کی سوچ تھی۔ ہندوستان- پاکستان کے رشتے ممبئی بم دھماکہ کے بعد سے بگڑے تھے۔ ممبئی دھماکوں میں پاکستان کے افسران اور لوگوں کا ہاتھ ہے، ایسا جانچ سے ثابت ہوگیا تھا۔ ہندوستان ان مجرموں کو پکڑنے اور پاکستان کی زمین سے دہشت گردانہ سرگرمیوں کو ختم کرنے کی اپیل کرتا رہا ہے، لیکن پاکستان نے ہندوستان کی ایک بھی مانگ کو پورا نہیں کیا۔ وزیراعظم منموہن سنگھ کو لگا کہ گیلانی کو دعوت دے کر داخلہ سکریٹری سطح کی میٹنگ میں کم سے کم پاکستان سے کچھ یقین دہانی تو ضرور ملے گی۔
24 فروری کو کیبنیٹ کمیٹی آن سیکورٹی نے پاکستان کے ساتھ ہونے والی بات چیت کا خاکہ تیار کیا تھا۔ اس میٹنگ میں یہ طے ہوا تھا کہ ہندوستان پاکستان کے سامنے سرحد پار سے چلنے والی دہشت گردی، ممبئی دھماکہ پر کارروائی اور نقلی نوٹ کا معاملہ اٹھائے گا۔ اس کے علاوہ سرحد پار چل رہے دہشت گردانہ کیمپ اور ممبئی حملہ کے ماسٹر مائنڈ کی آواز کے سیمپل کے بارے میں بات چیت ہوگی۔ اس میٹنگ میں اس موضوع پر بھی بات ہوئی کہ پاکستان سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کا معاملہ اٹھا سکتا ہے۔ امید یہ تھی کہ اس میٹنگ سے کچھ ٹھوس باتیں نکلیںگی، لیکن دونوں ملکوں کی بات چیت کا نتیجہ امید کے مطابق نہیں نکلا۔ ہر بار کی طرح بات چیت ہوئی اور ایک مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔ بیان کے مطابق دونوں ملکوں کے درمیان اب ایک ہاٹ لائن شروع کی جائے گی، جس کا مقصد دہشت گردی سے جڑی کوئی بھی جانکاری جلد سے جلد ساجھا کرنا ہوگا۔ دونوں ملکوں نے دہشت گردی کی ہر قسم کو ختم کرنے کا اپنا وعدہ دوہرایا اور کہا کہ اس کے لیے ذمہ دار لوگوں کو سزا دلانا بے حد ضروری ہے۔ 2008 کے ممبئی حملوں کی تحقیقات سے جڑی جانکاری بانٹنے کے لیے دونوں ممالک ایک دوسرے کے جانچ کمیشنوں کا استقبال کریںگے۔ اس بات چیت میں یہ بھی طے ہوا کہ ہندوستان کی قومی جانچ ایجنسی این آئی اے اور پاکستان کی فیڈرل جانچ ایجنسی ایف آئی اے ممبئی حملوں کی جانچ میں ایک دوسرے کا تعاون جاری رکھیںگے۔ اس بات چیت میں ہندوستان نے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکہ سے جڑی جانکاری پاکستان کو دی اور ہندوستان نے کہا کہ عدالت میں رپورٹ دائر ہوجانے کے بعد تازہ جانکاری بھی ساجھا کی جائے گی۔ دونوں ممالک نے یہ فیصلہ کیا کہ اب داخلہ سکریٹری سطح کی بات چیت سالانہ کی بجائے ہر 6 مہینے میں ہوگی۔ وہیں یہ بھی طے کیا گیا کہ پاکستان کے وزیرداخلہ ہندوستان آئیںگے۔ حالانکہ اس کی تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا ہے۔
جو باتیں سامنے آئیں، ان سے یہی لگتا ہے کہ مشترکہ بیان میں پاکستان کی طرف سے کچھ نہیں دیا گیا ہے، جیسے کہ پاکستان سے جو کمیشن آنے والا ہے، اس کا ایک ٹائم فریم دیا گیا ہے، جس کے مطابق پاکستان سے آنے والا کمیشن اگلے چار سے پانچ ہفتوں کے درمیان کا وقت طے ہوگا، لیکن ہندوستان سے جو کمیشن جائے گا، ا س کے بارے میں کوئی ٹائم فریم نہیں ہے۔ کہا گیا کہ سفارت کاروں کے ذریعہ تیار کیا جائے گا۔ پاکستان نے یہ بھی نہیں کہا کہ ضرار شاہ اور ابوالکاما کا ٹیپ دیا جائے گا۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ رحمن ملک نے جون 2010 میں وزیرداخلہ پی چدمبرم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ ممبئی کے گنہگاروں کی ٹیپ کی ہوئی آواز کو وہ ہندوستان کو سونپ دیںگے۔ پاکستان نے جون 2010 میں جو وعدہ کیا وہی وعدہ انڈیا پاکستان کے میچ میں ایک دن پہلے ہوئی کابینہ سکریٹری کی میٹنگ میں دوہرا دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اب تک وہ ٹیپ کیوں نہیں ملا۔ اب تک ہم نے پاکستان سے دہشت گردوں کی آواز کاسیمپل کیوں نہیں لیا، جب کہ پاکستان میں چھپے دہشت گردوں کے ٹیپ سب سے اہم ثبوت ہیں۔ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ اگر وہ یہ ٹیپ ہندوستان کو دیتا ہے تو انہیں ان دہشت گردوں کے خلاف معاملے درج کرانے ہوںگے۔ ممبئی دھماکے کے ماسٹر مائنڈ پاکستان میں چھپے ہیں۔ حکومت ہند یہ بھی نہیں پوچھ سکی کہ ان دہشت گردوں کے خلاف پاکستان میں جو تحقیقات ہو رہی ہیں، وہ کہاں تک پہنچیں۔ اس معاملے کی حالت کیا ہے؟ تو کیا یہ مان لیا جائے کہ حکومت نے پاکستان میں چھپے ممبئی کے دھماکے میں شامل دہشت گردوں کو سزا دلانے میں نرمی برتی ہے۔ حکومت کی گنہگاروں کو پکڑنے کی خواہش کم ہوگئی ہے۔ پاکستان نے یہ بھی وعدہ نہیں کیا کہ پاکستان میں جو دہشت گردی کے کیمپ چل رہے ہیں، انہیں بند کیا جائے گا۔ نقلی نوٹوں سے ہندوستان نبردآزما ہے۔ سارے ثبوت موجود ہیں کہ ہندوستان میں نقلی نوٹ پاکستان سے آتے ہیں۔ پھر بھی اس بات چیت میں پاکستان نے یہ یقین دہانی تک نہیں کرائی کہ نقلی نوٹ کے خلاف وہ کوئی ٹھوس قدم اٹھائے گا۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ اور وزارت خارجہ پہلے بھی پاکستان کے جھانسے میں آچکے ہیں۔ یہ کہانی جولائی 2009 شرم الشیخ کی ہے، جب ہندوستان نے ممبئی حملے کے ذمہ دار دہشت گردوں کے خلاف پاکستان سے کارروائی کرنے کو کہا، تب پاکستان نے یہ یقین دلایا تھا کہ ممبئی کے گنہگار پاکستان کے گنہگار ہیں۔ دھماکہ کے لیے ذمہ دار دہشت گردوں کو کسی بھی قیمت پر نہیں چھوڑا جائے گا۔ پاکستان نے یہاں تک کہا کہ ضرورت پڑی تو وہ اپنے قانون میں تبدیلی کر کے بھی دہشت گردوں کو سزا دلائے گا۔ حکومت ہند پاکستان کے جھانسے میں آگئی۔ اس کے بعد منموہن سنگھ نے بات چیت شروع کرنے کا من بنایا اور بلوچستان کو بھی مشترکہ بیان میں شامل کرنے کی اجازت دی۔ پاکستان کی اب یہ رٹ ہے کہ شرم الشیخ میں ہندوستان نے بہت سارے وعدے کیے تھے، جن سے اب وہ مکر گیا ہے۔ اصلیت یہ ہے کہ ہندوستان جتنا پاکستان کو راحت دیتا ہے، پاکستان اتنا ہی اس کا اپنے مفاد کے لیے استعمال کر تا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان کی باتوں پر کتنا بھروسہ کیا جائے؟
اصل بات یہ ہے کہ ہند-پاک مذاکرات کی کامیابی کی پہلی شرط یہ ہے کہ پاکستان کے لیڈر اتنے مضبوط ہوں کہ جو مذاکرات میں وعدہ کریں، اسے پورا کریں۔ موجودہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور صدر آصف علی زرداری دونوں ہی پریشانیوں سے گھرے ہیں، دونوں ہی کمزور ہیں۔ اس لیے ہندوستان کو ان سے کسی طرح کی امید نہیں کرنی چاہیے۔ اگر وہ ہندوستان کے ساتھ اپنے وعدے نبھائیںگے تو پاکستان میں ان کے سیاسی وجود پر سوال کھڑا ہوجائے گا۔ مشرف جس وقت بات چیت کر رہے تھے، اس وقت وہ اس حالت میں تھے، لیکن پہلے وکلاء کی تحریک اور بعد میں لال مسجد واقعہ سے ان کی حالت کمزور ہوتی چلی گئی۔ ہند-پاک مذاکرات بھی پٹری سے اتر گئے۔ یوسف رضا گیلانی کی پاکستان میں کیا حالت ہے،اس کا جائزہ حکومت ہندکو پہلے ہی لینا تھا۔ کیا وہ کوئی بڑا فیصلہ لے سکتے ہیں،اس پر پہلے ہی غور کرلینا تھا، تب دعوت نامہ بھیجنا تھا۔کرکٹ کو بہانا بنا کر بات چیت کو کامیاب کرنے کی کوشش حکومت ہند کے لیے مہنگی پڑی۔ کرکٹ کا سیمی فائنل تو ہندوستان جیت گیا، لیکن کرکٹ ڈپلومیسی میں ہندوستان کی ہار ہوئی ہے۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *