نقلی نوٹ، ریزروبینک اور حکومت

ڈاکٹر منیش کمار

ملک کے ریزروبینک کے والٹ پر سی بی آئی نے چھاپہ مارا۔ اسے وہاں 500 اور 1000 روپے کے نقلی نوٹ ملے۔ اعلیٰ افسران سے سی بی آئی نے پوچھ تاچھ کی۔ دراصل سی بی آئی نے نیپال، ہندبارڈر کے60 سے70 مختلف بینکوں کی برانچوں پرچھاپہ ماراتھا، جہاں سے نقلی نوٹوںکا کاروبار چل رہاتھا۔ ان بینکوں کے افسران نے کہا کہ انہیں یہ نقلی نوٹ ہندوستان کے ریزروبینک سے مل رہے ہیں۔ اس پورے واقعہ کو حکومت ہند نے ملک سے اور ملک کی پارلیمنٹ سے پوشیدہ رکھا۔ یا شاید سی بی آئی نے حکومت ہند کو واقعہ کے بارے میں کچھ بتایاہی نہیں۔ ملک اندھیرے میں اور ملک کو تباہ کرنے والے روشنی میں۔ آئیے آپ کو آزاد ہند کی سب سے بڑی مجرمانہ سازش کے بارے میں بتاتے ہیں ،جسے ہم نے پانچ مہینے کی تلاش کے بعد آپ کے سامنے رکھنے کافیصلہ کیاہے۔ کہانی ہے کہ ریزروبینک کے ذریعہ اور ملک کے مجرموں کے ذریعہ نقلی نوٹوں کے کاروبارکی۔
نقلی نوٹوں کے کاروبار نے ملک کے اقتصادی نظام کو پوری طرح اپنے جال میں جکڑ لیا ہے۔عام آدمی کے ہاتھوں میں نقلی نوٹ ہیں، لیکن انہیں خبر تک نہیں ہے۔بینک میں نقلی نوٹ مل رہے ہیں، اے ٹی ایم نقلی نوٹ اگل رہے ہیں۔اصلی نقلی نوٹ پہچاننے والی مشین نقلی نوٹ کو اصلی بتا رہی ہے۔اس ملک میں کیا ہو رہا ہے، یہ سمجھ کے باہر ہے۔ چوتھی دنیا کی تحقیقات سے یہ معلوم ہوا ہے کہ جو کمپنی ہندوستان کے لیے کرنسی چھاپتی رہی وہی500اور 1000کے نقلی نوٹ بھی چھاپ رہی ہے۔ہماری تحقیقات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملک کی حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیاجانے انجانے میں نوٹ چھاپنے والی غیر ملکی کمپنی کے پارٹنر بن چکے ہیں۔اب سوال یہی ہے کہ اس خطرناک سازش پر ملک کی حکومت اور ایجنسیاں کیوں خاموش ہیں؟
ایک اطلاع جو پورے ملک سے چھپا لی گئی۔ اگست2010میں سی بی آئی کی ٹیم نے ممبئی میں ریزرو بینک آف انڈیا کے والٹز میں چھاپا مارا۔سی بی آئی کے افسران حیران رہ گئے، جب انہیں معلوم ہوا کہ ریزرو بینک آف انڈیا کے خزانے میں نقلی نوٹ ہیں۔ ریزرو بینک سے ملے نقلی نوٹ وہی نوٹ تھے، جنہیں پاکستان کی خفیہ ایجنسی نیپال کے راستے ہندوستان بھیج رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہندوستان کے ریزرو بینک میں نقلی نوٹ کہاں سے آئے؟ کیا آئی ایس آئی کی رسائی ریزرو بینک کی تجوری تک ہے یا کوئی بہت ہی خوفناک سازش ہے، جو ہندوستان کی معیشت کو کھوکھلا کر چکی ہے۔سی بی آئی اس سنسنی خیز معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔6بینک ملازمین سے سی بی آئی نے پوچھ گچھ بھی کی ہے۔اتنے مہینے بیت جانے کے باوجود کسی یہ پتہ نہیں چلا کہ جانچ میں کیا نکلا؟ سی بی آئی اور وزارت مالیات کو یہ بتانا چاہئے کہ بینک افسران نے جانچ کے دوران کیا کہا؟ نقلی نوٹ کے اس خطرناک کھیل پر حکومت اور پارلیمنٹ خاموش کیوں ہے اور پارلیمنٹ اندھیرے میں کیوں ہے؟
اب سوال یہ ہے کہ سی بی آئی کو ممبئی کے ریزروبینک آف انڈیا میں چھاپہ مارنے کی ضرورت کیوں پڑی۔ریزروبینک سے پہلے نیپال کی سرحد سے ملحق بہار اور اتر پردیش کے تقریباً 70 اور80 بینکوں میں چھاپہ ماراگیا کیوںکہ جانچ ایجنسیوں کو خبر ملی ہے کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی بذریعہ نیپال ہندوستان میں نقلی نوٹ بھیج رہی ہے۔ سرحد کے علاقے کے بینکوں میں نقلی نوٹوںکالین دین ہورہاہے۔ آئی ایس آئی کے ریکٹ کے ذریعہ پانچ سوروپے کے نوٹ ڈھائی سو روپے میں بیچے جارہے ہیں۔ چھاپے کے دوران ان بینکوں میں اصلی نوٹ بھی ملے اور نقلی نوٹ۔ جانچ ایجنسیوں کو لگا کہ نقلی نوٹ نیپال کے ذریعہ بینک تک پہنچے ہیں۔ لیکن جب پوچھ تاچھ ہوئی تو سی بی آئی کے ہوش اڑگئے۔ کچھ بینک افسران کی گرفتاری بھی ہوئی۔ یہ بینک افسران رونے لگے۔ اپنے بچوں کی قسمیں کھانے لگے۔ ان لوگوں نے بتایا کہ انہیں نقلی نوٹوں کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں۔ کیونکہ یہ نوٹ ریزروبینک سے آئے ہیں۔ یہ کسی ایک بینک کی کہانی ہوتی تو اس سے انکار بھی کیاجاسکتاتھا لیکن ہر جگہ یہ یہی معاملہ ملا۔ یہاں سے ملی جانکاری کے بعد ہی سی بی آئی نے فیصلہ کیا کہ اگر نقلی نوٹ ریزروبینک سے آرہے ہیں تو وہیں جاکر دیکھاجائے کہ معاملہ کیاہے۔ سی بی آئی ریزروبینک آف انڈیا پہنچی یہاں سے نقلی نوٹ ملے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ریزروبینک سے ملے نقلی نوٹ وہی نوٹ تھے جنہیں آئی ایس آئی نیپال کے ذریعے ہندوستان بھیجتی ہے۔  ریزروبینک آف انڈیا میں نقلی نوٹ کہاں سے آئے اس معاملے کو سمجھنے کے لیے بہار اور اترپردیش میں نقلی نوٹوں کے معاملے کو سمجھنا ضروری ہے۔ دراسل ہوایہ ہے کہ آئی ایس آئی کی سرگرمیوں کی وجہ سے یہاں آئے دن نقلی نوٹ پکڑے جاتے ہیں۔ معاملہ عدالت پہنچتاہے بہت سارے کیسوں میں وکیلوں نے انجانے میں جج کے سامنے یہ دلیل دی کہ پہلے یہ تو طے ہوجائے کہ یہ نوٹ نقلی ہیں۔ ان وکیلوں کو شاید جعلی نوٹ کے کاروبار کے میںکوئی اندازہ نہیں تھا۔ صرف عدالت سے وقت لینے کے لیے انہوںنے یہ دلیل دی تھی۔ عدالت نے ضبط ہوئے نوٹوںکو جانچ کے لئے سرکاری لیب بھیج دیاتاکہ یہ طے ہوسکے کہ ضبط کئے گئے نوٹ نقلی ہیں۔ رپورٹ آتی ہے کہ نوٹ اصلی ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ اصلی اور نقلی نوٹوں کے کاغذ روشنائی، چھپائی اور تحفظاتی نشان ایک جیسے ہیں۔ جانچ ایجنسیوں کے ہوش اڑگئے کہ اگر یہ نوٹ اصلی ہیں تو پھر پانچ سو کا نوٹ ڈھائی سو میں کیوں فروخت ہورہاہے۔ انہیں تسلی نہیں پھر انہیں نوٹوںکو ٹوکیو اور ہان کانگ کی لیب میں بھیجاگیا وہاں سے بھی رپورٹ آئی کہ یہ نوٹ اصلی ہیں۔ پھر انہیں امریکہ بھیجاگیا۔ نقلی نوٹ کتنے اصلی ہیں اس کا پتہ تب چلا جب امریکہ کی ایک لیب نے یہ کہا کہ یہ نوٹ نقلی ہیں۔ لیب نے یہ بھی کہا کہ دونوں میں اتنی اکسانیت ہے کہ جنہیں پکڑنا مشکل ہے اور جو فرق ہے وہ بھی جان بوجھ کر ڈھالے گئے ہیں اور نوٹ بنانے والی کوئی بہترین کمپنی ہی بناسکتی ہے۔ امریکہ کے لیب نے جانچ ایجنسیوں کو پورا ثبوت دے دیا اور طریقہ بتایا کہ کیسے نقلی نوٹوں کو پہچانا جاسکتاہے۔ اس لیب نے بتایا کہ ان نقلی نوٹوں میں ایک چھوٹی سی جگہ ہے جہاں چھیڑچھاڑ ہوئی ہے اس کے بعد ہی نیپال کی سرحد سے ملحق بینکوں میں چھاپہ ماری کاسلسلہ شروع ہوا۔ نقلی نوٹوںکی پہچان ہوگئی۔ لیکن ایک بڑا سوال کھڑا ہوگیا کہ نیپال سے آنے والے پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹ اور ریزروبینک میں ملنے والے نقلی نوٹ ایک ہی طرح کے کیسے ہیں۔ جس نقلی نوٹ کو آئی ایس آئی بھیج رہی ہے وہی نوٹ ریزرو بینک میں کیسے آئے؟ دونوں جگہ پکڑے گئے نقلی نوٹوں کے کاغذ، انک اور چھپائی ایک جیسی کیوں ہے؟ماہرین بتاتے ہیں کہ ہندوستان کے 500اور 1000کے جو نوٹ ہیں ان کی کوالٹی ایسی ہے جسے آسانی سے نہیں بنایا جا سکتا اور پاکستان کے پاس وہ ٹکنالوجی ہے ہی نہیں؟اس سے یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ جہاں سے یہ نقلی نوٹ آئی ایس آئی کو مل رہے ہیں وہیں سے ریزرو بینک آف انڈیا کو بھی سپلائی ہو رہے ہیں۔ اب دو ہی باتیں ہو سکتی ہیں۔ یہ تفتیشی ایجنسیوں کو طے کرنا ہے کہ ریزرو بینک آف انڈیا کے افسران کی ملی بھگت سے نقلی نوٹ آئے یا پھر ہماری معیشت ہی عالمی مافیا گینگ کی سازش کا شکار ہو گئی ہے۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ یہ نقلی نوٹ چھاپتا کون ہے؟
ہماری تحقیق ڈے لا رو نام کی کمپنی تک پہنچ گئی۔ جو معلومات حاصل ہوئی اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نقلی نوٹ کے کاروبارکی جڑ میں یہی کمپنی ہے۔ڈے لا رو کمپنی کا سب سے بڑا قرار آر بی آئی کے ساتھ تھا، جسے یہ اسپیشل واٹر مارک والا بینک نوٹ پیپر سپلائی کرتی رہی ہے۔ گزشتہ کچھ وقت سے اس کمپنی میں بھونچال آیا ہوا ہے۔جب ریزرو بینک میں چھاپا پڑا تو ڈے لا رو کے شیئر لڑھک گئے۔ یوروپ میں خراب کرنسی نوٹوں کی سپلائی کا معاملہ چھا گیا۔ اس کمپنی نے آر بی آئی کو کچھ ایسے نوٹ دے دئے جو اصلی نہیں تھے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی ٹیم انگلینڈ گئی۔اس نے ڈے لا رو کمپنی کے افسران سے بات چیت کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ کمپنی نے ہمپشائر کی اپنی یونٹ میں پروڈکشن اور آگے کی شپمنٹ بند کر دی۔ ڈے لا رو کمپنی کے افسران نے بھروسہ دلانے کی بہت کوشش کی لیکن آر بی آئی نے یہ کہا کہ کمپنی سے وابستہ کئی طرح کی تشویش ہے۔انگریز ی میں کہیں توسیریس کنسرنس ۔ٹیم واپس ہندوستان آ گئی۔ڈے لا رو کمپنی کی 25فیصد کمائی ہندوستان سے ہوتی ہے۔اس خبر کے آتے ہی ڈے لا رو کمپنی کے شیئر لڑھک گئے۔یوروپ میں ہنگامہ مچ گیا، لیکن ہندوستان میں نہ وزیر خزانہ نے کچھ کہا، نہ ہی آر بی آئی نے کوئی بیان دیا۔ ریزرو بینک آف انڈیاکے نمائندوں نے جو تشویش ظاہر کی وہ تشویش کیسی ہے؟ اس تشویش میں کتنی سنجیدگی ہے ؟ ریزرو بینک آف انڈیا کے ساتھ ڈیل بچانے کے لئے کمپنی نے اعتراف کیا کہ ہندوستان کے آر بی آئی کو دئے جا رہے کرنسی پیپر کے پروڈکشن میں جو غلطیاں ہوئیں وہ سنگین ہیں۔بعد میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹیو جیمس ہسی کو 13اگست 2010کو مستعفی ہونا پڑا ۔یہ غلطیاں کیا ہیں؟ حکومت خاموش کیوں ہے؟ ریزرو بینک آف انڈیا کیوں خاموش ہے؟دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی کے اندر اس بات کو لیکر…

جانچ چل رہی تھی اور ایک ہماری پارلیمنٹ ہے ، جسے کچھ معلوم نہیں ہے۔ 5جنوری2011کو یہ خبر آئی کہ حکومت ہند نے ڈے لا رو کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کر لیے۔معلوم یہ ہوا کہ 16000ٹن کرنسی پیپر کے لیے ریزرو بینک آف انڈیا نے ڈے لا رو کی چار کامپٹیٹر کمپنیوں کو ٹھیکہ دے دیا۔ریزرو بینک نے ڈے لا رو کو اس ٹنڈر میں حصہ لینے کے لیے دعوت بھی نہیں دی۔ ریزرو بینک اور حکومت ہند نے اتنا بڑا فیصلہ کیوں لیا؟اس فیصلے کے پیچھے دلیل کیا ہے؟ حکومت نے پارلیمنٹ کو بھروسے میں کیو ں نہیں لیا؟28جنوری کو ڈے لارو کمپنی کے ٹم کوبولڈ نے یہ بھی کہا کہ ریزرو بینک آف انڈیا کے ساتھ ان کی بات چیت چل رہی ہے،لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ڈے لا رو کا اب آگے ریزرو بینک آف انڈیا کے ساتھ کوئی معاہدہ ہوگا یا نہیں۔اتنا سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی ڈے لا رو سے کون بات کر رہا ہے اور کیوں بات کر رہا ہے؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پورے عمل کے دوران ریزرو بینک آف انڈیا خاموش کیوں رہا؟اس تحقیقات کے دوران ایک سنسنی خیز سچ سامنے آیا۔ ڈے لا رو کیش سسٹم انڈیا پرائیویٹ لمٹیڈ کو2005میں حکومت نے دفتر کھولنے کی اجازت دی۔یہ کمپنی کرنسی پیپر کے علاوہ پاسپورٹ، ہائی سیکورٹی پیپر، سیکورٹی پرنٹ، ہولو گرام اور کیش پروسیسنگ سولیوشن میںڈیل کرتی ہے۔یہ ہندوستان میں اصلی اور نقلی نوٹوں کی پہچان کرنے والی مشین بھی فروخت کرتی ہے۔ مطلب یہ کہ یہی کمپنی نقلی نوٹ ہندوستان بھیجتی ہے اور یہی کمپنی نقلی نوٹوں کی جانچ کرنے والی مشین بھی لگاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ملک میںنقلی نوٹ بھی مشین میں اصلی نظر آتے ہیں۔اس مشین کے سافٹ ویئر کی ابھی تک جانچ نہیں کی گئی ہے، کس کے اشارے پر اور کیوں؟ تفتیشی ایجنسیوں کو بلا تاخیر ایسی مشینوں کو ضبط کرنا چاہئے، جو نقلی نوٹوں کو اصلی بتاتی ہیں۔ حکومت کو اس بات کی جانچ کرنی چاہئے کہ ڈے لا رو کمپنی کے رشتے کن کن اقتصادی اداروں سے ہیں۔ نوٹوں کی جانچ کرنے والی مشینوں کی سپلائی کہاں کہاں ہوئی ہے؟
ہماری جانچ ٹیم کو ایک ذرائع نے بتایا کہ ڈے لا رو کمپنی کا مالک اطالوی مافیا کے ساتھ مل کر ہندوستان کے نقلی نوٹوں کا ریکٹ چلا رہا ہے۔ پاکستان میں آئی ایس آئی یادہشت گردو ںکے پا س جو نقلی نوٹ آتے ہیں، وہ سیدھے یوروپ سے آتے ہیں۔ حکومت ہند ریزرو بینک آف انڈیا اور ملک کی تفتیشی ایجنسیاں اب تک نقلی نوٹوں پر نکیل اس لیے نہیں کس پائی ہیں،کیونکہ جانچ ایجنسیاںاب تک اس معاملے میںپاکستان، ہانگ کانگ، نیپال اور ملیشیا سے آگے نہیں دیکھ پا رہی ہیں، جو کچھ یوروپ میں ہو رہا ہے اس پر حکومت ہند اور ریزرو بینک آف انڈیا خاموش ہیں۔
اب سوال اٹھتا ہے کہ جب ملک کی سب سے اہم ایجنسی نے اسے قومی سیکورٹی کا ایشو بتایاتب حکومت نے کیا کیا؟جب ڈے لا رو نے نقلی نوٹ سپلائی کیے تو پارلیمنٹ کو کیوں نہیں بتایا؟ڈے لا رو کے ساتھ جب قرار ختم کرکے چار نئی کمپنیوں کے ساتھ قرار ہوا تو اپوزیشن کو کیوں نہیں پتہ نہیں چلا؟ کیا پارلیمنٹ میں انہیں معاملوں پر بحث ہوگی، جن کی رپورٹ میڈیا میں آتی ہے۔اگر جانچ ایجنسیاں ہی کہہ رہی ہیں کہ نقلی نوٹ کا کاغذ اصلی نوٹ کے جیسا ہے تو پھر سپلائی کرنے والی کمپنی ڈے لا رو پر کارروائی کیوں نہیں ہوئی؟ حکومت کو کس کے حکم کا انتظار ہے؟سمجھنے والی بات یہ ہے کہ ایک ہزار نوٹوں میں سے دس نوٹ اگر جعلی ہیں تو یہ حالت ملک کی معیشت کو تباہ کر سکتی ہے۔ہمارے ملک میں ایک ہزار میں کتنے نوٹ جعلی ہیں، یہ معلوم کر پانا بھی مشکل ہے، کیونکہ جعلی نوٹ اب ہمارے بینکوں اور اے ٹی ایم مشینوں سے نکل رہے ہیں۔

نقلی نوٹوں کا مایاجال
خود حکومت کے ہی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 2006سے 2009کے درمیان 7.34لاکھ سو روپے کے نوٹ،5.6لاکھ پانچ سو کے نوٹ اور 1.09لاکھ ایک ہزار کے نوٹ برآمد کئے گئے۔ نائک کمیٹی کے مطابق، ملک میں تقریباً 1,69,000کروڑ جعلی نوٹ بازار میں موجود ہیں۔ نقلی نوٹوں کا کاروبار کتنی خطرناک شکل اختیار کر چکا ہے، یہ جاننے کے لئے گزشتہ کچھ سالوں میں ہوئی کچھ اہم میٹنگوں کے بارے میں جانتے ہیں۔ان میٹنگوں سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک کی ایجنسیاں سب کچھ جانتے ہوئے بھی بے بس اور لاچار ہیں۔ اس دھندے کی جڑ میں کیا ہے، یہ ہمارے خفیہ محکمہ کو معلوم ہے۔ نقلی نوٹوں کے لئے بنی جوائنٹ انٹیلی جنس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ ہندوستان نقلی نوٹ پرنٹ کرنے والوں کے ذرائع تک نہیں پہنچ سکا ہے۔ نوٹ چھاپنے والی پریس غیر ممالک میں قائم ہیں۔ اس لئے اس مہم میںوزارت خارجہ کی مدد لینی ہوگی تاکہ ان ممالک پر دبائو ڈالا جا سکے۔ 13اگست 2009کو سی بی آئی نے ایک بیان دیا کہ نقلی نوٹ چھاپنے والوں کے پاس ہندوستانی کرنسی بنانے کا خفیہ سانچہ ہے، نوٹ بنانے والی اسپیشل انک اور پیپر کی مکمل جانکاری ہے۔ اسی وجہ سے ملک میں اصلی نظر آنے والا نقلی نوٹ بھیجے جا رہے ہیں۔ سی بی آئی کے ترجمان نے کہا کہ نقلی نوٹوں کے معاملہ کی تحقیقات کے لئے ملک کی کئی ایجنسیوں کی مدد سے ایک اسپیشل ٹیم بنائی گئی ہے۔ 13ستمبر 2009کو نارتھ بلاک میں واقع انٹیلی جنس بیورو کے صدر دفتر میں ایک میٹنگ ہوئی تھی، جس میں اکنامک انٹیلی جنس کی تمام اہم ایجنسیوں نے حصہ لیا۔ اس میں ڈائریکٹوریٹ آف ریونیو انٹیلی جنس، انٹیلی جنس بیورو،آئی بی، وزارت مالیات، سی بی آئی اور سینٹرل ا کنامک انٹیلی جنس بیورو کے نمائندگان موجود تھے۔اس میٹنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ جعلی نوٹوں کا کاروبار اب جرائم سے بڑھ کر قومی سلامتی کا ایشو بن گیا ہے۔ اس سے پہلے کیبنٹ سکریٹری نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ بلائی تھی، جس میں آر بی آئی ، آئی بی، ڈی آر آئی، ای ڈی، سی بی آئی، سی ای آئی بی، کسٹم اور نیم فوجی دستوں کے نمائندگان موجود تھے۔ اس میٹنگ میں یہ طے ہوا کہ برطانیہ کے ساتھ یوروپ کے دوسرے ممالک سے اس معاملہ میں بات چیت ہوگی، جہاں سے نوٹ بنانے والے پیپر اور انک کی سپلائی ہوتی ہے، تو اب سوال اٹھتا ہے کہ اتنے روز بعد بھی حکومت نے کوئی کارروائی کیوں نہیں کی؟تفتیشی ایجنسیوں کو کس کے حکم کا انتظار ہے؟
آج عام آدمی نقلی نوٹوں سے اتنا پریشان ہے کہ اسے بینک اور اے ٹی ایم سے نقلی نوٹ مل رہے ہیں۔ پٹرول پمپ والے سے لے کر سبزی والے تک جب 500اور 1000روپے کا نوٹ دیکھتے ہیں تو انہیں ڈر لگ جاتا ہے۔ دیکھنے پرکھنے لگتے ہیں کہ کہیں یہ نقلی تو نہیں ہے۔ ملک کے بھولے بھالے عوام کو اس کا کیا پتہ کہ جس نقلی نوٹ کو ملک کی کوئی لیباریٹری نہیں پکڑ سکی اسے وہ اپنی آنکھوں سے کیسے پکڑ سکتے ہیں۔ نیپال میں تو ہندوستان کا 500اور 1000کا نوٹ دیکھتے ہی لوٹا دیا جاتا ہے۔ وجہ صاف ہے یہاں کے لوگ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے یہ نوٹ آدھی قیمت پر مہیا ہیں۔

ڈے لارو کا نیپال اور آئی ایس آئی کنکشن
قندھار ہائی جیک کی کہانی بہت پرانی ہو گئی ہے، لیکن اس باب کا ایک ایسا پہلو بھی ہے، جو اب تک دنیا کی نظر وںسے پوشیدہ ہے۔ اس ہوائی جہاز میں ایک ایسا شخص بیٹھا تھا، جس کے بارے میں سن کر آپ حیرت زدہ رہ جائیں گے۔ اس آدمی کو دنیا بھر میں کرنسی کنگ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کا اصلی نام ہے روبیرٹو گیوری۔ یہ اس جہاز میں دو خواتین کے ساتھ سفر کر رہا تھا، دونوں خواتین سوئٹزرلینڈ کی شہری تھیں۔ روبیرٹو خود دو ممالک اٹلی اور سوئٹزر لینڈ کی شہریت رکھتا ہے۔روبیرٹو کو کرنسی کنگ اس لئے کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ ڈے لا رو نام کی کمپنی کا مالک ہے۔ روبیرٹو گیوری کو یہ کمپنی اپنے والد سے ورثہ میں ملی۔دنیا کی کرنسی چھاپنے کا 90فیصد بزنس اس کمپنی کے پاس ہے۔ یہ کمپنی دنیا کے کئی ممالک کے نوٹ چھاپتی ہے۔ یہی کمپنی پاکستان کی آئی ایس آئی کے لیے بھی کام کرتی ہے۔ جیسے ہی یہ پلین ہائی جیک ہوا، سوئٹزر لینڈ نے ایک خاص وفدکو ہائی جیکرس سے بات چیت کرنے کے لیے قندھار بھیجا۔ ساتھ ہی اس نے حکومت ہند پر یہ دبائو بنایا کہ وہ کسی بھی قیمت پر کرنسی کنگ روبیرٹو گیوری اور ان کے دوستوں کی حفاظت کو یقینی بنائے۔یہ آدمی قندھار کے ہائی جیک پلین میں کیا کر رہا تھا، یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئی ہے۔ نیپال میں ایسی کیا بات ہے، جس سے سوئٹزرلینڈ کے سب سے امیر شخص اور دنیا بھر کے نوٹوں کو چھاپنے والی کمپنی کے مالک کو وہاں آنا پڑا۔ کیا وہ نیپال جانے سے پہلے ہندوستان آیا تھا؟یہ صرف سوال ہے، جس کا جواب حکومت کے پاس ہونا چاہئے۔ پارلیمنٹ کے اراکین کو معلوم ہونا چاہئے،اس کی تفتیش ہونی چاہئے تھی،پارلیمنٹ میں اس پر بحث ہونی چاہئے تھی۔ شاید ہندوستان میں پھیلے جعلی نوٹوں کا راز فاش ہو جاتا۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *