سورج کی اپنی روشنی ہے، چاند کی اپنی روشنی نہیں ہے

وصی احمد نعمانی( ایڈوکیٹ سپریم کورٹ)
قرآن سائنس اور کائنات  کے خاص موضوع پر الگ الگ ذیلی عنوانوں کے تحت سائنسی تحقیقات کی جدید روشنی میں ہم اپنا مطالعہ جاری رکھیںگے اور اس یقین کو پختہ تر کرتے جائیںگے کہ جدید سائنسی تحقیق ہمیں قرآن کریم میں مذکور خدا کی نشانیوں کو زیادہ اچھی طرح سمجھنے میں کس قدر معاون و مددگار ہیں۔ یہ سائنسی تحقیق ہمارے اعتماد اور اعتقاد کو مزید مضبوط کرکے اس میں ’’جلا‘‘ بخشتی ہے، کیوں کہ سائنس حکمت ہے اور سوچ و فکر، غور و خوض اور تدبر کا سبق دیتی ہے۔
آج کے عنوان کے تحت ہم اس بات پر غور کریںگے سائنس نے دو اہم باتیں ثابت کی ہیں۔
1- سورج کی اپنی روشنی ہے، چاند کی اپنی روشنی نہیں ہے، بلکہ وہ سورج کی روشنی سے استفادہ کرتا ہے اور اسی کی روشنی کو منعکس کر کے چمکتا ہے اور ایک مقرر کردہ راستہ پر گردش کرتا رہتا ہے۔ جو سال، مہینہ اور وقت کا حساب کرنے میں مدد کرتا ہے۔
2- سائنس نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ آج سے سو سال، ہزاروں سال، لاکھوں سال بلکہ کروڑوں سال قبل کسی خاص تاریخ یامخصوص دن کو سورج ٹھیک کتنے بجے طلوع اور غروب ہوا تھا، اس کا ٹھیک ٹھیک حساب سائنس بنانے کی بالکل درست حالت میں ہے۔ اسی طرح اب سے چند سال بعد، 100 سال بعد، ہزاروں سال یا لاکھوں کروڑوں سال بعد سورج کسی خاص دن یا تاریخ کو کتنے بجے طلوع ہوگا یا غروب ہوگا، سائنس بالکل پختہ طور پر بتادے گی۔
بلاشبہ سائنس کا یہ عظیم کارنامہ ہے کہ اس نے ایسے راز کو آشکار کردیا، جو بظاہر انسانوں کی نگاہ سے بالکل پوشیدہ باتیں تھیں۔ اگرچہ حقیقی طور پر قدرت کی کرشمہ سازی خدا کی کبریائی کے پیش نظر سب کچھ اربوں سالوں سے بالکل ایسا ہی ہوتا چلا آرہا ہے جیسا کہ سائنس نے حال میں اس کا ثبوت کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ ان دونوں عظیم الشان سائنسی جدید کارناموں کا تذکرہ قرآن کریم میں ساڑھے چودہ سو سال قبل کردیا گیا، بلکہ ’’ڈاکٹر مورس بوکائیلے‘‘ کی کتاب ’’قرآن بائبل اور سائنس‘‘ کا حوالہ لیں تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ باتیں جو آسمان و زمین، نباتات وحیوانات وغیرہ کا تذکرہ آج قرآن کریم میں موجود ہے، وہ سب کے سب توریت، انجیل، زبور وغیرہ میں بھی مذکور ہیں، اگر تحریف نہیں کردی گئی ہیں، یعنی یہ کہ سائنس نے جو ثبوت سورج کے روشن ہونے اور چاند کی اپنی روشنی نہیں ہونے کے سلسلے میں پیش کیے ہیں یا سورج کے طلوع و غروب ہونے سے متعلق جو حقائق پر مبنی دعویٰ پیش کیا ہے، ان سب کا تذکرہ آسمانی کتاب و صحائف میں اللہ نے ارشاد فرما دیا ہے۔ سائنس نے یہ بات بالکل ثابت کردی ہے کہ سورج تو روشن ہے اور اپنی روشنی سے اپنے نظام شمسی کو ہر لمحہ منور کیے رہتا ہے اور ساری دنیا کو روشنی اور طاقت عطا کرتا رہتا ہے۔ مگر چاند جو روشن نظر آتا ہے۔ درحقیقت وہ روشن نہیں ہے، بلکہ بالکل اندھیروں میں ڈوبا ہوا ایک تاریک سیارہ ہے جو زمین کے گرد 28 سے 29 دنوں میں پورا چکر لگا لیتا ہے۔ مثال کے طور پر چودہویں تاریخ کو پورا چاند اس لیے مکمل روشن نظر آتا ہے، کیوں کہ اس کے پورے ’’جسم‘‘ پر سورج کی کرنیں پڑتی ہیں اور وہ انہیں کرنوں کو ریفلیکٹ یا منعکس کرتا ہے۔ مگر نگاہوں کو لگتا ہے کہ ساری کی ساری روشنی خود چاند کی آرہی ہے۔ سائنس کا کہنا ہے اور عقل کا ماننا ہے۔ جو بالکل سچائی پر مبنی ہے کہ مہینہ کی زیادہ تر تاریخوں میں بھی چاند پورا آسمان میں ہوتا ہے۔ مگر اس کا پورا حصہ نہیں بلکہ ترتیب وار کٹا ہوا یا کم حصہ نظر آتا ہے، اگر چاند بذات خود اپنی روشنی کا مالک ہوتا تو پورا چاند ان تاریخوں میں بھی نظر آتا اور پوری طرح روشنی دیتا۔ اس کی جسامت تو اس کے ساتھ پوری ہوتی ہے، مگر اس کی جسامت کا نامکمل حصہ ہی نظر آتا ہے۔ اس سے یہ بات بالکل ثابت ہوتی ہے کہ چاند کے جتنے حصہ پر جس رات جتنی روشنی پڑتی ہے، اس کا اتنا ہی حصہ نظر آتا ہے۔ یعنی یہ سورج اپنی روشنی چاند کے جسم کے جتنے حصے پر جس رات ڈالتا ہے، اس رات اتنا ہی حصہ چاند کا روشن نظر آتا ہے۔ ہماری نظروں کو صرف لگتا ایسا ہے کہ چاند روشنی بکھیر رہا ہے، مگر وہ سورج کی روشنی کو منعکس یعنی Reflect کرتا ہے۔ سورج کی طرح روشنی عطا نہیں کرتا ہے۔
مثال کے طور پر کسی شیشہ کے سامنے ایک موم کی بتی، شمع یا بلب جلا دیا جائے تو خود شیشہ کا پورا جسم بلب کی پوری تصویر کے ساتھ روشنی دیتا ہوا نظر آئے گا، مگر درحقیقت وہ روشنی شیشہ کی اپنی روشنی نہیں ہوتی ہے۔ اگر بلب، موم بتی، شمع وغیرہ کو شیشے کے سامنے سے یا شیشہ کو ان کے سامنے سے ہٹا دیا جائے تو شیشہ بذات خود ایک ’’تاریک جسم‘‘ نظر آئے گا، کیوں کہ شیشہ میں روشنی کی کرنیں اس کی اپنی نہیں، بلکہ ان روشن اشیاء کی تھیں، جو اس کے سامنے روشنی بکھیر رہی تھیں۔ یعنی یہ کہ وہ چیز جو شیشہ کے سامنے روشن تھی، وہ بذات خود شیشہ کو منور کر رہی تھی۔ اس طرح شیشہ منور تھا، روشن نہیں تھا۔منور اس شے کو کہیںگے جو دوسروں سے روشنی مستعار لیتی ہے اور صرف اس وقت منور ہوتی ہے، جب روشنی بکھیرنے والی شے اس کے سامنے ہوتی ہے یا وہ خود روشنی بکھیرنے والی چیز کے سامنے موجود ہے۔ یہ سائنسی تحقیق بھی ہے اور ہمارا آپ سب کا عملی تجربہ بھی۔
قرآن کریم نے اسی سائنسی حقیقت کو نہایت بلاغت کے ساتھ کہا ہے کہ ’’سورج روشن ہے، چاند منور ہے۔‘‘ ملاحظہ فرمائیں سورہ یونس نمبر 10 ، آیت نمبر 5 ’’وہی ہے(اللہ) جس نے بنایا سورج کو چمک(والا) اور چاند کو نور(والا) اور اس نے مقرر کیں اس کی منزلیں تاکہ تم معلوم کرلو گنتی سالوں کی اور حساب(بھی) نہیں پیدا کیا اللہ نے یہ(سب کچھ) مگر حق کے ساتھ وہ تفصیل سے بیان کرتا ہے(اپنی) آیتیں ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں۔‘‘ شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب نے یوں ترجمہ کیا ہے’’وہی ہے جس نے بنایا سورج کو چمک اور چاند کو ’’چاندنا‘‘ اور مقرر کیں اس کے لیے منزلیں تاکہ پہچانو گنتی برسوں کی اور حساب…۔‘‘
حضرت مولانا محمد جونا گڑھی اور مولانا صلاح الدین یوسف نے اس کا ترجمہ کچھ یوں تحریر فرمایا ہے’’وہ اللہ تعالیٰ ایسا ہے، جس نے آفتاب کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو نورانی بنایا اور اس کے لیے منزلیں مقرر کیں تاکہ برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو…۔‘‘
مولانا وحیدالدین خان صاحب نے ’’تذکیرالقرآن‘‘ میں یوں ترجمہ کیا ہے ’’اللہ ہی ہے، جس نے سورج کو چمکتا بنایا اور چاند کو روشنی دی اور اس کی منزلیں مقرر کردیں تاکہ برسوں کا شمار اور حساب معلوم کرو۔‘‘
مولانا ابوالکلام آزاد نے ’’ترجمان القرآن‘‘ جلد سوئم میں یوں ترجمہ کیا ہے’’وہی ہے جس نے سورج کو چمکتا ہوا بنایا اور چاند کو روشن اور پھر چاند کی منزلوں کا اندازہ ٹھہرادیا تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرلیا کرو…۔‘‘  مولانا مودودی صاحب نے یوں ترجمہ کیا ہے’’وہی ہے جس نے سورج کو اجیالا بنا یا اور چاند کو چمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کردیں تاکہ تم اس سے برسوں اور تاریخوں کا حساب معلوم کرو…۔‘‘ حضرت مولانا عبدالکریم پاریکھ صاحب نے بہت آسان لفظوں میں اس طرح ترجمہ کیا ہے’’وہی تو ہے جس نے سورج کو روشن بنایا اور چاند کو نور والا اور اس کی گردش کی منزلیں صحیح انداز سے مقرر کردیں تاکہ تم برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرسکو…۔‘‘ مفتی سید عبدالدائم جلالی صاحب نے جو ترجمہ کیا ہے وہ مندرجہ ذیل ہے’’وہی خدا ہے جس نے سورج کو چمکیلا بنایا اور چاند کو روشن بنایا اور اس کی منزلیں مقرر کیں تاکہ تم کو برسوں کی گنتی اور حساب معلوم ہوسکے…۔‘‘
مندرجہ بالا تراجم میں الفاظ کی ہیئت اگرچہ بدلی ہوئی ہے، مگر زیادہ تر مترجم اور مفسرین نے سورج کو چمکیلا بتایا ہے۔ جب کہ چاند کو نورانی اور ’’چاندنا‘‘ بھی بتایا گیا ہے۔ متفقہ طور پر چاندنی کا تعلق چاند سے ثابت کیا گیا ہے یعنی یہ کہ سائنسی اعتبار سے ’’سورج‘‘ کو روشن یعنی اپنی روشنی والا اور چاند کو چاندنی رکھنے والا جسم بتایا اور ثابت کیا گیا ہے غرضیکہ سائنسی تحقیق اور قرآنی اطلاعات میں چاند اور سورج کی روشنی یا نور سے کسی طرح کا کوئی تضاد نظر نہیں آتا ہے، بلکہ سائنس دانوں نے تو مضبوط ثبوت اور دلیل کے ساتھ قرآنی آیات کی تشریح میں اعتماد و اعتقاد کو اور زیادہ مضبوط ہونے کے لیے تحقیقی مواد فراہم کیا ہے۔
آسمان و زمین کی تخلیق اور ان کی تدبیر میں سورج اور چاند کا نہایت اہم کردار ہے۔ سورج کی حرارت اور اس کی تپش اور روشنی کس قدر ناگزیر ہے، اس سے کوئی عقل مند انسان بے خبر نہیں ہے۔ اسی طرح چاند کی نورانیت کا جو لطف اور اس کے فوائد ہیں، وہ بھی محتاج بیان نہیںہے، اسی لیے حکماء کا خیال پختہ ہے کہ سورج کی روشنی بالذات ہے اور چاند کی ’’نورانیت‘‘ بالعرض ہے جو سورج کی روشنی سے ’’مستفاد‘‘ ہے۔ خدا نے چاند کی چال کی منزلیں مقرر کردی ہیں اور ان منزلوں سے مراد وہ مسافت ہے، جو وہ ایک رات میں اور ایک دن میں مخصوص حرکت یا چال کے ساتھ طے کرتا ہے۔ یہ 28 منزلیں ہیں۔ ہر رات کو ایک منزل پر پہنچتا ہے، جس میں خطا نہیں ہوتی ہے۔ پہلی منزلوں میں وہ چھوٹا اور باریک باریک نظر آتا ہے، پھر بتدریج بڑا ہوجاتا ہے حتیٰ کہ چودہویں شب یا چودہویں منزل پر وہ مکمل (بدرکامل) یا پورا چاند بن جاتا ہے۔ اس کے بعد پھر سکڑنا اور باریک ہونا شروع ہوجاتا ہے، یہاں تک کہ آخر میں ایک یا دو راتیں چھپا رہتا ہے اور پھر ہلال بن کر طلوع ہوتا ہے۔ اس کا فائدہ یہ بیان کیا گیا ہے کہ انسان برسوں کی گنتی اور حساب معلوم کرسکے، یعنی چاند کی ان منازل اور رفتار سے ہی قمری مہینے اور سال بنتے ہیں، جس سے انسانوں کو ہر چیز کا حساب کرنے میں آسانی رہتی ہے۔ یعنی سال 12 مہینے کا، ایک دن اور رات 24 گھنٹوں کا، جو ایام ’’استوا‘‘ میں 12، 12 گھنٹے اور سردی و گرمی میں کم و بیش ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ صرف دنیاوی منافع اور کار و بار ہی منسلک نہیں ہیں، بلکہ دینی منافع بھی اسی ترتیب کی بنیاد پر حاصل کیے جاتے ہیں جیسے حج، رمضان و دیگر عبادات کے اوقات و تاریخ کا بھی تعین اسی سے ہوتا ہے۔
اس آیت میں فرمایا گیا ہے کہ چاند کے لیے یکے بعد دیگرے وارد ہونے کی منزلیں اندازہ کر کے ٹھہرا دیں۔ سورہ یٰسن نمبر 36 کی آیت نمبر 39 میں بھی ان منزلوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے’’اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کردیں، یہاں تک کہ وہ ایسا رہ جاتا ہے جیسے کھجور کی پرانی شاخ۔‘‘ چاند زمین کے گرد گردش میں رہتا ہے اور اپنی گردش کے فلک یعنی ARIT یا مدار کو 28 دن آٹھ گھنٹے اور چند منٹ میں طے کرلیتا ہے۔ چاند کے اس دور کو علماء ہیئت(ماہرین علم فلکیات) ’’نجومی دور‘‘ یا ’’نجومی مہینوں‘‘ سے بھی تعبیر کرتے ہیں، کیوں کہ اس دور کے ختم ہوتے ہی چاند پھر اسی ستارہ کے قریب دکھائی دیتا ہے، جس کے پاس سے اس کی گردش شروع ہوئی تھی۔ اس طرح چاند اپنی گردش کی ہر رات میں کسی نہ کسی ستارہ یا اس کے مجموعہ کے پاس یعنی ٹھیک اس کے سامنے سے گزرتا ہے۔ وہ ہمیشہ ایک خاص منزل سے اپنا سفر شروع کرتا ہے اور ہرروز اپنی مخصوص منزل پر پابندی کے ساتھ طے شدہ راستہ سے ڈگمگائے بغیر پہنچ کر نئی تاریخ دیتا رہتا ہے۔ جو یکجا ہو کر سال کی تخلیق کرتا ہے۔
(جاری)
تراجم:
1- مولانا عبدالکریم پاریکھ
2- مولانا وحید الدین خان
3- مولانا ابوالکلام آزاد
4- مولانا ابوالاعلیٰ مودودی
5 – مولانا سید عبدالدائم جلالی

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *