بابا رام دیو جی ! پہلے اس ملک کو تو سمجھئے

سنتوش بھارتیہ
ہم نے بابا رام دیو سے کئی سوال کئے۔ ہمیں بابا رام دیو سے کوئی شکایت نہیں ہے اب شکایت کیوں نہیں ہے، وہ اس لئے نہیں ہے کہ ملک میں کوئی بھی آدمی کچھ بھی کاروبار کرنے کے لئے آزاد ہے۔ خواہ وہ کاروبار کاروں کا ہو، مٹھائی بنانے کا ہو یا پھر یوگ سکھانے کا یا دوائیاں بنانے کا ہو۔ بہت سے لوگ کر بھی رہے ہیں، لیکن جب آپ اپنے دائرہ کو چھوڑ کر باہر نکلتے ہیں اور آپ ملک کے دائرہ میں آتے ہیں تو پھر آپ کو ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے تیار رہنا چاہئے، جن سوالوں کا رشتہ ملک کے مستقبل سے ہے۔یہ ملک بہت سارے لیڈران کی اشتعال انگیز تقاریر ، اشتعال انگیز خوابوں اور بھڑکائو وعدوں کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہے۔ یہ ملک ایک طریقہ سے مسائل کے آتش فشاں کے اوپر بیٹھا ہوا ہے۔آتش فشاں پھٹنے کے لئے تیار ہے کیونکہ اس ملک میں نہ تو کسان سکون سے ہیں ،نہ نوجوان ، نہ دلت، نہ اقلیت، نہ اعلیٰ طبقہ اور نہ ہی متوسط طبقہ سکون سے ہے۔
اگر امیر سکون سے ہوتے، تومانا بھی جا سکتا تھا، لیکن بدقسمتی تو یہی ہے کہ اس ملک میںامیر بھی سکون سے نہیں ہے۔ وہ اس لئے سکون سے نہیں کیونکہ امیروں کے درمیان اس حکومت نے بازار ی مسابقت شروع کر دی ہے، وہ کچھ امیروں کو چھوڑ کر باقی سب کے خلاف ہے۔ یکساں مواقع وہاں بھی نہیں۔ اس لئے اب جب بھی کوئی ایسا آدمی آتا ہے، جو کہتا ہے کہ ہم ملک کے بارے میں بات کرتے ہیں، ہم ملک کی صحت سدھارنا چاہتے ہیں، ملک کو مسائل کے جال سے آزاد کرنا چاہتے ہیں تو وہ سوالوں کا مستحق ہو جاتا ہے۔اس کو یہ نہیں ماننا چاہئے کہ کوئی بھی اس سے سوال نہیں پوچھ سکتا ہے۔ آپ لوگوں کو خرید سکتے ہیں، خواہ وہ ٹیلی ویژن کے ہوں یا پرنٹ کے ہوں، جو آپ سے سوال نہیں پوچھیں گے آپ ان چینلوں کے مدیران کو خرید سکتے ہیں، جو وہی سوا ل پوچھیں ، جو سوال آپ چاہتے ہیں۔ وہ آپ سے ایسے سوال پوچھ سکتے ہیں، جن سے آپ کے قد میں اضافہ ہو، لیکن جو ملک سے ذرا بھی محبت کرتے ہیں، وفاداری رکھتے ہیں، ایسے لوگ آپ سے سوال کریں گے اور یہ لوگ ان کی نمائندگی کرتے ہیں، جو اس ملک میں حکومت بناتے ہیں،اس لئے بابا رام دیو سے ہم نے سوال کئے اور ان سوالوں کاجواب ابھی تک بابا رام دیونے نہیں دیا ہے۔
ہم ایک بات اور واضح کر دیں کہ جب بھی کوئی ملک کی بات کرتا ہے تواسے  سب سے پہلے اس ملک کو سمجھنا ہوگا۔ملک کو سمجھنے کا مطلب ، ملک کے مسائل کو سمجھنا ہوگا اور مسائل کو سمجھنے کا مطلب ہے کہ آج جو بھی مسائل درپیش ہیں، خواہ وہ دہشت گرد ی ہو، بے روزگاری ہو، بدعنوانی ہو،مہنگائی ہو، تعلیمی ڈھانچے کا تباہ ہونا ہو، برباد ہوا ہیلتھ نیٹورک ہو۔ ان سبھی کے اسباب کو سمجھنے والا آدمی ہی اس ملک کے بارے میں بات کرنے کا حقدار ہے۔
ان سوالوں کو سمجھنے والا آدمی اگر یہ سوال ہی نہ سمجھ پائے تو وہ ان کا حل کیا نکالے گا؟اس لئے سب سے پہلا سوال اس شخص سے ہوتا ہے، جو ملک کے بارے میں بات کرتا ہے کہ کیا آپ ان سوالوں کو سمجھتے ہیں؟ کیا آپ سماج کی ترقی اور سماج کے تضاد کو سمجھتے ہیں؟ کیا آپ سماج کے مختلف طبقوں میں پیدا ہوئی کشیدگی کوسمجھتے ہیں؟ اگر سمجھتے ہیں تو ان کا حل کیا ہے؟ کیونکہ یہ ملک جیسا کہ میں نے کہا  مسائل کے آتش فشاں پر بیٹھا ہے۔ اب ذرا سی بھی بے وقوفی اس ملک کو تباہی اور ٹوٹنے کے دہانے پر لے جائے گی ،کیونکہ ہم بہت آگے پہنچ گئے ہیں۔ اس لئے بابا رام دیو جب پورے ملک میں گھوم گھوم کر کہتے ہیں کہ ہم بدعنوانی کے خلاف ہیں، ہم اس ملک میں جو حکومتیں چل رہی ہیں، ان کے خلاف ہیں اور ہم ملک کی صحت ٹھیک کریں گے تو بابا سے سوال کرنا بہت ضروری ہوجاتا ہے ۔ ہم اخبار ہیں ، ہم کوئی بھی مضمون یا رپورٹ لکھنے سے پہلے جب آپ سے رابطہ کرتے ہیں اور آپ کے یہاں سے جواب ایسا آتا ہے اور آپ کے لوگ جانتے ہیں کہ انھوں نے کیوں ایسا جواب دیا ہے اور یہ جواب کسی اور کو نہیں دیا ہے، ہمیں دیاہے، چوتھی دنیا کو دیا ہے۔ توانھوں نے نظر انداز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ آپ کیا کر لیں گے؟آپ نقار خانہ میں طوطی ہیں۔ تمام اخبارات والوں کو ہم نے خرید رکھا ہے، تمام ٹیلی ویژن چینلوں کو ہم نے خرید رکھا ہے۔ان پر ہم اچھلتے کودتے ہیں، پیٹ پھلاتے ہیں، ان کو پیسہ دیتے ہیں۔ کون کرے گا ہمارے خلاف اسٹوری ؟ کون لوگ ہیں، جو آپ سے اس لئے سوال کریں گے، کیونکہ وہ اس ملک سے محبت کرتے ہیں اور اس ملک کو برباد ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے۔ اس لئے بابا رام دیو کا یہ فرض بنتا ہے کہ ملک سے وابستہ جتنے بھی سوال ہیں وہ ان کا جواب دیں۔
بابا رام دیو کی اپنی ایک اہمیت ہے۔ انھوں نے اس ملک میں بڑا کام کیا ہے۔ انھوں نے یوگ کے تئیں لوگوں کی توجہ مرکوز کرائی ہے اور ایسی توجہ مرکوز کرائی کہ جتنے بھی بیمار قسم کے لوگ تھے، وہ سب بابا رام دیو کے بھکت ہو گئے، کیونکہ بابا رام دیو نے انہیں بتایاکہ وہ چہل قدمی کریں اور ورزش کریں۔ کچھ دوائیاں بھی ان کے کام میں آئیں۔ حالانکہ برندا کرات نے ان پر الزامات عائد کئے، کئی اور لوگ بھی الزام عائد کر رہے ہیں، لیکن میں اس میں نہیں جانا چاہتا۔ میرا کہنا ہے کہ وہ کام ٹھیک ہے۔آپ نے پوری دنیامیں یوگ سکھا کر بھروسہ پیدا کیا، آپ نے یوگ سکھانے کی مارکیٹنگ بھی کی ہے اور کامیاب مارکیٹنگ کی، کیونکہ اتنی بڑی مارکیٹنگ دنیا میں اب تک جتنے بھی یوگ سکھانے والے ہندوستانیوں نے کی ہے انھوں نے دنیا میں تو لوگوں کو یوگ سکھا کر پیسہ کمایا، لیکن آپ نے دنیا کے ساتھ ساتھ پورے ہندوستان میں بھی یہ بیداری پیدا کر کے 60ہزار کروڑ سے زیادہ کا سامراج کھڑا کر لیا۔ کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ یہ آپ کے یوگ کے تئیں لوگوں کے پاگل پن کا نتیجہ ہے۔ جو لوگ آپ کے ساتھ شامل ہوئے شاید 60ہزار کروڑ کی جائداد جمع کرنے میں، جن لوگوں نے بھی اپنا ہاتھ بابا رام دیو کے ساتھ ملایا، وہ تمام لوگ اس ملک کے کسان نہیں ہیں، اس ملک کے مزدور نہیںہیں، بے روزگار نہیں ہیں، دلت نہیں ہے، اقلیت نہیں ہیں، اعلیٰ اورمتوسط طبقہ کے لوگ ہیں اور رام لیلا میدان میں بابا رام دیو کی ریلی میں جتنے لوگ بھی آئے تھے ، وہ سبھی لوگ مستقبل کے ممبر پارلیمنٹ تھے۔ وہ تعداد 80ہزار یا ایک لاکھ تھی یا پانچ لاکھ ۔ میں اس بحث میں نہیں جاتا، لیکن جتنے بھی لوگ تھے، مستقبل کے وزیر اعظم کو چھوڑ کر کیونکہ اس کے لئے تو بابا رام دیو کا نام درج ہے، بقیہ تمام عہدے انہیں لوگوں کے لئے تھے اور یہ سب وہ ہیں، جن کے اوپر انکم ٹیکس، سیلس ٹیکس نافذ ہوتا ہے۔ ان کا پیسہ بیرون ممالک میں بھلے ہی نہ ہو، لیکن جن کا غیر ممالک میں پیسہ ہے، ان کے ساتھ ان میں سے بیشتر کا رشتہ ہے۔
میں صرف بابا رام دیو سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ بابا رام دیو آپ اگر کوئی اقتصادی پالیسی بناتے ہیں تو جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں ، ان کے ساتھ اس کی تعمیل کیسے کر پائیں گے؟ غیر ممالک سے پیسہ واپس لانے کا ایشو جذباتی ایشو ہے، لیکن اس کالے دھن سے سو گنی دولت تو یہاں ہندوستان کی اقتصادیات میں ہے۔وہ تو پیسہ وہاں دبا ہوا ہے، جس کو لا کر کے یہاں کا کام ہوگا، لیکن جس پیسے کا یہاں چلن ہے اور جس کو چلانے والے آپ کے دائیں بائیں نظر آ رہے ہیں، اس کے بارے میں آپ کچھ کیوں نہیں کہتے ؟اور یہ سوال ہم صرف اس لئے پوچھ رہے ہیں ، کیونکہ آپ کی نظر وزیر اعظم کے عہدے پر ہے۔ آپ کہیں گے کہ آپ وزیر اعظم بننا نہیں چاہتے تو جو کوئی بھی ہوشیار آدمی ہوگا وہ یہی کہے گا۔آپ کے لوگ تو کہہ رہے ہیں کہ بابا رام دیو وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں اور سوال وزیر اعظم کے عہدہ کا بھی نہیں ہے، سوال تو اس ملک میں ان پالیسیوں کے نفاذکا ہے، جن سے براہ راست ملک کے 80فیصد لوگ مستفید ہوں۔
بابا رام دیو کہتے ہیں کہ وہ برما سے لے کر افغانستان تک ایک ہندوستان بنائیں گے۔ یہ سننے میں بڑا اچھا لگتا ہے اور شاید آر ایس ایس بھی یہی کہتا ہے اور بابا رام دیو بھی یہی کہتے ہیں،لیکن کیا برما سے لے کر افغانستان تک ہندوستان بن سکتا ہے؟یہ ایسے سوال ہیں جن کا جواب چاہئے۔ ہم پھر دہراتے ہیںکہ اگر آپ ملک کی بات نہیں کرتے،ہم کوئی سوال آپ سے نہیں پوچھتے لیکن چونکہ آپ ملک کی بات کرتے ہیں، اس لئے سوالوں کا جواب دینا آپ کا فرض ہے۔ آپ جواب نہ دیں، آپ کی مرضی، لیکن ہم تو آپ سے سوال پوچھتے رہیں گے۔آخرمیں بتانا چاہتے ہیں کہ جو جس چیز کو جانتا ہے ، اس کو وہی کام کرنا چاہئے۔ مثلاً اگر ہم اعلان کر دیں کہ دارا سنگھ کتھک ڈانس کریں گے تو بڑا مجمع لگ جائے گا، لوگ تالیاں بجائیں گے، دارا سنگھ لٹکتے مٹکتے جسم کو ہلائیں گے اور ہوگا یہ کہ اوہ یہ کتھک ڈانس ہے،لیکن وہ کتھک ڈانس نہیں ہوگا۔ اسی طریقہ سے اگر ہم برجو مہاراج سے کہیں کہ آپ دارا سنگھ سے کشتی لڑئے تو لوگوں کا ہجوم لگے گا ، لیکن کیا وہ کشتی کشتی ہوگی۔بات صاف ہے دارا سنگھ ڈانس نہیں کر سکتے اور برجو مہاراج کشتی نہیں لڑ سکتے۔بابا رام دیو کیا کر سکتے ہیں، وہ بابا جی طے کریں لیکن کہاوتیں ہزاروں سال کے تجربے سے بنتی ہیں۔ ایک او رکہاوت ہے ’’بچھو کا منتر نہ جانے ، سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالے۔
سانپ کے بل میں ہاتھ ضرور ڈالئے ، لیکن سانپ کا منتر جان لیجئے۔ اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اگر آپ کوئی رول ادا کرنا چاہتے ہیں تو پہلے اس ملک کو ایک بار سمجھ لیجئے۔ یہ ہماری ہر اس آدمی سے عاجزانہ اپیل ہے، جو آدمی اس ملک کے اقتدار کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے۔ 60سال سے زیادہ کا عرصہ ملک آزاد ہوئے ہو چکا ہے۔60سال کا عرصہ چھوٹا عرصہ نہیں ہوتا۔ اب لوگ بہت کچھ سمجھنے لگے ہیں۔ اس لیے کسی کو وہم میں نہیں رہنا چاہئے اور جو وہم میں رہتا ہے، اس کا حشر بہت برا ہوتا ہے۔ ہم ہر اس آدمی سے ، بابا رام دیو سے بھی التماس کریں گے کہ سوالوں کا جواب دیں اور سوالوں کا جواب دینے کے ساتھ ساتھ اس ملک کو سمجھنے اور یہاں درپیش مسائل کی جڑ کو جاننے کی کوشش ضرور کریں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *