انا کو انا ہی رہنے دو

ڈاکٹر منیش کمار
انا ہزارے کی تحریک نے بلندی دیکھی۔ عوام کی جیت ہوئی، سرکار کو جھکنا پڑا، لیکن انا کی تحریک کے تعلق سے کئی سوال پیدا ہو رہے ہیں اور کئی غلط فہمیاں جنم لے رہی ہیں۔ کچھ لوگ انا کا موازنہ مہاتما گاندھی اور جے پرکاش نارائن سے کرنے لگے ہیں۔ کئی تجزیہ کاروں نے انا کی تحریک کو جے پی تحریک بتایا ہے۔ انا ہزارے کیا اس صدی کے گاندھی ہیں؟ کیا وہ جے پی ہیں یا پھر انا صرف انا ہیں؟
انا کی تحریک کے دوران نوجوانوں کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ انہوں نے نہ تو جے پی کو دیکھا ہے اور نہ ہی گاندھی کو۔ ان کے لیے انا ہزارے ہی گاندھی اور جے پرکاش نارائن ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ انا ہزارے نے شہر کے نوجوانوں کو جگایا ہے۔ آج کے سیاق و سباق میں یہ ایک انوکھی بات ہے، جب سے ملک  میں لبرل ازم کی پالیسی اپنائی گئی، تب سے پڑھے لکھے نوجوان اپنی ہی الجھن میں الجھ گئے ہیں۔ اقتصادی پالیسی نے نوجوانوں کو زندگی کے ایسے جال میں پھنسا دیا ہے کہ وہ ملک اور سماج سے دور ہوتے جارہے ہیں۔ یونیورسٹیز میں طلبا سیاست سے دور چلے گئے ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کا مقصد نوکری پانے تک محدود ہوگیا ہے۔ زیادہ تر یونیورسٹیوں میں طلبا یونین کے انتخابات نہیں ہوتے۔ سیاسی پارٹیوں کی یوتھ برانچز تو ہیں لیکن انہیں سیاست میں بچہ سمجھ کر مین اسٹریم سے دور رکھا جاتا ہے۔یہ ایک طرح کی سازش ہے، جس کے تحت نوجوانوں کو سیاسی اور سماجی تعلق سے دور رکھا جاتا ہے۔ ملک کی حکومت تو نوجوانوں کو افیون کی گولی کھلا کر سلا دینا چاہتی ہے۔ نوجوانوں کو مستقبل کے لیے کس طرح تیار کرنا ہے، حکومت کے پاس اس تعلق سے نہ تو کوئی سوچ ہے اور نہ ہی کوئی پالیسی۔ انا ہزارے کی تحریک نے یہ سب بدل دیا۔ کئی سالوں کے بعد شہری نوجوانوںنے جوان ہندوستان کا ایک نیا چہرہ پیش کیا ہے۔ اس کی حمایت ہونی چاہیے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ شہری نوجوان کب تک جاگتے رہتے ہیں؟ لوک پال بل تیار ہو جائے گا۔ پارلیمنٹ میں پاس بھی ہوجائے گا، لیکن کیا بدعنوانی ملک سے ختم ہوجائے گی؟ بدعنوانی کے خلاف یہ لڑائی لمبی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ چار دنوں کی تحریک کو اس طرح پیش کیا جارہا ہے کہ جیسے ملک میں کوئی انقلاب آگیاہو۔
کچھ لوگ انا ہزارے کا موازنہ لوک نائک جے پرکاش نارائن سے کرنے لگے ہیں۔ ان لوگوں کو لگتا ہے کہ جس طرح سے دہلی کے جنتر منتر پر انا ہزارے نے لوگوں کو جمع کیا، لوک پال بل کے ایشو پر حکومت کو جھکایا،اس سے جے پی تحریک کی یاد تازہ ہوگی۔ یہ بات بالکل صحیح ہے کہ انا ان شہری نوجوانوں کو سڑک پر اتارنے میں کامیاب ہوئے جو اب تک سماجی اور سیاسی ایشوز کے تئیں لاپرواہ تھے۔ پچھلے کچھ مہینوں سے لوگ آئے دن ایک نئے گھوٹالے کی خبر سن کر پریشان تھے۔ عوام بدعنوانی سے ناراض تھے۔ انا ہزارے کو اس بات کے لیے کریڈٹ ملنا چاہیے کہ انہوں نے اس تحریک کو لوگوں کی ناراضگی ظاہر کرنے کا ایک ذریعہ بنایا۔ یہ تحریک اگر بابا رام دیو چلاتے یا پھر کوئی اور تو میڈیا کی وجہ سے اس تحریک کو بھی ویسی ہی حمایت ملتی جیسی انا ہزارے کو ملی۔ جہاں تک بات انا ہزارے سے جے پرکاش نارائن کے موازنہ کی ہے تو فرق زمین اور آسمان کا ہے۔ سب سے بڑا فرق نظریے اور اہداف کا ہے۔ جے پرکاش نارائن کوئی عام لیڈر نہیں تھے۔ وہ ایک سیاسی اور سماجی مفکر تھے۔ انا مفکر نہیں ایک سماجی کارکن ہیں۔ انا ہزارے کی تحریک صرف لوک پال بل میں سول سوسائٹی کے نمائندوں کی حصہ داری تک محدود ہے۔ حکومت نے مطالبہ پورا کردیا تو تحریک بھی ختم ہوگئی۔ جب کہ جے پرکاش کسی ایک ایشو کو لے کر حکومت کی مخالفت نہیں کر رہے تھے۔ جب انہوں نے حکومت اور اندرا گاندھی کے خلاف آواز اٹھائی تب ان کا مقصد یہ نہیں تھا کہ بس اندرا کے الیکشن کو غیرآئینی ثابت کردیں۔
جے پرکاش کی تحریک کا دائرہ وسیع تھا۔ وہ نظام میں تبدیلی کے لیے تحریک چلا رہے تھے، انہوں نے’’ سمپورن کرانتی‘‘ کا نعرہ دیا تھا۔ انا ہزارے اور جے پرکاش نارائن میں ایک بڑا فرق یہ ہے کہ انا خود اس تحریک کے بانی تھے۔ لوک پال بل کے مطالبے پر وہ خود بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔ میڈیا نے جب اس کی کوریج کی تو حمایت بڑھنے لگی۔ انٹرنیٹ کے ذریعہ لوگ جڑنے لگے۔ تحریک بڑی ہوگئی۔ جے پرکاش نے خود تحریک شروع نہیں کی، طلبامتحرک تھے، انہیں لگا کہ انہیں ایک قبول عام لیڈر کی ضرورت ہے تو طلبا نے جے پی کو دعوت دی کہ وہ آئیں اور ان کا لیڈر بنیں۔ ان کے آتے ہی طلبا تحریک کا چہرہ بدل گیا اور وہ آزاد ہندوستان کی سب سے بڑی تحریک بن گئی۔ جے پرکاش نے اس لیے تحریک کی قیادت کی کیوں کہ انہیں لگتا تھا کہ حکومت غریبوں کے مفاد کی حفاظت کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ جے پرکاش نارائن کو شہری نوجوانوںاور طلبا کے ساتھ ساتھ مزدوروں، کسانوں اور دیہی باشندوں کی بھی حمایت ملی تھی۔ انا ہزارے کی تحریک میں صرف شہری نوجوانوں کی حصہ داری تھی۔ انہوں نے جو ایشو اٹھایا اس کا تعلق شہری اور پڑھے لکھے عوام سے ہے۔ انا پڑھے لکھے شہری نوجوان یا یوں کہیں کہ تعلیم یافتہ بھیڑ کی قیادت کر رہے تھے، لیکن جے پرکاش پڑھے لکھے شہری نوجوانوں کے ساتھ ساتھ مزدوروں، کسانوں اور دیہی باشندوں کی قیادت کررہے تھے۔ انا کے ساتھ شوقیہ ایکٹیوسٹ تھے۔ وہیں جے پرکاش کی تحریک میں شامل ہونے والے لوگوں میں تجربہ کار سیاسی اور سماجی کارکنان تھے۔ جنہوں نے اپنی تنظیموں اور نظریوں کو قربان کر کے اس تحریک میں حصہ لیا۔ انا نے مودی اور نتیش کمار کے بارے میں ایک بیان کیا دے دیا، تحریک میں شامل لوگوں نے انا کی قیادت پر ہی سوال کھڑے کردیے۔ انا اپنے حامیوں کی نظریاتی اختلافات کی دیوار کوگرانے میں ناکام رہے ہیں۔جے پرکاش نے تو’’بھودان‘‘ اور ’’سرودے‘‘ کی بات کی۔ ملک کے گاؤوں کی تصویر بدلنے کی ٹھانی تھی۔ انہوںنے یہ کام بس عوامی جذبات کی بنیاد پر نہیں کیاتھا، بلکہ ان کے پاس ایک مقصد تھا۔ انہوں نے گاندھی اور مغرب کے اصولوں کو ایک لڑی میں پرو کر گاؤوں کو جدید تکنیک کے ساتھ بدلنے کی کوشش کی۔ انہوں نے بہار کے نکسلیوں اور چنبل کے ڈاکوؤں کے درمیان بھی بہت کام کیا اور انہی کی وجہ سے بڑی تعداد میں ڈاکوؤں نے خودسپردگی بھی کی۔ آج کی طرح 1974 میں مہنگائی، بیروزگاری، خوردنی اشیا کی بھاری کمی اور بدعنوانی نے ملک میں اتھل پتھل مچا دی، لیکن جے پی نے ان ایشوز کو اپنا ہدف نہیں بنایا۔ پٹنہ میں ایک میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ یہ ایک کرانتی ہے۔ ہم یہاں اس لیے نہیں آئے ہیں کہ بس اسمبلی کو تحلیل کردیا جائے، آج ہمیں ’’سمپورن کرانتی‘‘ چاہیے۔ جو لوگ انا ہزارے کا موازنہ جے پرکاش نارائن سے کرنا چاہتے ہیں، انہیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نظریہ، عوام کی حمایت، قیادت، تنظیمی قوت اور ہدف کسی تحریک کی بنیاد ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان پیمانوں پر انا ہزارے اور جے پرکاش نارائن میں کوئی موازنہ ہی نہیں ہے۔
نئی نسل کے لوگوں نے آزادی کی تحریک نہیںدیکھی اور نہ ہی گاندھی کو دیکھا۔ جب انا ہزارے نے تحریک شروع کی تو کئی لوگ یہ کہنے لگے کہ انا دور جدید کے گاندھی ہیں۔ مہاتما گاندھی بابائے قوم ہیں۔ گاندھی جی کو بابائے قوم کا خطاب دینے والے سبھاش چندر بوس تھے۔سبھاش چندر بوس کو گاندھی جی کی وجہ سے کانگریس سے باہر جانا پڑا تھا۔ کانگریس سے باہر جانے کے بعد ہی انہوں نے گاندھی جی کو بابائے قوم کا خطاب دیا تھا۔ مہاتما گاندھی کے نظریے، سیاسی سوچ، تنظیمی قوت، ہدف اور شخصیت کے سامنے ملک کے بڑے بڑے تاریخ ساز لوگ اور لیڈر بونے نظر آتے ہیں، جس کے آگے مخالفین بھی جھک جاتے تھے۔ جواہر لال نہرو، پٹیل، مولانا آزاد جیسے لوگوں کا ان سے کئی ایشوز پر اختلاف رہا، لیکن انہوں نے اپنے نظریے کے ساتھ سمجھوتہ نہیں کیا، لیکن اپنی ہر تحریک میں گاندھی نے ملک کے ہر طبقہ کو اپنے ساتھ لیا۔ گاندھی جی کوسب سے زیادہ بھروسہ گاؤں کے غریب عوام پر تھا۔ گاندھی جی گاؤں گاؤں کا دورہ کرتے تھے، گاؤں کے لوگوں کو سمجھاتے تھے کہ انگریز ملک کو لوٹ رہے ہیں۔ ملک کی تحریک آزادی گاؤں سے ہی نکل کر آئی۔ گاندھی جی کی پوری زندگی اصولوں کے لیے جدوجہد سے عبارت ہے۔ سب سے پہلے گاندھی جی نے جنوبی افریقہ میں ایک غیرمقیم وکیل کے طور پرغیر مقیم ہندوستانیوںکے انسانی حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ 1915 میںواپسی کے بعد انہوں نے ہندوستان میں کسانوں، مزدوروں اور شہری مزدوروں کو زمین کا زائدٹیکس اور بھید بھاؤ کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے متحد کیا۔ 1921 میں انڈین نیشنل کانگریس کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد گاندھی جی نے ملک بھر میں غریبی سے راحت دلانے، خواتین کے حقوق کی توسیع، مذہبی اور طبقاتی اتحادکا قیام اور خود کفالت کے لیے بہت سی تحریکیں چلائیں۔ ان سب کے درمیان غیر ملکی راج سے آزادی دلانا، ان کا اہم ہدف رہا۔ گاندھی جی نے برطانوی حکومت کے خلاف ہندوستانیوں پر لگائے گئے نمک کے ٹیکس کی مخالفت میں 1930 میں دانڈی مارچ اور اس کے بعد 1942 میں بھارت چھوڑو تحریک چلا کر تحریک آزادی کی قیادت کی۔ جنوبی افریقہ اور ہندوستان میں مختلف مواقع پر کئی سالوں تک انہیں جیل میں رہنا پڑا۔ گاندھی جی کی خاصیت یہ ہے کہ وہ صرف ایک تحریک چلانے والے ہی نہیں، بلکہ ایک سیاسی مفکر بھی تھے۔ گاندھی جی نے سب سے پہلے سمجھا کہ ملک کا انگریزی سسٹم کیسا ہے۔ انگریزی ریاست کی بنیاد کیاہے۔ گاندھی جی نے سمجھا کہ ملک کو بدلنے کا طریقہ کسی ایک یا دو ایشوز پر انگریزی حکومت کو گھیرنا نہیں ہے۔ انہوں نے یہ دکھایا کہ سرکار اپنے آپ میں ہی غیر قانونی ہے۔ کس طرح حکومت لوگوں کی نہ ہوکر برطانیہ کے فائدے کے لیے یہاں راج کر رہی ہے۔ یہ سمجھنے کے بعد ہی انہوں نے بھوک ہڑتال اور عدم تعاون جیسے کارگر ہتھیارآزمائے۔ گاندھی جی یہ مانتے تھے کہ ملکی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی ترقی کی ذمہ داری صرف حکومت ہی کی نہیں، عام لوگوں کی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ذات پات پر مبنی تشدد ہو یا مذہبی اور طبقاتی چھوا چھوت ،سب سے نمٹنے کے لیے گاندھی جی نے تحریک چلائی۔ وہ ہمیشہ اس بات پر زور دیتے تھے کہ جب تک ملک کے لوگوں کی سوچ اور ذہنیت نہیں بدلے گی، تب تک کوئی بھی قانون بنانے کا فائدہ نہیں ہے۔ یہ بات سمجھنی ہوگی کہ گاندھی جی کی زندگی جدو جہد سے عبارت ہے۔ایک دو تحریک چلانے سے کوئی گاندھی نہیں بنتا۔ کسی خاص موضوع پر تحریک چلانے سے کوئی گاندھی نہیں بنتا۔ گاندھی ہونے کے لیے گاندھی کے اصولوں کے ساتھ ساتھ گاندھی جیسا مفکر بننا بھی ضروری ہے۔
اناہزارے نے ملک کے شہری نوجوانوں کو متحرک کر کے انوکھا کام کیا ہے۔ لیکن انا یہ نہیں سمجھ پائے کہ آج ملک ایک عوامی جمہوریت ہے اور جمہوریت میں لوگوں کا تعاون لینا ضروری ہوتا ہے۔ انا کی تحریک میں کسان نہیں تھے، مزدور نہیں تھے اور دیہی باشندے نہیں تھے۔ انا نے بس کچھ سماجی کارکنان پر ہی یقین کیا ہے۔ سچائی یہی ہے کہ میڈیا اور انٹر نیٹ نے اس تحریک کی تشہیر کر کے شہری نوجوانوں کو سڑک پر لا کھڑا کیا۔ گاندھی جی یا جے پرکاش نارائن نے عوام کو اپنی تحریک میں ساتھ لیا تھا۔ ان لوگوں کے ساتھ گاؤں اور تحصیل میں جدو جہد کر رہے سماجی کارکنان کی بھیڑ تھی،لیکن انا کی تحریک میں ایسے لوگوں کی بھاری کمی دکھائی دی۔ جو سماجی کارکنان انا کے ساتھ نظر آئے، وہ کسی نہ کسی این جی او یا مفاد کے لیے تحریک چلانے والے پروفیشنل تھے۔ انا کی تحریک کا صرف ایک ایجنڈا لوک پال بل رہا، جو اس تحریک کے ہدف کو بہت ہی چھوٹا بناتا تھا۔ اگر گاندھی یا جے پرکاش ایسی تحریک کی قیادت کر رہے ہوتے تو وہ حکومت کے ساتھ لوگوں کی شخصیت میں بدلاؤ کی بھی بات کرتے۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈتے کہ بدعنوانی کے خلاف قانون ہونے کے باوجود ملک میں بدعنوانی میں کیوں اضافہ ہوا؟ گاندھی جی اور جے پی اس بات پر بھی زور دیتے کہ ملک میں قانون نافذ کرنے والے ہی نظام کو خراب کرتے ہیں اور اگر ان  کی ذہنیت نہیں بدلے گی تو کل کوئی بھی لوک پال بن جائے تو وہ بھی اپنے عہدہ کا غلط استعمال کرسکتا ہے۔ عام لیڈر اور تاریخی لیڈر میں فرق ہوتا ہے۔ گاندھی جی اور جے پرکاش جیسے لیڈروںکی تحریک مکمل ہوتی تھی۔ تحریک کی نظریاتی بنیاد ہوتی تھی اور ان تحریکوں میں مستقبل کے سوالوں کا جواب بھی ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ گاندھی جی اور جے پرکاش نارائن کو لوگ تحریکوں کی قیادت کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ راج کمار شکل کی دعوت پر مہاتما گاندھی اپریل 1917 میں موتیہاری آئے اور نیل کی کھیتی سے پریشان کسانوں کو ان کا حق دلایا۔ 1974 میں بہار میں آندولن ہوا، لیکن آندولن کے ہدف اور مقصد کی توسیع کے لیے لوگوں نے جے پی کو دعوت دی تھی۔ گاندھی اور جے پرکاش جہاں جہاں گئے، عوامی سیلاب ان کے ساتھ نظر آیا۔ انا کی مخالفت بس ملک کے شہری باشندوں اور یونیورسٹی کے طلبا تک ہی محدود رہی۔ گاندھی جی کی ملک کے طلبا میں بھی ایسی ساکھ تھی کہ گاندھی جی نے پڑھے لکھے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو بھی گاؤں گاؤں جا کر بیداری پھیلانے کا کام دیا اور بخوبی کروایابھی، لیکن انا کے طلبا بس دھرنے پر بیٹھے ٹی وی پر بیان دے رہے تھے۔ ان میں سے کتنوں کو انا گاؤں جانے کے لیے تیار کرپا تے، یہ سوچنے کی بات ہے۔ انا گاندھی نہیں ہیں، انا جے پرکاش نہیں ہیں، انا صرف انا ہزارے ہیں۔ ویسے جتنے کم وقت میں اس تحریک نے بلندی حاصل کی اتنے ہی وقت میں انا ہزارے کی تحریک اب تھمنے بھی لگی ہے۔ تحریک میں دراڑ بھی نظر آنے لگی ہے۔ جو لوگ کل تک انا ہزارے کی حمایت کر رہے تھے، اب انا کے خلاف بیان دے رہے ہیں۔ انا ہزارے نے مودی کے بارے میں ایک بیان کیا دیا میدھا پاٹیکر، ارونا رائے، ملیکا سارا بھائی سمیت ان کے کئی کارکنان اور حامیوں نے ان کے نظریے اور قیادت پرہی سوال کھڑے کردیے۔ اس مخالفت کو نظرانداز تو نہیں کیا جاسکتا۔ نظریے کی کمی کسی بھی تحریک کو بے سمت کردیتی ہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *