بدعنوان نظام کو اڑا لے جائے گی انا کی آندھی

ڈاکٹر منیش کمار
ملک  بھر میں انا ہزار ے کی جے جے کار ، بدعنوانی کے خلاف تحریک کی گونج،شہری نوجوانوں کا سڑکوں پر اترنا، کینڈل مارچ کرنا،یہ تمام باتیںایک نئی سیاست کے آغاز کا اشارہ ہیں۔ ہندوستان کی سیاست ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جس نے بر سر اقتدار پارٹی اور اپوزیشن کے معنی ہی بدل دئے ہیں۔ کانگریس پارٹی، بی جے پی اور دیگر سیاسی جماعتوںکے ساتھ نوکر شاہی ہے اور اس کی مخالفت میں ملک کے عوام کھڑے ہیں۔مطلب یہ ہے کہ ایک جانب ملک چلانے والے لوگ ہیں اور دوسری جانب ملک کے عوام ہیں۔ آج دونوں ایک دوسرے کی مخالفت میں کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ملک چلانے والوں نے سرکاری مشینری کو اتنا مضر بنا دیا ہے کہ لوگوں کا اعتماد منتشر ہونے لگا ہے۔سیاسی جماعتوں کی ساکھ دائو پر ہے۔ ایک جانب ملک کے عوام ہیں جو بدعنوانی کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور حکومت سے توقع کر رہے ہیں کہ ایمانداری سے وہ اپنے تمام فرائض کو انجام دے ۔ دوسری جانب حکومت اورسیاسی پارٹیاں ہیں جنھوں نے مان لیا ہے کہ انتخابات جیتتے ہی انہیں ملک میں من مانی کرنے کا حق مل گیا ہے اور اگر ایسا نہیں ہے تو اس سوال کا جواب کون دے گا کہ بدعنوانی سے لڑنے والا لوک پال قانون 42سال سے نافذ کیوں نہیں ہوا۔ کیوں بوفورس گھوٹالے کے ملزمین کو چھوڑ دیا جاتا ہے، کیوں بڑے بڑے گھوٹالوں کو انجام دینے والے طاقتور لیڈران چھوٹجاتے ہیں۔ کیوں آج تک گھوٹالوں میں شامل کسی بڑے افسر کو سزا نہیں ملی،کیوں گھوٹالے میں نام آنے پر وزراء کا استعفیٰ ہی ان کی سزا مان لیا جاتا ہے۔کیایہی قانون ہے؟
یہ واقعی شرم و غیرت کی بات ہے کہ جس ملک میں عوام بدعنوانیوں سے دو چار ہیں۔ اس ملک میں بدعنوانی کو روکنے کے لئے کوئی کارگر قانو ن ہی نہیں ہے اور جو قوانین ہیں ، وہ صرف چھوٹے موٹے افسران کو ہی سزا دلوانے میں اہل ثابت ہوتے ہیں۔لوک پال بل کی ضرورت اس لئے ہے کیونکہ یہ ملک کا واحد ایسا قانون ہوگا جس سے عوام بدعنوانی کے معاملہ کو اجاگر کر کے وزراء اور افسران کو سزا دلوا سکتے ہیں۔عوام کے لئے بدعنوانی سے لڑنے کا یہ سب سے طاقتور ہتھیار ہوگا۔اب تک ملک میںکوئی ایسا قانون نہیں ہے جو عوام کو اعلیٰ مقامات پر ہونے والی بدعنوانیوں کا پردہ فاش کرنے اور سزا دلانے کا اختیار دیتا ہو۔ہندوستان کی جمہوریت کو برباد ہونے سے بچانے کے لئے حکومت کو یہ قانون نافذ کرنا ہی ہوگا۔
لہٰذا حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ سرکاری مشینری میں بدعنوانی اور گھوٹالوں سے لوگ عاجز آ چکے ہیں۔عوام حکومت اور اپوزیشن دونوں سے بے حد خفا ہیں۔عوام ان گھوٹالوں کے لئے حکومت کو ذمہ دار مانتے ہیں۔ وہ اپوزیشن سے اس بات کے لئے ناراض ہیں کیونکہ اب تک بدعنوانی کے خلاف اپوزیشن پارٹیاں ملک گیر تحریک چلانے میں ناکام رہی ہیں۔لوگ اس بات کو بخوبی سمجھ گئے ہیں کہ اس لوٹ مار اور گھوٹالوں میں بر سر اقتدار پارٹی ہو یا اپوزیشن دونوں ہی برابر کی شریک ہیں۔ملک کے لئے یہ صورتحال بے حد تشویشناک ہے۔اب بدعنوانی کے سوال کو ٹالا نہیں جا سکتا۔اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ جنتر منتر پر جب شرد یادو جیسے تجربہ کار اور صاف شفاف شبیہ والے لیڈر بولنے کے لئے اٹھے تو لوگوں نے انہیں بٹھا دیا۔ ہریانہ کے سابق وزیر اعلیٰ اوم پرکاش چوٹالہ اور مدھیہ پردیش کی سابق وزیر اعلیٰ اوما بھارتی کو تو لوگوں نے اسٹیج تک پر نہیں چڑھنے دیا۔یہ بی جے پی لئے شرمناک صورتحال ہے۔اگر کرناٹک کے وزیر اعلیٰ یدیو رپا کے خلاف کارروائی کی گئی ہوتی تو آج بی جے پی بدعنوانی کے خلاف تحریک کی قیادت کر سکتی تھی ۔حالات اتنے سنجیدہ ہیں کہ حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک ہو رہی ہے لیکن بی جے پی کا کوئی بھی لیڈر یہ ہمت نہیں کرپا رہا ہے کہ اس تحریک میں شامل بھی ہو سکے۔حکومت اور اپوزیشن کو یہ سمجھنا ہوگا کہ لوگوں کے درمیان ان کی ساکھ اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ ملک کا نوجوان طبقہ اب سیاستدانوں کی باتوں کو سننا تک پسند نہیں کرتا۔اگر ایسے میں انا ہزارے جیسے سماجی کارکن تحریک چلاتے ہیں تو انہیںعوامی حمایت ملنا فطری ہے۔جن لوگوں کا سیاست سے کوئی واسطہ نہیں ہے وہ اس تحریک کی حمایت کر رہے ہیں،کیونکہ یہ لوگ سیاسی جماعتوں کی ریلیوں کی طرح بھاڑے پر لائے گئے لوگ نہیں ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود بھی حکمرانوں کی نیت کا پتہ نہیں چل پایا ہے۔ یہ بھی معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ حکومت بدعنوانی سے لڑنا چاہتی بھی ہے یا نہیں۔
لوک پال قانون نافذ کرنے اور عوام کی توقعات کے مطابق اسے تیار کرنے کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے لئے 72سالہ انا ہزارے نے غیر معینہ بھوک ہڑتال کی شروعات کی۔ بھوک ہڑتال کرنے کا فیصلہ اتفاق سے یا بروقت نہیں لیا گیا۔ انا ہزارے سونیا گاندھی اور وزیر اعظم منموہن سنگھ کو دسمبر سے خط لکھ رہے تھے ، لیکن انھوں نے خط کا جواب تو دور اس پر غور کرنا بھی گوارا نہیں سمجھا۔ آخر جب فروری میں انا ہزارے نے وزیر اعظم کو یہ خط ارسال کیا کہ لوک پال بل کو اگر پاس نہیں کیا گیا اور اس میں ترمیم نہیں کی گئی تو وہ 5اپریل سے بھوک ہڑتال پر بیٹھ جائیں گے۔یہ خط ملتے ہی وزیر اعظم نے انا ہزارے کو بات چیت کے لئے مدعو کیا۔لہٰذا7مارچ کو انا ہزارے نے منموہن سنگھ سے ملاقات کی اور لوک پال بل سے متعلق اپنی رائے کا اظہار کیا۔حکومت جس شکل میں لوک پال کا نفاذ کرنا چاہتی ہے اس میں انا ہزارے اور ملک کے دوسرے رضا کار ادارے ترمیم چاہتے ہیں۔انہیں اس بات کا خدشہ ہے کہ حکومت جس بل کو نافذ کرنا چاہتی ہے اس سے عوام کو کچھ فائدہ نہیں ہونے والا۔ایسے لوک پال کا آخر فائدہ بھی کیا ہوگا کہ بدعنوان وزراء اور افسران کو پکڑا نہ جا سکے ، سزا نہ دلائی جا سکے۔عوام کا بھروسہ مرکزی حکومت سے اس لئے بھی اٹھ گیا ہے کیونکہ کچھ دن قبل حکومت نے آر ٹی آئی قانون کو کمزور کرنے کی کوشش بھی کی تھی ۔ ایسی ترمیم کا مطلب صاف ہے کہ حکومت ملک کے عوام کو حقوق دینا ہی نہیں چاہتی جس سے وہ حکومت کی تمام معلومات سے روبرو ہو سکیں، بدعنوان اور غیر قانونی سرگرمیوں کا پردہ فاش کر سکیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ یہ سب کچھ ایسے وزیر اعظم کی قیادت میں ہو رہا ہے کہ جن کی شبیہ ایک ایماندار لیڈر کی ہے۔
لوک پال بل کا مستقبل بھی کہیں آرٹی آئی قانون کی طرح نہ ہو جائے۔ اس لئے انا ہزارے اور ان کے حامی چاہتے ہیں کہ اس قانون کو بنانے کے لئے جو کمیٹی بنے اس میں افسران اور عوام کا مساوی اشتراک ہو۔جب منموہن سنگھ نے انا ہزارے کے اس مشورے کو نامنظور کر دیا تو وہ غیر معینہ بھوک ہڑتال پر بیٹھ گئے۔ 5اپریل کو دہلی میں انا ہزارے کے ساتھ بھوک ہڑتال کرنے والوں کی تعداد تقریباً129تھی ، دوسرے دن یہ تعداد 147ہو گئی اور تیسرے دن بھوک ہڑتال کرنے والوں کی تعداد185ہو گئی ۔ قابل ستائش بات یہ ہے کہ دہلی کے احتجاجی مظاہروں میں شامل ہونے والے لوگ عام لوگ تھے، نوکری پیشہ لوگ تھے، جن میں بیشتر نوجوان تھے، آئی آئی ٹی میں زیر تعلیم انجینئر اور میڈیکل کالج میں زیر تعلیم ڈاکٹر تھے۔میڈیا کی مدد سے انا ہزار ے اپنے پیغام کو ملک کے مختلف حصوں میں پہنچانے میں کامیاب رہے۔ ملک کے عوام سیاستدانوںاور سرکاری مشینری سے اتنے خائف ہیں کہ انا ہزارے کی حمایت میں ملک کے تقریباً400 چھوٹے بڑے شہروں میں تقریباًسات لاکھ لوگوں نے بھوک ہڑتال کی۔
کانگریس کی سیاست کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے کیونکہ گزشتہ کچھ ماہ سے ملک میں گھوٹالے پر گھوٹالے ہو رہے ہیں۔ حکومت اور پارٹی ویسے ہی بیک فٹ پر تھی کیونکہ ان گھوٹالوں میں ان کے وزراء اور حکومت کے کارندوں کا نام آ رہا تھا۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ گھوٹالوں کا پردہ فاش ہونے کا سلسلہ ابھی تھم نہیں رہا ہے۔آئندہ دنوں میں نئے نئے گھوٹالوں کا پردہ فاش ہو سکتا ہے اور حکومت کی کرکری ہوسکتی ہے۔عوام گھوٹالوں سے پریشان ہیں۔ لہٰذا اپوزیشن نے بھی بدعنوانی کے ایشو کو لے کر حکومت پر حملے تیز کر دئے ہیں۔ حکومت نے اپوزیشن کو ایک کراراجواب دینے کی تیاری کی۔ انھوں نے یہ سوچا کہ لوک پال بل کو لا کر مخالفین کو خاموش کیا جا سکتا ہے۔مطلب یہ ہے کہ حکومت جس بل کا نفاذ کرنا چاہتی ہے وہ بدعنوانی کی جڑ ختم کرنے کا عزم نہیں بلکہ سیاست کی ایک چال ہے جس سے اپوزیشن اور مخالفین کو خاموش کرایا جا سکے۔یہی وجہ ہے کہ سرکاری لوک پال بل ایک چھلاوا ہے کیونکہ قانون کے ہاتھ بدعنوان افسران اور ججوں کے گریباں تک پہنچنے میں نا اہل ہیں۔انا ہزارے کی تحریک نے کانگریس پارٹی اور سونیا گاندھی کی مصیبتیں بڑھا دی ہیں اور ان مصیبتوں کا واسطہ راہل گاندھی کی سیاست سے ہے۔ کانگریس پارٹی راہل گاندھی کو نوجوانوں کے لیڈر کی شکل میں پیش کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہے۔ کانگریس راہل گاندھی کو 21ویں صدی کے لیڈر کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے لیکن جس طرح سوشل نیٹورک سائٹ پر انا ہزارے کی تحریک نے رفتار پکڑی اس سے کانگریس کے پالیسی سازوں کے ہوش باختہ ہو گئے۔ راہل گاندھی کو جس نوجوان طبقہ کا لیڈر بنایا جا رہا ہے ، اس نوجوان طبقہ کی حمایت انا ہزارے کو مل رہی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس تحریک میں نوجوانوں کی حمایت میں اضافہ ہونے لگا۔ کانگریس پارٹی اور سونیا گاندھی کو یہ بات سمجھ میں آ گئی کہ اس تحریک نے طول پکڑا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان راہل گاندھی کو ہونے والا ہے۔ اس لئے بھوک ہڑتال کے دوسرے ہی دن بات چیت کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس دوران راہل گاندھی پوری طرح خاموشی اختیار کئے رہے۔کانگریس پارٹی کی دوسری مصیبت یہ بھی ہے کہ پانچ ریاستوں میں انتخابات ہورہے ہیں۔بہار انتخابات میں شکست کے بعد ان ریاستوں کا انتخاب راہل گاندھی کے لئے انتہائی اہم ہے اور اس کا اثر ان پر ظاہر بھی ہوا۔وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے بھوک ہڑتال کے دوسرے ہی دن راہل گاندھی اور سونیا گاندھی تمل ناڈو میں انتخابی تشہیر کرنے پہنچ گئے۔وہاں خالی کرسیوں سے ان کا استقبال ہوا، لوگ انہیں دیکھنے تک نہیں پہنچے۔ کانگریس کے پاس انا ہزارے کے سامنے جھکنے کے سوا کوئی دوسرا متبادل نہیں بچا۔ اس لئے منموہن سنگھ حکومت کے ذریعہ انا ہزارے کے سامنے جو پیش کش رکھی گئی وہ بدعنوانی کو ختم کرنے کی نیت سے نہیں بلکہ سیاسی حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔
حکومت کی نیت پر اس لئے شک و شبہات ظاہر ہو رہے ہیں کیونکہ حکومت جیسا لوک پال بل بنانا چاہتی ہے وہ بدعنوان افسران ، وزراء اور ججوں کو پکڑنے میں اہل نہیں ہے۔ حکومت جس طرح کے لوک پال بل کا نفاذ چاہتی ہے وہ آسانی سے سیاست کا شکار ہو جائے گا کیونکہ اس میں تمام اختیارات لیڈران کو ہی دئے گئے ہیں۔ حکومت کو جواب دینا چاہئے کہ انھوں نے ایسا بل تیار کیوں کیا جو بدعنوان افسران اور بدعنوان ججوں کو لوک پال بل کی اختیار ی حد سے باہر رکھتا ہے۔سوال یہ ہے کہ بدعنوانی کو جڑ سے ختم کرنے والے قانون کو اتنا کمزور کیوں بنایا؟ حکومت نے جو بل تیار کیا ہے اس میں کسی بھی معاملہ کی تفتیش ہو یا نہ ہو اس کا فیصلہ لوک سبھا کے اسپیکر اور راجیہ سبھا کے چیئر مین کے ہاتھ میں دیا گیا ہے۔ اگر ایسا ہوگا تو کسی بھی معاملہ کے سامنے آتے ہی اس پر سیاست حاوی ہو جائے گی۔ جس پارٹی کا لوک سبھا اسپیکر یا راجیہ سبھا کا چیئر مین ہوگا وہ اپنے حساب سے فیصلہ لے گا۔ جس طرح سے ملک کی دوسری ایجنسیوں پر سیاست حاوی ہو گئی ہے اسی طرح اس کا حشر بھی وہی ہوگا۔ اب لوک سبھا کے اسپیکر کون ہوتے ہیں، اسپیکر برسر اقتدار پارٹی کا ہوتا ہے۔ایسی صورت میں یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ اسپیکر کے فیصلہ میں جانبداری نہیں ہوگی۔ ویسے یہ بات سننے میں کچھ عجیب ضرور ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ لوک سبھا کے اسپیکر خود کو پارٹی سیاست سے اوپر نہیں کر پائے ہیں۔ ملک میں ایسے کئی لوک سبھا اسپیکر رہے ہیں جو بعد میں وزیر بنے ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ اگر لیڈران کو ہی تمام فیصلہ کرنے ہیں تو عام آدمی کے ہاتھ میں کیا ہے؟اگر اے راجا کا کیس لوک پال کے سامنے آتاتو لوک سبھا جاتے ہی یہ معاملہ اسپیکر کے پاس پہنچتااور جس طرح سے وزیر اعظم اور کانگریس کے ترجمان نے اے راجا کو کلین چٹ دی تھی اور ویسا ہی برتائو لوک سبھا کے اسپیکر کا ہوتا تو کیا ہوتا۔ لوک پال بیٹھے رہتے اور اے راجا آرام سے ٹیلی کام منسٹری میں بدعنوانی کے بیج بوتے رہتے۔اگر حکومت بدعنوانی کو واقعی ختم کرنا چاہتی ہے تو پھر ایسا بل ہی کیوں لا رہی ہے جو پہلے سے ہی نا اہل ہے۔ اس بل کی دوسری سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ صرف رائے مشورے دینے کے لئے ہے۔اس میں بدعنوان لوگوں کو سزا دلانے، ان کی جائداد ضبط کرنے، شکایت کی سماعت اور ایف آئی آر کرانے کی کوئی تجویز نہیں ہے۔ اب حکومت ایسے بل کو لا کر کس طرح سے بدعنوانی سے لڑے گی، یہ قابل غور بات ہے۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ لوک پال بل اگر صرف رائے مشوروںکے لئے ہے تو حکومت اے راجا، کلماڈی اور پی جے تھامس جیسے رسوخ دار لوگوں کو کیسے پکڑ سکتی ہے۔ جب ملک میں بدعنوانی کرنے والے اعلیٰ افسران لیڈر اور صنعت کار ہوں تو بدعنوانی ختم کرنے والا قانون موثر ثابت کیسے ہو سکتا ہے۔
کانگریس پارٹی کہتی ہے کہ قانون بنانے کا کام حکومت اور عاملہ کا ہے۔ حکومت ایسا کوئی پریسی ڈنٹ سیٹ کرنا نہیں چاہتی جس میں کوئی دباؤ ڈال کر یا بندوق کی نوک پر یا پھر بھوک ہڑتال یا بلیک میل کر کے فیصلہ کو موثر کر سکے۔
کانگریس پارٹی کا ماننا ہے کہ جو لوگ بھوک ہڑتال کر رہے ہیں وہ نہ تو ممبران پارلیمنٹ ہیں ، نہ ہی وزراء اور نہ ہی افسر ۔اس لئے انہیں قانون ساز کمیٹی میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ سوا سو سال پرانی پارٹی یہ کیسے بھول گئی کہ جمہوریت کی روح آئینی عمل میں نہیں ، عوامی اور سماجی رائے میں رہتی ہے ۔ جس جمہوریت میں عوامی رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی وہ جمہوریت انتشار کا شکار ہو جاتی ہے۔ جس ملک کی پارلیمنٹ عوام کی توقعات اور جذبات کو دھیان میں رکھ کر قانون نہیں بناتی وہاں بغاوت ہوتی ہے۔ حکومت لوک نائک جے پرکاش نارائن کو کیسے بھول گئی۔1974کے انقلاب کو کیسے بھول گئی، جس میں طلبا اور نوجوانوں نے تحریک چلائی اور اندرا گاندھی کا تختہ پلٹ کر دیا۔حکومت کو دھیان رکھنا چاہئے کہ اس تحریک کو شہری نوجوانوں کا بھرپور تعاون مل رہا ہے۔
انا ہزارے جس طرح کا لوک پال چاہتے ہیں ، اس میں افسران، وزرائ، لیڈر، جج اور صنعت کار گھوٹالہ کر کے کسی بھی صورت میں بچ نہیں سکتے۔ یہ بل خرد برد کی گئی رقم کو واپس سرکاری خزانہ میں جمع کرانے کا اہل ہے،بدعنوانوں کو سزا دلانے کا اہل ہے۔ یہ بل بدعنوانی کی اطلاع یا معلومات دینے والے شخص کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ بل لوک پال کو سیاسی دبائو سے باہر رکھتا ہے۔ یہ بل لوک پال کو ایک صاف شفاف ادارہ بناتا ہے، لیکن حکومت نے رائے مشوروں کو ماننے سے انکار کر دیا۔ انا ہزارے یہ نہیں چاہتے ہیں کہ جو بل ان لوگوں نے بنایا ہے اسے ہوبہو نافذ کیا جائے۔ان کا مطالبہ یہ ہے کہ اس قانون کو بنانے میں حکومت اور عوام کا مساوی اشتراک ہو، لیکن وزیر اعظم نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اس بل کو بنانے کے لئے ایک وزارتی گروپ بنایا گیا ہے ۔ آپ اپنی رائے دے سکتے ہیں۔
اس سے تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی جماعتیں اور لیڈران کی فکر بدعنوانی ختم کرنا نہیں ہے، بلکہ انہیں یہ ڈر ستا رہا ہے کہ اگر اس طرح کا مؤثر  بل پاس ہو گیا تو وہ بدعنوانی کیسے کریں گے، پیسہ کیسے کمائیں گے،انتخابات کے لئے چندہ کہاں سے جمع کریں گے، صنعت کاروں کے ساتھ مل کر ملک کو کیسے لوٹیں گے، خود کو جیل کی سلاخوں سے کیسے بچائیں گے۔ اب ملک کے عوام کوخود ہی فیصلہ کرنا ہوگا ۔جس طرح جے پرکاش نارائن کے ساتھ ملک کے نوجوانوں نے تحریک چلائی تھی، انا ہزارے کا ساتھ دینے کے لئے نوجوانوں،کسانوں ،مزدوروں کو آگے آنا ہوگا، لڑنا ہوگا۔ملک کے سامنے یہ ایک تاریخی موقع ہے جسے گنوانا ملک کے مستقبل کے لئے بے حد مہنگاثابت ہو سکتاہے۔

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Latest posts by ڈاکٹر منیش کمار (see all)

Share Article

ڈاکٹر منیش کمار

ڈاکٹر منیش کمار کے پاس الیٹرانک میڈیا کا طویل تجربہ ہے۔ وہ ایک بیباک اور تیکھے سیاسی تنقید کار ہیں۔ ان کو سیاست میں بنتے بگڑتے حالات اور ”چوتھی دنیا“ سے سروکار رکھنے والے مدعوں کی باریک سمجھ ہے۔ ”چوتھی دنیا“کے کوآرڈینیشن ایڈیٹر کی اہم ذمہ داری ان کے کندھوں پر ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *