دنیا کے تمام قوانین سے شرعی قوانین بہتر ہیں، یہ ایک چیلنج ہے

محمد صابر
خواتین کی اوسط عمر مردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ قدرتی طور پر عورتیں اور مرد تقریباً یکساں تناسب سے پیدا ہوتے ہیں۔ ایک لڑکی میں (پیدائش کے وقت سے ہی) لڑکوں کی بہ نسبت زیادہ امونیٹی ہوتی ہے۔ مطلب یہ کہ ایک لڑکی لڑکے کے مقابلے میں جراثیم اور بیماریوں سے زیادہ بہتر انداز میں اپنا دفاع کرسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹی عمر کے بچوں میں لڑکوں کی اموات کا تناسب لڑکیوں سے زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح جنگوں وغیرہ میں بھی عورتوں سے زیادہ مردوں کی ہلاکتیں ہوتی ہیں۔ بیماریوں اور حادثوں کی وجہ سے بھی مردوں کی اموات عورتوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتی ہیں۔ مختصر یہ کہ خواتین کی اوسط عمر مردوں کی اوسط عمر سے زیادہ ہوتی ہے اور کسی بھی موقع پر ہمیں دنیا بھر میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہی ملتی ہے۔ لڑکیوں کے اسقاط حمل اور بچیوں کی ہلاکت کے باعث ہندوستان میں مردوں کی آبادی خواتین سے زیادہ ہے۔ اپنے کچھ پڑوسی ممالک سمیت ہندوستان کا شمار دنیا کے ان چند ملکوں میں ہوتا ہے، جہاں خواتین کی آبادی مردوں کی آبادی سے کم ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں بیشتر لڑکیوں کو شیر خوارگی ہی کے موقع پر ہلاک کردیا جاتا ہے، جب کہ دوسری طرف اس ملک میں ہر سال دس لاکھ سے زائد بچیوں کو اسقاط حمل کے ذریعے آنکھ کھولنے سے بھی پہلے ہلاک کردیا جاتا ہے۔ یعنی جیسے ہی یہ انکشاف ہوتا ہے کہ فلاں حمل کے نتیجے میں لڑکی پیدا ہوگی تو اسقاط حمل کے ذریعے وہ حمل ضائع کروا دیا جاتا ہے۔ اگر ہندوستان میں یہ ظالمانہ عمل روک دیا جائے تو یہاں بھی عورتوں کی تعداد مردوں سے زیادہ ہوجائے گی۔ عورتوں کی عالمگیر آبادی مردوں سے زیادہ ہے۔ امریکہ میں عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں 78 لاکھ زیادہ ہے۔ صرف نیویارک ہی میں عورتوں کی آبادی مردوں سے تقریباً دس لاکھ زیادہ ہے۔ جب کہ نیویارک کی مردآبادی کا بھی ایک تہائی حصہ ہم جنس پرست مرد(Gays) پر مشتمل ہے۔ پورے امریکہ میں مجموعی طور پر ڈھائی کروڑ سے زیادہ ہم جنس پرست مرد(Gays) موجود ہیں۔ یعنی یہ مرد عورتوں سے شادی کرنا نہیں چاہتے۔
برطانیہ میں خواتین کی آبادی مردوں کے مقابلے میںچالیس لاکھ زیادہ ہے۔ اسی طرح جرمنی میں خواتین کی تعداد مردوں سے پچاس لاکھ زیادہ ہے۔ روس کی طرف دیکھیں تو وہاں خواتین کی آبادی مردوں کی بہ نسبت 90 لاکھ سے زیادہ ہے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ ساری دنیا میں عورتوں کی مجموعی آبادی مردوں کے مقابلے میں حقیقتاً کتنی زیادہ ہے۔ ہر ایک مرد کو صرف ایک بیوی تک محدود رکھنا عملاً ممکن نہیں ہے۔ اگر ہر مرد کو صرف اور صرف ایک بیوی رکھنے کی اجازت ہو تو صرف امریکہ ہی میں تقریباً تین کروڑ خواتین کنواری رہ جائیںگی(کیوںکہ وہاں کی مرد آبادی کے ڈھائی کروڑ افراد ہم جنس پرست ہیں) برطانیہ میں چالیس لاکھ، جرمنی میں پچاس لاکھ اور روس میں 90 لاکھ عورتیں شوہر سے محروم رہیںگی۔ فرض کیجیے کہ آپ کی یا میری بہن غیرشادی شدہ ہو اور امریکہ کی شہری ہے اب اس کے سامنے صرف دو ہی راستے ہوںگے۔ یا تو وہ کسی شادی شدہ مرد سے شادی کرلے یا پھر غیر شادی شدہ رہ کر ’’عوامی ملکیت‘‘ (پبلک پراپرٹی) بن جائے۔ دوسرا کوئی راستہ نہیں۔ سمجھ دار اور عقل مند لوگ اس صورت حال میں پہلے راستے ہی کو ترجیح دیںگے۔ بیشتر عورتیں یہ نہیں چاہیں گی کہ ان کے شوہر کی کوئی دوسری شریک حیات بھی ہو، لیکن جب اسلام کا معاملہ سامنے آئے اور مرد کے لیے دوسری شادی کرنا(اسلام کو بچانے کی غرض سے) لازمی ہوجائے تو صاحب ایمان شادی شدہ عورت ذاتی نقصان برداشت کر کے اپنے شوہر کو دوسری شادی کی اجازت دے سکتی ہے تاکہ اپنی مسلمان بہنوں کو عوامی ملکیت بننے سے ایک عظیم تر نقصان سے بچایا جاسکے۔ عوامی ملکیت بننے سے بہتر ہے کہ شادی شدہ مرد سے شادی کرلی جائے۔ مغربی معاشرے میں یہ بات عام ہے کہ مرد ایک شادی کرنے کے باوجود (اپنی بیوی کے علاوہ) دوسری عورتوں مثلاً ملازماؤں(سکریٹریوں اور رفقاء کار) اور کئی طرح کی عورتوں کے ساتھ زن و شوہر والے تعلقات قائم کرلیتے ہیں۔ یہ ایک ایسی کیفیت ہے جو عورت کی زندگی کو شرمناک اور غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔ کیا یہ افسوس کا مقام نہیں ہے کہ وہی معاشرہ مرد کو صرف اور صرف ایک شادی کا پابند بناتا ہے اور دوسری بیوی کو سرے سے قبول ہی نہیں کرتا؟ حالانکہ بیوی ہونے کی صورت میں عورتوں کو معاشرے میں باعزت مقام ملتا ہے، ان کا احترام کیا جاتا ہے اور وہ ایک محفوظ زندگی گزار سکتی ہے۔ لہٰذا وہ عورتیں جنہیں کسی وجہ سے شوہر نہیں مل پاتا، وہ صرف دو راستے اختیار کرنے پر ہی مجبور ہوتی ہیں۔ شادی شدہ مرد سے شادی کرلیں یا پھر عوامی ملکیت بن جائیں۔ اسلام ترجیحی بنیادوں پر عورت کو ایک محترم مقام دینے کے لیے پہلے راستے کی اجازت دیتا ہے، جب کہ دوسرے راستے پر پابندی عائد کرتا ہے۔ اسلام میں محدود پیمانے پر کثرت ازدواج کی اجازت کیوں ہے؟ اس کے جواب میں دوسری کئی دلائل بھی موجود ہیں۔ تاہم اس کا بنیادی مقصد عورت کے تقدس اور احترام کی حفاظت کرنا ہے۔
بہت سے افراد جن میں کچھ مسلمان بھی شامل ہیں، یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آخر اسلام میں مرد کے لیے کثرت ازدواج کی اجازت ہونے اور عورت کے لیے یہ فعل ممنوع ہونے کی کیا عقلی دلیل ہے، کیوں کہ ان کے خیال میں یہ عورت کا ایک ’’حق‘‘ ہے جس سے عورت کو محروم کیا گیا ہے۔ پہلے تو میں نہایت ادب و احترام سے کہوںگا کہ اسلام کی بنیاد عدل اور مساوات پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مرد اور عورت کو مساوی تخلیق کیا ہے، مگر مختلف صلاحیتوں کے ساتھ اور مختلف ذمہ داریاں نبھانے کے لیے عورت اور مرد نہ صرف جسمانی بلکہ نفسیاتی اعتبار سے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اسی طرح ان کے کردار اور ان کی ذمہ داریاں بھی مختلف ہیں۔ یاد رکھیے اسلام میں عورت اور مرد ایک دوسرے کے برابر ہیں، مگر باہم مماثل(Identical) نہیں ہیں۔ قرآن پاک کی چوتھی سورۃ مبارکہ سورہ نساء کی 22 ویں تا 24 ویں آیات میں ان عورتوں کی فہرست دی گئی ہے، جن سے مسلمان مرد شادی نہیں کرسکتے۔ سورہ نساء کی 24ویں آیت میں مزید یہ بھی بتا دیا گیا ہے ’’ان عورتوں سے بھی (شادی کرنے کی ممانعت ہے) جو شادی شدہ ہوں۔‘‘ درج ذیل نکات میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسلام میں عورت کے لیے بیک وقت ایک سے زیادہ شوہر رکھنے کی ممانعت کیوں ہے۔ (1) اگر کسی شخص کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں تو ان شادیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچوں کے والدین کی شناخت بہ آسانی ممکن ہے۔ یعنی ایسے کسی بچے کے باپ اور ماں دونوں کے بارے میں آسانی سے بتایا جاسکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی عورت ایک سے زیادہ مردوں کے ساتھ شادی کرے تو ایسی شادیوں سے پیدا ہونے والی اولاد کی ماں کے بارے میں تو پتہ چل جائے گا، مگر باپ کا تعین نہیں ہوسکے گا۔ اسلام میں والدین یعنی ماں اور باپ کی شناخت کو زبردست اہمیت دی گئی ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ وہ بچے جنہیں اپنے والدین کا علم نہ ہو خصوصاً جن کا باپ نامعلوم ہو وہ متعدد ذہنی صدمات اور نفسیاتی مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ عام طور پر ان کا بچپن ناخوش گزرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جسم فروشی کرنے والی عورتوں کے بچوں کا بچپن نہایت کرب و الم میں گزرتا ہے۔ ایسی کسی شادی سے پیدا ہونے والے بچے کو جب اسکول میں داخل کرایا جاتا ہے اور داخلے کے وقت اس کی ماں سے (بچے کے باپ کا نام پوچھا جائے تو اسے دو یا دو سے زیادہ نام بتانے پڑیںگے۔ (2) عورت کے مقابلے میں مرد کی فطرت میں کثرت ازدواج کا رجحان زیادہ ہے۔ (3) حیاتیاتی نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو ایک مرد کے لیے کئی بیویاں ہوتے ہوئے بھی ایک شوہر کی حیثیت سے ذمہ داریاں نبھانا زیادہ آسان ہوتا ہے، اگر ایسی کسی کیفیت کا سامنا عورت کو کرنا پڑے یعنی اس کے ایک سے زیادہ شوہر ہوں تو اس کے لیے بیوی کی ذمہ داریاں بحسن و خوبی نبھانا ہرگز ممکن نہیں ہوگا۔ اپنے ماہواری کے چکر میں مختلف مراحل کے دوران ایک عورت کے طرز عمل اور نفسیات میں متعدد تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ (4) کسی عورت کے ایک سے زیادہ شوہر ہونے کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کے جنسی شریک(سیکسوئل پارٹنرز) بھی کئی ہوںگے، لہٰذا س کے کسی جنسی بیماری میں مبتلا ہونے کا اور اس بیماری کو اپنے دیگر شوہروں تک منتقل کرنے کا امکان بھی بہت قوی ہوگا۔ چاہے وہ تمام کے تمام مرد صرف اسی ایک عورت تک ہی کیوں نہ محدود ہوں۔ اس کے برعکس اگر کسی مرد کی ایک سے زیادہ بیویاں ہوں اور وہ اپنی بیویوں ہی تک محدود رہے تو ایسا خدشہ تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ مذکورہ بالا دلائل صرف وہ ہیں، جن کا مشاہدہ بہ آسانی کیا جاسکتا ہے۔ یقینا جب اللہ تعالیٰ نے جو حکمت کا سرچشمہ ہے عورت کے لیے کثرت ازدواج کی ممانعت کی ہے تو اس میں بھی لاتعداد حکمتیں پوشیدہ ہوںگی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *