ہم اپنے ہی ادارے کو پاکر کتنے خوش ہیں؟

نوازش مہدی
جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام بابائے قوم مہاتما گاندھی کے صلاح و مشورے سے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کی غرض سے عمل میں آیا تھا۔ یہ بات ہم اور آپ تو بخوبی جانتے ہی ہیںساتھ ہی حکومت، یو جی سی اور ایچ آر ڈی منسٹری بھی جانتی ہے۔جامعہ کا قیام علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طرز پر مسلمانوں نے کیا اور اس لیے کیا تاکہ مسلمان تعلیمی میدان میں کسی سے پیچھے نہ رہیں۔جیسے اسٹیفن کالج عیسائیوں کا اور خالصہ کالج سکھوں کا تعلیمی ادارہ ہے ویسے ہی جامعہ مسلمانوں کا تعلیمی ادارہ ہے۔اس ادارے پر سب سے پہلا حق مسلمانوں کا ہے۔جامعہ نے مسلمانوں کی کردار سازی اور تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے میں خاصااہم رول ادا کیا ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جس نے ملک و بیرون ملک نہ صرف مسلمانوں کی ایک منفرد شناخت قائم کی ہے بلکہ ملک کا بھی نام روشن کیا ہے۔ جو تھوڑے بہت مسلمان آج ہندوستان میں بیدار ہیں، ترقی کے حامی ہیں، سیکولرذہن کے مالک ہیں اور مختلف شعبوں میںرہ کر ملک کی خدمت کر رہے ہیں وہ جامعہ اور اے ایم یو جیسے اقلیتی اداروں کی ہی دین ہیں۔
ایک تو مسلمان ویسے ہی ہر شعبے میں دلتوں سے بھی زیادہ پسماندہ ہیں،اگر تھوڑے بہت تعلیمی و اقتصادی طور پر خوشحال ہیں تو اقلیتی دانشگاہوں کی وجہ سے ہی ہیں، لیکن حکومت ان کی پسماندگی اور خوشحالی کی وجوہات جان کر بھی ان کے لیے کچھ کرنے کی بجائے مسلمانوں سے ان کا تعلیمی حق بھی چھین لینا چاہتی ہے۔ جامعہ اور اے ایم یو کو مسلمانوں کے ادارے تسلیم کرنے میں اسے نہ جانے کون سا انجانا خوف محسوس ہوتا ہے؟
بہر حال جامعہ سے محبت کرنے والے ان افراد کی محنت رنگ لائی جو طویل عرصے سے  جامعہ کے اقلیتی کردار کو بچانے کی جدو جہد کر رہے تھے۔23فروری کا دن جامعہ کی تاریخ میں ایک یادگار دن بن کر آیا اور اس دن پر ہمیشہ محبان جامعہ رشک کرتے رہیں گے۔ دراصل گزشتہ23فروری جامعہ کی تاریخ کا وہ سنہرا دن تھا جب جامعہ کے اقلیتی کردار کے دشمنوں کو منہ کی کھانی پڑی اور جامعہ اقلیتی کردار کا حامل ادارہ قرار پایا۔   جسٹس ایم ایس اے صدیقی، مہندر سنگھ اور سی تھامس پر مبنی نیشنل کمیشن فار مائنارٹی ایجوکیشنل انٹی ٹیوشنز (این سی ایم ای آئی) کی سہ رکنی بنچ نے آئین کے آرٹیکل30(1) اور قومی اقلیتی تعلیمی ادارہ ایکٹ کی دفع2جی کو پیش نظر رکھتے ہوئے جامعہ کو اقلیتی ادارہ قرار دیا۔ 51صفحات کے اپنے فیصلے میںبنچ نے کہا کہ جامعہ ہندوستانی آئین کی رو سے ایک اقلیتی ادارہ ہے اور یہ مسلمانوں کی بہبود کے لیے مسلمانوں نے قائم کیا۔لہذا کوئی جواز نہیں بنتا کہ جامعہ کو جنرل زمرے میں رکھا جائے نہ کہ اقلیتی زمرے میں۔
اس تاریخی فیصلے کے بعد اب جامعہ مسلمانوں کے کنٹرول والا تعلیمی ادارہ بن گیا ہے۔ وہ تعلیمی ادارہ جس کی بنیاد کچھ مسلم دانشوروں نے قوم کی فلاح و بہبود کے لیے رکھی تھی۔اب جامعہ میں مسلمانوں کے لیے 50فیصد سیٹیں محفوظ رہیں گی۔باقی 50فیصد میں دوسرے لوگ ہوں گے۔اس کے اقلیتی کردار کی بحالی کے سبب او بی سی ریزرویشن  اب یونیورسٹی میں نہیں ہوگا۔
یوں تو او بی سی افرادکے لیے ریزرویشن ہونا چاہئے اور اس کی مخالفت میں نہ تو جامعہ ہے اور نہ ہی مسلمان،لیکن یہ بھی قانون ہے کہ سینٹرل ایجوکیشنل (ریزرویشن ایڈمیشن) ایکٹ 2006 نے اقلیتی تعلیمی اداروں کوان ریزرویشنز سے پر مستثنیٰ قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ اکیڈمک کونسل اور ایگزیکٹیو کونسل آف جامعہ دونوں نے اپنی قرارداد میں واضح طور پر دہرایا ہے کہ جامعہ مسلم اقلیتی ادارہ  ہے۔ حتیٰ کہ سابق وزیر برائے فروغ انسانی وسائل ارجن سنگھ نے بھی بار بار اس کا اعتراف کیا ہے ۔ساتھ ہی ملک کی تمام سیاسی سیکولر جماعتوں نے گزشتہ لوک سبھا انتخابات کے اپنے انتخابی منشور میں جامعہ کے اقلیتی کردار کی بحالی کو شامل کیا تھا، اگر شامل نہیں کیا تھا تو صرف کانگریس نے۔یعنی مسلمانوں یا اقلیتوں کی دشمن کانگریس ہی ہے۔کانگریس نہیں چاہتی کہ مسلمان ترقی کریں، ان کی تعلیمی اور اقتصادی پسماندگی دور ہو۔اس کا مقصد صرف اور صرف مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرنا ہے۔وہ جانتی ہے کہ اگر مسلمان بیدار ہو گئے تو اپنا حق مانگنا شروع کر دیں گے، جس کے لیے نہ وہ پہلے تیار تھی اور نہ آج تیار ہے۔وگرنہ جامعہ یا اے ایم یو کو قطعاً جنرل زمرے میں نہیں رکھا جاتا۔یوں بھی  حکومت مسلمانوں یا دیگر اقلیتوں کے لیے کچھ نہیں کرے گی، ہاں اگر کرے گی توصرف کاغذی اعلانات، جو کہ کرتی بھی آئی ہے۔ اقلیتوں کے لیے اس کی تمام تر اسکیمیں کاغذوں تک ہی محدود رہتی ہیں۔
یوں تو حکومت کے ساتھ ساتھ اس کے اقلیتی کردار کو مسخ کرنے میں مسلمانوں نے بھی کوئی کور کثر باقی نہیں رکھی۔سابق وائس چانسلر مشیرالحسن یا دیگر وائس چانسلرز نے کبھی بھی جامعہ کوواضح طور پر اقلیتی ادارہ کہنا گوارا نہیں کیا۔ بلکہ انہیں ہمیشہ یہ خوف رہا کہ اگر ہم نے جامعہ کے اقلیتی کردار کی بات کی تو کرسی بھی گنوانی پڑ سکتی ہے۔یہی حال علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلرز کا رہا ہے۔انہیں محسوس ہوتا ہے کہ اگر ان اداروں کے اقلیتی کردار کی بات کریں گے تو کرسی تو جا ہی سکتی ہے آگے آنے والے راستے بھی بند ہو جائیں گے۔ یعنی ریٹائرمنٹ کے بعد کسی ریاست کے گورنر جیسے عہدے قسمت میں نہیں رہیں گے۔ قوم جائے بھاڑ میں، اس سے انہیں کوئی لینا دینا نہیں ہے۔سلمان خورشید نے بھی کبھی حکومت سے ان اداروں کے اقلیتی کردار کی بحالی کی بات نہیں کی، ہاں ارجن سنگھ نے ضرور کی۔ مسلمانوں کی فلاح و بہبود کا دم بھرنے والے فروغ انسانی وسائل کے مرکزی وزیر کپل سبل بھی اس حوالے سے مخلص نہیں رہے۔ جب اپنا ہی سکہ کھوٹا ہو تو دوسرے کا کیا دوش۔
خیر جامعہ کو اس کا کھویا ہوا وقار مل گیا، یہ مسلمانوں کے لیے ایک خوشگوار لمحے سے کم نہیں ہے۔اسے مسلمانوں کی معصومیت ہی کہا جائے گا کہ انہیں اپنے جائز حقوق میں سے بھی اگر تھوڑا سا کچھ مل جاتا ہے تو وہ اس پر بھی پھولے نہیں سماتے ہیں۔ جامعہ ان کا اپنا ادارہ تھا اور اپنے ادارے کو پانے کے لیے انہیں کتنی محنت اور جدو جہد کرنی پڑی یہ وہی جانتے ہیں اور جب یہ انہیں مل گیا تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں رہا۔ اخبارات مختلف تنظیموں اور افراد کی جانب سے مسرت آمیز پیغامات سے بھرے پڑے ہیں، یہ مسلمانوں کی معصومیت نہیں تو اور کیا ہے؟جامعہ کے اقلیتی کردار کی بحالی میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی مختلف انجمنوں، جامعہ ٹیچرس ایسوسی ایشن، جامعہ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن ،جامعہ ایڈمنسٹریٹو اسٹاف ایسوسی ایشن اور جامعہ اسکول ٹیچرس ایسوسی ایشن نے کافی اہم رول ادا کیا۔ یہ وہ تنظیمیں ہیں جنھوں نے جامعہ کے اقلیتی کردار کی بحالی میں دن رات ایک کردیا۔ساتھ ہی جامعہ مائنارٹی اسٹیٹس کو آرڈی نیشن کمیٹی کے کنوینر الیاس ملک کی خدمات بھی اس حوالے سے ناقابل فراموش ہیں۔
واضح ہو کہ 2006میںسینٹرل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنز( سی ای آئی) ایکٹ کے تحت جامعہ میں27فیصداو بی سی ریزرویشن کا پروانہ آیا جبکہ ساڑھے22فیصد ریزرویشن پہلے سے ہی ایس سی اور ایس ٹی طبقے کے لیے نافذ تھا۔قانون یہ ہے کہ کسی بھی ادارے میں50فیصد سے زائد ریزرویشن نہیں ہو سکتا۔تو50فیصدریزرویشن تو او بی سی، ایس سی اور ایس ٹی طبقے کو مل گیا پھر مسلمان کہاں جائیں؟ وہ مسلمان جنھوں نے جامعہ کو قائم کیا، وہ مسلمان جنہوں نے اس ادارے کے ذریعہ اپنی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کا خواب دیکھا، وہ مسلمان جنھوں نے جامعہ کو اپنے خون پسینے سے سینچا،وہ مسلمان جو سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق دلتوں سے بھی کہیں زیادہ بد تر زندگی بسر کر رہے ہیں، جن کی تعلیمی و اقتصادی پسماندگی ان کے لیے ایک لعنت بن گئی ہے۔ جبکہ کسی بھی اقلیتی ادارے میں یہ ہوتا ہے کہ50فیصد سیٹیں متعلقہ اقلیت کے لیے ریزرو ہوتی ہیں یعنی جو اقلیت ادارے کی بانی مبانی ہوتی ہے۔ باقی50فیصد جنرل ہوتی ہیں۔جامعہ کے بانی مبانی چونکہ مسلمان ہیں اس لیے 50فیصد سیٹوں پر مسلمانوں کا حق ہے۔
جامعہ کی تاریخ کیا رہی ہے اس پر بھی مختصراً روشنی ڈال لی جائے۔ دراصل 29 اکتوبر 1920کو کچھ ذی ہوش افراد کی کاوشوں سے علی گڑھ میں جامعہ کا قیام عمل میں آیا۔ جن میں مولانا محمد علی جوہر‘ مولانا محمودالحسن‘ حکیم اجمل خان، ڈاکٹر ذاکر حسین اور ڈاکٹر مختار انصاری جیسے افراد خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔علی گڑھ کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ کو دہلی کے قرول باغ میں شفٹ کر دیا گیا اور پھر1936میں اوکھلا کو اس کا مستقل مسکن بنا دیا گیا۔ جامعہ کے اطراف میں مسلمانوں کی کثیر آبادی اسی ادارے کی مرہون منت ہے۔جامعہ ملیہ کو 1962میں Deemedیونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا۔1962 تک کے تمام مراحل سے کہیں اس چیز کا احساس نہیں ہوا کہ یہ اقلیتی ادارہ نہیں ہے اور نہ ہی کبھی اس پر کسی نے سوال اٹھائے۔1988میں جامعہ کو پارلیمینٹ کے ایک ایکٹ کے ذریعہ مرکزی یونیورسٹی کا درجہ دے دیا گیا اور جامعہ کی سوسائٹی تحلیل کر دی گئی نیز تمام تر اختیارات یونیورسٹی کو منتقل کردئے گئے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *