بڑی تبدیلی کا انتظار

دلیپ چیرین
حال میں کابینہ میں ہوئی تبدیلی کودیکھ کر ایسا لگا، جیسے مذکورہ تبدیلیاںبے دلی سے کی گئی تھیں۔اب بڑے عہدوں پر فائز بابوئوں میں پھیر بدل جو لمبے وقت سے پینڈنگ میں ہے کا انتظار کیا جا رہا ہے۔سب سے پہلے تو سی وی سی کے عہدے پر کون آئے گا، اس کا انتظار ہے؟ذرائع پر یقین کریں تو اس عہدے کے لیے مرکزی خزانہ سکریٹری سشما ناتھ اور مرکزی داخلہ سکریٹری جی کے پلئی کے ناموں پر غور کیا جا رہا ہے۔سپریم کورٹ کے سخت رخ کو دیکھتے ہوئے ایسی امید کی جا رہی ہے کہ حکومت اس عہدے کے لیے کسی غیر آئی اے ایس افسر کے نام پر بھی غور کر سکتی ہے۔دوسری جانب یو پی اے حکومت میںکے ایم چندرشیکھر کی جگہ کابینی سکریٹری کے عہدے کے لیے پولک چٹرجی جو ابھی عالمی بینک میں ہیں کے نام پر بھی غور ہو سکتا ہے۔وزارت خارجہ میں بھی وسیع تبدیلی کی بات کہی جا رہی ہے۔ موجودہ خارجہ سکریٹری نروپما رائو امریکہ میںہندوستانی سفیر کی شکل میںاپنی ہی بیچ میٹ میرا شنکر کی جگہ لے سکتی ہیں۔رائو کی مدت کار آئندہ جون میں ختم ہو رہی ہے۔

ڈی او ٹی کی مصیبت

بلیک بیری سرورس سے متعلق معلومات حاصل کرنے میںناکامی ملنے کے بعد مرکزی وزارت داخلہ نے اس معاملے سے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ہے اور اس کی ذمہ داری محکمۂ ٹیلی مواصلات پر ڈال دی ہے۔بہر حال اس کے بعد وزارت داخلہ کے بابوئوں کے لیے حالات پرسکون ہو گئے ہیںلیکن پہلے سے ہی پریشان محکمۂ مواصلات کے بابوئوں کے لیے مشکلیں پیدا ہو گئی ہیں۔ایک تو محکمۂ مواصلات پہلے سے ہی-2جی معاملے سے نمٹنے میں مصروف ہے اور اوپر سے بلیک بیری کا ایک اور نیا معاملہ۔کیا محکمۂ ٹیلی مواصلات ان معاملوں سے نمٹ پائے گا، جن سے وزارت داخلہ کے بابو ہار مان گئے۔

غلطی کس کی ؟

جموںو کشمیر حکومت میں ایک آئی پی ایس افسر کی زبردستی سبکدوشی کا معاملہ اب ہائی کورٹ میں پہنچ گیا ہے۔جعلی تاریخ پیدائش کو لیکرآئی جی پی فاروق احمد کو گزشتہ ماہ ریٹائر کر دیا گیا ۔احمد نے اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چنوتی دی ہے۔دلچسپ طور پر جب احمد کو ان کے عہدے سے ہٹایا گیا تھا تب اس کے لیے انگلی اٹھی دہلی کی جانب۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ احمد نے1977میںریاستی پولس جوائن کی تھی، تب انھوں نے اپنی تاریخ پیدائش میں اصلاح کے لیے بھی کہا تھا، جواسکول کے ریکارڈ میں غلط درج ہو گئی تھی۔یہ ایشو وہیں ختم ہو گیا ہوتا لیکن ریاستی حکومت نے تاریخ پیدائش میںاصلاح کرنے کے بعد اس کی اطلاع مرکزی وزارت داخلہ کو نہیں دی۔اس کے بعد 2011 سے ہی اس معاملے سے جڑی فائل حکومت کے ریکارڈ سے غائب ہو گئی۔فی الحال یہ ایشو عدالت میں ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ آخر میں حقیقت سامنے آ ہی جائے گی۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *