قرآن کریم کی تعلیمات نے مسلم سائنسداں پیدا کئے

وصی احمد نعمانی

……گزشتہ سے پیوستہ
قرآنیتعلیمات نے بے شمار سائنسی رموز کی طرف رہنمائی کی ہے، اسی لیے وہ سائنس داں جو قرآن کے نکات کو سمجھنے میں کامیاب ہوئے، انہیں سائنسی میدان میں بڑی کامیابی ملی۔ اسی لیے یہ بات نہایت مضبوطی سے کہی جاتی ہے کہ ’’جتنی ترقی حامل قرآن لوگوں نے ایک صدی میں کی اتنی ترقی کرنے کے لیے کسی دوسری قوم کو ایک ہزار سال سے زیادہ کی مدت درکار ہوتی۔‘‘ قرآن کریم انتہائی یاس و حرماں نصیبی کے عالم میں کردار کی وہ مضبوطی، وہ استواری، ثابت قدمی، قوتِ ارادی اور تسلیم و رضا کی وہ قوت عطا کرتا ہے جو اس مسلک کے پیرؤں کی خصوصیت اور ان کا طرۂ امتیاز ہے…۔ کیوں کہ قرآن محض مراقبہ اور مطالعۂ فطرت پر ہی زور نہیں دیتا بلکہ یہ سائنسی طریقوں کے سلسلے میں بھی رہبری کرتا ہے، یہ دنیا میں سب سے پہلا ماخذ ہے، جس نے تحقیق کے استقرائی طریقے سکھائے۔ قرآن وہ بنیادی اصول بتاتا ہے کہ محض ان ہی کے سہارے طبعی سائنس میں کثرت میں یکسانیت کی دریافت ہوسکتی تھی۔ قرآن نے سائنسی تحقیق اور معلومات کے لیے بنیادی اہمیت کا وہ گراں قدر سائنسی تصور پیش کیا، جس سے اس پر عقیدہ رکھنے والوں کو اس حد تک یقین ہوگیا کہ ’’حقیقتِ تجرباتی تحقیق‘‘ حاصل کی جاسکتی ہے۔ فطرت میں وحدت، بنی نوع انسان میں وحدت، علم میں وحدت قرآن کی تعلیمات کے بنیادی اجزا ہیں، جو خدا کی وحدانیت کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔
یوروپ آج جس سائنس پر فخر کر رہا ہے، وہ اسلامی مفکرین کی دین ہے۔ وہ دین اس کتاب اللہ کی ہے، جسے مسلمانوں نے گنوا دیا اور صرف قرآنِ ’’ممات‘‘ و ’’آخرت‘‘ مسلمانوں کے حصہ میں رہ گیا، جب کہ حیات و فطرت پر دستیاب قرآنی تعلیمات کو یوروپ نے لے لیا۔ برٹش ریسرچ نے اس سچائی کا اظہار یوں کیا ہے کہ ’’بارہویں صدی تک یوروپ کے تمام جید اور پڑھے لکھے لوگوں نے نہ صرف قرآنی احکام کا مطالعہ کیا تھا، بلکہ وہ قریب قریب عملاً مسلمان جیسے مضبوط عقیدہ رکھنے والے ہوگئے تھے۔ اسی مضبوط عقیدہ کی بنیاد پر انہوں نے فطرت کا مطالعہ کیا اور وحدانیت میں یقین پیدا کرلیا۔ جینس جینز ایک مایۂ ناز ماہر طبیعیات سائنس داں تھا۔ اس نے یہ کہا تھا کہ ’’مذہب انسانی زندگی کی ناگزیر ضرورت ہے، کیوں کہ خدا پر ایمان لائے بغیر سائنس کے بنیادی مسائل حل ہی نہیں ہوسکتے۔‘‘
ماہر عمرانیات Jeans Bridge نے تو یہاں تک مان لیا کہ ’’مذہب اور روحانیت کے امتزاج سے عقیدہ و عمل کے ایک متوازن نظام کی تشکیل پر اسلام سے بہتر کوئی مذہب نہیں۔‘‘
مسلمانوں نے قرآن کریم سے رہنمائی حاصل کر کے اہم سائنسی ایجادات کو انجام دیا، چونکہ سائنس سچائی اور حقیقت کی تلاش کرتی ہے اور قرآن سچائی اور حقیقت کو اپنا کر خدا تک پہنچنے کا راستہ بتاتا ہے، اس لیے مسلم سائنس دانوں نے سچائی کی تلاش میں بے شمار ’’سچ‘‘ کو پالیا اور مزید حصولیابی کے لیے بہت سے ایجادات کو انجام دیا، مگر یوروپ نے عربی تصانیف کا لاطینی میں ترجمہ کرایا اور پھر اسے اپنے ناموں سے جوڑ دیا۔ بہت سے مسلم مصنفین کے ناموں کو چھپانے کے لیے ان کے ناموں کو لاطینی شکل دے دی، مثلاً:
1- جابر بن حیان کا نام ’’گیبر‘‘ کر کے اس کو یوروپ کا علم کیمیا کا باوا آدم قرار دے دیا گیا ہے۔
2 – ابن ماجہ ابوبکر کے نام کو بدل کر لاطینی شکل ’’آویم پاکے‘‘ کردی گئی ۔
3 – ابن داؤد کے نام کی لاطینی شکل ’’آوین دینتھ‘‘ کر دی گئی۔
4- ابومحمد نصر(فارابی) کے نام کی لاطینی شکل ’’فارابیوس‘‘ کردی گئی۔
5 – ابوعباس احمد (الفرغانی) کے نام کی لاطینی شکل ’’الفرگانس‘‘ کردی گئی۔
6- الخلیل کے نام کی لاطینی شکل ’’الکلی‘‘ کردی گئی۔
7- ابن رشد کے نام کی لاطینی شکل’’ایوے روس‘‘ کردی گئی۔
8 – ’’عبداللہ ابن بتانی‘‘ کے نام کی لاطینی شکل ’’باتاگینوس‘‘ کردی گئی۔
اس طرح سے بے شمار مسلم سائنس داں ایسے ہیں، جن کے نام کو بدل کر ان کے سائنسی ایجادات اور کارناموں کو اپنے نام کرلیا گیا ہے۔
مسلم سائنس دانوں نے ریاضی، فلکیات، کیمیا، ٹیکنالوجی، جغرافیہ اور طب وغیرہ میں بے شمار اور قابل ذکر تحقیقات کا کام انجام دیا ہے اور مسلمان تیرہویں، چودہویں اور پندرہویں صدی تک لگاتار بڑے بڑے سائنس داں پیدا کرتے رہے۔ مندرجہ ذیل چند نامور مسلم سائنس دانوں کے نام ان کے مغربی مترادفات کے بغیر پیش کرنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ جابر بن حیان، الکندی، الخوارزی، الرازی، ثابت بن قرہ، البنانی، حسنین بن اسحق الفارابی، ابراہیم ابن سنان، المسعودی، ابن سینا، ابن یونس، الکرخی، ابن الہیثم، علی بن عیسیٰ، البیرونی، الطبری، ابوالوحی، علی ابن عباس، ابوالقاسم، ابن الجزار، الغزالی، الزرقالی، عمرخیام وغیرہ۔
ان مایۂ ناز مسلم سائنس دانوں کے نام نہایت قلیل مدت میں ہی یعنی 750 سے 1100 عیسوی کے درمیان ہی آسمان ایجادات پر ستاروں کی طرح جگمگا اٹھے اور پوری دنیانے دیکھا کہ کس طرح مسلم سائنس دانوں نے قرآن کریم سے ہدایت پا کر نظام قدرت کے رازوں کو جاننے میںکامیابی حاصل کی۔
مگر نہایت افسوس کا مقام ہے کہ یوروپ کے ادب نے حاملِ قرآن لوگوں کے سائنسی احسان کو بڑے منظم طریقہ پر نظرانداز کرنے کی ترکیب نکال لی۔ نہ صرف اعلیٰ سائنسی ایجادات کو، بلکہ مسلمانی زندگی کے طور طریقوں، آداب و رسوم، خوش اطواریوں، پاکیزہ طرز معاشرت، ذاتی صفائی اور حفظان صحت وغیرہ کے میدانوں میں مسلمانوں کی حصولیابی اور ایجادات کو  بری طرح سے مسخ کردیا یا پھر اپنے نام سے منسوب کرکے دنیا کے سامنے سرخرو ہونے کی جسارت کی۔ اس طرح مسلمانوں کی سائنسی خدمات اور تحقیقات وا یجادات پر پردہ ڈال دیا گیا، جب کہ یہ بات تاریخ کے محفوظ اوراق میں درج ہے کہ:
1 – دنیا میں پہلی سائنسی پرواز ’’ابن فرناس‘‘ نے نویں صدی عیسویں میں انجام دی تھی۔ پرواز کے لیے اس نے ایسے پروں کا استعمال کیا تھا، جن سے وہ ہوا میں نہایت طویل مدت تک لمبا فاصلہ طے کرسکا تھا۔
2 – دنیا کے نظام سیارگان کا پہلا نمونہ ’’ابوالقاسم‘‘ نے تیار کیا تھا۔ اس میں ستارے، بادل وغیرہ دکھائے گئے تھے۔ سورج اور چاند کی گردشوں کے اوقات بھی درج کیے گئے تھے۔
3 – ’’عباس ابن فرناس‘‘ نے 9 ویں صدی عیسوی میں دنیا میں پتھر سے شیشہ بنانے کی صنعت کی دریافت کی تھی۔
4- ’’ابوالحسن‘‘ جو ایک اور عظیم سائنس داں تھے۔ انہوں نے قاہرہ مصر میں ’’دوربین‘‘ کی ایجاد کی تھی۔ یہ دوربین ’’مالقہ‘‘ اور ’’قاہرہ‘‘ کی رسدگاہوں میں بڑی کامیابی سے کام میں لائی جاتی تھی۔ فلکیاتی مشاہدات کے لیے اس دوربین کو کام میں لایا جاتا تھا اور گرہن، انحراف، دمدار ستارے اور دیگر سماوی حادثات و واقعات کا مطالعہ کیا جاتا تھا۔
5 – ’’ابوالفاروق محمد ابن اسحق ابن یعقوب الندیم‘‘ نے 996 عیسوی میں ’’علوم کے اشاریہ‘‘ پر سب سے پہلے کتاب لکھی تھی، اس کتاب میں طب، میکانیات، انجینئرنگ، ریاضیات، فلکیات، مادیت، فقہ، حدیث، سوانح عمری، تاریخ، گرامر وغیرہ اس کتاب کی فہرست میں شامل تھے۔
6 – امریکہ کی دریافت کولمبس نے نہیں بلکہ اس سے 500 سال قبل حاملین قرآن عربوں نے کرلی تھی۔ اس بات کی ہارورڈ یونیورسٹی کے ’’جدید ترین ماہر بشریات‘‘ ڈاکٹر جیفر نے تصدیق کی ہے اور ثابت کیا ہے۔
7- ’’زمین گول ہے‘‘ چپٹی نہیں ہے۔ اس بات کی تصدیق حامل قرآن لوگوں نے بحیرۂ احمر پر ’’ایک درجہ‘‘ کی پیمائش کر کے ثابت کی تھی اور روم کے ذریعہ پیش کردہ نامعقول نظریہ کی کہ ’’زمین چپٹی ہے‘‘ کو غلط ثابت کردیا تھا۔
8 – عظیم سائنس داں ’’الباقلانی‘‘ نے پہلے پہل نظریۂ اضافت پیش کیا تھا۔ عظیم ماہر طبیعیات آئن اسٹائن نے اپنی کتاب ’’بین کوکبی طبیعیات‘‘ میں ’’الباقلانی‘‘ کی بنیادوں پر ہی اپنا نظریہ اضافت وضع کیا تھا۔
9- قطب نما ’’امیرالبحر احمد بن ماجہ‘‘ نے ایجادکیا تھا اور انسان کے لیے کھلے سمندر میں آزادی کے ساتھ سفر کرنے کا راستہ ہموار کردیا تھا، اس ایجاد سے پہلے یونانی اور رومی جہاز رانی صرف ساحلوں تک محدود تھے۔ مصری، ایرانی، یونانی، رومی اس ایجاد سے قبل کھلے سمندر میں تجارت کی غرض سے داخل ہونے کی جرأت نہیں کرسکتے تھے۔
10 – ’’الجبرا‘‘ کا ایجاد عربوں نے کیا تھا، یہ لفظ بذات خود عربی ہے۔ جو ظاہر کرتا ہے کہ اس کا بھی ایجاد مسلم ریاضی داں نے کیا تھا۔
11- عظیم ماہر کیمیا ’’جابر ابن حیان‘‘ نے بال کمانی (ترازو) ایجاد کیا۔ پھر مختلف شکل کی بال کمانیوں کو رواج دے کر حاملِ قرآن لوگوں نے اس عہد کی ابتدا کی، جب کیمیا کو کلی طور پر کیفیت کا علم سمجھنا چھوڑ دیا گیا تھا۔ ان لوگوں کو پانی کی میکانکی خواص اور پانی کے تجزیے کے بارے میں صحیح تصورات تھے، یہ امر کیمیا کے علم میں ایک نئے باب کا اضافہ ثابت ہوا۔ ’’جابر بن حیان‘‘ نے تیز قسم کے ’’ترشے‘‘ ماء الملوک وغیرہ بھی دریافت کیے۔
12 – ’’ابن نفیس‘‘ نے ڈاکٹر سروٹیس سے تین صدی قبل یعنی 1270 عیسوی میں ہی دوران خون کے بارے میں معلومات بہم پہنچائی تھی۔ ڈاکٹر سروٹیس کے سرغلط طور پر ’’دوران خون‘‘ کا پتہ لگانے کا سہرا باندھا جاتا ہے۔
13 – ’’ابوالقاسم الزہراوی‘‘ نے سب سے پہلے 936 سے 1013 عیسوی کے درمیان 200 آلات جراحی کا ایجاد کیا اور خود اس کی شکل دی۔ ابوالقاسم کی کتاب ’’التصریف‘‘ کی نقل 19ویں صدی تک تمام ’’یوروپی‘‘ درسی کتابوں میں کی جاتی رہی ہے۔ یہ کتاب جراحی سے متعلق ہے، جس سے یوروپ نے استفادہ کرنا سیکھا تھا۔
14 – آکسفورڈ یونیورسٹی کا بانی ’’ابوصالح ابن داؤد ‘‘ تھا۔ اس کی بنیاد 11 ویں صدی میں ڈالی گئی تھی۔ ابوصالح ابن داؤد کے نام کو بدل کر لاطینی زبان میں ’’آوین دینتھ‘‘ کردیا گیا۔
(جاری)
حوالہ جات:
1- قرآن کریم
2- قرآن، سائنس اور تہذیب و تمدن- ڈاکٹر حافظ حقانی میاں قادری
3- قرآن اور جدید سائنس- ڈاکٹر حشمت جاہ
4- محاضرات قرآنی- ڈاکٹر محمود احمد غازی
(جاری)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *