!بڑے مدیران کے چھوٹے سوال

سنتوش بھارتیہ
کسی  بھی جمہوری نظام میں میڈیا کا کام ایک پہریدار کا ہوتا ہے۔ وہ حکومت کا نہیں، عوام کا پہریدار ہوتا ہے۔ میڈیا کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ حکومت جو کرتی ہے اور جو نہیں کرتی ہے، وہ اسے عوام کے سامنے لائے۔ جب کبھی حکمراں جماعت ،اپوزیشن پارٹیاں، افسران اور پولس اپنے فرائض کی ادائیگی نہیں کرتے ہیں، تب میڈیا انہیں ان کے فرائض کا احساس کراتا ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ حکومت کی طرح ملک کا میڈیا بھی بحران میں ہے، وہ گمراہی کا شکار ہو گیا ہے۔
گزشتہ 16فروری کو وزیراعظم منموہن سنگھ نے ایک خصوصی پریس کانفرنس بلائی۔ خصوصی اس لئے کیونکہ اس میں صرف ٹیلی ویژن چینلوں کے چنندہ مدیران کوہی بلایا گیا تھا۔ اس میں وہ سب چہرے موجود تھے، جنہیں آپ ہر روز ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ اس پریس کانفرنس کو دیکھ کرمجھے حیرانی بھی ہوئی اور افسوس بھی۔صحافت کے معیار پر حیرانی ہوئی کہ اتنے بڑے بڑے صحافی بنا پڑھے، بنا کسی ریسرچ کے اور بغیر تیاری کئے وزیر اعظم کی کانفرنس میںکیسے جا سکتے ہیں؟ اگر یہ لوگ پوری تیاری کے ساتھ گئے تھے تو حقیقت میں افسوس کی بات ہے۔ چینلوں کے بڑے بڑے مدیران صحافت کے پہلے امتحان میں ہی فیل ہو گئے۔ اتنی لمبی پریس کانفرنس ہوئی، مدیران کو پورا وقت دیا گیا۔ ان سب نے سوال بھی پوچھے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ بڑے مدیران کا یہ گروپ وزیر اعظم سے ایک بھی خبر نکال نہیں سکا۔ وزیر اعظم نے اس پریس کانفرنس میں کچھ بھی نیا نہیں کہا ، کوئی نیا انکشاف نہیں کیا۔
اگر ہم اس پریس کانفرنس کے حوالے سے کچھ کہناچاہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ پریس کانفرنس وزیر اعظم کی شبیہ کو چمکانے کی ایک سرکاری کوشش تھی، جس میں ملک کے ان بڑے بڑے مدیران نے پورا ساتھ دیا۔ حالانکہ اس الزام پر میرا کوئی بھروسہ نہیں ہے۔ اس پریس کانفرنس میں مدیران نے عوام سے جڑے ایشوز اور ان کے مسائل کو نہیں اٹھایا۔ اس کے لئے وزیر اعظم ذمہ دار نہیں ہیں،بلکہ اس کے لئے بڑے بڑے مدیران اور ان کے ذریعہ پوچھے گئے سوالات ذمہ دار ہیں۔ وزیر اعظم سے ان لوگوں نے سری لنکا میں ہندوستانی ماہی گیروں کو پریشان کئے جانے پر سوال پوچھا،2جی اسپیکٹرم پر سوال پوچھا۔ ایک مدیر نے دیواس کے ساتھ ہوئے معاہدہ کے بارے میں پوچھا۔ کسی نے وزارت میں تبدیلی کے بارے میں پوچھا تو کسی نے وزراء کے خصوصی اختیارات کے کوٹہ کے بارے میں پوچھا۔ لیکن کسی نے وزیر اعظم سے یہ پوچھنے کی ہمت نہیں کی کہ آخر حکومت کس کے ساتھ ہے؟ ملک کے غریبوں اور استحصال زدہ لوگوں کے ساتھ ہے؟ یا پھر حکومت ان کے ساتھ ہے، جو دنیا کے رئیسوں کی لسٹ میں اپنا نام درج کرنا چاہتے ہیں؟ یہ کسی نے نہیں پوچھا کہ حکومت اقلیتوں کے لئے کیا کر رہی ہے؟ یہ کسی نے نہیں پوچھا کہ ملک کے نوجوان بندوق کیوں اٹھا رہے ہیں؟یہ بھی کسی نے نہیں پوچھا کہ سونا اگلنے والے ہندوستان کے کسان خود کشی کیوں کر رہے ہیں؟
کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ 1991میں وزیر اعظم نے بڑے بڑے وعدے کر کے ملک کی اقتصادی پالیسی بدل دی، ان وعدوں کا کیا ہوا؟ 2006میں وزیر اعظم نے ایک بیان دے کر خوب واہ واہی لوٹی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے وسائل پر محروموں اور اقلیتوں کا پہلا حق ہے۔ اس وعدے کا کیا ہوا؟ سوال یہ ہے کہ کیا اس پریس کانفرنس میں موجود بڑے مدیران کو کیا وزیر اعظم کا یہ بیان یاد بھی تھا یا نہیں؟
منموہن سنگھ نے پریس کانفرنس کی شروعات میں ہی کہا تھا کہ گزشتہ مہینوں میں مہنگائی بڑھی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر حکومت چاہتی تو ہارڈ مونیٹری پالیسی لگا کر مہنگائی پر قابو کیا جا سکتا تھا، لیکن ہم چاہتے تھے کہ اس سے نمٹنے میں ترقی کی شرح پر اثر نہ پڑے۔ہندوستان نے عالمی مالی بحران کا اچھی طرح سامنا کیا ہے۔ملک کا معاشی نظام اچھا ہے اور شرح ترقی 8.5فیصد ہے۔ مطلب یہ کہ حکومت مہنگائی پر لگام لگا سکتی ہے لیکن شرح ترقی کے اعداد و شمار کو برقرار رکھنے کے لئے عوام کو مہنگائی سے دو چار ہونے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔ تعجب اس بات کا ہے کہ ان مدیران میں سے کسی نے یہ نہیں پوچھا کہ اس مہنگائی سے حکومت کو فائدہ ہوا یا پھر ذخیرہ اندوزوں اور بازار کے مافیائوں کو۔اگر اس مہنگائی سے غریب کسانوں اور چھوٹے دوکانداروں کو فائدہ ہوا ہوتا تو بھی کوئی بات ہوتی۔اصلیت یہ ہے کہ اس مہنگائی کا فائدہ ان بڑے بڑے تاجروں اور صنعت کاروں کو ہوا جنھوں نے سستی قیمتوں میں سامان خرید کر اپنے گوداموں میں بھر لیا اورمہنگائی بڑھا دی۔ خوب منافع کمایا۔ وزیر اعظم کو اس ناگہانی مہنگائی پر ایک تفتیش بٹھانی چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان کی شبیہ خراب ہو رہی ہے کہ ہندوستان میں بدعنوانی والی حکومت ہے۔ منموہن سنگھ نے سب سے پہلے 2جی اسپیکٹرم ، دولت مشترکہ کھیلوں، دیواس، آدرش سوسائٹی معاملہ کا ذکر کیا اور کہا کہ میڈیا میں ان سب معاملوں پر خبریں چھائی ہوئی ہیں۔ ہندوستانی جمہوریت کو عالمی سطح پر قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔جب کبھی میں باہر جاتا ہوں، لوگ ہندوستانی جمہوریت اور حقوق انسانی کے تئیں ہمارے رخ کی پذیرائی کرتے ہیں۔ انھوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ وہ زیادہ منفی خبروں کو جگہ نہ دیں تاکہ ملک کی غلط شبیہ باہر نہ جائے۔جس ملک میں کسان خود کشی کریں، غریبوں کا استحصال ہو، کسانوں کی زمین چھین لی جائے، بے روزگاری ہو، پینے کا پانی نہیں ہو، اسپتال نہیں ہوں، ناخواندگی ہو اور اقلیت بے سہارا ہوں اور سرکاری محکموں میں بدعنوانی ہو، گھوٹالے پر گھوٹالے ہوں، اس ملک کی حکومت کو شبیہ کی فکر سے زیادہ ان مسائل کا حل نکالنے کی فکر ہونی چاہئے۔
اس پریس کانفرنس میں کچھ مدیران نے عجیب و غریب سوال پوچھے۔ ملک کے سب سے بڑے ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے مدیرکا بھولا پن دیکھئے۔ انھوں نے وزیر اعظم سے پوچھا کہ آپ نے یہ پریس کانفرنس کیوں بلائی؟ سب سے مزیدار سوال چوبیس گھنٹے چلنے والے ٹی وی چینل کی مالکن نے پوچھا۔ انھوں نے منموہن سنگھ سے کرکٹ ورلڈ کپ کے بارے میں پوچھاکہ پورا ملک چاہتا ہے کہ ہندوستان جیتے، آپ کی کیا رائے ہے؟ وزیر اعظم نے بھی کہا کہ کیا کسی بھی ملک کا وزیر اعظم یہ کہتا ہے کہ میرا ملک کرکٹ ورلڈ کپ نہیں جیتے بلکہ پڑوسی ملک جیتے۔ میں بھی چاہتا ہوں کہ ہندوستان جیتے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی، ان کا اگلا سوال یہ تھا کہ آپ کا فیورٹ پلیئر کون ہے؟وزیر اعظم بھی الجھن میں پڑ گئے۔ وزیر اعظم نے نام نہیں بتایا۔ اس کے بعد ملک کے سب سے سنجیدہ چینل کے ایڈیٹر کی باری آئی۔ انھوں نے پوچھ ڈالا کہ ساڑھے تین سال کی مدت کار باقی ہے، کیا آپ آئندہ انتخابات میں وزیر اعظم کے امیدوار بنیں گے؟
وزیر اعظم کی پریس کانفرنس سے کئی اشارے ملتے ہیں۔پہلا یہ کہ حکومت عوام کے تئیں فرائض کو کم کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کی پالیسیاں صرف اس بات پر مرکوز ہیں کہ کیسے ملک میں اچھا کارپوریٹ ماحول بنے تاکہ غیر ملکی کمپنیاں یہاں آکر منافع کما سکیں، غریبوں کے لئے جو اسکیمیں صرف الیکشن جیتنے کے ہتھکنڈے جیسی ہیں ان اسکیموں کی مکمل کامیابی پر حکومت کی توجہ نہیں ہے۔ حکومت کی توجہ صرف اس بات پر ہے کہ کیسے زیادہ سے زیادہ غیر ملکی سرمایہ ہندوستان آئے۔خطرے کی بات یہ ہے کہ حکومت یہ اشارے دے رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں سخت اصلاحاتی قدم اٹھائے جائیں گے۔ اصلاحاتی پالیسیوں کا اثر ہندوستان بھگت رہا ہے۔غریب مزیدغریب ہوتے جا رہے ہیں۔ ہندوستان کے چھوٹے شہر اور گائوں پچھڑ رہے ہیں۔ ملک کا نوجوان گمراہ ہوتا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کولگتا ہے کہ جس طرح مصر کے لوگوں نے حکومت کے خلاف بغاوت کی ویسی صورتحال ہندوستان میں پیدا نہیں ہو سکتی۔ حکومت کو اس بات کی فکر نہیں ہے۔ مصر میں جو کچھ ہوا، ویسا ہندوستان میں نہیں ہو سکتا۔حکومت توبے فکر ہے لیکن ملک کے عوام اور میڈیا کو اصلاحاتی پالیسیوں اور نئی ترقی پسندی کی پالیسیوںکے نئے حملہ سے نمٹنے کے لئے تیار رہنا ہوگا۔

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
سنتوش بھارتیہ
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *