بچوں کا جنسی استحصال کرنے والوں کی خیز نہیں

پرینکا سنگھ
بچوںکے استحصال سے متعلق بل کو مرکزی کابینہ نے حال ہی میں منظوری دے دی ہے۔ بل میں بچوں کا استحصال کرنے والوں کے خلاف سخت سزا کا بندو بست کیا گیا ہے۔ بل کی ساتویں دفعہ میں 16 سے 18 سال کی عمر کے درمیان رضامندی سے ہوئے جنسی تعلقات کو جرم نہیں مانا گیا ہے۔ مجوزہ بل بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم خاص طور پر جنسی استحصال کے معاملوں پر لگام کسنے کے لیے لایا گیا ہے۔ بچوں سے زبردستی کے معاملوں میں کم سے کم 5 سال کی قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کا بندوبست کیا گیا ہے۔ اس بل میں اچھی بات یہ ہے کہ سماج میں بااثر لوگوں کے ذریعہ کیے گئے جرائم کو سنگین جرم کے زمرے میں رکھنے کا بندوبست کیا گیا ہے اور اگر جرم 12 سال سے کم عمر کے یا معذور بچوں کے ساتھ ہوا ہو تو اسے بھی ایسے ہی درجے میں رکھنے کا بندوبست کیا گیا ہے۔
سماج یا حکومت جنسی استحصال روکنے کے تعلق سے قاعدے قانون بناتے ہیں۔ ان قوانین کے ذریعہ مجرموں کو سزا بھی ملتی ہے، لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ سزا صرف انہیں کو ملتی ہے یا ملے گی، جن کا معاملہ سامنے آجاتا ہے، لیکن سماج میں تو جنسی استحصال کے بے شمار معاملے ایسے بھی ہوتے ہیں، جہاں استحصال برداشت کرنا ایک مجبوری ہوتی ہے۔
جنسی استحصال کے زیادہ تر معاملوں میں دیکھا گیا ہے کہ ملزم زیادہ تر بچے کے رشتہ دار یا جاننے والے ہی ہوتے ہیں۔ جنسی استحصال اتنا حساس موضوع ہے کہ سماج کے دشمن عناصر آسانی سے پکڑ میں نہیں آتے۔ اس کے لیے کس کو مورد الزام ٹھہرایا جائے،سماج میں بڑھتے کھلے پن کو یا سیکس کو چھپا کر رکھنے سے پیدا ذہنیت کو؟ سنگل فیملی میں غیرمحفوظ بچوں کو یا مشترکہ فیملی میں اپنوں کے ہی ذریعہ غیرمحفوظ بچوں کو؟ ملٹی میڈیا کے کھلے ذرائع کو یا جنسی تعلیم کی کمی کو؟ یہ سبھی حقائق اتنے متصادم ہیں کہ ان پر بحث و مباحثہ تو مہینوںا ور برسوں تک چلایا جاسکتا ہے، لیکن جنسی استحصال کے مسئلے کا حل نہیں نکالا جاسکتا۔ سماج میں بے شمار بچے جنسی استحصال کے شکار ہورہے ہیں۔ سب سے زیادہ جنسی استحصال کی شکار بچیاں ہی ہوتی ہیں۔
ہر روز بڑھتے بچوں کے جنسی استحصال کے معاملوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ملک میںبچے کہیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ باہر ہی نہیں گھر کے اندر بھی ان کا جنسی استحصال ہوتا ہے اور اس میں وہی لوگ شامل ہوتے ہیںجن پر ان کی حفاظت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ ایک سرکاری سروے کے مطابق پانچ سے بارہ سال کی عمر کے53فیصد بچے ایسے پائے گئے جنہیں ان کے کنبے کے افراد نے ہی جنسی استحصال کا شکار بنایا۔ جنسی استحصال کو لیکرچندر شیکھر آزاد یونیورسٹی کے ایکسٹینشن اینڈ ایجوکیشن مینجمنٹ کی آفس انچارج نیلما کنور کی ہدایت میںدسمبر2010کے آخری دنوں میںایک سروے کرایا گیا تھا۔ اس سروے میں9سال سے12سال تک کی249لڑکیوں کو رکھا گیا تھا۔ جن اسکولوں میں یہ سروے کرایا گیاان میں پانچ ہندی میڈیم اسکول تھے اور پانچ انگریزی میڈیم۔اہم اسکولوں میں پڑھنے والی لڑکیوں سے اس سلسلے میںسوالات کے ذریعہ سے جانکاری لی گئی تھی۔ان لڑکیوں نے قبول کیا کہ گھر یا باہروہ اس طرح کے حادثوں کا شکار ہوئیں۔249میں سے123لڑکیوں نے بتایا کہ استحصال کرنے والوں نے ان کے جسم کے نازک اعضاء کو چھوا۔41.2فیصد لڑکیوں نے بتایا کہ انہیں جسم کے پوشیدہ حصوں کو دکھانے کے لیے دبائو کا سامنا کرنا پڑا۔ اتنا ہی نہیں دوسری طرح کے جنسی استحصال کا بھی سامنا کرنا پڑا۔  سروے میں شامل آدھی لڑکیوں نے بتایا کہ ان کا جنسی استحصال متعلقین نے ہی کیا۔ حالانکہ کچھ نے کہا کہ ان کے اسکول کے آس پاس چکر کاٹنے والے کچھ لوگوں نے ان کا جنسی استحصال کیا۔ حالانکہ اس طرح کی وارداتیں بہت کم ہوئیں، جن میں کسی اجنبی نے جنسی استحصال کیا ہو۔ بیشتر معاملوں میںلڑکیوں سے جسم کے پوشیدہ حصوں کو دکھانے کا دبائو ڈالا گیا۔ان لڑکیوں کوجسم کے اعضاء اپنے دوستوں، رشتے کے بھائیوں یا اساتذہ کو دکھانے پڑے۔سروے میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی وارداتیں ان حالات میں ہوئی ہیں، جب کوئی لڑکی کے ساتھ چھیڑ خانی کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ایسے میںاسے بچانے کے لئے سامنے آئے لوگوں نے ہی بعد میں اس کا استحصال کیا۔ نیلما کنور کہتی ہیں کہ ایک بار اس طرح کے واقعات ہونے کے بعد متاثرہ کو بار بار اسی شخص کے ذریعہ پریشان کیا جاتا ہے۔ استحصال کرنے والا بچیوں کو یہ بھی سمجھا دیتا ہے کہ اگر اس نے کسی سے یہ باتیں کہیں تو کوئی اس پر بھروسہ نہیں کرے گا اور اس کی بدنامی ہوگی۔ ایسے میں ان لڑکیوں کے سامنے ان حادثوں سے گزرنے کے بعد خاموش رہنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہوتا۔
نیلما کنور کا کہنا ہے کہ چونکہ کم عمر کی لڑکیاں ان باتوں سے انجان ہوتی ہیں اور انہیں جنسی تعلقات کے بارے میں بھی زیادہ معلومات نہیں ہوتی ہے، اس لئے وہ خاموش رہنا ہی بہتر سمجھتی ہیں۔جو لڑکیاں ان باتوں کو سمجھ پاتی ہیں، وہ یا تو احساس جرم کے سبب یا پھر شرم کے سبب اس بارے میں کسی کو بتا نہیں پاتیں؟ اس طرح کے جنسی استحصال کی شکار لڑکیاں پوشیدہ اعضاء کے زخم، پیٹ درد کی پریشانی اور پیشاب کے راستہ انفیکشن سے متاثر ہو جاتی ہیں۔ اس حادثہ سے گزرنے کے بعد ان کے برتائو میں بھی کافی تبدیلی آ جاتی ہے۔ ماہرین نفسیات کا ماننا ہے کہ جنسی استحصال کے سبب بچوں میں عدم تحفظ کا خوف پیدا ہوتا ہے۔ بچے تنہا ئی کے عادی ہو جاتے ہیں۔ وہ لوگوں سے ملنے جلنے سے ڈرتے ہیںاور اکثر سہمے سہمتے سے رہتے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *